ڈیجیٹل دُنیا اور ہمارے بچے بچیاں


ماہر عمرانیات کرہ ارض پہ انسانی سماج اور معاشرے کے ارتقائی سفر کو مختلف ادوار میں تقسیم کرتے ہیں، ابتدائی انسانی زندگی غار اور شکار کا دور کہا جاتا ہے، جہاں انسان صرف مرد و عورت کے جوڑوں کی صورت میں زندگی گزارتا تھا، اولاد پیدا ہونے اور افراد بڑھ جانے کے کے بعد باقاعدہ خاندان، قبیلے، گروہ، برادری جیسے ادارے تشکیل پانے لگے اور انسان نے شکار کے ساتھ اناج، پھل، سبزیوں کو بھی بطور خوراک استعمال کرنا شروع کیا تو اب ”زرعی دور“ شروع ہو گیا، اس دور میں انسان نے بڑی بڑی بستیاں بسانی شروع کردیں اور باقاعدہ منظم مملکت، ریاست، آئین قانون کی تشکیل شروع کردی اور ان قوانین اور ضابطوں کے تحت زندگی بسر ہونے لگی۔

پہیے کی ایجاد کو انسانی معاشرتی زندگی کی بنیادی سب سے بڑی ایجاد سمجھا جاتا ہے، جس نے انسانی معاشرے کی بہتری میں بہت اہم کردار ادا کیا، اور یہ سب دور سینہ گزٹ، نسل در نسل علم و حکمت کی منتقلی کا دور تھا، انسان تصویریں بناتا بناتا تحریر کے فن کو بھی ایجاد کر چکا تھا اور اپنے حساب کتاب کو منضبط کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے لئے ضابطوں، قوانین کو تحریر کی شکل میں محفوظ کرنے کے مقام تک پہنچ چکا تھا۔ پرنٹنگ پریس کی ایجاد اور کارخانہ داری یعنی صنعتی ترقی نے انسانی معاشرے کے رہن سہن کو ایک نیا رخ اور نیا انداز عطا کر دیا، اب انسانی معاشرتی ترقی کا سفر تیز تر ہو چکا تھا۔

انسانی معاشرے کا سب سے بڑا حُسن ہے کہ وہ اپنی اقدار، عقائد، روایات کے نام پر معاشرے کو جوڑ کر مضبوط رکھتا ہے۔ انسانی معاشرے کی ترقی میں رابطہ کاری، ایک دوسرے سے جڑے رہنا بھی بہت لازمی امر ہے۔ انسان نے اپنا مافی الضمیر، اپنے جذبات، اپنے خیالات، اپنے نظریات و عقائد کی ترسیل و ابلاغ کے لئے روز بروز نئی سے نئی اختراعات کی ہیں۔ زرعی دور سے صنعتی دور تک کا سفر انسانی معاشرے کی وہ اُڑان ہے، جس نے حضرت انسان کے سامنے کائنات کے سب راز کھول کر رکھ دیے ہیں۔

انٹر نیٹ کی ایجاد کو نصف صدی سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے، انٹر نیٹ کی ترقی کا سفر بہت سُرعت اور تیزی ہو رہا ہے، انسانی معاشرتی زندگی کا سب سے بڑا دخیل انٹر نیٹ کا استعمال بن چکا ہے۔ فی زمانہ انسانی ادوار کی اس تقسیم میں ”ڈیجٹل دور“ کرہ ارض پہ انسانی معاشرے کے ہر مسئلے کا حل بن چُکا ہے۔ انسانی معاشرہ انٹر نیٹ کے ذریعے، فیس بک، ٹویٹر، وٹس ایپ اور انسٹا گرام جیسی ورچوئل دُنیا کا سماج بن چُکا ہے۔

کرونا جیسی آفت میں انٹرنیٹ نے انسانی معاشرے کی معمول کی زندگی کے سفر کو برقرار بھی رکھا بلکہ زندگی بسر کرنے کے نئے سے نئے طریقوں سے متعارف کروا دیا۔ آن لائن بزنس، آن لائن تعلیم، آن لائن میٹنگز، آن لائن گیمز، آن لائن کنسلٹینسی، غرض بہت سے منافع بخش کام جن کے لئے زیادہ افرادی قوت، وسائل اور وقت درکار ہوتا تھا، انٹر نیٹ کے ذریعے جھٹ پٹ اور ارزاں اور کم وقت میں مکمل ہونے لگے۔

ہر بدلتے ہوئے دور میں نئے پیداواری رشتوں کے ساتھ انسانی معاشرے کو نئے نئے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کیوں کہ ہر دور کے اپنے تقاضے ہوتے ہیں۔ آج دنیا کے 5 ارب کے قریب افراد انٹرنیٹ کا استعمال کر رہے ہیں۔ اور آج کل کے جدید دور میں ہر گھر میں ہر کسی کی انٹرنیٹ تک رسائی ممکن ہے، ہر کسی کے پاس گھروں میں لیپ ٹاپ، کمپیوٹر اور اسمارٹ فونز موجود ہیں۔ ایسی صورتحال میں بچوں کو ان چیزوں سے دور رکھنا ممکن نہیں ہے۔ ڈیجیٹل دنیا میں انٹرنیٹ پہ تعلیم و تربیت کے ساتھ ساتھ اور بہت کچھ بھی آسانی سے میسر ہے اور یہ سب کچھ کیا ہمارے بچے بچیوں کی ضرورت ہے؟ کیا ان کے لئے فائدہ مند ہے؟ یا ان کے لئے مضر اور نقصان دہ ہے؟

