روح کو سیراب کرنے والا بہتا دریا ذاکر حسین اب نہیں رہا!
میری کیا اوقات کہ استاد ذاکر حسین (میرے لیے ذاکر بھائی!) کے بارے میں کچھ کہوں۔ جو سچ مچ کچھ کہہ سکتے تھے اور سولہ آنے درست وہ ان سے پہلے ہی ہمیں چھوڑ چکے۔ بہترین خراج تحسین پنڈت شیو کمار شرما (سنتور کے بھگوان) ہی پیش کر سکتے تھے۔ ذاکر بھائی نے ان کے ساتھ کم و بیش ساڑھے تین سو کنسرٹ بجائے۔ شیو جی کہتے تھے میں ذاکر کے گھر چلا جایا کرتا تھا۔ ان کی امی سے کہتا ذاکر کے طبلے دے دو۔ طبلے گاڑی میں ڈالے اور پھر ذاکر کے سکول پہنچ جاتا۔ وہاں جا کر کہتا چلو ذاکر ابھی کنسرٹ بجانا ہے!
ایک دفعہ بولے اگر میں کسی اور طبلیے کے ساتھ اسے بتائے بغیر کوئی مشکل تال شروع کر دوں تو وہ ناراض ہو جائے گا اور سمجھے گا کہ میں نے اسے جان بوجھ کر نیچا دکھانے کی کوششں۔ مگر ذاکر کے ساتھ میں کوئی بھی تال بغیر بتائے شروع کر سکتا تھا۔ اور یہ بات سچ ہے۔ ذاکر بھائی دوسروں کی طرح شروع کے تین چار چکر نہیں گنتے تھے۔ وہ مکمل میٹرو نام تھے۔ گت اٹھی اور وہ وہیں سے اسے پکڑ کر تہائی مار کر سم پر آ جایا کرتے تھے۔ جو لوگ طبلے سے واقف ہے وہ سمجھ سکتے ہیں یہ انتہائی غیر معمولی مہارت ہے۔ دوسری اہم بات، اچھے اچھے طبلیوں کو گویا یا تنتکار بتایا کرتا تھا کہ طبلہ سر سے اتر گیا ہے یا چڑھ گیا ہے۔ ذاکر بھائی کو رتی برابر اترنے یا چڑھنے کا علم ہو جایا کرتا تھا اور وہ اسے ملانے لگ جایا کرتے تھے بھلے لے درت میں جا رہی ہو۔ میں نے تو صرف دو ہی طبلیے دیکھے جو طبلہ سر کرنے میں بہت ہی باریک حس رکھتے تھے۔ ذاکر بھائی اور میرا دوست تاری خان۔ ایک دفعہ خود اپنی اپنے سامنے تاری کو پورے چالیس منٹ طبلہ سر کرتے دیکھا۔
یہ واقعہ میں نے مالنی اوستھے سے سنا۔ ایک دفعہ استاد ولایت خان کا جھالا اتی درت میں جا رہا تھا کہ اچانک ستار کا تار کڑک کر کے ٹوٹ گیا۔ جیسے ہی ٹوٹا ذاکر بھائی کے ہاتھ ہوا میں ہی رکھ گئے۔ یہ تھا توجہ کا عالم۔ ولایت خان دم بخود رہ گئے اور ذاکر بھائی کے سر پر ہاتھ پھیرا۔
جب ذاکر بھائی کے والد استاد اللہ رکھا بوڑھے ہو گئے، گھر بیٹھ گئے تو کہیں انہیں ڈپریشن نہ ہو جائے، ذاکر بھائی نے ان کے ساتھ جگل بندی کا رواج ڈالا۔ بہت سے جگل بندی کنسرٹ بجائے اور ہر وقت یہ خیال رکھا کہ سننے والے کو ایسا لگے کہ بیٹا باپ کی پیروی کر رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے زیادہ تر اپنے لیے نچلے سر کا طبلہ استعمال کیا۔
ساری عمر ذاکر بھائی کے ساتھ لہرا سارنگی نواز استاد سلطان خان نے رکھا۔ یہ لہرا ان کے طبلے کا مزہ دوبالا کر دیا کرتا تھا۔ سلطان خان گزر گئے۔ ان کا بیٹا صابر خان یتیم ہو گیا۔ بچہ سا تھا۔ کوئی نہ جانتا تھا۔ اسے لہرے پر رکھنا شروع کر دیا اور وہ اعزاز دیا جو سلطان خان کو نہ ملا۔ سولو طبلہ فوراً شروع نہ کرتے۔ جس راگ میں لہرا شروع ہو اس پر ٹھیکہ رکھ کر پانچ چھ منٹ بہت عاجزی کے ساتھ، اپنے آپ کو دبا کر صابر کے ساتھ سنگت کرتے جیسے وہ کوئی لیجنڈ ہو اور ذاکر بھائی فرمانبردار سنگت کرنے والے طبلیے۔ اس کے بعد دھواں دار سولو بجاتے۔ ایک دفعہ بیچ میں سولو روکا اور کہا میں کچھ بھی کر لوں مگر کچھ اثر نہیں ہونے کا جب تک یہ لوگ (صابر کی طرف اشارہ کرتے ) ہمیں راستہ نہ دکھائیں۔ مطلب کے لہرے والے نے لے کا چکر باندھا ہوا ہے اور مین آرٹسٹ کو ہر چکر میں سم دکھلا رہا ہے۔ حالانکہ ذاکر بھائی کو لہرا سم کے لیے ہرگز ضرورت نہ تھا۔ اور سلطان خان کے بارے میں کیا کہا؟ جودھ پور 1989 کنسرٹ میں شروع کرنے سے پہلے کہا کہ سلطان صاحب کا مقام لہرا بجانے کا نہیں۔ یہ تو مجھ سے پیار کرتے ہیں، بڑے بھائی ہیں، اس لیے میرے ساتھ بیٹھ جاتے ہیں۔
ایک ناخوشگوار واقعہ بھی ہوا ایک عورت کی حماقت سے۔ سن 2006 میں بمبئی میں ایک کنسرٹ کے دوران نجانے کیوں پنڈت روی شنکر کی بیوی مسلسل ساونڈ والے کو یہ کہنا شروع ہو گئی کہ طبلے کا والیم کم کرو۔ پنڈت جی کو کوئی مسئلہ نہ تھا۔ یہ چیز ذاکر بھائی کو بہت ڈسٹرب کر رہی تھی۔ انہوں نے اپنے طبلے پر لگا مائیک اٹھا کر ایک طرف رکھ دیا۔ لوگوں نے شور مچانا شروع کر دیا کہ مائک لگائیں۔ وہ بولے آپ کو میری حرکات و سکنات سے ہی پتہ لگ جائے گا کہ میں کیا بجا رہا ہوں۔ بعد میں ظاہر ہے بدمزگی ہوئی۔ انوشکا (پنڈت جی کی بیٹی) رو پڑی کہ یہ کیا ہو گیا۔ ذاکر بھائی تو سات برس کی عمر سے پنڈت جی کے ساتھ بجا رہے تھے۔ ذاکر بھائی کا موقف درست تھا کہ کیا مسز روی شنکر ساونڈ کے بارے میں مجھ سے زیادہ جانتی ہیں؟ افسوس پنڈت جی نے اپنی بیوی کو ٹوکا تک نہیں۔ (شاید تھلے لگے ہوئے تھے! ) اس کے بعد یہ جوڑی ہمیشہ کے لیے ٹوٹ گئی!
غیر مروجہ تالوں میں کھلنے یا کھیلنے سے طبلے والوں کی جان جاتی ہے۔ بڑے بڑے گروگھنٹال ساڑھ، سوائی، پون میں ڈھیر ہو جاتے ہیں۔ عزت رکھنے کے لیے بس ایسی تالوں کا محض ٹھیکہ رٹ لیتے ہیں۔ صرف ذاکر بھائی ہی ایسے تھے جو کھل کر ایسی تالوں میں دنیا دکھا دیا کرتے تھے۔ لے کار تنت کار جب ان کے ساتھ بیٹھتا تو کبھی عام تال میں نہ بجاتا۔ یہ ہی تو موقع ہوتا ہے مہارت دکھانے کا! شیو جی اور شاہد پرویز بجاتے ان کے ساتھ نو ماترے، سوا سات، ساڑھے گیارہ، پونے آٹھ۔ اور وہ وہ گت پرن ٹکڑے ذاکر بھائی بجاتے کہ تنت کار ہکا بکا رہ جاتا۔ ہم جیسے عام لوگوں کو ذرہ برابر علم مل جائے تو تکبر آسمان کو چھونے لگ جاتا ہے۔ مگر ذاکر بھائی سے تکبر، غرور اور انا دور بھاگتی تھی۔ ایک دفعہ استاد حبیب الدین کا ایک ایسا ریلا بجایا جس میں کبوتر کے غٹر غوں کی آواز آیا کرتی تھی۔ کچھ ایسے تھا جسے تیز لے میں بجانا پڑتا ہے :
گھے تگ گھے تگ دھن دھنا گھے نے
گھے تگ گھے تگ دھن نانا گھے نے
تو ذاکر بھائی نے پہلے بتایا کہ کس کا قاعدہ ہے اور کہا غٹر غوں کی آواز آیا کرتی تھی جب وہ بجاتے تھے، ہم نہیں! حالانکہ ذاکر بھائی نے حبیب الدین سے کہیں بہتر بجایا۔ بہت زیادہ نکھارا۔ مگر دعوی کچھ نہ کیا۔ باقی دنیا چوری کی کمپوزیشن اپنا کہہ کر بجاتی ہے۔
