صورتِ حال: گردشِ ماہ و سال


اِس ہفتے ماہ و سال کی گردش غیرمعمولی طور پر تیز رہی۔ وقفے وقفے سے عجیب و غریب واقعات رونما ہوتے گئے۔ ایک رات اچانک ٹی وی میں شور اُٹھا کہ جنوبی کوریا کے صدر نے ملک میں مارشل لا نافذ کر دیا ہے۔ صبح اُٹھے، تو معلوم ہوا کہ مارشل لا صرف چھ گھنٹے جاری رہا، کیونکہ پارلیمنٹ نے اُس کی توثیق سے انکار کر دیا تھا اور عوام سڑکوں پر نکل آئے تھے۔ بعد میں فوج کے سربراہ نے مارشل لا نافذ کرنے پر قوم سے معافی مانگی جبکہ سابق وزیرِ دفاع نے جرم کا احساس کرتے ہوئے خودکشی کرنے کی ناکام کوشش کی۔

یاد رَہے کہ جنوبی کوریا کا پاکستان کے ساتھ بہت گہرا تعلق ہے۔ دوسری جنگِ عظیم سے پہلے جاپان کا پورے کوریا پر قبضہ تھا۔ اُس کی شکست کے بعد امریکہ، سوویت یونین اور چین اِس ملک پر قابض ہونے کے لیے ایک دوسرے سے دست و گریباں ہوئے۔ اُنہی دنوں امریکہ اور پاکستان میں باہمی تعاون کا معاہدہ طے پایا تھا جس کے تحت پاکستان کو اَمریکی امداد ملنا شروع ہوئی تھی۔ امریکہ نے پاکستان سے اپنی فوجیں جنوبی کوریا بھیجنے کے لیے کہا، مگر حکومتِ پاکستان نے قومی مفاد میں اُس کی بات ماننے سے صاف انکار کر دیا تھا۔

جنوبی کوریا نے اپنی معاشی ترقی کا سفر پاکستان کے پہلے پنج سالہ منصوبے سے کیا جو سٹیٹ بینک آف پاکستان کے پہلے گورنر جناب زاہد حسین نے تیار کیا تھا۔ جنوبی کوریا نے اُس منصوبے پر پوری دلجمعی سے عمل درآمد کیا اور بلندیوں کو چھوتا چلا گیا جبکہ ہم دائروں ہی میں گھومتے رہے۔ یہاں یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ جن دنوں جنوبی اور شمالی کوریا کے درمیان جنگ جاری تھی، تو اُس خِطے میں کپاس اور پٹ سن کی مانگ میں غیرمعمولی اضافہ ہوا، چنانچہ پاکستان کو بہت بڑی مقدار میں زرِمبادلہ حاصل ہونے لگا اور اُس کے روپے کی قدر بھارتی روپے سے ڈیڑھ گنا بڑھ گئی۔ بھارت نے پاکستان کو دھمکی دی کہ اگر اُس نے اپنے روپے کی قدر کم نہ کی، تو وہ اُس کے خلاف طاقت استعمال کرے گا۔ پاکستان کے وزیرِ اعظم لیاقت علی خان نے اِس دھمکی کا منہ توڑ جواب دیا، چنانچہ بھارت بلبلے کی طرح بیٹھ گیا۔

اِسی ہفتے دوسرا غیرمعمولی واقعہ شام میں ظہور پذیر ہوا جو ایک دنیا کو حیرت زدہ کر گیا۔ اِس ملک میں 80 فی صد شافعی سُنی آباد ہیں۔ ایک زمانے میں یہاں اخوان المسلمون کا بڑا عمل دخل تھا۔ مَیں اُنہی دنوں دمشق گیا اور مجھے شامی خواتین کی آنکھوں کی حیا نے بہت متاثر کیا تھا۔ پھر شومئی قسمت سے اُس ملک میں بعث پارٹی قائم ہوئی جو علویوں پر مشتمل تھی۔ علوی اپنے عقائد اور خیالات کے اعتبار سے اہلِ تشیع سے یکسر مختلف ہیں۔ بعث پارٹی کے ذریعے حافظ الاسد شام پر قابض ہوا اَور اَخوان المسلمون پر ظلم کے پہاڑ توڑنا شروع کر دیے۔ تمام بڑے شہروں میں اُن کا قتلِ عام ہوا۔ حافظ الاسد کے بعد اُس کا بیٹا بشار الاسد تخت نشین ہوا اَور وہ ظلم و وحشت میں باپ سے بھی دو قدم آگے نکل گیا۔ تاریخی اعتبار سے شام اسرائیل کا عسکری حریف رہا ہے۔ اسرائیل نے اُس کی جولان کی چوٹیوں پر قبضہ کر رکھا ہے۔ اسرائیل اور اَمریکہ کے مخالف ہونے کی وجہ سے ایران اور رُوس شام کا ساتھ دیتے رہے۔ بتایا جاتا ہے کہ روس نے فوجی اڈے بھی قائم کر رکھے تھے۔

