سیاسی استحکام کے لئے سیاسی آزادی کی حدود کا تعین اور وضاحت ضروری ہے
اس وقت حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کی باتیں چل رہی ہیں جو خوش آئند ہیں لیکن ساتھ ہی سول نافرمانی کی خبریں اور تیاریاں بھی جاری ہیں اس لئے اگر مذاکرات ہوں تو ان کے نتائج کو پائیدار بنانے اور مستقبل کے لئے احتجاج اور مطالبات کا کوئی پیمانہ ترتیب دیتے ہوئے سیاسی حدود کا تعین اور اس کی وضاحت کو بھی ان مذاکرات کا حصہ بنانا ہو گا تاکہ ماضی جیسے غیر مستحکم کرنے والے خطرات سے پاکستان کے سیاسی مستقبل کو محفوظ بنایا جا سکے۔
موجودہ سیاسی منظر نامے میں تحریک انصاف کا اپنی سیاسی مشکلات کو کم کرنے کے لئے مذاکرات کی میز پر آنا ان کی مجبوری ہے کیونکہ وہ حکومت کو پریشان کرنے کے اپنے خواہ سوشل میڈیا کے ذریعے حکومت اور اسٹیبلشمنٹ مخالف سرگرمیاں ہوں، عدالتوں سے ریلیف کی کوشش ہو یا احتجاج، ریلیاں اور دھرنے ہوں اپنے تمام تر ہتھیار استعمال کر چکی ہے۔ حکومت کی بجائے اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کی خواہشیں بھی آزما چکی ہے اور مقبولیت کے باوجود اپنی سیاسی حکمت عملیوں کی وجہ سے نہ صرف اپنی مشکلات میں مزید اضافہ کیا ہے بلکہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کا اعتماد بھی کھو چکی ہے۔
سیاسی عدم استحکام پیدا کرنے کی اپنی تمام تر کوششوں کے بعد اب آخری کوشش سول فرمانی کی تحریک بھی مایوسی کی علامت تو ہے ہی مگر اس سے بھی کچھ حاصل ہوتا ہوا دکھائی نہیں دیتا اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر عوام تحریک انصاف کی محبت میں گھروں میں بیٹھے بجلی یا گیس کے بل ادا کرنے سے انکار کر دیں تو اس سے حکومت کو تو کوئی پریشانی نہیں ہوگی البتہ اگلے مہینے کا اضافی بل یا کنکشن ختم ہونے کی صورت میں جرمانہ، بحالی کا بوجھ اور بنیادی ضروریات سے محرومی عوام کی اپنی مشکلات میں بہت اضافہ کر دے گی اس لئے کوئی بھی سمجھدار انسان اپنے لئے مشکلات پیدا کرنے کا نہیں سوچ سکتا۔
لہذا اب میں سمجھتا ہوں کہ حکومت کو مذاکرات کے ذریعے سے ملک کی بھلائی کے لئے کسی ایسے سیاسی حل پر پہنچنا ہو گا جس سے سیاست کو اصولوں اور جمہوری اقدار سے ہم آہنگ بنایا جا سکے اور ذاتی مفادات اور مفاد پرستوں کی حوصلہ شکنی کا بھی کوئی بندوبست پیدا کیا جا سکے۔
جمہوریت میں سیاسی آزادی کے ثمرات سے انکار نہیں مگر سیاسی عدم استحکام کا ماحول پیدا کرنے والی سرگرمیوں کو کسی بھی صورت جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔ سیاسی آزادی کا یہ قطعاً مطلب نہیں کہ ملکی قوانین اور شہری آزادی کو پامال کرتے ہوئے ملکی سلامتی کو خطرے میں ڈال دیا جائے یا اپنے نظریات اور خواہشات کو دوسروں پر زبردستی ٹھونسنے کی کوشش میں قومی و ملکی قدروں کو نظر انداز کرتے ہوئے سیاست کے نام پر جو مرضی میں آئے کرتے پھریں۔
