انسانی سوچ پر جکڑ اور پہرے


ڈینس ڈیڈرو ( 1713۔ 1784 ) ایک مشہور فرانسیسی فلسفی، مصنف، اور روشن خیالی کے نمایاں مفکرین میں سے ایک تھے۔ وہ Encyclopedie کے بانیوں میں شامل تھے، جو ایک ایسا ادبی اور سائنسی منصوبہ تھا جس نے عقلی سوچ کو فروغ دیا اور مذہبی اجارہ داری کو چیلنج کیا۔ ڈیڈرو نے آزاد خیالی، سائنسی تحقیق، اور انسان کی فکری آزادی پر زور دیا۔ ان کے خیالات چرچ کے روایتی نظریات کے خلاف تھے، جس کی وجہ سے انہیں شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔

یہ وہی محقق اور فلاسفر تھے جن کے بارے ان کے ہم عہد اور طاقتور حریف، ژاں ژاک روسو نے اپنی کتاب Confessions میں لکھا کہ چند صدیوں بعد ڈیڈرو کو اتنی ہی عزت دی جائے گی جتنی افلاطون اور ارسطو کو دی گئی۔ جرمنی میں گوئٹے، شیلر، اور لَسِنگ نے ڈیڈرو کی تحریروں کی تعریف کی۔ گوئٹے نے ڈیڈرو کی مشہور تصنیف Rameau ’s Nephew کو ایک ممتاز آدمی کی کلاسیکی تخلیق قرار دیا اور کہا، ”ڈیڈرو ایک منفرد شخصیت ہے جو بھی اس پر اور اس کے معاملات پر تنقید کرتا ہے، وہ ایک عام انسان ہے۔

فرانسیسی انقلاب کے دوران ڈیڈرو کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور اس پر مذہبی رہنماؤں پر کی جانے والی زیادتیوں کا الزام لگایا گیا۔ اگلی صدی میں ڈیڈروٹ کو بالزاک، ڈیلاکروا، اسٹینڈھال، زولا، اور شوپنہاور نے سراہا۔ کاؤنٹ کے مطابق، ڈیڈرو اس دور کا سب سے بڑا ذہن تھا۔ مورخ مشیلے نے ان کا تعارف حقیقی پرومیتھیس کے طور پر کرایا اور کہا کہ ڈیڈرو کے خیالات مستقبل میں بھی اثر انداز رہیں گے۔ کارل مارکس نے ڈیڈروٹ کو اپنے پسندیدہ نثر نگار کے طور پر منتخب کیا۔

ڈیڈرو کو اپنی گرفتاری کے وقت اپنی ملکیت میں موجود ایک کتاب رکھنے کی اجازت دی گئی تھی، اور وہ کتاب Paradise Lost تھی، جسے انہوں نے قید کے دوران پڑھا۔ اس کتاب پر انہوں نے نوٹس اور تبصرے لکھے، ایک چھوٹے سے تنکے کو قلم کے طور پر استعمال کیا، اور سیاہی بنائی جو وہ دیواروں کے پتھر گھوٹ کر اور شراب کے ساتھ ملا کر تیار کرتے تھے۔

ڈیڈرو کا یہ مشہور قول ان کے نظریات کا عکاس ہے،
(فلسفی نے کبھی کسی پادری کو قتل نہیں کیا، لیکن پادریوں نے بے شمار فلسفیوں کو قتل کیا ہے۔ )

یہ قول اس حقیقت کو نمایاں کرتا ہے کہ عقلیت پسندوں نے ہمیشہ تشدد سے گریز کیا، جبکہ مذہبی ٹھیکیداروں نے اپنی طاقت کو برقرار رکھنے کے لیے اختلافِ رائے کو ظلم و جبر سے کُچلا۔

ڈینس ڈیڈرو کے اس قول کے ساتھ ایک جائزہ شروع کرتے ہیں جو اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ تاریخ کے کئی مرحلوں پر منفرد سوچ رکھنے والے، نئے نظریات پیش کرنے والے فلاسفرز اور سائنسدانوں کو ظلم و ستم کا سامنا کرنا پڑا، یہاں تک کہ ان کی جان بھی لے لی گئی۔

روشن خیالی کا دور، جس میں ڈیڈرو خود بھی شامل تھے، عقلیت، سائنسی تحقیق، اور مذہبی عقائد کے خلاف سوال اٹھانے کی تحریک کا دور تھا۔ اس دور میں چرچ کی اجارہ داری کے خلاف آواز بلند کرنا اکثر جان لیوا ثابت ہوتا تھا۔ چرچ کے روایتی عقائد کے خلاف جانے والے لوگوں کو کفر، بے دینی اور دیگر سنگین الزامات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ اس سے پہلے کہ ہم اس متعلق گفتگو کریں کہ کِن کِن لوگوں کو ان کے انوکھے نظریہ کی بنیاد پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا، ہم پہلے ایک نظر مخصوص عدالتوں کے قیام پر ڈالتے ہیں جو ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے بنائی گئی تھی۔

