نظریہ حیات اور ہماری نوجوان نسل کی اخلاقی الجھن


پاکستان کی نوجوان نسل آج کل ایک پیچیدہ اخلاقی مخمصے کا شکار نظر آتی ہے۔ روایات، مذہب، جدیدیت، ذرائع ابلاغ (میڈیا) ، اور تعلیمی ادارے۔ یہ سب مل کر ایک ایسی اُلجھن پیدا کر رہے ہیں جس میں نوجوانوں کے لیے صحیح اور غلط کی تمیز کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ ہر سمت سے مختلف اصول، مختلف اقدار، اور جداگانہ اخلاقی ضابطے سننے کو ملتے ہیں۔ ایک طرف مذہبی حلقے شریعت اور مسلکی تشریحات پر زور دیتے ہیں، تو دوسری طرف میڈیا کی چکاچوند مادّی ترقی اور ظاہری نمود و نمائش کی طرف راغب کرتی ہے۔ تعلیمی ادارے اپنے رائج الوقت نصاب کے ذریعے کبھی انفرادی آزادی تو کبھی اجتماعی مفادات کا پرچار کرتے دکھائی دیتے ہیں، جب کہ سماجی حلقے نوجوانوں کو کبھی مقامی روایات تو کبھی مغربی افکار کی طرف کھینچتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں نوجوان نہ صرف حیران و پریشان ہیں بلکہ فکری انتشار کا بھی شکار ہیں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ہم اس اخلاقی الجھن کی تہہ تک پہنچیں تو ہمیں کیا نظر آئے گا؟ کیا واقعی ہمارے سماجی، معاشی، سیاسی اور مذہبی مسائل محض ظاہری علامات ہیں اور اصل وجہ اخلاقی انتشار ہے؟

اگر گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جب کسی معاشرے میں اخلاقی رہنمائی کے اصول واضح نہ ہوں تو باقی تمام مسائل انہی مبہم بنیادوں پر تعمیر ہوتے چلے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مغرب میں، خاص طور پر انیسویں صدی کے آغاز سے، جو فکری اور اخلاقی مباحث شروع ہوئے، ان میں سب سے موثر نظریہ جس نے سماجی سائنس اور اخلاقی فلسفے پر گہرا اثر ڈالا، وہ افادیت پسندی (Utilitarianism) تھا۔ یہ نظریہ اس لیے اہم ہے کہ یہ اخلاقیات کو محض ما بعد الطبیعیات یا الہامی احکامات کے بجائے انسانی فلاح و بہبود سے جوڑتا ہے، اور اس طرح دنیاوی خوشی اور آسودگی کو نیکی و بدی کا بنیادی معیار قرار دیتا ہے۔

یورپ میں جدید سماجی سائنس کا آغاز ایک ایسے دور میں ہوا جب افادیت پسندی ایک اہم فکری مرکز بن گئی۔ جیرمی بینتھم جیسے مفکرین نے اٹھارہویں صدی کے آخر اور انیسویں صدی کے شروع میں یہ نظریہ پیش کیا کہ اخلاقیات کا مقصد زیادہ سے زیادہ لوگوں کی زیادہ سے زیادہ خوشی کا حصول ہے۔ بینتھم نے اپنی مشہور کتاب اصولِ اخلاق و قانون کا تعارف (Introduction to the Principles of Morals and Legislation) ( 1789 ) میں یہ دلیل دی کہ انسان بنیادی طور پر درد اور راحت کے تابع ہے، اور اخلاقی اصولوں کو انہی دو جذبات کے گرد گھومنا چاہیے۔ جان سٹورٹ مل نے اپنی تصنیف (On Liberty) ( 1859 ) میں فکری آزادی اور انفرادی خوشی کو معاشرتی ترقی کے لیے ناگزیر قرار دیا۔ اس طرح مغرب میں اخلاقی مباحث مذہبی یا روایتی تصورات سے ہٹ کر انسان کی دنیاوی فلاح پر مرکوز ہونے لگے۔

ہمارے ہاں المیہ یہ ہے کہ بہت سے مغربی افکار کو من و عن قبول تو کر لیا مگر ہم نے اس اخلاقی بحث کی گہرائی میں موجود اصولوں پر سنجیدہ گفتگو نہیں کی۔ ہم نے ان افکار کو محض اندھا دھند اپنانے یا مکمل طور پر رد کرنے میں وقت ضائع کیا، جس کے نتیجے میں ایک عجیب و غریب ملاوٹ زدہ اخلاقیات ہمارے در پے ہے۔ نوجوان جب میڈیا دیکھتا ہے تو اسے معاشی ترقی، شہرت، اور ظاہری کامیابی کی دوڑ نظر آتی ہے۔ وہ یہ سمجھ نہیں پاتا کہ اصل مقصد ابدی خوشی ہے یا مادی اقدار؟ وہ مارکیٹ اکانومی میں اپنا کردار تلاش کرتے ہوئے یہ جاننے سے قاصر ہے کہ کیا دولت کے پیچھے بھاگنا بذات خود کوئی اخلاقی قدر رکھتا ہے یا یہ محض ایک ذریعہ ہے؟

دوسری جانب مذہبی اور روایتی اخلاقیات کی تشکیل معاشرے میں صدیوں سے جاری ہے، لیکن ابلاغ کے نئے ذرائع اور بدلتے ہوئے سماجی حالات میں یہ روایات نوجوانوں کو مطمئن کرنے کے بجائے مزید الجھا رہی ہیں۔ دینی مدارس اور منبر پر بیٹھے خطیب اکثر اوقات مذہب کو محض روایتی احکامات اور ضوابط کے مجموعے کے طور پر پیش کرتے ہیں، جب کہ کچھ علما روحانی ترقی اور بندگی کے لطیف پہلوؤں پر زور دیتے ہیں۔ نوجوان یہ سمجھنے میں دشواری محسوس کرتا ہے کہ آیا اسے مادی ترقی کو بھی کسی معیار سے پرکھنا چاہیے یا صرف آخرت کی نجات پر نظر رکھنی چاہیے۔ وہ یہ فیصلہ نہیں کر پاتا کہ جب ہمارے معاشرے میں پنپنے والے مغربی افکار کو ہمارے دوست احباب حتیٰ کہ والدین بھی ہماری خوشی کا معیار بناتے ہیں (جیسا کہ اعلی تعلیمی اداروں سے ڈگری کا حصول، ایک عالیشان گھر، بڑی سی گاڑی اور مرتبے والی نوکری) ، تو مذہبی اطاعت کو کیوں افضل قرار دیا جاتا ہے؟ اس کشمکش میں نوجوان کبھی ایک طرف جھک جاتا ہے تو کبھی دوسری طرف۔ یعنی:

شب کو مے خوب سی پی صبح کو توبہ کر لی
رند کے رند رہے ہاتھ سے جنت نہ گئی

ہمارے تعلیمی اداروں کی صورتحال بھی کچھ مختلف نہیں ہے۔ نصاب میں جگہ جگہ متضاد بیانیے طلبہ کے ذہنوں کو منتشر کرتے ہیں۔ کہیں انفرادی حقوق اور آزادی فکر کی اہمیت اُجاگر کی جاتی ہے تو کہیں معاشرے کی مجموعی بہتری، اجتماعی سوچ، اور روایت کی برتری پر زور دیا جاتا ہے۔ کبھی آزادی کو حتمی قدر سمجھ کر فرد کو مرکز بنایا جاتا ہے، تو کبھی ’اجتماعی بھلائی‘ کے نام پر انفرادی خواہشات کو پسِ پشت ڈالنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ نتیجتاً تعلیم یافتہ نوجوان بھی ایک عجیب مخمصے کا شکار ہو جاتا ہے، جسے یہ سمجھ نہیں آتی کہ ترقی پسند ہونا ضروری ہے یا روایت پسند؟ مغربی افکار کی تعریف کی جائے یا ان پر سخت تنقید کی جائے؟

اٹھارہویں صدی کے اختتام اور انیسویں کے آغاز پر یورپ میں بھی صورتحال کچھ مختلف نہ تھی جب افادیت پسندی کے ساتھ ساتھ رومان پسندی (Romanticism) کی تحریک نے بھی جنم لیا۔ رومان پسندی نے خوشی، الم، عقل اور جذبے کے مباحث کو یکسر بدل دیا۔ رومانویت کے علمبردار فلسفیوں اور ادیبوں نے یہ استدلال پیش کیا کہ انسانی عقل ہر شے کا احاطہ نہیں کر سکتی۔ بعض حقائق وجدان اور تخلیقی بصیرت سے منکشف ہوتے ہیں۔ بینتھم اور مل جیسے مفکرین جو عقل اور تجربے کو اخلاقی اصولوں کی بنیاد قرار دیتے تھے، کے برعکس، رومانویت کے حامیوں نے جذبات، حب الوطنی اور اجتماعی روحانیت کو فوقیت دی۔ یوں یورپ میں بھی فکری ہم آہنگی برقرار نہ رہ سکی اور معاشرہ ایک نئی کشمکش کی جانب گامزن ہو گیا۔ بالآخر یہ بحث مختلف سمتوں میں بٹ گئی، کہیں افادیت پسند اصلاحات کے لیے کوشاں نظر آئے تو کہیں رومانویت کے پیروکار جذبے اور احساس کی بالادستی پر مُصر رہے۔