ایک دوست نے ایک بڑے طبلے والے سے سنگت کی درخواست کی۔ جواب آیا ہم جونئیر آرٹسٹ کے ساتھ نہیں بجاتے۔ ادھر ذاکر بھائی کی عظمت ملاحظہ ہو۔ کون جانتا تھا راکیش چوراسیا (بانسری) یا ستاریے نیلا دھری کمار کو۔ ان کے ساتھ بجانا شروع کیا۔ دنیا بھر میں متعارف کرایا اور سٹار بنا دیا۔ سب ٹکٹ ذاکر بھائی کی وجہ سے بکتے۔ کسی جیل میں چلے گئے اور وہاں قیدیوں کے آنند کے لیے زبردست طبلہ بجایا۔ وہاں ایک لیڈی انسپیکٹر طبلہ بجاتی تھی۔ کہیں بتا دیا تو ذاکر بھائی نے کہا کچھ بجانے کو۔ اب جو بھی بیچاری کو آتا تھا (اچھا آتا تھا) بجا دیا۔ بہت خوش ہوئے اور اپنا طبلہ اسے تحفتاً دے آئے۔ کوئی بھی آرٹسٹ اپنا ساز کسی کو دینا تو دور کی بات ہاتھ بھی لگانے نہیں دیتا۔
ذاکر بھائی کی موت کسی انسان کی موت نہیں۔ نہ ہی یہ طبلے کی موت ہے۔ یہ خوشیوں کی، سکھ چین کی، آتما یا روح کو سکون پہنچانے والوں کی موت ہے۔ ہمارے بھارتی دوست جو بیلا بہار اور طبلہ بجاتے ہیں، استاد اللہ رکھا کے شاگرد ہیں۔ ذاکر بھائی کے بہت ہی قریب ہیں کہتے ہیں بھگوان نے ان (ذاکر بھائی) سے دنیا میں
بہت کام لے لیا۔ اب انہیں اپنے پاس بلایا ہے۔ وہاں بہت سے کام پڑے ہیں۔ وہاں استاد ولایت خان، پنڈت روی شنکر، استاد علی اکبر خان، پنڈت شیو کمار شرما اور استاد اللہ رکھا تنہا بور ہو رہے ہیں۔ انہیں ذاکر چاہیے۔
ذاکر بھائی بھارت کے نہیں ساری دنیا کے آرٹسٹ تھے۔ وہ پنجاب گھرانے کے تھے مگر ہر گھرانے کا باج بجانے تھے۔ تال اور لے میں ہر جہاں کا علم رکھتے تھے۔ وہ اپنی ذات میں اک گھرانا تھے۔ پورے ہندوستان اور دنیا میں لاکھوں طبلیے ہوں گے ۔ کوئی ایسا نہیں جو ان کو فالو نہ کرتا ہو۔ میں بھی ان کا ہی ماننے والا ہوں۔ اکیس برس کا تھا اور طبلے کے بارے میں کچھ علم نہ تھا۔ میریٹ (اس وقت کا ہالی ڈے ان) اسلام آباد میں سیکریٹری پبلک ریلشنز تھا۔ ہم نے ہی ذاکر بھائی کا کنسرٹ رکھا تھا اور مجھے علم تک نہ تھا یہ کون ہیں۔ بس غلطی سے ہال میں چلا گیا۔ ذاکر بھائی نے کنار چھوئی (وہ تو اب پتہ چلا کہ کنار کیا ہوتی ہے) اور میں ہوش گنوا کر ان کا عاشق ہو گیا۔ ان کے طبلے خود اٹھا کر سی بی آر ہال سے ان کے کمرے تک لے کر گیا۔ وہ بہت خوش ہوئے۔ اگلے دن انہوں نے انڈین ہائی کمیشن میں بجانا تھا۔ میں معمولی انسان۔ ہائی کمیشن کے چپراسی تک رسائی نہ تھی۔ بس ذاکر بھائی سے ذکر کر دیا۔ بولے شہزاد تم میرے ساتھ جاؤ گے اور واپس بھی آؤ گے اور میرے طبلے تمہارے پاس ہوں گے ۔ ایسا ہی ہوا۔ میرے اندر کا سر اور لے انہوں نے ہی دریافت کی۔ وہ نہ ہوتے تو کبھی طبلہ نہ سیکھتا۔ کبھی طبلے سے پیار نہ ہوتا۔ یہ ہی وجہ ہے تین دن سے رو رہا ہوں۔ آنکھیں سوج چکی ہے۔ کوئی آنکھ اشک بار نہیں جسے ذاکر بھائی سے پیار تھا۔ اور ایک بات یاد آتی ہے۔
میری ماں لتا کی عاشق تھی۔ کہتی تھی اللہ میری زندگی میں لتا کو موت نہ دے۔ بیچاری محض 48 برس میں گزر گئی۔ دعا قبول ہو گئی۔ ایسے ہی میں نے بھی اللہ سے کچھ مانگا تھا۔ کہ دو فنکار میری زندگی میں نہ جائیں۔ ایک ستار نواز اور میرے دوست استاد شاہد پرویز ور دوسرے طبلے کے بے تاج بادشاہ استاد ذاکر حسین۔ میں اپنی ماں کی طرح خوش قسمت نہ تھا۔ ذاکر بھائی میری زندگی میں ہی چلے گئے۔ شاہد پرویز ہیں۔ اللہ انہیں سلامت رکھے۔ اب ایک اور غم سہنے کی سکت نہیں مجھ میں!
