بھارت کی لیجنڈ شوبز اسٹار ریکھا بھی ہم جنس پرست نکلی
کیا بھارتی اداکارہ ریکھا کے بارے میں یہ سنسنی خیز انکشاف پہلی بار سامنے آیا ہے؟ جی نہیں لیجنڈ اسٹار امیتابھ بچن پر مرمٹنے والی ریکھا کی زندگی ایسی رنگین و سنگین کہانیوں سے بھری پڑی ہے اور اب جو بات سامنے آئی ہے کہ ریکھا کے اپنی منیجر فرزانہ سے ”ناجائز تعلقات“ ہیں تو یہ واقفان حال کے لیے بالکل بھی اچنبھے والی بات نہیں ہے، ریکھا ماضی میں امیتابھ پر فریفتہ تھی لیکن اسے جیا لے اڑی اور جیا بچن کہلانے لگ گئی اور امیتابھ بچن کے آج تک ہزار معاشقوں کے باوجود بھی اسی ہرجائی امیتابھ کے ساتھ شادی کے بندھن میں بندھی ہوئی ہے اور تبھی ریکھا نے اکتا کر ایک بزنس مین مکیش اگروال سے شادی کی لیکن اس نے ریکھا کے بعض اسکینڈلانہ معاملات سے تنگ آ کر خودکشی کرلی تھی اور جس فرزانہ سے ریکھا کے ناجائز تعلقات کی کہانی باہر آئی ہے وہ مکیش کی زندگی ہی میں ریکھا نے بطور منیجر رکھی تھی، یہاں بتاتا چلوں کہ بھارت کے مشہور صحافی موہن دیپ نے جب ریکھا کی آٹوبائیوگرافی ”یوریکھا“ (Urekha) کے نام سے لکھی تو اس میں بھی ریکھا کی ہم جنس پرستی کا ذکر موجود تھا اور یہ موہن دیپ کو خود ریکھا سے ہی معلوم ہوا تھا اور یہ آٹوبائیوگرافی اُردو زبان میں پاکستان میں بھی ترجمہ ہو کر بکتی ہوئی نظر آئی ہے اور ان دنوں بھی لاہور کے فٹ پاتھوں پر پرانی کتابوں کے ڈھیر سے مل جاتی ہے اور اس کو لاہور کا ایک دوپہر سے شائع ہونے والا اخبار ”روزنامہ لشکر“ بھی خاصے اہتمام سے کالم نگار حسن نثار کی ایڈیٹری کے دنوں میں اپنے صفحات پر باقاعدگی سے شائع کرتا رہا ہے۔
یہاں یہ بھی بتاتا چلوں کہ ہندوستان میں خواتین کی ہم جنس پرستی پر متعدد فلمیں بھی بن چکی ہیں، جن میں سے ایک ”دا فائر“ میں شبانہ اعظمی نے ہم جنس پرست عورت کا کردار ادا کیا تھا اور اصل زندگی کی طرف دیکھیں تو مشہور آئٹم گرل راکھی ساونت نے خوبصورت آنکھوں والی اداکارہ تنو شری دتہ پر نہ صرف ہم جنس پرست ہونے کا الزام لگایا تھا بلکہ بڑے دھڑلے سے ایک پریس کانفرنس میں صحافیوں کو یہ بتا کر چونکا دیا تھا کہ اداکارہ تنوشری دتہ نے متعدد بار اسے یعنی راکھی ساونت کو ”ریپ“ کیا تھا اور جب صحافیوں نے حیرت سے کہا کہ یہ کیسے ممکن ہے؟ تو راکھی ساونت نے بڑے دبنگ لہجے میں کہا تھا ”کیوں؟ کیا آپ نے کبھی پورن فلموں میں لڑکیوں کو دوسری لڑکیوں کے ساتھ ایسا کرتے ہوئے نہیں دیکھا؟
اصل میں تنوشری دتہ نے ان دنوں ایک بڑے اداکار نانا پاٹیکر پر ہراسانی کا الزام لگا کر سب کو ہلا دیا تھا اور ہندو انتہا پسندوں سے قربت رکھنے کے حوالے سے بدنام نانا پاٹیکر کے کرم فرماؤں نے پھر راکھی ساونت کو استعمال کرتے ہوئے تنوشری دتہ پر ایسا سنگین الزام عائد کیا کہ وہ اپنے الزامات سمیت کہیں چھپ چھپا گئی تھی ورنہ اکشے کمار جیسے اسٹار نے بھی تنو شری دتہ کے ہراسانی والے الزام کی وجہ سے نانا پاٹیکر کے ساتھ کام کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