اگر ہم پاکستان کے موجودہ منظر کا جائزہ لیں تو یہ مخمصہ مزید عیاں ہو جاتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں ایک طرف وہ مفکرین ہیں جو مغربی افکار کی روشنی میں عقلی اصولوں، سائنسی ترقی، معاشی خوشحالی اور انفرادی آزادی کا پرچار کرتے ہیں۔ یہ گویا بینتھم اور مل کے افکار پر عمل پیرا ہوتے ہوئے یہ استدلال پیش کرتے ہیں کہ جب تک معاشرے کو زیادہ سے زیادہ افراد کی زیادہ سے زیادہ خوشی کے اصول پر نہیں جانچا جائے گا، ترقی نا ممکن ہے۔ دوسری جانب مذہبی اور روایتی طبقات اپنے مخصوص نظریات کا پرچار کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک اخلاقی معیار دنیاوی خوشی نہیں بلکہ خدا کی رضا اور روایت کی پاسداری ہے۔ مزید برآں، ایک تیسری سمت بھی ہے جو رومانویت کے طرزِ فکر کی علم بردار ہے، جو جذبات، عقیدت اور غیر عقلی وابستگیوں کو ترجیح دیتی ہے۔

یہ تمام عوامل مل کر ہمارے نوجوان کو ایک ایسی کشمکش میں مبتلا کرتے ہیں جو اسے کبھی نیچے گراتی ہے، کبھی پیچھے دھکیلتی ہے تو کبھی آگے بڑھاتی ہے۔ یہ تمام صورتِ حال اخلاقی انتشار کی بنیادی وجہ ہے۔ یہ تمام دائرے اس کے گرد گھومتے ہیں اور اسے سیدھا راستہ دکھانے کے بجائے مزید الجھا کر رکھ دیتے ہیں۔ ذرائع ابلاغ (میڈیا) ہر روز نئی اقدار متعارف کرواتا ہے، سوشل میڈیا پر ہونے والی بحثیں منتشر اور بے ربط ہیں، کوئی ایک مربوط اور واضح راستہ نظر نہیں آتا۔ گھڑی گھڑی نئے تصورات اور نظریات جنم لے رہے ہیں۔ اس طرح ہماری نئی نسل کو ہر وقت ایک دوراہے پر لا کھڑا کرنا اب معمول بنتا جا رہا ہے۔

اصل مسئلہ شاید یہ ہے کہ ہم نے ابھی تک یہ طے نہیں کیا کہ ہمارے لیے اخلاقی معیار کی بنیاد کیا ہونی چاہیے۔ اگر مقصد محض دنیاوی خوشی ہے تو پھر ہمیں اس سوال کا جواب پانا ہو گا کہ اس خوشی کا معیار کون متعین کرے گا؟ کیا یہ معاشی ترقی، ظاہری آسائشوں اور مادی سہولیات پر مبنی خوشی ہے یا ایسی خوشی جس میں ذہنی سکون، روحانی ترقی اور اجتماعی ہم آہنگی بھی شامل ہو؟ اگر معیار مذہبی ہے تو اسے جدید دور کے مسائل سے کیسے ہم آہنگ کیا جائے؟ اور اگر مذہب کے ساتھ افادیت پسندی کو ملا دیا جائے تو کیا ہم ایک متوازن اخلاقی نظام تشکیل دے سکتے ہیں؟

