ابا کے پیٹ پر دو لاتیں
جاوید میرے شوہر کے دفتر میں ہی کام کرتے ہیں وہ دونوں اٹھ گھنٹے جب ساتھ گزارتے ہیں تو دفتری باتوں کے علاوہ بہت ساری ایسی باتیں بھی ہو جاتی ہیں جس میں گھریلو باتیں بھی شامل ہو جاتی ہیں اور وہ باتیں بھی شیئر کر لیتے ہیں جو کہ شاید ہم کسی سے بھی نہ کریں وجہ یہ ہے کہ جب زیادہ وقت آپ کسی کے ساتھ گزارتے ہیں تو آپ اس کے ساتھ بہت زیادہ فرینک ہو جاتے ہیں اور اپنے وہ معاملات بھی ڈسکس کرنے لگ جاتے ہیں جو عام طور پر کسی سے نہیں کہتے، جاوید کی دو پیاری پیاری سی بیٹیاں ہیں جن سے وہ بہت پیار کرتا ہے اور ان کے لاڈ اٹھاتا ہے اور کبھی کبھی وہ لاڈ اٹھانے میں اتنا آگے چلا جاتا ہے کہ جس میں آئندہ نقصان کا خطرہ بھی ہوتا ہے لیکن کیونکہ یہ باپ اور بیٹی کا رشتہ ہے ان کی محبت کا تعلق ہے لہذا اس سلسلے میں کوئی بھی مداخلت نہیں کی جا سکتی لہذا خاموشی ہی میں ہی بہتری ہے۔
ایک دن جاوید صبح دفتر آئے اور ہنس ہنس کے کہنے لگے کہ آج جو ہوا وہ آپ سن کے حیران رہ جائیں گے میرے شوہر بھی حیران ہوئے کہ ایسی کیا بات ہو گئی؟ انہوں نے پوچھا بھلا بتائیے کیا ہوا تو کہنے لگے کہ میری بیٹی کو اسکول کا ہوم ورک کرنا تھا۔ میں نے کہا کہ ہوم ورک میں کروا دیتا ہوں کیونکہ اس کی ٹیوشن ٹیچر نہیں آئیں تھی لہذا اس کو ہوم ورک میں مدد چاہیے تھی اس کی ماں ذرا مصروف تھیں، تو میں نے کہا کہ آؤ بیٹے میں تمہیں ہوم ورک کروا دیتا ہوں اور جب میں اس کو ہوم ورک کروا چکا تو میری بیٹی نے کہا کہ ابا ہوم ورک میں نے آپ کے کہنے کے مطابق کر لیا ہے لیکن اگر اس میں کوئی غلطی ہوئی اور ٹیچر نے مجھے ڈانٹا تو آپ کے پیٹ پہ دو لاتیں پڑیں گی۔ یہ کہہ کے وہ خوب ہنسے۔ جب وہ دونوں ہنس چکے تو میرے شوہر کو احساس ہوا کہ کیا یہ بات واقعی ہنسنے والی تھی؟
گھر واپس آ کر جب میرے شوہر نے یہ قصہ مجھ سے شیئر کیا تو میں بھی حیران سی ہو گئی کہ یہ بچی کس نوعیت کی گفتگو کر رہی ہے۔ یہ بچی کس انداز سے بات کر رہی ہے وہ بھی باپ سے، باپ جو گھر کا ستون ہوتا ہے، باپ جو گھر کی بنیاد ہوتا، باپ جس کی عزت اس کی محبت کے ساتھ ساتھ کی جاتی ہے اور بچیاں تو باپ سے اتنی زیادہ محبت کرتی ہیں کہ کوئی ایسی بات جو باپ کے لیے ناپسندیدہ ہو تو بچیاں باپ کی سائیڈ لیتی ہیں، وہ بچی باپ سے کہہ رہی ہے کہ اگر ہوم ورک ٹھیک نہیں ہوا تو آپ کے پیٹ پر دو لاتیں پڑیں گی۔