یاد رہے کہ شبانہ اعظمی کی فلم ”دا فائر“ کے دنوں میں ہی نامور فلم ڈائریکٹر سبھاش گئی کی خواتین کی ہم جنس پرستی پر بننے والی فلم کے لیے ایک پاکستانی اداکارہ کے ہندوستان جانے کی خبریں بھی سامنے آئی تھیں جو کہ پاکستان کی ایک خاتون ڈائریکٹر کی خواتین میں ہم جنس پرستی کے موضوع پر بننے والی ڈاکیومنٹری میں لیڈنگ رول کر چکی تھی اور اس پاکستانی اداکارہ نے ایک ٹی وی شو ”سنڈے برنچ“ میں تسلیم کیا تھا کہ ”میں ایسے پراجیکٹ پر کام کرچکی ہوں جو کہ پاکستان میں بتانے سے بھی مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔“
اور ریکھا کی کیا بات کہ امریکہ جیسے ملک میں سابق امریکی صدر بل کلنٹن کی بیوی اور سابق صدارتی امیدوار ہلیری کلنٹن کی بھی ایک ایرانی نژاد لڑکی ہما عابدین کے ساتھ ناجائز تعلقات کی کہانیاں میڈیا سنا چکا ہے اور اس ہلیری کلنٹن کے شوہر بل کلنٹن کا جب وائٹ ہاؤس میں پاؤلا جونز اور مونیکا لیونسکی سے اسکینڈل سامنے آیا تو بعد میں مونیکا لیونسکی پر شائع ہونے والی ایک کتاب سے پتا چلا کہ مونیکا لیونسکی بھی ہم جنس پرست ہے۔



آپ کے نام سے اندازہ نہیں ہوتا کہ آپ کا مذہب کیا ہے اور اگر مسلمان ہیں تو کس مسلک سے تعلق رکھتے ہیں۔
چٹ پٹا مصالحے دار لکھنا مشکل کام نہیں لیکن جھوٹ اور غلط بیانی اور الزام و اتہام کی حدود کا خیال رکھنا اس سے بھی زیادہ ضروری ہوتا ہے۔
مثلاً آپ نے لکھا:
ریکھا ماضی میں امیتابھ پر فریفتہ تھی لیکن اسے جیا لے اڑی اور جیا بچن کہلانے لگ گئی
ریکھا محض سولہ سال کی تھی اور ہندی فلموں میں آئی بھی نہیں تھی جب امیتابھ اور جیا ایک دوسرے کو جانتے تھے۔ یہ سن تھا 1969 اور 1970 کا۔ ریکھا اس وقت تک تیلگو اور جنوب کی فلموں میں کام کررہی تھی۔ اور 1970 میں پہلی بار بمبئی پہنچئ تھی۔ ایک سولہ سال کی گمنام ریکھا امیتابھ سے کیا عشق کرسکتی تھی۔ امیت اور جیا کا عشق گڈی کے سیٹ سے 1969 اور 1970 میں شروع ہوا اور زنجیر میں ایک دوسرے کے مقابل کام کرنے کے بعد شادی کو پہنچا۔
اگر پروین بابی، ریکھا یا زینت امان شادی شدہ امیتابھ پر مرتی تھیں تو ہمیں آپ کو کیا تکلیف اور امیتابھ کا کیا قصور۔
–
ریکھا نے متعدد مرتبہ کہا کہ میں امیتابھ سے عقیدت پہلے بھی رکھتی تھی اور اب بھی رکھتی ہوں اور اس کی زندگی کے مشکل دنوں میں امیتابھ نے اس کے لئے مینٹور کا کردار ادا کیا۔ دنیا جس طرح دیکھے۔
–
1971 میں جب امیت جیا نے شادی کرلی ان دنوں 17 سالہ ریکھا نے ابھی قدم بھی نہیں جمائے تھے۔ 1973 میں اس کا زبردست اسکینڈل ونود مہرہ کے ساتھ چلا جو پہلے ہی شادی شدہ تھا۔ تین چار سال اسی مشکل میں نکل گئے اسی دوران اسے امیتابھ کے مقابل 1978 میں مقدر کا سکندر ملی جہاں اس کا پیئر لوگوں نے امیتابھ کے ساتھ پسند کیا اور پھر اخبارات اور جرائد نے دونوں کا اسکینڈل بنادیا۔ کیوں کہ ونود مہرہ اس وقت بندیا گوسوامی کو بھی ڈیٹ کررہا تھا اور یہ ریکھا کے لئے مشکل وقت تھا۔ دل چسپ بات یہ بھی تھی کہ مقدر کے سکندر کے دنوں میں ریکھا کا تعلق اس وقت بھی امیتابھ سے زیادہ ونود مہرہ سے تھا کیوں کہ اسی وقت 1978 میں اس کی ونود کے ساتھ فلم گھر سکرین پر آئی تھی۔ لیکن فلم بینوں نے ونود کی بجائے اسے امیتابھ کی زہرہ بائی زیادہ جانا تھا۔ ونود مہرہ البتہ بادشاہ آدمی تھا