جس آزادی سے قومی سطح پر سیاسی، معاشی، اخلاقی اور معاشرتی تباہی کے اشارے مل رہے ہوں وہ ماحول کبھی بھی ریاست کے لئے فائدہ مند نہیں سمجھا جا سکتا اور تسلسل کے ساتھ سڑکوں کی ناکہ بندیاں، مال بردار کنٹینرز کی مدد سے راستوں کا بلاک ہونا، ہائی ویز کی بندشیں، ریلیاں، گرفتاریاں، میڈیا پر پابندیوں، سیاسی مخالفین پر مقدمات جیسے حربوں والا ماحول پچھلے کئی سالوں سے حکومت کسی بھی جماعت کی رہی ہو ایک معمول رہا ہے اور اب بھی جاری ہے۔ ملک و قوم کی فلاح کا درجہ دن بدن خراب تر ہوتا جا رہا ہے جو اس بات کا اشارہ ہے کہ اس ماحول کے پیچھے کہیں جوابدہی سے آزاد ذاتی مفادات اور خواہشات کا دخل ضرور ہے جس کی وجہ سے ملک و قوم کی ترقی داؤ پر لگی ہوئی ہے۔
اس صورتحال سے جو عمومی تاثر ملتا ہے وہ یہ ہے کہ ہم اپنے لئے جو پسند کرتے ہیں وہ شاید دوسروں کے لئے نہیں کرتے جن قوانین کا دوسروں پر اطلاق کرنا چاہتے ہیں ان سے اپنے آپ کو آزاد رکھنا چاہتے ہین۔ جب کوئی جماعت حکومت میں پہنچ جاتی ہے تو وہ ریاست کے وسائل کو گویا اپنی ذاتی ملکیت سمجھ بیٹھتی ہے اور اس کے قریب امن، خوشحال اور لا قانونیت کے پیمانے ہی بدل جاتے ہیں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ حالات ٹھیک ہوں تو ان کا اطلاق غیر جانبداری، شفافیت اور برابری کے ساتھ کر کے عملی طور پر آگے بڑھنا ہو گا۔
کسی بھی چیز کی اصل خوبصورتی اس کے ساتھ متعین حدود و قیود سے ہوتی ہے اور ان کو قائم رکھنے کی پاسداری قواعد ضوابط کے اطلاق کے بغیر ممکن نہیں اور نہ ہی ان کے بغیر سیاسی و جمہوری آزادی کے حسن کو قائم رکھا جا سکتا ہے۔ اس لئے اب ضروری ہے کہ اس کی حدود کا تعین کر کے ان کو واضح کیا جائے وگرنہ یہ سیاست میں اظہار رائے کے نام پر سیاسی حقوق کی آزادی کا پرتشدد اور انتہاپسندی کا رواج ہماری سیاست، جمہوریت، معاشرت اور تہذیب و تمدن کو مزید تباہ کر دے گا۔
پاکستان کی تاریخ کا مطالعہ کریں تو اس میں طاقت اور مفادات کا آئینی اداروں کی سطح پر کردار رہا ہے مگر ان حالات کی ذمہ داری سے سیاستدانوں کو بھی بری الذمہ قرار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ ان کو سہارا دینے کے لئے ان کا کندھا بھی استعمال ہوتا رہا ہے۔ جس حقیقت سے سیاست سے منسلک شخصیات کو باور کروانا ضروری ہے اور اس کے خاتمے کے لئے اب ضروری ہو چکا ہے کہ سیاست کو بھی کڑی نگرانی کے دائرے میں لایا جائے تاکہ جمہوریت کو اہل سیاستدان مہیا کیے جا سکیں۔
جب دنیا کے ہر شعبے کے لئے تعلیم اور تربیت کی ضرورت ہے حتی کہ ایک یونین کونسل میں شہریوں کی پیدائش اور اموات کا ریکارڈ رکھنے والی سیکرٹری کی بھی تعلیم و تربیت کی ضرورت ہوتی ہے تو ملک و قوم کے نظام کو بہتر بنانے کے لئے قانون سازی کرنے والے اور ملک و قوم کی تقدیر بدلنے کے لئے اصلاحات لانے کے لئے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے امیدواروں کو تعلیم و تربیت کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی؟ کیا ان کے لئے یہ جاننا بھی ضروری نہیں کہ قومی یا صوبائی اسمبلی کے ایک ممبر کا بنیادی کردار کیا ہے؟ کیا ان کی جوابدہی ضروری نہیں کہ انہوں نے پانچ سالوں میں اپنے حلقے کے عوام کی نمائندگی کرتے ہوئے کتنی بار اسمبلی کے فورم پر اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے؟ اگر ہم اپنی سیاست کا معیار ٹھیک کرنا چاہتے ہیں یا جمہوریت سے صحیح معنوں میں مستفید ہونا چاہتے ہیں تو یہ وہ چند سوال ہیں جن کا جواب ہمیں تلاش کرنا ہو گا اور عوام کو اس کا شعور دینا ہو گا تاکہ سیاست اور جمہوریت کی بنیادوں کو تو پہلے ٹھیک کیا جا سکے۔