کالم کے آخر میں ایک بات صاف صاف لکھ دو۔ ہمارے پاکستانی صحافی جو صحافی کہیں سے بھی نہیں۔ البتہ یوٹیوب کی وجہ سے پھپھے کٹنی کے درجے پر خود اپنے آپ کو فائز کر بیٹھے ہیں یہ کہنا شروع ہو گئے ہیں کہ تاری خان ذاکر سے اوپر کے لیول کا طبلیہ ہے۔ تاری میرا 35 برس پرانا دوست ہے۔ جتنا میں اسے اندر سے جانتا ہوں شاید ہی کوئی اور جانتا ہو۔ تاری اور ذاکر کا کوئی موازنہ ممکن نہیں۔ غزل گیت کی سنگت تاری خان کی جاگیر ہے۔ اس مقام پر اس کے علاوہ دور دور تک کوئی نظر نہیں آتا۔ اور اس بات کا اعتراف ذاکر بھائی نے خود کیا ہے۔ جب تاری خان اور غلام علی کی جوڑی ٹوٹ گئی (کیوں اس کے لیے تو ایک علیحدہ مضمون لکھنا پڑے گا) تو انہوں نے تاری کو نیچا دکھانے کے لیے ذاکر کے ساتھ ایک کنسرٹ کیا۔ ذاکر بھائی کا انگ کلاسیکل ہے۔ غزل تو ہے ہیں نہیں بھارت میں! پھر اس کے بعد خود کہا کہ بھئی غزل تو تاری ہی بجا سکتا ہے۔ استاد شاہد پرویز ایک عظیم لے کار ستار نواز ہیں۔ ہمارا پرانا یارانہ ہے۔ کہتے ہیں کلاسیکل موسیقی کی سنگت میں ذاکر جیسا کوئی پیدا ہی نہیں ہوا۔ جب پوچھا ان کے بعد کون؟ بولے دور دور تک تو کوئی نہیں۔ اس کے بعد آنندو چٹرجی دکھائی دیتے ہیں۔ پھر پوچھا سولو میں تو بولے سولو میں بہت دنیا پڑی ہے۔ لیکن ذاکر بھائی کا سولو ایسا ہے کہ سب ہی گھرانوں کا باج نظر آتا ہے۔ اور ہر بار وہ ایک نیا جہاں دکھاتے ہیں۔ تاری بھی بہت بڑا طبلہ نواز ہے۔ وہ خود ذاکر بھائی کی موت پر سوگوار ہے۔ دونوں کا گھرانا بھی ایک ہی ہے مگر سٹائل بالکل مختلف۔ تو جہلا جہالت پھیلانے سے گریز کریں! آرٹسٹ کی موت اسی دن ہو جاتی ہے جب اس کے فن پر جمود طاری ہو جائے۔ اس لحاظ سے ذاکر بھائی کا طبلہ بہتا دریا تھا۔ 73 برس کی عمر تک ان کی خداداد تخلیقی صلاحیت اور بجانے کی طاقت بڑھ ہی رہی تھی۔ ابھی تو ان کا طبلہ شروع ہوا تھا۔ ابھی تو بہت طبلہ باقی تھا۔ ابھی تو مزا آنے لگا تھا کہ وہ چلے گئے!