—
جہاں تک ریکھا کے 1990 میں بیوہ ہونے کے بعد سے کسی اسکینڈل یا مرد سے تعلق نہ رکھنے کی بات ہے تو اس میں کسی کو کیا تکلیف ہے۔
ریکھا مسلمان نہیں ہے لیکن میں تو ہوں۔
بحیثیت مسلمان ویسے بھی کسی کے گناہ کا تذکرہ اسی وقت کیا جاسکتا ہے جب اس کے گواہ موجود ہوں۔ یہاں بدنامی یا الزام محض ریکھا نہیں بلکہ فرزانہ نامی خاتون پر بھی لگایا جارہا ہے۔ اسلام کی رو سے اس الزام کے لئے چار گواہوں کا ہونا ضروری ہے۔ کیا آپ نے خود دیکھا ہے ۔ ریکھا نے خود اقرار کیا ہے یا چار لوگ اس کے گواہ موجود ہیں۔
محض کسی انڈین چٹ پٹے جریدے میں کی گئی بکواس یا الزام کو اپنی تحریر کی شکل دینے سے کچھ ویو مل جاتے ہیں لیکن گناہ کا پلڑا بھی بھاری ہوجاتا ہے۔
آپ کے نام سے اندازہ نہیں ہوتا کہ آپ کا مذہب کیا ہے اور اگر مسلمان ہیں تو کس مسلک سے تعلق رکھتے ہیں۔
چٹ پٹا مصالحے دار لکھنا مشکل کام نہیں لیکن جھوٹ اور غلط بیانی اور الزام و اتہام کی حدود کا خیال رکھنا اس سے بھی زیادہ ضروری ہوتا ہے۔
مثلاً آپ نے لکھا:
ریکھا ماضی میں امیتابھ پر فریفتہ تھی لیکن اسے جیا لے اڑی اور جیا بچن کہلانے لگ گئی
ریکھا محض سولہ سال کی تھی اور ہندی فلموں میں آئی بھی نہیں تھی جب امیتابھ اور جیا ایک دوسرے کو جانتے تھے۔ یہ سن تھا 1969 اور 1970 کا۔ ریکھا اس وقت تک تیلگو اور جنوب کی فلموں میں کام کررہی تھی۔ اور 1970 میں پہلی بار بمبئی پہنچئ تھی۔ ایک سولہ سال کی گمنام ریکھا امیتابھ سے کیا عشق کرسکتی تھی۔ امیت اور جیا کا عشق گڈی کے سیٹ سے 1969 اور 1970 میں شروع ہوا اور زنجیر میں ایک دوسرے کے مقابل کام کرنے کے بعد شادی کو پہنچا۔
اگر پروین بابی، ریکھا یا زینت امان شادی شدہ امیتابھ پر مرتی تھیں تو ہمیں آپ کو کیا تکلیف اور امیتابھ کا کیا قصور۔
–
ریکھا نے متعدد مرتبہ کہا کہ میں امیتابھ سے عقیدت پہلے بھی رکھتی تھی اور اب بھی رکھتی ہوں اور اس کی زندگی کے مشکل دنوں میں امیتابھ نے اس کے لئے مینٹور کا کردار ادا کیا۔ دنیا جس طرح دیکھے۔
–
1971 میں جب امیت جیا نے شادی کرلی ان دنوں 17 سالہ ریکھا نے ابھی قدم بھی نہیں جمائے تھے۔ 1973 میں اس کا زبردست اسکینڈل ونود مہرہ کے ساتھ چلا جو پہلے ہی شادی شدہ تھا۔ تین چار سال اسی مشکل میں نکل گئے اسی دوران اسے امیتابھ کے مقابل 1978 میں مقدر کا سکندر ملی جہاں اس کا پیئر لوگوں نے امیتابھ کے ساتھ پسند کیا اور پھر اخبارات اور جرائد نے دونوں کا اسکینڈل بنادیا۔ کیوں کہ ونود مہرہ اس وقت بندیا گوسوامی کو بھی ڈیٹ کررہا تھا اور یہ ریکھا کے لئے مشکل وقت تھا۔
—
جہاں تک ریکھا کے 1990 میں بیوہ ہونے کے بعد سے کسی اسکینڈل یا مرد سے تعلق نہ رکھنے کی بات ہے تو اس میں کسی کو کیا تکلیف ہے۔
ریکھا مسلمان نہیں ہے لیکن میں تو ہوں۔
