وکٹوریہ: طبقاتی تفاوت پر تحریر کیا گیا بہترین ادب پارہ
وکٹوریہ کے مصنف کنوٹ ہامسن ( 1859۔ 1952 ) ناروے کے معروف ادیب اور شاعر تھے۔ ان کے والد متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے ایک غریب کسان تھے۔ ان کا بچپن افلاس زدہ اور کٹھن تھا مگر اس کے باوجود وہ اپنی تعلیم جاری رکھنے میں کامیاب رہے۔ ان کا شمار جدید نفسیاتی اور وجودی ادب کے بانیوں میں ہوتا ہے۔ ہامسن کی نثر میں ایک خاص شاعرانہ کیفیت اور جذباتی شدت پائی جاتی ہے جو انہیں ان کے ہم عصر ادیبوں سے ممتاز کرتی ہے۔ ان کی ادبی خدمات کے صلے میں 1920 میں انہیں ادب کے نوبل انعام سے نوازا گیا۔
وکٹوریہ محبت، طبقاتی تفاوت اور انسانی خواہشات کے درمیان کشمکش پر مبنی ایک رنجیدہ ناول ہے۔ کنوٹ ہامسن کی شاعرانہ طبیعت اور نفسیاتی بصیرت قارئین کو کرداروں کی اندرونی کیفیت سے بہ خوبی ہم آہنگ کرتی ہے۔ انیسویں صدی کے اواخر میں تحریر کیا گیا یہ ناول آج بھی اپنے عالم گیر موضوع اور بہترین نثر کی وجہ سے قارئین کو متاثر کیے ہوئے ہے۔
پہلی بار یہ ناول نارویجن زبان میں 1898 میں شائع ہوا۔ انگریزی میں اس کا پہلا ترجمہ آرتھر ڈی چارٹر نے 1923 میں کیا۔ اس کا پہلا اردو ترجمہ 1994 میں بھارت سے چھپا اور اس کے مترجم ہرچرن چاولہ تھے۔ ہم نے جس ترجمے کا مطالعہ کر رکھا ہے وہ شگفتہ شاہ کا کیا ہوا ہے اور اسے 2021 میں چھاپا گیا تھا۔ اس کے 13 ابواب ہیں اور یہ 168 صفحات پر مشتمل ہے۔
ناول کا آغاز یوہانس اور وکٹوریہ کی بچپن کی دوستی سے ہوتا ہے، جو بتدریج شدید محبت میں بدل جاتا ہے۔ باوجود اس کے کہ دونوں میں باہمی محبت ہے مگر حیرت انگیز طور پر سماجی ڈھانچہ ان کے مستقبل پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ یوہانس کا معمولی خاندانی پسِ منظر، اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے وکٹوریہ کے خاندان سے واضح طور پر متصادم ہے۔ یہی منظرنامہ ان کی محبت میں ناقابل عبور حد بن جاتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ یہ سماجی فرق کہانی میں ایک مستقل موضوع کے طور پر سامنے آتا ہے۔ ہامسن نے اس سماجی دباؤ کو رقت آمیز ڈھنگ سے پیش کیا ہے جو افراد کی جذباتی کیفیت کو پس پشت ڈال کر طبقاتی امتیاز فراہم کرتے ہوئے بے رحم خاندانی توقعات کے مطابق ڈھلنے پر مجبور کر دیتا ہے۔
مصنف نے ناول کے کرداروں کو نفاست اور ہمدردی کے پیرائے میں پیش کیا ہے۔ یوہانس کو ایک جذباتی اور باصلاحیت شاعر کے طور پر دکھایا گیا ہے۔ وکٹوریہ کی محبت یوہانس کی فنکارانہ جستجو کو جلا بخشتی ہے۔ تاہم بدحال حیثیت اور کمزور مالی حالات اس کے اور وکٹوریہ کے درمیان حائل ہو جاتے ہیں۔ دوسری جانب وکٹوریہ بھی اپنی محبت اور خاندانی مسائل میں پھنس کر رہ جاتی ہے۔ یوہانس کو نظرانداز کر کے مالی طور پر مضبوط شخص سے منگنی کرنا اس کے جذبات کی ترجمانی نہیں بلکہ خاندان کے مالی حالات کو مستحکم کرنے کے لیے دی جانے والی ایک قربانی ہے۔
