"اسد محمد خان اور ”رگھوبا اور تاریخ فرشتہ
اسد محمد خان اپنے افسانے ”رگھوبا اور تاریخ فرشتہ“ میں حقیقت نگاری کو اختیار کر کے اس حقیقت کو ظاہر کرتے ہیں کہ انسانی تقدیر الجھے ہوئے بالوں کی مانند ہے اور چاہے ہم ان الجھے ہوئے بالوں کو اپنی پوری قوت سے کنگھی کرنے کی کوشش کریں تو بھی ہم بالوں کی الجھی ہوئی اذیت کی گرہ کو نہیں کھول سکتے۔ لیکن جب ہم ضعیف ہو جاتے ہیں تو ہمیں معلوم ہو جاتا ہے کہ ایسی تکلیف کی گرہ ہماری نرمی اور صبر کی انگلیوں سے آسانی سے کھولی جا سکتی ہے۔ اسی انداز میں، جتنا روحانی اور نفسیاتی ابتلا میں گرفتار ہوئے لوگ انتقام کی جلتی ہوئی آتش سے اندھے ہو گئے ہیں، ایسے لوگ اپنا بلاوا آنے تک بھی، ان کو احساس نوحہ نہیں ہو گا کہ وہ خود پسندی، شکوک و شبہات اور غرور کا شکار ہو گئے تھے۔ افسانہ نگار اپنی جمالیاتی مہارت اور صبر کے ذریعے افسانوں میں ہونے والے کرداروں کے درمیاں الجھے ہوئے بالوں کو بالوں کی چوٹی میں تبدیل کرتے ہیں جس کی ہمواری کائنات کے ریشمی دریا کے مترادف ہے۔
افسانہ میں، افسانہ نگار ایک انتشاری ماحول کی تصویر کشی کرتے ہیں کہ کردار وحشیانہ جبلت سے اپنی بقا کی جنگ لڑتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اس تیز و تند انتشار کے ماحول میں، وہ لوگ جو نفسیاتی طور پر کمزور ہیں، وہ تبدیلی کی رفتار کو برداشت نہیں کر پائیں گے، جیسے رگھوبا کی ماں، جو مندوکوٹ کی شکست کے حوالے سے ”کنویں میں ڈوب مری“ تھی۔ رگھوبا کو ملی ہوئی مخبر کی تربیت میں کوئی اخلاقی یا انسانیت کی توجہ نہیں، بلکہ جسمانی اور ذہنی لیاقت کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ، اس تربیت یافتہ رگھوبا کو فریب اور سازش کے فن اور ہنر بھی سکھائے گئے تھے تاکہ کسی خطرناک صورت حال میں بھی وہ اپنی حفاظت کر سکے۔ لیکن اس نے کتنا ہی سیکھا ہو، اس انتشاری دنیا میں اس قدر خطرہ ہے کہ اس کے تصور سے کہیں زیادہ! جب تک انسان ”جاہ و حشمت طلبی“ کی تمنا میں گرفتار رہتا ہے، انسانیات کی حقارت کی کوئی انتہا نہیں ہے۔ مثلاً، کافور کی خونریزی کو و اضح طور پر پیش کیا گیا جب کافور حکم دیتا ہے کہ ”وہ خضر خان اور شادی خان کی آنکھوں میں گرم سلائیاں پھیر دے“ ۔
افسانہ نگار کے نقط نظر میں، انتہائی چالاک لوگ کی بھی اپنی کمزوریاں ہوں گی۔ سلطان اپنی بیوی اور ولی عہد کی طرف اپنے شک و شبہ کے باعث کافور کو گمراہ کرنے کا موقع دیتا ہے۔ اسی طرح، کافور کی مانند چالاک لوگ، اپنی لذت پسندی کی وجہ سے رگھوبا کو اپنے ”نازنیں گلے“ پر خنجر پھیرنے کا موقع دیتا ہے۔ البتہ، ناقدین پوچھ سکتے ہیں کہ کیا رگھوبا اس انتقامی کارروائی کی کسی اخلاقی ذمہ داری سے خود کو بری الذمہ قرار دے سکتا ہے؟ اگر چہ اس کے بھائی کے لیے، رگھوبا کی شفقت اور بہادری کی بدولت ”تخت دہلی تک پہنچنے کی راہ“ کو ہموار کیا گیا ہے، لیکن کیا رگھوبا اپنی تمام ندامتوں سے، اس کے بالوں کی چوٹی باندھنے والی امتے سمیت، آزاد ہو سکتا ہے؟ رگھوبا اپنے مخفی حجرے سے نہ چھوڑنے کی وجہ مرشدی کی صلاح نہیں ہے۔ اس کے بجائے، وہ جانتا ہے کہ بیرونی دنیا میں، ہر وہ فیصلہ جو وہ یا کوئی اور کرتا ہے، نیک جواز کے باوجود، شیطانی اثر پیدا کر سکتا ہے۔ جتنا اس نے اپنے آپ کو پانچ دینار کے غلام سے ایک نئے مسلمان میں تبدیل کیا ہے، وہ محسوس کرتا ہے کہ خواہ اشرافیہ سے آتا ہو یا غلام سے، ہم اس لیے پیدا ہوئے ہیں کہ ہمارے سامنے کوئی انتخاب نہیں ہے۔ ہم جتنا زیادہ اپنے الجھے ہوئے بالوں سے چھٹکارا چاہتے ہیں، اتنا ہی زیادہ تکلیف محسوس کرتے ہیں۔ افسانہ نگار اپنی حقیقت نگاری اور ادبی اسلوب سے یہ حیران کن حقیقت ہمیں سمجھانا چاہتے ہیں۔