درحقیقت انکوئیزیشن یورپ میں قائم کی گئی مذہبی عدالتوں کا ایک نظام تھا، جو کیتھولک چرچ کے زیرِ نگرانی کفر، بدعت، اور مذہبی عقائد سے انحراف کے الزامات کی تحقیقات اور سزا کے لیے قائم کی گئیں۔ ان عدالتوں کا مقصد مذہب کی خالصیت کو برقرار رکھنا اور چرچ کی اجارہ داری کو چیلنج کرنے والوں کو روکنا تھا۔ ان مذہبی عدالتوں کا قیام 12 ویں صدی میں اس وقت عمل میں آیا جب چرچ کو بدعتی تحریکوں کے پھیلاؤ کا سامنا ہوا۔

چرچ نے ان تحریکوں کو اپنے مذہبی نظریات کے خلاف ایک خطرہ سمجھا اور ان کے خاتمے کے لیے قانونی اور جنگی بنیادوں پر اقدامات کیے۔ ان عدالتوں کا سب سے مشہور اور متنازعہ استعمال اسپین میں 15 ویں صدی کے آخر میں ہوا، جہاں مسلمانوں اور یہودیوں کو زبردستی عیسائیت قبول کرنے پر مجبور کرنے اور ان کے خلاف کارروائی کے لیے استعمال کیا۔ ان عدالتوں میں زیادہ تر الزامات کفر، جادوگری، بدعت، اور مذہبی انحراف کے حوالے سے ہوا کرتے تھے۔

الزامات اکثر خفیہ طور پر لگائے جاتے تھے، اور ملزمان کو اپنی صفائی پیش کرنے کا بہت محدود موقع ملتا تھا۔ تحقیقات کے دوران سخت جسمانی اذیت اور نفسیاتی دباؤ ڈالا جاتا تھا تاکہ ملزمان اعترافِ جرم کر سکیں۔ عام سزاؤں میں جلاوطنی، جائیداد کی ضبطی، قید، اور بعض اوقات موت کی سزا، جیسے زندہ جلانا، شامل تھیں۔ ان سزاؤں کو عوامی طور پر دیا جاتا اور عوام کی اکثریت اس کو سراہتی اور اپنے مذہب کے خلاف خطرہ پیدا کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ بھی کرتی تھی۔

مشہور اخبار گارجین کے مطابق اسپینش انکوئزیشن کے دوران تیس ہزار تا 30 لاکھ اور ایک اور دعوے کے مطابق 125000 میں سے ایک فیصد کو سزا دی گئی۔ انکوئزیشن کا دور ( 1478۔ 1834 ) سب سے بدنام ہے، جس کے تحت ہزاروں افراد کو بدعت یا مذہبی انحراف کے الزام میں سزا دی گئی اس عدالت نے گلیلیو جیسے سائنسدانوں پر مقدمہ چلایا، جن کے نظریات چرچ کے عقائد سے متصادم تھے۔ پرتگال، فرانس، اور دیگر یورپی ممالک میں بھی یہ عدالتیں مختلف اوقات میں متحرک رہیں۔

مذہبی عدالتوں کی طاقت اور یورپ میں مذہبی شدت پسندی ایک علامت تھی۔ انہوں نے روشن خیالی اور جدید سائنسی ترقی کو روکنے میں اہم کردار ادا کیا، مگر ساتھ ہی یہ مظالم انسانیت کے لیے ایک سبق بھی بنے کہ کیسے آزادیِ فکر اور عقائد کی آزادی کو کچلنا انسانی ترقی میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔ ویٹیکن کے پوپ نے اگرچہ سن 2000 ٔ عیسوی میں مذہبی عدالتوں کے تمام مظالم پر معافی غیر مشروط طور پر مانگ لی ہے۔

اب اگر یونانی قدیم دور کی بات کریں تو ہم دیکھتے ہیں کہ قدیم یونان کے فلسفی سقراط نے اخلاقیات اور دانش کی اہمیت پر جب بات کرنا شروع کی تو ان پر نوجوانوں کو گمراہ کرنے اور ریاست کے دیوتاؤں کو چیلنج کرنے کا الزام عائد کیا گیا۔ انہیں زہر کا پیالہ پینے پر مجبور کیا گیا، جو ان کے علم و فکر کی سزا تھی۔ اولین صدیوں میں، ہپاٹیہ جو چوتھی صدی عیسوی میں اسکندریہ کی ایک معروف فلسفہ، ریاضی دان، اور ماہر فلکیات تھیں، کو چرچ کے مذہبی رہنماؤں کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔

انہوں نے افلاطونی فلسفہ کو فروغ دیا اور سائنسی سوالات اٹھائے، جو مذہبی رہنماؤں کے لیے ناقابلِ قبول تھے۔ جب ہپاٹیہ نے اپنے خیالات کا دفاع کیا اور مذہبی اجارہ داری کو چیلنج کیا، تو چرچ کے ماننے والوں نے ان پر جادوگری اور دین دشمنی کا الزام عائد کیا۔ بالآخر 415 عیسوی میں ایک مشتعل ہجوم نے انہیں بے دردی سے قتل کیا اور ان کے جسم کو جلا دیا۔ یہ علم اور دانش کے خلاف ایک اور شدید اندوہناک سانحہ تھا۔

سولہویں صدی میں، اسی طرح سر تھامس مور، جو ایک انگریزی انسانی حقوق کے علمبردار اور فلسفی تھے، کا سیاسی اور مذہبی تنازعات میں ملوث ہونے کی وجہ سے سر قلم کیا گیا۔ ان پر بادشاہ ہنری ہشتم کے چرچ کی سربراہی قبول نہ کرنے اور رومن چرچ کے ساتھ وفاداری کا الزام عائد کیا گیا۔ مور نے اپنے اصولوں پر قائم رہتے ہوئے اپنی جان دی۔ اسی صدی میں، ولیم ٹینڈیل ایک مترجم اور عالم تھے جنہوں نے بائبل کا عبرانی اور یونانی زبان سے انگریزی میں ترجمہ کیا تاکہ عام لوگ اسے پڑھ سکیں۔ چرچ نے اس عمل کو اپنی اجارہ داری کے لیے خطرہ سمجھا۔ 1536 میں انہیں کفر کے الزام میں گرفتار کیا گیا اور زندہ جلا دیا گیا۔ ان کا صرف یہ جرم تھا کہ انہوں نے علم کو عوام تک پہنچانے کی کوشش کی تھی۔

مائیکل سرویٹس ایک ہسپانوی طبیب اور تھیولوجین تھے، وہ پہلے یورپی تھے جنہوں نے پھیپھڑوں کی گردش کے عمل کو درست طور پر بیان کیا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ کس طرح خون دل سے پھیپھڑوں میں جاتا ہے، وہاں آکسیجن لیتا ہے، اور پھر واپس دل میں آتا ہے۔ ان کا یہ انقلابی نظریہ ان کے طبی اور سائنسی کام کا ایک اہم حصہ تھا، جس نے بعد کے دور میں علمِ طب میں اہم پیش رفت کی بنیاد رکھی۔ انہوں نے تثلیث کے عقیدے کو چیلنج کیا۔ ان کی تحقیق نے مذہبی رہنماؤں کو چراغ پا کر دیا۔

مائیکل سرووٹس کا ماننا تھا کہ خدا کا فضل تمام انسانوں کے لیے ہے، چاہے ان کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو۔ وہ اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ خدا کی رحمت اور برکت کسی مخصوص مذہبی عقیدے یا فرقے تک محدود نہیں بلکہ ہر انسان کے لیے کھلی ہے۔ ان کے خیالات نے مذہبی رواداری اور انسانی مساوات کے نظریات کو فروغ دیا، لیکن ان کے انقلابی نظریات کی وجہ سے انہیں شدید مخالفت اور مذہبی انتہا پسندی کا سامنا کرنا پڑا۔ 1553 میں جنیوا میں کیلوین کے زیرِ اثر ایک مذہبی عدالت نے انہیں زندہ جلا دیا۔ ان کا جرم صرف یہ تھا کہ انہوں نے مذہبی عقائد پر سوال اٹھایا۔

آگے چل کر ہمیں سائنسی نظریات پیش کرنے والے لوگوں کے اوپر سختی نظر آتی ہے۔ جؤرڈانو برونو ایک اطالوی فلسفی اور ماہر فلکیات تھے جنہوں نے کائنات کی لامحدودیت اور زمین کے علاوہ دیگر دنیاؤں کی موجودگی کے نظریات پیش کیے۔ ان کے خیالات اس وقت کے کیتھولک چرچ کے نظریات سے متصادم تھے۔ 1600 عیسوی میں انہیں بدعت کا مجرم قرار دیا گیا اور روم میں زندہ جلا دیا گیا۔ ان کا جرم صرف یہ تھا کہ انہوں نے سوچنے اور سوال کرنے کی جرات کی۔

نکولس کوپرنیکس وہ پہلے ماہر فلکیات تھے جنہوں نے زمین کی گردش کے بارے میں سائنسی نظریہ پیش کیا۔ ان کی کتاب ”On the Revolutions of the Celestial Spheres“ نے فلکیات میں ایک انقلابی تبدیلی پیدا کی۔ چرچ نے ان کے خیالات کو بدعت قرار دیا اور ان کی تحقیق کو صدیوں تک دبانے کی کوشش کی۔ اگرچہ کوپرنیکس کے چرچ سے تعلقات اچھے تھے مگر ان کی کتاب ”De revolutionibus“ پر دو سو سال تک پابندی رہی۔ اس دور میں چرچ نے جیو سینٹرک ماڈل (زمین مرکزیت کے نظریے ) کو بنیاد اور واحد تصور رکھا کیونکہ بائبل میں ایسی آیات موجود تھیں جو یہ ظاہر کرتی تھیں کہ سورج زمین کے گرد گردش کرتا ہے۔

اس نظریے کے مطابق زمین کائنات کا مرکز ہے اور سورج سمیت تمام اجرام فلکی اس کے گرد گھومتے ہیں۔ کیتھولک چرچ نے ان بائبلی حوالوں کو سائنسی نظریات پر فوقیت دی اور طویل عرصے تک اس ماڈل کو مذہبی اور سائنسی حقیقت کے طور پر پیش کیا۔ مزید سائنسی دنیا میں گیلیلیو گیلیلی ایک اطالوی ماہر فلکیات اور سائنسدان تھے جنہوں نے کوپرنیکس کے نظریات کی توثیق کی کہ زمین سورج کے گرد گھومتی ہے، جو اس وقت کے چرچ کے نظریات کے برعکس تھا۔ گلیلیو پر بدعت کا الزام لگایا گیا اور انہیں ان کے خیالات سے دستبردار ہونے پر مجبور کیا گیا۔ 1633 میں انہیں مذہبی عدالت کے سامنے پیش کیا گیا، جہاں ان پر دباؤ ڈالا گیا کہ وہ اپنے نظریات سے انکار کریں۔ گلیلیو کو عمر بھر کے لیے نظر بند کر دیا گیا، اور وہ باقی زندگی نظربندی میں رہے۔

اسی طرح سپینوزا، جو ایک یہودی فلسفی تھے، نے مذہب کی روایتی تشریحات کو چیلنج کیا اور عقل پر مبنی اخلاقیات کو فروغ دیا۔ ان کے خیالات، خاص طور پر خدا اور کائنات کے اتحاد کا نظریہ، مذہبی رہنماؤں کے لیے ناقابلِ قبول تھا۔ 1670 میں ان کی تصنیف ”Tractatus Theologico-Politicus“ نے مذہبی اور سیاسی امور پر بحث چھیڑ دی۔ انہیں یہودی کمیونٹی سے خارج کر دیا گیا اور ان پر الحاد کا الزام عائد کیا گیا۔ اگرچہ سپینوزا کو جسمانی نقصان نہیں پہنچایا گیا، مگر وہ ساری زندگی تنہائی اور سماجی ملامت کا شکار رہے۔

بیسویں صدی میں جان پٹوکہ ایک چیک فلسفی تھے جو انسانی حقوق، آزادی اور جمہوریت کے حق میں کھڑے ہوئے۔ انہوں نے چارٹر 77 کی تحریک میں حصہ لیا، جو کمیونسٹ حکومت کے ظلم کے خلاف ایک تحریک تھی۔ ان پر ریاست مخالف سرگرمیوں کا الزام لگا، اور ریاستی دباؤ کے نتیجے میں انہیں سخت اذیتیں جھیلنی پڑیں، جن کے باعث ان کا انتقال ہوا۔

ماضی میں منفرد اور مختلف سوچ رکھنے والے افراد کو طویل عرصے تک ایذا رسانی کا سامنا کرنا پڑا۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسے افراد معاشرے کو نئے راستے دکھاتے ہیں اور ترقی کی راہیں ہموار کرتے ہیں۔ آج کے دور میں بھی برداشت کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ ہے، اور یہ سمجھنا ضروری ہے کہ منفرد سوچ رکھنے والے افراد معاشرے کے لیے اتنے ہی اہم ہیں جتنے کہ روایتی سوچ رکھنے والے لوگ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ تمام افراد، جو کبھی سیاسی، سماجی، مذہبی یا سائنسی نظریات کی بنا پر مشکلات کا شکار بنائے گئے، کیا ان کی آواز واقعی دبائی جا سکی؟ حقیقت تو یہ ہے کہ ان کی آوازیں اور ان کا درد آج بھی ادب اور فلسفے کی کتابوں میں گونج رہا ہے اور ہمیشہ گونجتا رہے گا، وقت کی دھول بھی ان کے خیالات کی گہرائی اور اثر کو ماند نہیں کر سکی۔

Facebook Comments HS