ہمارے معاشرے میں نوجوان نسل جس اخلاقی اضطراب سے دوچار ہے، اس کی بنیادی وجہ ہمارے نظریۂ حیات کے متعلق موجود ابہام اور تذبذب ہے۔ بالفاظِ دیگر، زندگی کے متعلق ہمارے بنیادی تصور میں ہی تضاد پایا جاتا ہے۔ بالعموم، زندگی کی دو ہی ممکنہ اساسات متصور ہو سکتی ہیں : یا تو ہم یہ تصور کریں کہ یہ دنیا بذاتِ خود مقصد اور منزل ہے، یا پھر یہ کہ موجودہ دنیوی زندگی محض ایک وسیلہ اور ذریعہ ہے کسی ماورائی اور ارفع مقصد کے حصول کا۔ پہلی صورت میں انسان کی تمام تر توجہ مادی ترقی، ظاہری تجمل، عیش و عشرت اور دنیوی کامرانیوں پر مرتکز ہوتی ہے، کیوں کہ اگر یہ دنیا ہی اصل اور آخری منزل ہے تو پھر تمام تر توانائیاں اسی کو آراستہ و پیراستہ کرنے میں صرف ہوں گی۔ اس کے برعکس، دوسری صورت یہ ہے کہ اگر ہمیں یومِ آخرت میں بارگاہِ ایزدی میں جوابدہی کا راسخ یقین ہے تو پھر اس دنیا کی حیثیت محض ایک دارالامتحان کی سی ہو گی، جہاں عمل کی بنیاد اس اعتقاد پر استوار ہو گی کہ اصل جزا و سزا عالمِ آخرت میں ہے۔ اس نظریے کے تحت، اخلاقی رویے، سماجی ضوابط، اور شخصی مقاصد ہمیشہ اخروی فلاح کے تابع ہوں گے۔

اہلِ مغرب کے لیے نظریہِ حیات بالکل واضح اور غیر مبہم ہے : ان کے نزدیک موجودہ دنیوی زندگی ہی ایک اٹل حقیقت اور منتہا ہے، یہیں کی کامیابی، خوشی اور ترقی ہی اصل نصب العین سمجھی جاتی ہے۔ ان کے ہاں یہ ایک واضح فلسفہ ہے کہ زندگی یہیں اختتام پذیر ہو جاتی ہے، لہٰذا یہیں جنت کی تلاش کرو اور زیادہ سے زیادہ لذت و کیف حاصل کرو۔ چنانچہ ان کے سماجی نظام، معاشی ڈھانچے، تعلیمی اہداف، ذرائع ابلاغ اور ثقافتی اصول اس بنیادی مفروضے پر قائم ہیں کہ اس دنیا کو حتیٰ المقدور آرام دہ، خوشگوار اور مادی آسودگی سے معمور بنایا جائے۔ جو بھی ان کے نظریہ حیات سے ہم آہنگ ہو، اسے وہ زندگی کے ثمرات، سہولیات اور مادی فتوحات فراہم کرنے کے لیے سرگرمِ عمل ہیں۔

اس کے برعکس ہمارے ہاں المیہ یہ ہے کہ ہماری زندگی کی نظریاتی بنیاد میں دنیا کو ایک امتحان، ایک عارضی پڑاؤ، اور آخرت کو اصل اور دائمی منزل قرار دیا جاتا ہے۔ لیکن عملی میدان میں، طرزِ زندگی اور خواہشات کے اظہار میں، ہم مغرب کی مادی فکر اور دنیوی دلچسپیوں کی تقلید کرتے ہیں۔ ہم دنیا کو محض ایک وسیلہ تصور کرتے ہیں، مگر اس میں جینے کے اسلوب، ذرائع اور مصنوعی چکاچوند ہمیں اس قدر مسحور کر دیتی ہے کہ ہم خود فکری تذبذب اور ذہنی انتشار کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یوں ایک طرف مذہبی و اخلاقی پیغام ہمیں یہ تلقین کرتا ہے کہ دنیا محض ایک گزرگاہ ہے، جب کہ آخرت دائمی ٹھکانہ ہے، تو دوسری طرف مغربی تہذیب ہمیں یہ ترغیب دیتی ہے کہ یہ دنیا ہی سب کچھ ہے، اسے اپنی جنت بنا لو۔ اس فکری کشمکش کا سدِباب اسی صورت میں ممکن ہے جب ہم اپنے نظریہ حیات کو واضح اور غیر مبہم بنائیں : ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہو گا کہ آیا دنیا ہی حتمی مقصد ہے، یا آخرت ہماری اولین اور دائمی ترجیح ہے؟ یہ واضح اور غیر متزلزل نظریہ طے کیے بغیر ہمارا اخلاقی ڈھانچہ، ہمارے سماجی طور طریقے، اور ہماری ثقافتی اقدار کبھی ایک نقطہ پر مجتمع نہیں ہو پائیں گی۔

Facebook Comments HS