کیا اس کے لئے اسمبلی حال اور ان کے رہنے کے لئے بڑی بڑی عمارتیں، ان کے اندر ان کی آپس کی ہاتھا پائی سے بچنے کے لئے زمین میں گاڑی ہوئی کرسیاں اور ان کی اخلاقیات کا پہرہ دینے کے لئے ایک بھاری بھرکم سیکورٹی کی اشد ضرورت ہے یا ان کو اپنی ذمہ داریوں اور ملک و قوم کی بہتری کے درد پر مبنی سوچوں سے روشناس کروا کر ایک لیپ ٹاپ اور انٹرنیٹ کا کنکشن مہیا کر دینا ہی کافی ہے۔ یہ ماحول بنانے کے لئے سیاستدانوں کی تربیت اور نگرانی کا ماحول بنانا پڑے گا۔
سیاسی جماعتوں کی نگرانی کا مقصد سیاسی انتقام نہیں بلکہ جمہوریت کی مضبوطی اور پارلیمان کی بالا دستی ہو اور اس کو جس قدر شفاف اور غیر جانبدار بنایا جا سکے اسی قدر بہتر ہو گا۔ اس کے لئے ذمہ داری الیکشن کمیشن کو بھی سونپی جا سکتی ہے جس کے لئے ادارے کے اندر ایک ایسا سیل بنایا جائے جس میں حکومت اور اپوزیشن دنوں سے برابری کی بنیاد پر دو دو ممبران کو بھی شامل کیا جائے اور باقی الیکشن کمیشن کے ممبران ہوں جو سیاسی جماعتوں کی نگرانی کریں۔
جس کے لئے بنیادی اصولوں کو طے کرنا ہو گا جن کی بنیاد انصاف، شفافیت اور غیرجانبداری ہو۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ جو سیاسی جماعت حکومت میں ہو وہ سمجھے کہ وہ تو آئین و قوانین سے بالا تر ہے اور اس کی ہر سرگرمی امن اور خوشحالی کی علامت ہے مگر اپوزیشن جماعتوں کی سرگرمیاں معاشی اور سیاسی سلامتی کے لئے خطرہ ہیں اس کے لئے تمام سیاسی جماعتوں کی کانفرنس بلا کر کچھ اصول طے کرنا ہوں گے جن کے اطلاق نگرانی کے لئے غیرسیاسی اور غیر جانبدار افسران کی کوئی کمیٹی بنانی ہوگی جس کی نگرانی پارلیمانی کمیٹی کے پاس ہونی چاہیے۔
اس نگرانی کی بنیاد مالیاتی خورد برد، سیاسی جماعتوں کے اندر فعال جمہوریت کا یقینی ہونا، سیاسی انتشار پسندی میں ملوث ہونا، غیر جمہوری اور غیر سیاسی سرگرمیاں، بغیر ثبوتوں کے عالمی برادری پر کسی بھی قسم کی ملکی سیاست یا معاملات میں مداخلت کی بیان بازی اور ملکی اداروں کی سیاست میں مداخلت میں مدد یا روابط اور اپنے مخالفین پر جھوٹے الزام تراشیاں ہونے چاہیں تاکہ سیاست اور جمہوریت میں ایسے افراد کی کوئی گنجائش نہ رہے جو غیر سیاسی یا غیر جمہوری سرگرمیوں مے ملوث پائے جاتے ہوں۔
احتجاج اور دھرنوں کے لئے کوئی جگہ مخصوص کی جائے۔ اس کے علاوہ کسی بھی دوسری جگہ پر احتجاج اور دھرنے کی صورت میں سخت تادیبی کارروائی ہونی چاہیے۔ لیکن اس سب پر عملدرآمد بھی تب ہی ممکن ہے جب ان مخصوص کئی گئی جگہوں پر احتجاج، دھرنوں کو باقاعدہ اہمیت دی جائے اور جائز مطالبات پر توجہ دے کر ان پر شفاف طریقے سے تحقیق اور عمل کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کے اندر حکومت اور اداروں پر اعتماد کو بحال کیا جا سکے اور عوام یہ سمجھنا شروع کر دیں کہ ان کا یہاں پر احتجاج کے بعد کسی دوسرے طریقہ کار بارے سوچنے کی ضرورت نہیں۔