ہمارے بچے بچیاں اپنی تفریح اور ایجوکیشن کے لیے ان لائن رابطوں میں رہنے لگے ہیں اور اکثر سوشل میڈیا کی مختلف ایپس کا استعمال بھی کرتے ہیں اس وقت بچوں کو نہیں پتہ ہوتا کہ وہ کس سے بات کر رہے ہیں اور اس ویڈیو کے دیکھنے کے بعد سکرین پر کیا نظر آنے والا ہے بعض اوقات بچے اپنی ذاتی معلومات شیئر کر دیتے ہیں جس سے ان کو بہت سے نقصانات کا سامنا کرنا پڑتا ہے مثلاً سائبر بلنگ نازیبا تصاویر اور ذاتی تصاویر کا اپڈیٹ کر کے ان کو سوشل میڈیا پہ اپلوڈ کرنا بلیک میلنگ فیک اکاؤنٹ وغیرہ۔

والدین کو کیا کرنا چاہیے؟

والدین اپنی معاشی اور سماجی مصروفیات و سرگرمیوں کی بنا پہ ہر وقت اپنے بچے بچیوں پہ نظر بھی نہیں رکھ سکتے۔ ایسے میں والدین کے لئے ضروری ہے کہ کم ازکم آن لائن تحفظ کے بارے میں خود بھی باخبر ہوں اور اپنے بچے بچیوں کو بھی آن لائن سیفٹی کے طریقوں سے آگاہ کریں۔ اس کے لئے سب سے اہم بات تو یہ ہے کہ والدین اپنے بچے بچیوں کے ساتھ باہمی اعتماد اور پیار کا رشتہ مضبوط کریں، والدین کا اپنے بچے بچیوں کے ساتھ اعتماد کا تعلق قائم کرنا اور ٹیکنالوجی کے استعمال پر گفتگو، بحث مباحثہ کرنا بہت ضروری ہے۔ والدین اپنے بچے بچیوں سے بات کریں اور انہیں سمجھانے کی کوشش کریں کہ کون سی معلومات ان کے لئے بہتر ہیں اور کون سی نہیں، جیسے بچوں کو سائبر بولنگ وغیرہ کے بارے میں سمجھائیں، بچوں کو انٹرنیٹ اور کمپیوٹر کے استعمال کی صحیح معلومات دیں اور بچوں کو آن لائن سیفٹی کے طریقوں کے بارے میں آگاہ کریں۔

اسی طرح ”پیرینٹل کنٹرول“ بچے بچیوں کے لئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے، اس کے ذریعے والدین اپنے بچے بچیوں کے لئے اپنے کمپیوٹر کو محفوظ بنا سکتے ہیں، اور وہ مواد جو بچے بچیوں کے لئے صحیح نہیں ہے اسے بلاک کرنا، کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کے استعمال کا وقت یعنی اسکرین ٹائم طے کرنا اور انٹرنیٹ سرچ کو بچوں کے حق میں بنانا۔ ”پیرینٹل کنٹرول“ کے ذریعے آپ یہ سب کچھ آسانی سے کر سکتے ہیں۔

یوٹیوب دُنیا بھر میں پاپولر ترین اور سب سے زیادہ استعمال ہونے والی وڈیو لائبریری ہے، یو ٹیوب میں ایک سیکنڈ میں کئی ہزار وڈیوز اپ لوڈ ہوتی ہیں، اور دیکھی جاتی ہیں، جس میں بہت سے وڈیوز بچے بچیوں کے لئے انتہائی غیر مناسب ہو سکتی ہیں۔ یوٹیوب کے غیرمناسب کانٹینٹ سے اپنے بچے بچیوں کو بچانے کے لئے والدین کو یوٹیوب سیفٹی موڈ کے بارے میں جاننا ضروری ہے، یہ غیر ضروری کانٹینٹ کو سرچ سے ہٹا دیتا ہے۔ یہ ویڈیو فلٹر ہوتا ہے، جو ایسے ویڈیو کو سرچ نہیں کرنے دیتا جس میں قابل اعتراض کانٹینٹ یا کمنٹ ہوتے ہیں، یہ آپ کے بریو براؤزر پر ایکٹیو کیا جاتا ہے۔ اسی طرح آن لائن گیمز ایپلیکیشنز میں بھی بہت زیادہ قابلَ اعتراض کانٹینٹ موجود ہوتا ہے جو بچے بچیوں کی ذہنی عمر سے مطابقت بھی نہیں رکھتا، اور بعض اوقات بچے بچیوں کو ذہنی و نفسیاتی امراض کا اسیر بنا دیتا ہے۔

ضروری ہے کہ والدین اپنے بچوں کے لیے ایک اچھا آن لائن رول ماڈل بنیں۔ بچے بچیوں کے ساتھ باہمی اعتماد بڑھائیں اور اعتماد پیدا کریں اور کھل کر بات چیت کریں۔ اپنے بچے بچیوں کو ان کے آن لائن منفی تجربات کے لیے مورد الزام نہ ٹھہرائیں، آن لائن نامناسب سلوک کی صورت میں اپنے بچے بچیوں کو شناخت کرنے اور ریسپانس کا طریقہ بتائیں، گھر میں انٹر نیٹ استعمال کرنے کے اصول باہمی مشورے سے بنائیں، بچے بچیوں میں تنقیدی سوچ پیدا ہونے کی حوصلہ افزائی کریں، بچے بچیوں کو آن لائن اور آف لائن رہنے کی حوصلہ افزائی کریں۔ اپنے بچوں کو آن لائن محفوظ رکھنے کے لیے دستیاب تکنیکی ٹولز کا استعمال کریں، اپنے بچے بچیوں کو اپنے ہم عمروں اور دوستوں کے دباؤ کا مقابلہ کرنے کا حوصلہ عطا کریں۔

Facebook Comments HS