اب ہمارا معاشرہ کس طرف جا رہا ہے یہ ہمیں خود ہی بتانا پڑے گا خود ہی طے کرنا پڑے گا کیونکہ اگر ہم نے ابھی نہیں طے نا کیا تو بس پھر یہ خود بہ خود طے ہو جائے گا اور پھر ہمیں اس کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ یہ تو ایسا ہی ہوتا ہے اور اس میں کوئی تبدیلی ممکن نہیں کیونکہ کافی عرصے سے ایسے ہی ہو رہا ہے۔
حال یہ ہے کہ اولاد کی محبت نے ہمیں اتنا بے بس اور لاچار سا کر دیا ہے کہ ہم یہ سوچتے ہیں کہ ہم نے اس کی تمام خواہشات پوری کرنی ہی کرنی ہیں۔ اس کی کوئی خواہش ادھوری نہ رہ جائے۔ جب ہمارا بچپن تھا اور کچھ خواہشات ایسی ہوتی تھیں جو پوری نہ ہو سکیں وقت کی وجہ سے، حالات کی وجہ سے، والدین کی کسی مجبوری کی وجہ سے تو ہم نے کبھی والدین سے گلہ نہیں کیا اور نہ ہی والدین نے کبھی اس کو اتنا محسوس کیا کہ ہم نے اپنے بچے کی فلاں خواہش پوری نہیں کی ایک چیز نہیں ہوئی اور بس۔ آگے بڑھ گئے وقت گزر گیا کوئی بات نہیں لیکن اب والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ اپنے بچے کی ہر خواہش جو اس کے منہ سے نکلے وہ منہ سے نکلنے سے پہلے پوری ہو جائے۔ ایک محاورہ ہوتا تھا نا یہ منہ سے نکلنے سے پہلے بات پوری ہونا تو اب والدین عملاً اس چیز کو کر رہے ہوتے ہیں کہ بچے کی ہر خواہش منہ سے نکلنے سے پہلے ہی پوری ہو جائے اور اس کے نتیجے میں اس قسم کی باتیں بہت عام سی ہوتی جا رہی ہیں اور ہم انہیں قبول بھی کرتے جا رہے ہیں کہیں پر بھی ہمارا ذہن دل دماغ اس کو رد نہیں کر رہا کہ کیا یہ بات ہماری اولاد کو کرنی چاہیے تھی کیا ہم اس قابل تھے کہ ہمارے ساتھ بدتمیزی کا یہ رویہ رکھا جاتا
ہمیں یاد ہے کہ جب ہم چھوٹے ہوتے تھے اور کبھی کھانا کھانے بیٹھتے تھے تو کبھی بھی اپنے والدین سے یہ نہیں کہتے تھے کہ ابا پانی کی بوتل لے آئیے گا ذرا پانی پینا ہے اماں ذرا گلاس لے آئیے گا پانی پینا ہے ذرا پلیٹ اٹھا کے لے آئیے گا۔ ہم لوگ ساری چیزیں خود کرنے کی کوشش کرتے تھے اور اب ہم اپنی اولاد کو یہ دیکھتے ہیں کہ وہ بیٹھ جاتے ہیں ڈائننگ ٹیبل پہ اور کہتے ہیں کہ ذرا پانی لے کے آئیے گا، ذرا روٹی کا برتن لے کے آئیے گا، ذرا پلیٹ اٹھا لائیے گا اور والدین بہت خوشی سے سر جھکا کر اطمینان سے ان کے یہ احکام پورے کر رہے ہوتے ہیں۔
امر یہ نہیں ہے کہ ہم یہ خواہشات پوری کر رہے ہیں امر یہ ہے کہ اگر ہم یہ خواہشات کل کو پوری نہیں کر سکیں گے تو اس کا نتیجہ کیا ہو گا جب ہم یہ کہیں گے کہ بیٹے ہمارے گھٹنے میں درد ہے ہم ابھی پانی لینے نہیں جا سکتے آپ خود لے آئیے تو کیا وہ جائے گا اور اگر وہ جائے گا تو کیا اس کو غصہ نہیں آئے گا کیا اس کا ری ایکشن نہیں آئے گا کیونکہ یہ کام ہم ہمیشہ اس کے لیے کر رہے تھے تو اب ہم جب نہیں کر رہے تو اس کا رزلٹ کیا سامنے آئے گا؟ سوچا کبھی۔ ہم نے بجائے اس کے کہ ہم اس کو دھیرے دھیرے عادت ڈالیں کہ بیٹے کھانا کھانے بیٹھ رہے ہو تو اپنی پلیٹ، اپنا گلاس، پانی کی بوتل خود ساتھ لا کے رکھ لو اور پھر کھانا شروع کرو تو ایسا ہو گا تو بہتر رہے گا کہ وہ اپنے کام شروع سے خود کرنے کا عادی رہے گا بجائے اس کے کہ ہم ایک دم اس کو کہیں کہ بھئی ابھی تو ہم سے اٹھا نہیں جا رہا اب تم خود کام کرو گے آج سے تم خود کام کرو گے اور اس کے نتیجے میں اس کا شدید ری ایکشن سامنے آئے گا وہ یہ سمجھے گا کہ والدین اب اس کی مرضی کے مطابق کام نہیں کرنا چاہتے۔
اولاد کی تربیت اپنے زمرے میں بہت ہی نازک کام ہے بہت ہی ذمہ داری کا کام ہے جس میں بڑی احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے یہ وہ بنائی ہے کہ جس میں ایک ٹانکا بھی غلط لگ گیا تو سمجھو کہ پوری کی پوری چادر خراب ہو گئی اور آپ یہ سوچیں کہ ہم اس چادر کو کتنا خراب کر چکے ہیں آج تک وہ کپڑا جس میں ہم نے ہزار ٹانکے توڑے ادھیڑے لگائے اور اب وہ جب ہمارے سامنے آ رہا ہے تو ہم دیکھتے ہیں کہ وہ تو چیخ رہا ہے وہ تو ڈانٹ بھی رہا ہے اور اس کے ری ایکشن بھی بہت شدید ہیں تو ہم دوڑتے ہیں کہ جی اس کو کسی ماہر نفسیات کو دکھائیں، کسی پیر عامل کو دکھائیں، کسی ڈاکٹر سے ملاقات کریں تو اس کے بہترین نتائج سامنے آئیں کہ کیا ہو گیا ہے ہمارے بچے کو؟ یہ اینٹ ہم نے خود غلطی رکھی تھی اپنے بچے کی تربیت کی عمارت میں کہ اس وقت جب تربیت کی ضرورت تھی تو آنکھیں بند کر کے اس کی خدمت میں لگے رہے اور تربیت پر توجہ نہیں دی۔
ابھی بھی وقت ہے اپنی آنکھیں کھولیں اور دیکھیں کہ بچے کی تربیت کا وقت شروع ہو چکا ہے اور اس کی خدمت کا وقت ختم ہو چکا ہے لہذا بچوں کو بتائیے کہ اب ان کو کیا کیا کام کرنے ہیں کس طرح سے کرنے ہیں اور والدین کے حقوق فرائض کیا ہیں فرائض تو ہم ادا کر ہی رہے ہیں والدین کے حقوق بھی سمجھائیں
جس میں پہلا حق والدین کا یہ ہے کہ بچے والدین کے ساتھ مودب رہیں ان کا احترام کریں اور ان کا احترام واجب سمجھ کے کریں۔ ہمارا تعلق اس مذہب سے ہے جہاں والدین کی آواز سے آواز بلند کرنا بھی گناہ سمجھا جاتا ہے ہمارا تعلق اس مذہب سے ہے جہاں والدین کی اطاعت واجب سمجھی جاتی ہے۔ تو جب ہم اپنی اولاد کی پرورش کر رہے ہیں تو یہ ہمیں اپنے بچوں کو بتانا پڑے گا کہ ہمیں کہاں تک ان کے ناز نخرے اٹھانے ہیں اور کہاں ہمیں ان کو بتانا ہے کہ اب آپ کو اس لائن کو کراس نہیں کرنا یہاں سے بدتمیزی شروع ہو رہی ہے۔


