میرا کچھ سامان تمہارے پاس پڑا ہے
شکاگو میں رات کا کھانا تھا۔ میزبان وہیں کی ایک گجراتی پٹیل فیملی تھی۔ شام سے لانگ ویک اینڈ شروع ہو چکا تھا (ایک ساتھ کئی ایسی چھٹیاں جو ہفتے اتوار کی تعطیل سے جڑی ہوں ) کچھ امریکی کے ماحول کی مناسبت سے مہمان کھانا اور شراب ساتھ لائے تھے۔ شرکت کی شرائط سادہ تھیں
دین اور پاسپورٹ کی قید نہ تھی، ہندو، مسلمان، پارسی سبھی ہی مدعو تھے واحد پابندی یہ تھی کہ مہمان لازماً گجراتی بولنے والے ہوں گے۔ یوں سمجھ لیں کہ یہ اہتمام گفتگو، لطائف اور آئندہ کاروباری اور سماجی روابط میں استحکام اور فروغ کے کوالٹی کنٹرول کے لیے تھا۔ گجراتیوں کا ایسا نیٹ ورک ہے کہ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ اگر ہمیں کسی کور پوسٹنگ پر امریکہ بھیج دیتی تو ہم گجراتی پٹیل جن کا امریکہ کی طب قانون اور تجارت بالخصوص ان کی موٹل انڈسٹری پر قبضہ ہے وہ پاکستان کے دوہرے شہری ہوتے
پاکستان کے فیصلہ ساز ناواقف ہیں کہ کیشپ پرمود پٹیل جنہیں خود کو کیش پٹیل کہلانے میں مزہ آتا ہے اب ایف بی آئی کے مجوزہ ڈائریکٹر ہیں وہ گجراتی ہیں۔ صدر اوباما نے نومبر 2014 میں نے جب امریکہ میں پانچ لاکھ بھارتیوں کو قانونی شہری بننے کی اجازت دی تو ان کی اکثریت بھارت کے گجراتی پٹیل گھرانوں کی تھی۔
آذر بائی جان کی گل نارا جو نیویارک میں بیلی ڈانسر ہے اسے بلانے کی تجویز خاکسار کی تھی۔ وہ کم بخت ناچتی ہے تو دیدہ و دل اس کی حشر سامانیوں اور تھرکتے قدموں کے تلے مخملیں فرش ِ ہو جاتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ جنرل ضیا الحق پاکستان کا آئین قدموں میں بچھا کر اس پر اپنے فوجی بوٹوں سمیت تھرکتے ہوں۔
ایک ڈاکٹر صاحب جو دعوت میں مدعو تھے انہیں کسی مریض کو دیکھنے کے لیے نیویارک سے آنا تھا۔ مالدار مریض نے اپنا جہاز بھیجا تھا، یوں گجراتیوں کے دل و دماغ پر عیاشی کے لمحاتِ خود فراموشی میں بھی فضول خرچی کا جو کیلکولیٹر آن رہتا ہے وہ اس فری رائڈ کی وجہ سے بند رہا۔
گل نارا نے بھی حساب لگایا کہ وہ لوگ جن کا مبشر لقمان اور جہانگیر ترین کی طرح اپنا جہاز ہو وہ یقیناً پوتڑوں کے رئیس ہوتے ہیں۔ ایسی محافل شبینہ میں شرکت سے کبھی نیا میاں، تو کبھی اگلا پروگرام مل جاتا ہے۔ یوں اس نے اپنی فیس بھی کم کردی تھی۔
یہ الگ بات ہے کہ پٹیل ڈاکٹر صاحب نے اس خالی نجی جہاز میں گل نارا کو بٹھانے کے لیے مریض سے باقاعدہ اجازت یہ جھوٹ بول کر لی تھی کہ وہ ایک مطب شکاگو میں بھی قائم کرنا چاہتے ہیں لہذا وہاں کے لیے وہ اپنی ممکنہ سیکرٹری کو بھی ساتھ لائیں گے۔
امریکہ میں اب ان کی اپنی سی۔ آئی۔ اے، پنجابیوں اور گجراتیوں کے علاوہ کوئی جھوٹ نہیں بولتا۔ عام امریکی سمجھ گیا ہے کہ جھوٹ بولنے میں نقصان زیادہ ہے اور فائدہ کم۔ مجرم پکڑے جانے پر اپنی وارداتوں کی تعداد اصل سے کم بتائے تو نئے شواہد سامنے آنے پر پہلے سے دی گئی سزا پر از سر نو عمل درآمد ہونا شروع ہوجاتا ہے، اہم عہدہ دار اپنی تقرری کے اعلان پر سینٹ کی متعلقہ کمیٹی کے سامنے اپنے بارے میں عائد کردہ کسی الزام کے بارے میں سچ نہ ظاہر کرے یا خاموشی سے اپنی نامزدگی کو مسترد نہ کرے تو اس کا حشر ہوجاتا ہے۔ امریکہ میں Zoë Baird کو صدر کلنٹن اٹارنی جنرل مقرر کرنا چاہتے تھے، موصوفہ نے ملک پیرو کے دو غیر قانونی تارکین وطن کو اپنے ہاں ڈرائیور اور بچوں کی آیا رکھا تھا۔ ان کا چھوٹا موٹا مقامی ٹیکسوں کا بھی قضیہ تھا۔ صدر کلنٹن کا خیال تھا یہ معمولی ایشوز ہیں لیکن اس پر میڈیا نے وہ طوفان کھڑا کیا کہ ان کی اپنی پارٹی نے بھی ان کی جانب سے آٹھ دن میں ہی دست تعاون کھینچ لیا۔ ایسا ہی معاملہ ان کے وکیل چارلس رف کے ساتھ ہوا جنہوں نے اپنی ملازمہ کے ٹیکس ادا نہیں کیے تھے۔ امریکہ میں اس طرح کے کیس نینی گیٹ کہلائے جن کی وجہ سے چند ذہین وکیل صاحبان اور صدر مملکت اپنے من پسند عہدوں سے محروم رہے۔
آپ اب بھی اس گل نارا والی دعوت سے جڑے ہیں۔ دعوت میں دو ایک پارسیوں کے علاوہ سب کے سب گجراتی پٹیل تھے۔ یہ امریکہ اور برطانیہ میں بڑی کثیر تعداد میں آباد ہیں پٹیل گجراتیوں کے ہاں وہی حیثیت رکھتے ہیں جو پنجاب میں چوہدری مگر ذہانت، کاروباری صلاحیت اور آنکھ میں کاجل بن کر رہنے کا جو فن ان گجراتی پٹیلوں کو آتا ہے چوہدری اس کا پاسنگ بھی نہیں۔ کھانے کے بعد گل نارا نے تو ایک گھنٹہ ناچ ناچ مردوں کو دھواں بنا کر فضا میں اڑا دیا اور رقص کے اختتام پر ڈاکٹر صاحب سے واپسی کا وقت طے کر کے کراچی کی زینب مارکیٹ والا کفتان پہن کر اپنی کسی عزیزہ کہ ہاں سونے چلی گئی۔
میزبان پٹیل خاتون نے ایک قصہ چھیڑ دیا۔ ذہین تھیں واقعے کی مکمل جزئیات نوک زباں تھیں۔ ایسی دعوتوں میں دیس کی باتیں، وہاں کے قصے جان لیں کہ غالب کو بھی ایسے قصے سننے کا بہت شوق تھا جب ہی تو کہتے تھے کہ
کلکتے کا جو ذکر کیا تو نے ہم نشیں
اک تیر میرے سینے میں مارا کہ ہائے ہائے
ان کی اردو اسپیکنگ سہیلی میمونہ کے بھائی کے خاندان کا قصہ تھا۔ میمونہ کے ابو نے دہلی سے ہجرت کی۔ پہلے میرپور خاص آئے اور پھر پاپوش نگر کراچی میں بس گئے۔ میمونہ کے بھائی ظہیر کو پاپوش نگر کے نام سے چڑ تھی۔ پاپوش بمعنی جوتے کے ان کے ذوق طبع پر چھتر کی معنی برستا تھا۔ ان کا ایک بے لحاظ پنجابی دوست جس کا اردو ادب کا مطالعہ قابل رشک تھا وہ کہا کرتا تھا کہ جب مہاجروں کو چاندنی چوک جیسے نام رکھنے کی آزادی تھی تو انہوں نے وہاں کون سے علمائے دین آباد کیے وہاں بھی تو انہوں نے رنڈیوں کو لا کر بسایا دیا۔ وہ تو خیر ہوئی کہ ظہیر بھائی نے اپنے ایک پڑوسی اور اردو کے بہترین افسانہ نگار غلام عباس کی کہانی ”آنندی نہیں پڑھی تھی۔ البتہ دونوں دوستوں نے شیام بنیگل کی شہرہ آفاق ہندی فلم منڈی دونوں نے ضرور دیکھی۔ اس کی وجہ فنون لطیفہ سے رغبت کم اور آنجہانی سمیتا پاٹل کی روح کو نظروں سے ایصال ثواب پہنچانا زیادہ مطلوب و مقصود تھا۔
پاپوش نگر کراچی کا یہ گھرانا نیویارک سے جب بھی شکاگو آتا ہے ان ہی پٹیل خاتون میزبان کا مہمان ہوتا ہے۔ کسی بھی گزرے ہوئے واقعے کی تحقیر آمیز تفصیلات یا تو شادی شدہ گھریلو عورتوں کو یاد رہتی ہیں یا میڈیا کے اینکرز کو یا پولیس کے ایس ایچ او صاحبان کو۔ اس واقعے کے بیانیے میں امریکہ اور برطانیہ میں بسنے والوں دیسی لوگوں کے چبھتے مسائل سمٹے ہوئے ہوئے ہیں۔