ہامسن نے ناروے کے دیہات کی بھی کیا خوب منظر نگاری کی ہے۔ یہ منظرکشی کرداروں کے اندرونی اضطراب کی عکاسی بھی ہے، جس سے ماحول اور کہانی کے درمیان گہری ہم آہنگی پیدا ہو جاتی ہے۔ مثال کے طور پر دھند میں ڈوبی خاموش جھیل اور تنہائی، یوہانس کے اکیلے پن اور احساسات کی ترجمان ہے۔ جب کہ طوفان اور اداس جنگل وکٹوریہ کی اندرونی کیفیت اور دبے ہوئے جذبات کی عکاسی کرتے ہیں۔
اس کے علاوہ ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ محبت کی یہ کہانی ہچکچاہٹ، غلط فہمیوں اور ان کہی باتوں سے بھری ہوئی ہے جو اجتناب کی نہ ختم ہونے والی فضا کو قائم رکھتی ہے۔ وکٹوریہ کی قبل از وقت موت یوہانس کو گہرے غم کی گہرائیوں میں دھکیل دیتی ہے، مگر یہاں اس بات کا بھی ادراک ہے کہ محبت کی طاقت کبھی ختم نہیں ہوتی چاہے حالات سنگین ہی کیوں نہ ہو جائیں۔
ہامسن کے اسلوب کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ وہ انسان کی نفسیات اور اس کے جذباتی عوامل کو احسن انداز میں پیش کرتا ہے۔ وہ کرداروں کو غیر معمولی بصیرت کے لبادے میں پیش کرتا ہے۔ انہوں نے محبت کو صرف ایک سادہ یا مثالی جذبے کے طور پر نہیں بلکہ خوشی، غم، خواہش اور قربانی کے گنجلگ امتزاج کے ساتھ پیش کیا ہے۔ یہ ناول ہامسن کی ادبی قابلیت کا منہ بولتا ثبوت ہے اور اُن کی صلاحیت کا مظہر بھی۔
بہرحال وکٹوریہ ہمیں محبت، زندگی اور سماجی رکاوٹوں کے متعلق کئی اہم اسباق سے نوازتا ہے۔ یہ محبت کی ان کیفیات کو اُجاگر کرتا ہے جو مبہم رہ سکتی ہیں۔ وہ یہ آگاہی بھی دیتا ہے کہ حقیقی محبت شاید آسان راستوں پر چل کر حاصل نہ کی جا سکے۔ ناول سماجی اور معاشی حیثیت کے فرق کی تلخ حقیقتوں کو بھی نمایاں کرتا ہے جو لوگوں میں محبت ہونے کے باوجود راستے جدا کرنے کا باعث بن سکتی ہیں۔
اس کے علاوہ ہامسن ہمیں مواقع کے ضیاع کی اہمیت بھی سمجھاتا ہے اور مشورہ دیتا ہے کہ زندگی کے اہم لمحات میں ہچکچاہٹ یا جذبات کا اظہار نہ کرنا پچھتاوے کا سبب بن سکتا ہے۔ یہ کہانی محبت کی دیرپا طاقت کو بھی ظاہر کرتی ہے جو وقت اور حالات سے بالاتر ہے اور انسانی جذبات کی نزاکت اور زندگی کی عارضی نوعیت کو بھی بیان کرتی ہے۔ آخر میں سب سے اہم بات جو اس ناول سے اخذ کی جا سکتی ہے وہ ہے تعلقات کو اہمیت دینا کیوں کہ اکثر فیصلے ناقابل واپسی ہوتے ہیں اور ان کے مستقبل پر دیرپا اثرات بھی ہوتے ہیں۔