بحیثیت مسلمان ویسے بھی کسی کے گناہ کا تذکرہ اسی وقت کیا جاسکتا ہے جب اس کے گواہ موجود ہوں۔ یہاں بدنامی یا الزام محض ریکھا نہیں بلکہ فرزانہ نامی خاتون پر بھی لگایا جارہا ہے۔ اسلام کی رو سے اس الزام کے لئے چار گواہوں کا ہونا ضروری ہے۔ کیا آپ نے خود دیکھا ہے ۔ ریکھا نے خود اقرار کیا ہے یا چار لوگ اس کے گواہ موجود ہیں۔
محض کسی انڈین چٹ پٹے جریدے میں کی گئی بکواس یا الزام کو اپنی تحریر کی شکل دینے سے کچھ ویو مل جاتے ہیں لیکن گناہ کا پلڑا بھی بھاری ہوجاتا ہے۔
آپ مذہب اور مسلک کو درمیان میں کیوں لارہے ہیں قبلہ؟کیا کوئی فتوی دھرنا ہے؟آپ ہے حقائق سے کوسوں دور ہیں اور ریکھا اور امیتابھ کے اسکینڈل سے واقف نہیں ہیں اور ان دنوں کے میڈیا میں اس اسکینڈل کی گونج بھی نہ سن سکے ہیں تو اس میں اس خاکسار کا کیا قصور ہے؟کیا یہ اسکینڈل آج گھڑا گیا ہے؟اور کیا صرف میں ہی اس بارے بات کررہا ہوں؟ذرا امریکہ میں آباد اس خاتون کی بھی سن لیں۔۔۔۔سب جھوٹے ہیں؟https://www.humsub.com.pk/573648/gohar-taj-227/
محترم،
مذہب یا مسلک کی بات محض اس لئے کی کہ اگر آپ مسلمان نہیں تو مجھے آپ سے کوئی شکوہ نہیں۔
اگر ہیں تو اسکینڈل اور اصل گناہ میں فرق رکھیں۔
فلم کے پروڈیوسر اور ہدایت کار ہر دور میں آنے والی فلم کی مشہوری کے لئے اداکاروں کے اسکینڈل بناتے اور اخبارات چھاپتے رہتے ہیں۔ جن کا عام طور پر حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ بس مشہوری اور زرد صحافت۔
–
جہاں تک محترمہ گوہر تاج کا حوالہ ہے وہاں بھی میں نے اعتراض کیا ہے اور آپ سے زیادہ کیا ہے۔
دھرمیندر، راجیش کھنہ، دلیپ کمارہوں یا بعد کہ متھن چکرورتی یا کملا ہاسن۔ خود گلزار ہو یا جاوید اختر یہ سب محض اسکینڈل ہی نہیں کئی کئی شادیوں اور عشق میں مبتلا رہے ہیں۔ لیکن ان کے اس گناہ یا ثواب کا ہم سے کیا لینا دینا۔
کیا کبھی امیتابھ، ریکھا یا جیا نے کسی جگہ اس عشق کا اقرار کیا ؟ کہیں نہیں۔
اور میرا اعتراض پھر پڑھ لیں۔ ۔۔۔۔۔ آپ نے لکھا۔۔۔۔ریکھا مرتی تھی مگر جیا لے اڑی ۔۔۔۔
–
It was total sense less statement as Rekha was just 16-17 yrs old when Amitabh was dating Jia and when they marry, Rekha date Vinod Mehra till many years
–
And I have no issue with your religion / caste or creed
جہاں تک اصل موضوع کی بات ہے آپ ایک ہندو اور ایک مسلمان عورت پر جنسی تعلقات کا الزام دہرارہے ہیں جس کا اپ کے پاس کوئی ثبوت نہیں محض ایک مضمون جو کسی نے چھاپا اور آپ نے بھی چھاپ دیا۔ اور ساتھ اپنی بات میں وزن ڈالنے کے لئے امیتابھ ریکھا کے اسکینڈل کو حقیقت بنادیا۔ اسکینڈل کا مطلب تو ہوتا ہی الزام ہے جو حقیقت نہ بن سکا ہو۔ وگر نہ اب اس کے لئے دوسرے الفاظ استعمال ہوتے ہیں۔
–
میں بحیثیت مسلمان کسی مسلمان یا غیر مسلم عورت پر اس طرح کے الزام لگانے سے کئی مرتبہ پرہیز کروں گا کیوں کہ اسلام اس کے لئے چار گواہ مانگتا ہے۔ اگر میں نے خود نہیں دیکھا یا چار لوگوں نے نہیں دیکھا تو کیسا الزام۔
اور اگر کسی نے غلط کاری ہوتے دیکھی تو کم از کم اس کا ہی نام بتادیں کہ کس نے گناہ ہوتے دیکھا۔