کینسر ویکسین کا انقلاب اور دعوت اسلامی کا کرپشن انقلاب


آج کل روس سوشل میڈیا کی زینت بنا ہوا ہے، شنید ہے کہ انہوں نے کینسر ویکسین تیار کرنے کا اعلان کیا ہے، جسے 2025 کے اوائل میں مریضوں کو مفت فراہم کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ ویکسین مختلف تحقیقی اداروں کے تعاون سے تیار کی گئی ہے، پری کلینیکل ٹرائلز میں یہ ظاہر ہوا ہے کہ ویکسین ٹیومر کی نشوونما کو روکنے کی صلاحیت رکھتی ہے، تاہم اس کی افادیت پر کچھ شکوک و شبہات بھی پائے جاتے ہیں۔

اب اس خبر میں کس حد تک صداقت ہے یا یہ ویکسین کتنے فیصد نتائج دیتی ہے یہ تو وقت ہی بتائے گا لیکن ایک بات طے ہے ”ریشنیلٹی پریویلز ایٹ لاسٹ“ انسانی عقل ہی بہرحال فاتح ٹھہرے گی، انسانیت جس سطح تک پہنچ چکی ہے وہ سب عقل ہی کی مرہون منت ہے۔

سائنس اور عقلی علوم کے وجود میں آ نے کے بعد خاص طور پر دوربین اور خوردبین کی بدولت انسانی فہم کو وہ بلندیاں نصیب ہوئی ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔

مہا بیانیے کے بڑے بڑے دعوے کہ انسانی فہم یا آ نکھ ایک حد تک ہی دیکھ سکتی ہے، حد نگاہ سے آ گے بڑھ کر دیکھنا اس کے بس کی بات نہیں ہے یہ سب مفروضے دھرے کے دھرے رہ گئے، انسانی بصارت نے جدید آ لات کی بدولت وہ معجزے دکھائے کہ خود عقل بھی سہم کر رہ گئی، یہ ٹیکنالوجی انسانی وجود میں داخل ہو کر یہ تک جان لیتی ہے کہ پیدا ہونے والے بچے کا جینڈر کیا ہے، صحت کی سطح کیا ہے یا انسانی جسم کے بیمار حصہ میں جرثومہ کی کیفیت کیا ہے؟

پراسراریت اور اساطیری پہلیوں کے گرد لپٹی گمنامی کی دھند سائنس کی بدولت چھٹنے سے کئی سارے پہلو انسانی نظروں کے سامنے عیاں ہوتے گئے۔ فزکس کی بدولت میٹا فزکس اور دیو مالائی تصورات چھومنتر ہو گئے اور سائنسدان دن رات قدرت کے رازوں کو مسخر کرنے میں مصروف عمل ہیں، انسانی زندگیوں کے دکھوں کو سکھوں میں بدلنے کے لیے ناصرف ٹیکنالوجی کے میدان میں کامیابیاں سمیٹ رہے ہیں بلکہ میڈیکل کی دنیا میں بھی انقلاب برپا کیے ہوئے ہیں، کینسر ویکسین بھی اسی تسلسل کی ایک کڑی ہے۔

جبکہ دوسری طرف ہم ہیں جن کے مسائل ہی دنیا بھر سے الگ ہیں، ہم ابھی تک یہ طے نہیں کر پائے کہ ہم میں سے حقیقی مسلمان کون ہیں؟

نماز میں ہاتھ سینے پر باندھنے ہیں یا ذرا نیچے؟
شلوار ٹخنوں سے اوپر رکھنی ہے یا نیچے؟
داڑھی کی لمبائی کتنی ہونی چاہیے؟

اور اب حال ہی میں مناظر اسلام مفتی حنیف قریشی نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ دعوت اسلامی والے کھربوں کی منی لانڈرنگ میں ملوث ہیں، مالی بدیانتی ان کا طرہ امتیاز ہے۔

سادگی کا درس دیتے ہیں لیکن اسی چکرویو کی آڑ میں شاہانہ زندگی بسر کرتے ہیں، جو لوگ مووی بنانے کو کفر اور ٹی وی کو شیطانی جال سمجھتے تھے اب وہی کہتے ہیں کہ ”دیکھتے رہیں مدنی چینل۔“

حیرت کی بات یہ ہے کہ اس قسم کی فقرہ بازی یا تنقید و طنز کرنے والے کا تعلق بھی اسی فرقے سے ہے جس فرقے سے امیر دعوت اسلامی مولانا الیاس قادری تعلق رکھتے ہیں۔

بظاہر تو اس میں حق گوئی کی جھلک دکھتی ہے لیکن حقیقت میں یہ سب وقت کا جبر ہے، وقت کا پہیہ اس قدر تیزی سے گھوم رہا ہے کہ یہ اب خود کو وقت کے سامنے بے بس سا محسوس کرنے لگے ہیں۔

طاقت کے ضابطے بدل چکے ہیں، گفتار کے غازی اب غیر متعلقہ ہو چکے اور سوالات کی گونج میں صدیوں کے جوابات منہدم ہونے لگے، اب تو وہی بچیں گے جن کے پاس وقت کے ساتھ چلنے کا حوصلہ، ظرف یا بندوبست ہو گا ورنہ تاریخ کے کوڑا دان میں قصہ پارینہ بننے میں زیادہ دیر نہیں لگے گی۔

کیمرے کی آنکھ نے بڑے بڑوں کی پاکیزگی اور تقویٰ و طہارت کو ننگا کیا ہے، سادگی کا درس دینے والی ہستیاں جس شان سے جیتی ہیں ہم ایسے تو خواب میں بھی ان سا تصور نہیں کر سکتے۔

مذہب نے مذہبی شخصیات کی اخروی زندگی کو تو یقین کی حد تک منور کیا ہی ہے لیکن دنیا کو بھی خوب نکھارا ہوا ہے، ڈر اور خوف کے پیغام تو عوام کو سنانے کے لیے ہوتے ہیں، قبر کا عذاب اور اخروی زندگی کی باتوں سے عوام کو بہلاتے ہیں لیکن خود ایک بے خوف اور بے فکری والی زندگی بڑی شان سے جیتے ہیں۔

سادگی کی باتیں اور سادہ طرز عمل تو محض دکھاوے اور چندے بٹورنے کی حد تک ہوتا ہے۔

Facebook Comments HS