باپ بیٹے کو شام پر حکمرانی کرتے ہوئے 54 سال گزر گئے۔ بشار الاسد کے مظالم کے خلاف مختلف سیاسی اور دِینی قوتیں یکجا ہوئیں اور اُنہوں نے اکتوبر 2024 میں ’تحریکِ آزادیٔ شام‘ شروع کی۔ عوام اور فوج دونوں ہی حکومت سے بیزار تھے، اِس لیے تحریک کم وقت میں بے حد طاقتور ہو گئی اور 8 دسمبر کی رات پتہ چلا کہ بشار الاسد نے روس میں پناہ لے لی ہے۔

بشار الاسد حکومت کے خلاف ملٹری آپریشن اتھارٹی کے کمانڈر اَبو محمد الجولانی کر رہے ہیں جو بہت دانا اور صلح جُو معلوم ہوتے ہیں۔ اُنہوں نے امن و اَمان قائم رکھنے کے لیے اعلان کر دیا ہے کہ بشار الاسد کے وزیرِ اعظم اپنی ذمے داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اُنہوں نے فوج کے لیے بھی عام معافی کا اعلان کر دیا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ مختصر مدت کے لیے قومی حکومت قائم کریں گے اور اِنتخابات کے لیے مناسب انتظامات کریں گے۔ خلیج کی اہلِ ثروت شخصیتوں اور حکومتوں کو شام کو اَپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے لیے دستِ تعاون دراز کرنا چاہیے۔ اُن کی پشت پناہی سے شام روس کے اثر و نفوذ سے بھی آزاد ہو جائے گا اور عالمی برادری میں اپنا باوقار کردار بھی ادا کر سکے گا۔ ترکیہ شام کا ہمسایہ ہے اور اُس نے اُن مجاہدین کو بھرپور مدد فراہم کی ہے جو بشار الاسد کی آمریت کے خلاف کفن باندھ کر نکلے تھے۔ اُمید ہے کہ اسلامی اخوت کا یہ رشتہ مزید مستحکم ہو گا۔

ایک انتہائی عجیب و غریب واقعہ پاکستان میں بھی رونما ہوا ہے۔ تاریخ میں پہلی بار فوج نے سابق ڈی جی آئی ایس آئی اور سابق کورکمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کے کورٹ مارشل میں چارج شیٹ جاری کر دی ہے جس میں انتہائی سنگین نوعیت کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ اُس چارج شیٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اُن کے خلاف یہ تحقیقات بھی ہو رہی ہیں کہ 9 مئی کے پُرتشدد واقعات میں اُن کا مذموم سیاسی عناصر کے ساتھ کس نوعیت کا تعلق تھا۔ کورٹ مارشل کے قواعد و ضوابط سے باخبر تجزیہ نگار کہہ رہے ہیں کہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید اور جناب عمران خاں کو نہایت کڑی سزائیں دی جائیں گی۔ بے لاگ احتساب کا تقاضا بھی یہی ہے، مگر یہ بات پاکستان کے کسی طور پر بھی مفاد میں نہیں ہو گی کہ ایک اور و زیرِ اعظم کو مسٹر بھٹو جیسے انجام سے دوچار کر دیا جائے۔ سیاست دانوں اور حکمرانوں کو اَپنا کردار اَدا کرنے کے لیے آگے بڑھنا چاہیے۔ حکومت مذاکرات کے لیے باقاعدہ کمیٹی کا اعلان کرے اور ڈاکٹر یاسمین راشد، محمود الرشید، اعجاز چودھری اور مخدوم شاہ محمود قریشی کے خلاف مقدمات واپس لیے جائیں، کیونکہ وہ حالات کو معمول پر لانے میں اہم کردار اَدا کر سکتے ہیں۔ ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ گردشِ لیل و نہار میں ٹھہراؤ لانے کے لیے عمران خان اور اُن کے پرستاروں کو اَپنے رویّوں کو شائستہ بنانا اور مکالمے کا کلچر اختیار کرنا ہو گا۔

Facebook Comments HS