وہ سنا رہی تھیں ”جہیر (ظہیر) بھائی کے چھوٹے چھوکرے کے لیے ان لوگ کو پاکستانی بہو چاہیے تھی، چھوکرے کا برونکس (نیویارک ) میں حلال جائرو فوڈ کارٹ (ٹھیلا) ہے۔ بہت چلتا ہے۔ چھوکرا تو بائی لوجی میں میجر ہے۔ گریڈز ٹھیک نہیں تھے تو آگے نہیں پڑھا۔ باپ سے جیادہ کماتا ہے حلال فوڈ میں انکم زیادہ ہے۔ باپ ادھر کسی میں بڑی لیب میں کام کرتا ہے۔
یہ لوگ سب کراچی گئے۔ پہلے سے اپنے رشتہ داروں کو بولے لا (کہہ رکھا) تھا کہ چھوکری لوگ کو لائن اپ (دکھاوے کے لیے چن کر ) کر کے رکھو۔ ان لوگ کے بڑے بیٹے کی بیوی نے سب کو تپا مارا (تنگ کر دیا) تھا۔ وہ چھوکری پنجاب کے کسی علاقے بھائی پھیرو کی فیملی تھی۔ فرسٹ جنریشن ایف۔ او۔ بی (فریشن آن بورڈ ان تارکین وطن کو کہا جاتا ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں امریکہ سمندری کشتیوں سے کس مپرسی کی حالت میں پہنچے ہوں ) ڈنکی مار کے کے امریکہ آئی تھی۔ لڑکے کی ماں میرے کو بولتی تھی میری بڑی بہو میرے ڈیکرے (بیٹے) فیجان (فیضان) کے ساتھ یونی ورسٹی میں تھی گڈ لکنگ (خوبصورت ) تھی مگر مزاج تو جیسے تیجاب (تیزاب) میں ڈوبیلا (ڈوبا ہوا)
شادی ہوئی تو اس کو گھسیٹ کے لا جویا (ریاست ٹیکساس کا قصبہ جو میکسیکو کی سرحد کے قریب واقع ہے اور نیویارک سے تین ہزار میل دور) وہاں لے گئی۔ ادھر اس کے باپ کا گیس اسٹیشن ہے۔ ماں باپ کی اکیلی بیٹی تھی۔ کہتی تھی فیجان، باپ کی بزنس میں ہیلپ (مدد) کرے گا۔ باپ گلہ کرنے لگا کہ اب ایسا ہو گیا ہے کہ ہمارا بیٹا آدھے گھنٹے کے لیے بس فیس ٹائم کرتا ہے۔ اس میں بھی کھُد (خود ) آگے پیچھے ہوتی رہتی ہے۔ کیا خاک بات ہو سکتی ہے۔
”تو پھر آپ لوگ نے عپھان (عفان ) کا کیا بندوبست کیا؟“ انہوں نے اپنے مہاجر مہمانوں سے پوچھا۔ وہ بولے ہم لوگ نے تین کنڈیشنز (شرائط ) اپنے رشتہ داروں کو بتائے تھے : ہر حال میں مہاجر فیملی ہو مگر مہاجر لوگ میں روہینگیا یا کرد نہیں چلے گی۔ شدھ مہاجر، اردو بولنے والی، میاں بھائی، پہلے آپ والی: دوسری گوری اور حسین ہو، تیسری ادھر شادی رجسٹری سے پہلے پری نیپوٹلPre Nupital (وہ معاہدہ جس میں شادی سے پہلے شرائط طے ہوجاتی ہیں ) سائن کرے گی۔ بھائی، بوڑھے ماں باپ کے لیے گرین کارڈ کی خاطر پنچات (مسئلہ ) کھڑی نہیں کرے گی۔ وقفے کے خاطر گجراتی خاتون اپنی شفون سلک کی ساڑھی سنبھال کر اٹھیں اور اس کی ہم رنگ شراب ڈال کر واپس آن کر گاؤ تکیے سے ٹیک لگا کر دوبارہ گویا ہوئیں۔ اب کی دفعہ پہلے گھونٹ سے ہی شرارت ان کی آنکھوں سے چھلکتی تھی۔ میرے میاں نے بولا ’یہ مہاجر لوگ بھی کبھی کبھی ہتھے سے اکھڑ جاتے ہیں دوسری کنڈیشن ایک دم
گیر واجبی ہے (غیر واجبی۔ نامناسب) ۔ رشّمی (خاتون کا گھریلو نام) میں ان لوگ سے پوچھتا تم لوگ کی پانچ جنریشن میں دو سو سال تک کوئی ایسا نہیں جس کو آپ گورا اور خوب صورت بولو۔ اپنی بیٹی کو انصاف سے دیکھ لو تو دوسرے کی بیٹی میں یہ کھوج کیوں؟ میاں کی بات سن کر خاتون نے انہیں مصنوعی غصے سے ٹوکا
Darling don ’t be a racist.
