امان اللہ ناصر: ایک عہد ساز شخصیت
پشتو اور اردو ادب، ثقافت بالخصوص ڈرامہ اور موسیقی، ہدایت کاری، اداکاری، پروڈکشن، کمپیئرنگ، تحریر اور گلوکاری کے شعبوں میں مایہ ناز نام امان اللہ ناصر بلاشبہ پشتو اور اردو زبانوں کا قیمتی اثاثہ ہے۔ انہوں نے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر اپنی قابلیت کی بنیاد پر خود کو نوجوانوں کے لیے ایک رول ماڈل کے طور پر پیش کیا ہے۔ امان اللہ ناصر نے 1985 میں سٹیج اداکار کے طور پر اپنے کیریئر کا آغاز کیا اور 12 اسٹیج ڈراموں میں بہترین اداکاری کر کے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ جس کے بعد انہوں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا اور کامیابی کے جھنڈے گاڑتے رہے۔
انہوں نے ریڈیو پاکستان میں کمپیئر، اداکار، ہدایت کار اور گلوکار کے طور پر خدمات سرانجام دینا شروع کیا۔ ساتھ ساتھ وہ پی ٹی وی، پی ٹی وی بولان، جیو انٹرٹینمنٹ، اے آر وائی، ایکسپریس، ہم ٹی وی، ٹی وی ون جیسے بے شمار ٹی وی چینلز کے ساتھ مصنف، اداکار، ہدایت کار اور پروڈیوسر کے طور پر منسلک رہے، اور بعد ازاں اے وی ٹی خیبر میں بطور جنرل منیجر بلوچستان فرائض سر انجام دینا شروع کیے۔
اپنی بے مثال کارکردگی کی بدولت امان اللہ ناصر نے کئی اعزازات اپنے نام کیے ہیں۔ انہیں پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈ 2023، بہترین مصنف پی ٹی وی اور اے وی ٹی خیبر، بہترین کمپیئر ریڈیو پاکستان، دو بار صدارتی ایوارڈ کے لیے نامزدگی، پی ٹی وی کے سالانہ ایوارڈ کے لیے چھ بار نامزدگی، چار بار پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈ کے لئے نامزدگی، وزیر اعلیٰ بلوچستان ایوارڈ سمیت کئی بار اے وی ٹی خیبر ایوارڈز کے مختلف شعبوں میں اعزازات کے علاوہ اخونزادہ عبدالعلی ایوارڈ بلوچستان بھی حاصل کر چکے ہیں۔
امان اللہ ناصر 30 اردو ڈرامہ سیریل اور 11 پشتو ڈرامہ سیریل اب تک لکھ چکے ہیں۔ وہ 23 اردو ڈرامہ سیریلز اور 14 پشتو ڈرامہ سیریلز میں بہترین اداکاری کے جوہر بھی دکھا چکے ہیں۔ مزید براں، ریڈیو پاکستان میں انہوں نے بطور کمپیئر 2000 پروگرامز کی میزبانی اور 35 ڈرامے لکھنے کے ساتھ ساتھ اداکاری کے جوہر بھی دکھائے اور ساتھ ساتھ بہترین مصنف اور بہترین اداکار کا ایوارڈ بھی حاصل کیا۔ اس کے علاوہ پی ٹی وی میں کمپیئر کے طور پر انہوں نے پشتو زبان میں 600 اسٹیج شوز کی میزبانی کی اور بہترین کمپیئر کا ایوارڈ حاصل کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ بطور گلوکار انہوں نے 22 آڈیو والیوم، پی ٹی وی میں 50 گانے، ریڈیو پاکستان میں 10 گانے، اور اے وی ٹی خیبر میں 25 گانے مرتب کیے ہیں۔
ساتھ ساتھ وہ مشہور پشتو ریڈیو مشال سے 15 سال سے وابستہ ہیں اور مشہور پروگرام کے میزبان بھی ہیں۔
موصوف اے وی ٹی خیبر میں بطور گلوکار، ہدایت کار، اداکار، کمپیئر اور پروڈیوسر اب تک 300 گانے، 1200 پروگرام اور 15 ڈرامے پیش کر چکے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ پاکستان، افغانستان، متحدہ عرب امارات اور کویت کے مختلف سٹیج تھیٹرز میں بھی پرفارم کر چکے ہیں۔ علاوہ ازیں وہ پاکستان، افغانستان، متحدہ عرب امارات، کویت اور جنوبی کوریا میں 100 مشاعروں میں بھی شرکت کر چکے ہیں۔ انہوں نے پاکستان، افغانستان اور متحدہ عرب امارات میں 40 میوزیکل کنسرٹس میں شرکت کی۔
مزاحیہ پشتو ڈرامہ سیریل بیلتون میں ان کی شاہکار اداکاری کے باعث خاص طور پر بلوچستان کے پشتونوں میں وہ ڈرامہ اب بھی مقبول ترین ڈرامہ ہے۔ وہ حبیب پانیزئی کے ساتھ بلاشبہ پشتو زبان اور ثقافت کے فروغ میں پیش پیش ہیں۔
امان اللہ ناصر داد اور عزت کے مستحق ہیں اور لاکھوں پشتونوں کے ساتھ ساتھ ملک اور دنیا بھر کی دیگر کمیونٹیز سے بھی عزت کما چکے ہیں۔ وہ واقعی نوجوان نسل کے لیے ایک اثاثہ اور رول ماڈل ہیں۔ ان کی پشتو اور اردو زبان کے لئے خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔


