پاکستان میں بریسٹ کینسر سے مرنے والی خواتین


ہر گزرے ہوئے سال کو ہم کسی اہم ذاتی یا بیرونی واقعے کے حوالے سے یاد رکھتے ہیں۔ 2024 مجھے بریسٹ کینسر کے حوالے سے یاد رہے گا۔ ویسے بھی ہر سال اکتوبر کے مہینے کو بریسٹ کینسر یا چھاتی کے سرطان کی آگاہی کے مہینے کے طور پر منایا جاتا ہے۔ ٹی وی چینلز پر اینکر حضرات پنک ربن لگا کر بیٹھتے ہیں اور مفید معلوماتی پروگرامز پیش کرتے ہیں۔ خواتین کو بتایا جاتا ہے کہ وہ اپنی چھاتیوں کا خود معائنہ کرتی رہیں اور اگر ہاتھ سے دبانے سے کوئی گلٹی محسوس ہو تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ تو ہوا یوں کہ اکتوبر کے مہینے میں ایسے ہی بے خیالی میں پلنگ پر بیٹھے ہوئے ہم نے اپنے ہاتھ سے سینے کو سہلایا تو بائیں طرف کوئی سخت سی چیز محسوس ہوئی اور ہمارے دماغ میں گھنٹیاں بجنا شروع ہو گئیں۔ ہم نے فوراً اپنی دوست شہناز کو فون کر کے کہا کہ اسے ہمارے ساتھ میموگرافی کروانے چلنا ہو گا لیکن پھر ہم دونوں اس بات کو بھول بھال گئے اور کچھ دن گزر گئے۔ پھر ایک روز بائیں چھاتی میں گڑھا پڑتا نظر آیا تو ہم شہناز کو لے کر ایک ریڈیالوجی والے مرکز گئے میموگرام ہوا تو پتا چلا کہ کچھ گڑبڑ ہے، چنانچہ ایک نجی ہسپتال کی بریسٹ سرجن کو دکھایا اور پھر تو وہ چکر لگے کہ پوچھئے نہیں۔ الٹرا ساؤنڈ، اسکیننگ، بائیوپسی اور دیگر بہت سے ٹیسٹوں کے بعد بالآخر ہماری بائیں چھاتی کینسر سمیت تیس اکتوبر کو ہمارے جسم سے کاٹ دی گئی۔ مرض چونکہ جلدی پکڑا گیا تھا، اس لئے کیمو تھراپی نہیں ہوئی بس پانچ سال تک ہارمونل ٹریٹمنٹ ہو گا یعنی ایک چھوٹی سی گولی اور اس کے ساتھ ہڈیوں کے لئے ایک سپلیمنٹ لینا ہو گا۔

دنیا بھر میں عورتوں کی اموات کی سب سے بڑی وجوہات میں سے ایک بریسٹ کینسر ہے۔ اور چھاتی کاٹنے کے عمل کو طبی زبان میں MASTECTOMY کہتے ہیں۔ اس عمل سے عورت کا ظاہری حلیہ ہمیشہ کے لئے بدل جاتا ہے۔ گھبرانے کی کوئی بات نہیں، آپ چاہیں تو پلاسٹک سرجری کے ذریعے اس کا حل بھی نکالا جا سکتا ہے۔ بہرحال ایک یا دونوں چھاتیوں کا کٹ جانا عورت کے لئے ایک تکلیف دہ تجربہ تو ہوتا ہے۔ چھاتیاں نسوانی شناخت کا حصہ ہیں اور نسائیت، جنس، خوب صورتی اور ممتا کی نمائندگی کرتی ہیں۔ (ساوتری 2015 ) ۔

مجھے یاد ہے ہمارے بچپن میں خواتین کے رسائل میں ”آپ کے مسائل اور ان کا حل“ والے کالم میں ”نسوانی حسن میں کمی یا محرومی“ والا مسئلہ اکثر پوچھا جاتا تھا۔ اب اگر کینسر کی وجہ سے کوئی عورت اس ”حسن“ سے محروم ہو جائے تو سوچئے اس پر کیا گزرے گی۔ نو عمر لڑکیاں اور مڈل ایج عورتیں زیادہ پریشان ہوں گی، ہم جیسی سینئر سٹیزن تو جان بچ جانے پر ہی خوش رہے گی۔ ویسے سرجری سے پہلے آپ اپنی سرجن سے کہہ دیں تو وہ سرجری کے ساتھ ہی یہ مسئلہ بھی حل کر دے گی بس آپ کو ہسپتال میں ایک دن اور قیام کرنا پڑے گا۔ ہماری سرجن کے بقول بریسٹ کینسر کی سرجری ایک بہت ہی صاف ستھری سرجری ہوتی ہے لیکن پہلے کی طرح نظر آنے کے لئے آپ اندر کچھ ڈلوانا چاہتی ہیں تو اس میں ہمیشہ تو نہیں لیکن انفیکشن کا خطرہ رہتا ہے۔ فیصلہ آپ کو کرنا ہو گا۔

جسم کے ایک حصے سے محرومی کے بعد اپنی ذات یا ظاہری شخصیت کے بارے آپ کے اپنے تصور کی راہ میں بھی رکاوٹیں پیدا ہوتی ہیں۔ جیسے آپ کے باڈی امیج، ذاتی شناخت سے محرومی، سماجی کردار میں تبدیلی، سیلف آئیڈیل میں تبدیلی، خود اعتمادی میں کمی آتی ہے اور اپنی ذات کے بارے میں اس طرح کے سارے منفی تصورات کا نتیجہ اسٹریس اور ڈپریشن کی شکل میں نکلتا ہے۔

سارے ایشیائی ممالک کے مقابلے میں بریسٹ کینسر کے کیسز کی شرح پاکستان میں سب سے زیادہ ہے۔ ہر نو میں سے ایک عورت زندگی میں ایک مرتبہ اس کینسر کا شکار ہوتی ہے۔ کینسر پر ریسرچ کی انٹرنیشنل ایجنسی کے مطابق 2018 میں پاکستان میں چونتیس ہزار چھیاسٹھ بریسٹ کینسر کے نئے کیسز رپورٹ ہوئے تھے۔ بد قسمتی سے پاکستان میں ایسے کیسز کی تشخیص دیر سے ہوتی ہے، اس لئے شرح اموات زیادہ ہے۔ تحقیق سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ جتنی جلدی تشخیص ہو گی، بچ جانے کے امکانات اتنے ہی زیادہ ہوں گے۔ ابھی تک جو لٹریچر شائع ہوا ہے اس کے مطابق عمر بڑھنے کے ساتھ بریسٹ کینسر کے امکانات میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس لئے مناسب وقفے کے ساتھ میمو گرافی اسکریننگ کراتے رہنا چاہیے۔ اور سب سے آسان طریقہ سیلف ایگزامنگ ہے۔ اپنے ہاتھ سے اپنا معائنہ کرنے کی عادت ڈالیں۔ اگر گلٹی بن رہی ہو گی تو آپ کو خود پتا چل جائے گا، یا چھاتی میں گڑھا بن رہا ہو گا تو وہ بھی نظر آ جائے گا۔ اصل میں جب تک درد یا تکلیف نہ ہو، ہم صحت کے معاملات کو سنجیدگی سے نہیں لیتے۔ بریسٹ کینسر میں درد نہیں ہوتا، اس لئے عورتوں کو پتہ نہیں چلتا اور کینسر تیسرے یا چوتھے درجے تک پہنچ جاتا ہے۔ میری خوش قسمتی تھی کہ میں دوسرے درجے کے کینسر میں ہی ڈاکٹر تک پہنچ گئی اور جان بچ گئی۔

ہمارے ہاں غیر ضروری شرم و حیا بھی اس بیماری کی تشخیص کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہے۔ مجھے تو لگتا ہے کہ عورتوں کی اکثریت خود اپنے جسم کو دیکھنے سے شرماتی ہے اور اگر دیکھ بھی لے تو گھر والوں کو بتانے سے شرماتی ہے، خود اکیلے ڈاکٹر کے پاس جانے کی ہمت نہیں ہوتی، اس لئے مرض بڑھتا رہتا ہے اور جب معاملہ حد سے بڑھ جاتا تب کسی کو بتایا جاتا ہے اور مدد طلب کی جاتی ہے۔ لیکن تب تک دیر ہو چکی ہوتی ہے۔ غذا اور لائف اسٹائل کے حوالے سے پاکستانی عورتوں میں وٹامن ڈی کی کمی پائی جاتی ہے جو بریسٹ کینسر کا سبب بنتی ہے۔ یہ بھی پتا چلا ہے کہ پاکستانی عورتیں جو غیر رجسٹرڈ میک اپ اور بال رنگنے کی مصنوعات استعمال کرتی ہیں، وہ بھی بریسٹ کینسر کا سبب بنتی ہیں۔ اس کے علاوہ بھی بہت سے عوامل خطرے کا باعث بن سکتے ہیں، جیسے آپ کی عمر، آپ کا وزن، ازدواجی مرتبہ و برابری، کھانے والی مانع حمل ادویات، بچے کو دودھ پلانا، تمباکو نوشی، جسمانی سرگرمی، مینو پاز، پاکستانی عورتوں میں بریسٹ کینسر کے خطرے میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔ مروجہ مفروضوں سے نجات پانے کے لئے اگر زمانہ طالبعلمی میں اسکولوں میں لڑکیوں کو بریسٹ کینسر کے بارے میں معلومات فراہم کر دی جائیں تو آگے چل کر ان کی جان بچ سکتی ہے۔ موبائل فون پر آگاہی کے لئے میسیج چلانا بھی ایک اچھا طریقہ ہے۔ دو تین سال پہلے بریسٹ کینسر کے بارے میں موبائل پر پیغامات نشر کیے جاتے تھے۔ جو ایک اچھا اقدام تھا۔ پاکستانی عورتوں کو یہ معلومات فراہم کرنا بے حد ضروری ہے۔

Facebook Comments HS

One thought on “پاکستان میں بریسٹ کینسر سے مرنے والی خواتین

  • 24/12/2024 at 5:52 صبح
    Permalink

    شکریہ

     غذا اور لائف اسٹائل کے حوالے سے پاکستانی عورتوں میں وٹامن ڈی کی کمی پائی جاتی ہے جو بریسٹ کینسر کا سبب بنتی ہے۔ یہ بھی پتا چلا ہے کہ پاکستانی عورتیں جو غیر رجسٹرڈ میک اپ اور بال رنگنے کی مصنوعات استعمال کرتی ہیں، وہ بھی بریسٹ کینسر کا سبب بنتی ہیں۔ اس کے علاوہ بھی بہت سے عوامل خطرے کا باعث بن سکتے ہیں، جیسے آپ کی عمر، آپ کا وزن، ازدواجی مرتبہ و برابری، کھانے والی مانع حمل ادویات، بچے کو دودھ پلانا، تمباکو نوشی، جسمانی سرگرمی، مینو پاز، پاکستانی عورتوں میں بریسٹ کینسر کے خطرے میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔

Comments are closed.