بھوک: کنوٹ ہامسن کی ایک اور نفسیاتی تخلیق
بھوک کے مصنف کنوٹ ہامسن ( 1859۔ 1952 ) ناروے کے معروف ادیب اور شاعر تھے۔ ان کے والد متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے ایک غریب کسان تھے۔ ان کا بچپن افلاس زدہ اور کٹھن تھا مگر اس کے باوجود وہ اپنی تعلیم جاری رکھنے میں کامیاب رہے۔ ان کا شمار جدید نفسیاتی اور وجودی ادب کے بانیوں میں ہوتا ہے۔ ہامسن کی نثر میں ایک خاص شاعرانہ کیفیت اور جذباتی شدت پائی جاتی ہے جو انہیں ان کے ہم عصر ادیبوں سے ممتاز کرتی ہے۔ ان کی ادبی خدمات کے صلے میں 1920 میں انہیں ادب کے نوبل انعام سے نوازا گیا۔
کنوٹ ہامسن کا ناول ”بھوک“ انسانی نفسیات کی متاثر کن ادبی کاوش ہے۔ یہ بیسویں صدی کا ایک ایسا ادب پارہ ہے جس میں انسانی ذہن کی پیچیدہ حالتوں سے جنم لینے والے خیالات کو موضوع بنایا گیا ہے۔ ناول کی کہانی کرسٹیانیا (موجودہ اوسلو) میں مقیم ایک ایسے ادیب کے گرد گھومتی ہے جو کسمپرسی کی حالت میں زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ بھوک اور دیوانگی کی دلدل میں دھنسنے کی یہ کہانی غربت، خواری اور انسانی جذبات کی نرمی کو ایسے ڈھنگ سے بیان کرتی ہے کہ قاری پر دیرپا اثر چھوڑ جاتی ہے۔
پہلی بار یہ ناول نارویجن زبان میں 1890 میں شائع ہوا۔ 1899 میں جارج ایگرٹن نے اس کا انگریزی میں ترجمہ ’ہنگر‘ کے نام سے کیا۔ 1951 میں مخمور جالندھری نے اس کا اردو ترجمہ کرتے ہوئے ’بھوک‘ کے نام پر منتقل کیا۔ اس کا حالیہ اردو ایڈیشن 200 صفحات پر مشتمل ہے اور اس کے 4 ابواب ہیں۔
ناول کی بنیاد دراصل فرد کی معاشرے اور خود سے ٹکراؤ کی کہانی ہے۔ مرکزی کردار ایک غریب مصنف ہے جو کر سٹیانیا کی گلیوں میں بھٹک رہا ہے۔ وہ زندگی کے ان مشکل لمحات میں اپنی تحریروں کے ذریعے گزر بسر کرنے کی کوشش میں ہے۔ اس کی یہ حالت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ وہ سماجی اصولوں کے مطابق زندگی گزارنے سے گریزاں ہے۔ وہ خیرات قبول نہیں کرتا اور انتہائی مشکل حالات کے باوجود اپنی خودداری اور آزادی کو تھامے ہوئے ہے۔ یہ خود ساختہ تنہائی ناول کے وجودی موضوعات کو اجاگر کرتی ہے، جہاں مرکزی کردار اپنی زندگی کے مقصد اور شناخت کے لیے جدوجہد کرتا ہے مگر سماج اس کے دکھ کو نظر انداز کیے رکھتا ہے۔ ہامسن کا اسلوب روایتی بیانیہ طریقوں کو چیلنج کرتے ہوئے مرکزی کردار کی اندرونی کیفیت پر اس قدر توجہ مرکوز کر لیتا ہے کہ وہ ایک نہایت ہی ذاتی اور موثر ادب پارہ تخلیق کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔
ناول کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ یہ کسمپرسی کی حالت میں بھی خودداری اور وقار جیسے تصورات کو اجاگر کرتا ہے۔ مرکزی کردار مدد قبول کرنے سے انکار کرتا ہے جو اس کی عزتِ نفس کو برقرار رکھنے کی شدید خواہش کو ظاہر کرتا ہے۔ وہ اپنی عزت کو قائم رکھنے میں حد سے زیادہ کوشش کرتا ہے، یہاں تک کہ یہ عادت اس کے لیے نقصان کا باعث بھی بنتی ہے۔ مثال کے طور پر وہ ایک اجنبی کی طرف سے پیش کیا گیا روٹی کا ٹکڑا کھانے سے گریزاں ہے اور اسے ضائع کر دیتا ہے۔ بقا اور خود احترامی کے درمیان یہ صورت حال ناول میں ایک بنیادی تناؤ کا سبب بنتی ہے، جو اس بات کو بیان کرتی ہے کہ لوگ اپنی کمزوریوں کا سامنا کس طرح کرتے ہیں۔
ناول میں تخلیقی صلاحیت اور فنونِ لطیفہ کی اہمیت کا جائزہ بھی لیا گیا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ مرکزی کردار بدترین حالات کے باوجود اپنی تحریر سے جڑا رہتا ہے اور اسے اپنی بقا کا ذریعہ اور شناخت کا اظہار سمجھتا ہے۔ تاہم اس کا تخلیقی عمل مشکلات کا شکار ہے اور بامقصد تحاریر لکھنے میں ناکام رہتا ہے، جو اس کے جسمانی اور جذباتی زوال کا اشارہ ہے۔ فن اور تکلیف کے درمیان یہ تعلق ناول کا اہم ترین موضوع ہے جو اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ تخلیقی صلاحیت سکون کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے اور ایک بوجھ بھی۔
ہامسن نے کرسٹیانیا شہر کو اس انداز سے پیش کیا ہے کہ اس کے کردار ہونے کا گماں ہوتا ہے۔ اس میں موجود گلیاں، اس کے کیفے اور ہوٹل مرکزی کردار کی آوارہ گردی کے لیے پسِ منظر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ہامسن کی تفصیلی منظر نگاری شہر کو جلا بخشتی ہے۔ بعض اوقات یہ شہر مرکزی کردار کی کیفیات کا آئینہ بھی بن جاتا ہے۔ اس کے علاوہ شہر کا سرد اور غیر دوستانہ ماحول اس کی اجنبیت کے احساس کو بھی بڑھاوا دیتا ہے۔ تاہم یہ شہر تعلقات قائم کرنے کے مواقع بھی فراہم کرتا ہے، جیسے اجنبیوں کے ساتھ مختصر ملاقاتیں جو کچھ وقت کے لیے اس کی تنہائی کو ٹال دیتی ہیں۔
ہامسن نے اس ناول میں انسان کی اندرونی کشمکش اور اس کی زندگی کی بے ثباتی کو گہرائی سے پیش کیا ہے۔ اس میں انسان کی ہمت، عزم اور زندگی کی حقیقتوں کا دردناک تجزیہ موجود ہے۔ بہرکیف موضوعاتی اعتبار سے بھوک ایسے مسائل کی نشاندہی کرتا ہے جو آج کی دنیا میں بھی موجود ہیں۔ مرکزی کردار کی زندگی کے نشیب و فراز آج کے قارئین کے دلوں کو بھی چھوتے ہیں۔ ہامسن کے قلم سے اخذ شدہ بھوک کا تجزیہ حقیقی ہونے کے ساتھ ساتھ ہمدردی سے بھی بھرپور ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہامسن کا کام اس کی گہری شخصیت کو نمایاں کرتا ہے۔
آخر میں میرا مشورہ ان قارئین کے لیے ہے جو عالمی کلاسیکی ادب سے لگاؤ رکھتے ہیں اور ایسے ناول کی کھوج میں ہیں جس میں زندگی کی تلخ حقیقتوں پر گفتگو کی گئی ہو تو انہیں اس ناول کا مطالعہ ضرور کرنا چاہیے۔ میں دعوی کرتا ہوں کہ آپ کنوٹ پامسن کے کام کے معترف ہو جائیں گے اور ان کے باقی ناولوں کی کھوج میں اٹھ کھڑے ہوں گے۔


