جدید گوادر میں تعلیمی بورڈ کے قیام کی ضرورت
گوادر، بلوچستان کا ایک خوبصورت ساحلی شہر، اپنی جغرافیائی اہمیت اور ترقیاتی منصوبوں کے باعث قومی اور بین الاقوامی سطح پر توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ 2011 میں گوادر کو اس کے منفرد موسم اور محل وقوع کی وجہ سے بلوچستان کا سرمائی دارالحکومت قرار دیا گیا۔ یہ شہر 15210 مربع کلومیٹر کے رقبے اور 770 کلومیٹر طویل ساحلی پٹی پر مشتمل ہے، اور اس کی آبادی تین لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ گوادر کی اہمیت اس کی بندرگاہ، گرم پانیوں، اور بین الاقوامی بحری تجارتی راستوں کی وجہ سے مزید بڑھ جاتی ہے۔
گوادر میں پاکستان اور چین کے درمیان کئی بڑے منصوبوں پر کام جاری ہے، جن میں بین الاقوامی معیار کا ائرپورٹ بھی شامل ہے، جو حال ہی میں مکمل ہوا۔ یہ سب ترقیاتی اقدامات اس شہر کو جدید سہولیات سے آراستہ کرنے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔ تاہم، بدقسمتی سے، گوادر جیسے اہم شہر میں تعلیم کی بنیادی ضرورت کو نظر انداز کیا جا رہا ہے، جو کہ لمحہ فکریہ ہے۔
گوادر میں تعلیم کی صورت حال قابل تشویش ہے۔ یہاں کئی سرکاری اور نجی اسکول اور ہائر سیکنڈری تعلیمی ادارے موجود ہیں، لیکن یہ تمام ادارے ایک موثر اور مربوط تعلیمی نظام سے محروم ہیں۔ اس جدید شہر میں تعلیمی بورڈ کی عدم موجودگی نہ صرف طلبہ کے لیے مسائل پیدا کر رہی ہے بلکہ ان کی تعلیمی ترقی کی راہ میں بھی رکاوٹ ہے۔ گوادر میں تعلیمی بورڈ نہ ہونے کی وجہ سے طلبہ کو امتحانات، اسناد کی تصدیق، مائیگریشن اور دیگر تعلیمی امور کے لیے کوئٹہ جیسے دور دراز شہر کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ یہ عمل نہ صرف وقت کا ضیاع ہے بلکہ اضافی اخراجات اور سفری مشکلات کا سبب بھی بنتا ہے۔
گوادر ایک سرحدی ضلع ہے جہاں آبادی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ یہاں کے نوجوانوں کو بہتر تعلیمی مواقع فراہم کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ ایک موثر تعلیمی بورڈ کے قیام سے نہ صرف طلبہ کو ان کے تعلیمی امور مقامی سطح پر نمٹانے میں آسانی ہوگی بلکہ یہ تعلیمی معیار کو بھی بہتر بنانے میں معاون ہو گا۔
حکومت بلوچستان اور متعلقہ حکام کو چاہیے کہ وہ گوادر کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے یہاں ایک تعلیمی بورڈ کا قیام عمل میں لائیں۔ یہ اقدام نہ صرف علاقے کے طلبہ و طالبات کے لیے تعلیمی سہولتوں میں اضافہ کرے گا بلکہ گوادر کو تعلیمی میدان میں ایک ماڈل ضلع بنانے کی جانب پہلا قدم ہو گا۔
تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی کا بنیادی ستون ہے۔ گوادر جیسے ترقی پذیر شہر میں تعلیمی سہولیات کی فراہمی نہایت ضروری ہے تاکہ یہاں کے نوجوان اپنی صلاحیتوں کو نکھار کر ملکی ترقی میں موثر کردار ادا کر سکیں۔