You know its a crime to utter such things in USA
(ڈارلنگ نسلی تعصب کی باتیں مت کرو یہ امریکہ میں جرم تصور کی جاتی ہیں ) ۔
جہیر بھائی اب کی دفعہ پاکستان سے آ کر بہوت دکھی تھے۔ کہہ رہے تھے سالا نائن الیون تو ادھر امریکہ میں ہوا ہماری عجت (عزت) ادھر کے علاوہ، پاکستان میں بھی کم ہو گئی۔ ایک دوست سے گاڑی مانگی تو بولا پاپوش نگر کے پاس چوک پر بہت سستا پٹھان لوگ کا رینٹ۔ آ۔ کار ہے۔ وہاں سے لے لو۔ تم لوگ تو سالا ام کو امریکہ میں ائر پورٹ بھی لینے نہیں آتا ویک اینڈ پر بھی رو رو کر لفٹ کراتا
ہے۔ یہاں ہر سال دسمبر میں امریکی پاوندوں (پاوندے افغان خانہ بدوش جو سردیوں میں پاکستان آ جاتے ہیں) کی طرح پاکستان شادیوں کے کھانے اور کپڑوں چادروں پردوں کی سیل لوٹنے آ جاتے ہو۔ ہمارے سے جہاز سے اتر کر پروٹوکول مانگتے ہو۔ فیور سے انکار کرنے والا دوست سالا کوئی بیوروکریٹ ہے۔
سندھ میں آخر شھداد پور کی ایک لڑکی پسند آئی تو اس کو شیپرنڈ ڈیٹ Chaperoned Date (ایسی ملاقات جس میں کوئی بڑا نگرانی کے لیے موجود ہو ) کے لیے کراچی بلوایا گیا۔ عپھان (عفان) کی ضد تھی کہ رشتہ سے پہلے ایک دفعہ اس سے اکیلا ڈائیلاگ کرے گا۔ وہی پاپوش نگر کے چوک سے سستی کار ود ڈرائیور رینٹ کی۔ کلفٹن کباب تکے کی ریستوراں لے گیا۔ لڑکی کے رشتہ دار بھی سالے لوگ کوئی موساد کے ماموں لگتے تھے۔ ایک علیحدہ سوزوکی میں پہنچے اور دوسری ٹیبل پر بیٹھ گئے۔ ذرا کنزرویٹیو (قدامت پسند) فیملی تھی۔
اب اپن لوگ کا عپھان تو بائی لوجی کا میجر تھا ہلکی پھلکی بات کے بعد اس نے لڑکی کو پوچھا کہ ”آپ Theory of Evolution (ڈارون کا نظریہ ارتقا کا انسان بندر کی ترقی یافتہ صورت ہے) کو مانتی ہیں یا بائبل کی (Genesis Story) انسانی تخلیق والی بات کو؟“
شھداد پور کے گرلز کالج کی گریجویٹ لڑکی نے پوچھا ”یہ Theory of Evolution کیا ہے؟“
عپھان بولا ”ڈارون کا نام سنا ہے آپ نے؟“
لڑکی بولی ”ہمارے گھر میں انگلش فلمیں دیکھنے کی اجازت نہیں“
یہ ڈنر ڈیٹ ویسے تو رینٹ آ کار کے حساب سے چھ گھنٹے کے لیے تھی مگر عپھان میاں اتنے بور ہوئے کہ کل تین گھنٹے میں ہی سب گھر واپس آ گئے۔ کار والا پورے چھ گھنٹے کے پیسے مانگتا تھوڑی منھ ماری بھی ہوئی۔ ابھی یہ لوگ پھر دسمبر میں پاکستان جائیں گے۔ چھوکری دیکھنے
اس پر وہاں ایک اور گجراتی ماں سے چپکی اور ٹیکلا کی چسکی لیتی لڑکی نے آہستہ سے انگریزی میں پوچھا
and this Dodo is he going to repeat the same question with new beauty , Auntie Rash
(اور یہ بے وقوف اب کی مرتبہ بھی اس نئی حسینہ سے وہی پرانا سوال دہرائے گا؟)









37 سال پرانی یاد ہندی فم اجازت کا گانا
جس کی اداکارہ بھی ایک پٹیل ہی تھی۔
امیشا پٹیل نہیں بلکہ انورادھا پٹیل
لیکن سیاق و سباق ۔۔ عنوان سے لگا کھاتا نہیں ملا