احتجاج اور دھرنوں کے بھی اصول متعین کیے جائیں۔ جن میں آئین و قانون میں دیے گئے پہلے سے کسی بھی معاملے کا حل نہ ہونے کی صورت میں یا اس پر آئین و قانون میں دی گئی معینہ مدت میں عمل درآمد نہ ہونے کی صورت میں عوام، سیاسی جماعتوں کو احتجاج یا مطالبہ درج کروانے کی اجازت ہو۔ اسی طرح اگر کسی احتجاج میں ایک قومی یا صوبائی اسمبلی کے حلقے کے ووٹرز کے تعداد کے مطابق عوام یا سیاسی کارکنوں کی تائید حاصل ہو تو پھر اس کو پارلیمانی میں بحث کے لئے پیش کیا جان لازمی ہو اور پارلیمان اس پر بحث کے بعد عمل کو یقینی بنائے۔
اس غرض سے پارلیمان کے اندر عوامی مطالبات پر غور کرنے کے لئے ایک تین رکنی کمیٹی بنائی جائے جس کے پاس ہر سیاسی جماعت اپنے تحفظات، مطالبات کو الیکشن کمیشن کے اس سیل میں جمع کروائے گئے ہوں پر غور کے بعد اگر مطالبات کو جائز سمجھتی ہے تو اس پر اپنی ہدایات جاری کرے اور اگر جائز نہ ہوں تو طے کیے گئے اصولوں کا حوالہ دیتے ہوئے ان کے رد کرنے کی وجوہات بتائے
سیاسی جماعتوں کو اپنی رجسٹریشن کے وقت اغراض و مقاصد میں درج کیے گئے نقاط تک سرگرمیوں کو محدود رکھنے کا پابند ٹھہرایا جائے۔ اسی طرح اگر کوئی تنظیم یا جماعت غیر سیاسی مقاصد یا مذہبی تبلیغ کے لئے بنائی گئی ہے تو ان کو بھی اپنی سرگرمیوں کو اپنے مقاصد تک ہی محدود رکھنے کا پابند ٹھہرایا جائے چہ جائے کہ وہ اپنی عوامی پذیرائی کو سیاسی مقاصد کے لئے دوسرے سیاسی جماعتوں کو مستعار دیتی پھریں اور ملکی سیاسی استحکام میں بگاڑ پیدا کر کے ملک و قوم کے لئے مشکلات پیدا کریں۔
جس سیاسی جماعت کے پاس پارلیمان میں نمائندگی موجود ہو اس پر عوامی سطح کے احتجاج کے لئے کڑی شرائط رکھی جائیں۔ جب تک پارلیمان میں نمائندگی رکھنے والی جماعتوں کے احتجاج اور دھرنوں پر پابندی کا قانون نہیں بنے گا تب تک کبھی بھی اس بے وقوفانہ طرز سیاست سے جان نہیں چھوٹے گی۔
مرکز کی حکومت بنانے کے لئے یہ ضروری ہونا چاہیے کہ اس جماعت کے پاس پہلے سے صوبے میں حکومت کرنے کا کم از کم پانچ سالہ ٹریک ریکارڈ ہو جس میں سیاسی اور معاشی بہتری کے اشاریے موجود ہوں تاکہ قومی تشخص کو اناڑی سیاسی جماعتوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔
ریاست میں کوئی ایسا غیر جانبدارانہ فورم بھی ہونا چاہیے جو حقائق پر مبنی معلومات کو عوام تک پہنچائے جو ملک و قوم کی ترقی کے اشاریوں سے لے کر امن و سلامتی تک کے اشاریوں کو واضح کرے تاکہ یہ بات واضح ہو کہ کسی سیاسی جماعت کی سرگرمیاں عوام دشمن ہیں اور کس کی عوام دوست تاکہ عوام کے اندر شعور کو اجاگر کر کے عوام دوست سرگرمیوں کو دوام بخشا جا سکے۔
اس کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ اداروں کو سیاست سے آزاد قرار دیا جائے اور اس کے عملی ثبوت کے لئے اقدامات اٹھائے جائیں اور اس کے لئے ضروری ہے کہ ان کو عوامی خدمت پر مامور ہونے کو یقینی بنایا جائے اس سے نہ صرف ادارے مضبوط ہوں گے بلکہ اس سے معاشی و سیاسی استحکام کے ساتھ ساتھ جمہوریت بھی مضبوط ہوگی۔


