پلیز ہمیں عزت سے اپنی جابز کرنے دو
حال ہی میں ڈاکٹر پروفیسر شہزاد علی یورولوجی ڈیپارٹمنٹ جناح ہسپتال کراچی، جو انچارج کے طور پر تعینات تھے، نے مبینہ طور پر اپنے عہدے کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے یورولوجی ڈیپارٹمنٹ کی ڈاکٹر مہرین عروج کو گزشتہ دو سال سے ورک پلیس جنسی ہراسمنٹ کر رہے تھے۔ متاثرہ ڈاکٹر مہرین کے بیان کے مطابق دن بہ دن جنسی ہراسمنٹ میں اضافہ ہوتا گیا۔ تنگ آ کر متاثرہ نے ڈاکٹر شہزاد کے واٹس ایپ پر بھیجے گئے میسجز کو بطور ثبوت اپنے ڈیپارٹمیٓنٹ کو جمع کروائے۔ ازاں بعد ایک کمیٹی بنائی گئی، جس نے پیش کردہ ثبوت کے تناظر میں ڈاکٹر شہزاد علی کو اپنے عہدے سے ہٹا دیا۔ اس واقعے نے پھر سے ورک پلیس ہراسمنٹ کے نئے ابواب کھول دیے ہیں۔
گھر آرام کرنے کی جگہ ہوتا ہے، جہاں انسان سکون کے ساتھ اپنی زندگی گزارتا ہے۔ گھر میں انسان خود کو ہر طرح کے خطرے سے محفوظ سمجھتا ہے۔ لیکن جب لاتعداد مسائل کے بوجھ سے تنگ آ کر کوئی عورت چاہے وہ ڈاکٹر ہو یا نرس، ٹیچر ہو یا لیڈی پولیس، پرائیویٹ جاب کرنے والی ہو یا سرکاری عملدار، وہ گھر سے باہر نکل کر درجنوں مردوں کے درمیان کام کرتی ہے، تو یہ محض ایک نوکری نہیں ہوتی، بلکہ ایک جنگی محاذ بن جاتا ہے۔ جہاں اپنی ذات کو اندرونی و بیرونی خطرات سے بچانے کے لیے اپنا ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھاتی ہے۔ حالانکہ خواتین کو مکمل تحفظ دینے کے لیے کافی قوانین تو بنائے گئے ہیں، لیکن ان قوانین کی اہمیت محض چند کاغذی ٹکڑوں سے زیادہ کچھ نہیں۔
کوئی عورت اپنے والدین کی مالی مدد کرتی ہے، کسی کا شوہر بے روزگار ہے، یا کوئی عورت بیوہ ہے اور اس کے زیر کفالت کئی افراد ہوتے ہیں۔ ایسے میں اگر وہ کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے کے بجائے باعزت طریقے سے سوسائٹی کی اقدار کا لحاظ کرتے ہوئے ایک ذمہ دار فرد کی حیثیت سے کام کرتی ہے، تو یہ اس کی عظمت کی علامت ہوتی ہے، نہ کہ بدکرداری کی۔ اتنی پیچیدہ صورت حال میں وہ کیسے اور کیوں ہراساں کرنے والے مردوں کے لئے آسان ہدف بن جاتی ہے، یہ سوال ہر باشعور ذہن میں ضرور اٹھتا ہو گا۔ وہ دفتر میں کام دوسروں کو لذت پہنچانے کے لیے نہیں، بلکہ حلال طریقے سے رزق کمانے کے لیے کرتی ہے۔ اس کے باوجود، اس کو طاقتور افراد کے ذریعے اکثر جنسی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اگر کوئی عورت کسی افسر یا انتظامیہ کے کسی با اثر فرد کی ناجائز خواہشات کے سامنے جھکنے سے انکار کرتی ہے تو وہ اس کی جان کے درپے ہو جاتے ہیں۔
ایسے افسران یا انتظامیہ کے چند افراد، جب خواتین سے اپنی جنسی خواہشات پورا کرنے میں ناکام ہوتے ہیں یا وہ خواتین خود سے اپنی عزت کا خیال کرنا جانتی ہیں اور کسی کو گھاس تک نہیں ڈالتیں، تو اس کی پاداش میں خواتین کو اپنی جائز ڈیوٹی نہیں کرنے دی جاتی یا سرکاری کام میں بے جا مداخلت کر کے ان کے لئے ڈھیروں مسائل پیدا کیے جاتے ہیں یا پھر ان کے دور دراز علاقوں میں تبادلے کیے جاتے ہیں۔ ان کو ایسی جگہوں پر تعینات کیا جاتا ہے جہاں ان کو ذہنی اور جسمانی تکالیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ افسر شاہی حضرات اپنی تسکین نہ ملنے پر عورت کو ہر ممکن ایذاء پہنچانا چاہتے ہیں تاکہ وہ دل میں اٹھی انتقام کی آگ کو نامعقول اور غیر قانونی طریقوں سے بجھا سکیں، کیوں کہ وہ بڑے افسر ہوتے ہیں ان کا مواخذہ کرنا اتنا آسان نہیں ہوتا، یا پھر ان کے گہرے سیاسی تعلق ہوتے ہیں جن کی پشت پناہی کے ساتھ یہ لوگ اتنی بے باکی سے اپنی من مانی کر رہے ہوتے ہیں۔
یہ رویہ نہ صرف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہوتا ہے، بلکہ اس طرح کسی فرد کا جسمانی اور ذہنی استحصال ہوتا ہے، جس کی اجازت نہ کوئی مذہب، نہ اخلاقیات، اور نہ ہی دنیا کا کوئی قانون دیتا ہے۔ ایسے اعمال کے خلاف کھڑے ہونا اور انصاف کی آواز کو بلند کرنا کبھی کبھار لازم بن جاتا ہے، تاکہ معاشرے میں عورتوں کو باوقار طریقے سے زندگی گزارنے کا جائز حق مل سکے۔
جنسی ہراسمنٹ کا پس منظر:
کچھ کام کی جگہوں پر، بالخصوص ان اداروں میں جہاں عہدوں کی درجہ بندی ہوتی ہے، مثلاَ ڈسپلنری یا انتظامی محکمے، اسکولز، کالجز یا یونیورسٹیز، ہاسپیٹلز و دیگر ادارے جہاں خواتین کو ان ڈور یا فیلڈ ورک کرنا ہوتا ہے، ان کو کٹھن اور شدید چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہاں متعدد افسران اور انتظامیہ کے افراد ان سے غیر اخلاقی مطالبات کرتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر اپنی طاقت اور اثر و رسوخ کا استعمال کرنے سے دریغ نہیں کرتے۔ خواتین ملازمین کو غیر آرام دہ اور ذلت آمیز حالات میں دھکیل دیا جاتا ہے تاکہ وہ مجبور ہو کر ان کی خواہشات پر عمل کرنے کے لیے ذہنی طور پر تیار ہو جائیں۔ ان کے تبادلے ایسے مقامات پر کیے جاتے ہیں جہاں وہ ناخوشگوار ماحول کا سامنا کرتی ہیں، جس کے نتیجے میں ان کی ذاتی اور اجتماعی زندگی پر منفی اثر پڑتا ہے۔
اس کے باوجود، جو خواتین باہمت طریقے سے کسی کے سامنے جھکے بغیر اپنا کام جاری رکھتی ہیں، انہیں ان کے جائز عہدوں سے ہٹایا جاتا ہے، ان کی محکمانہ ترقی روک دی جاتی ہے، یا انہیں محکمے کی بے جا کارروائیوں میں پھنسایا جاتا ہے یا ان کے کردار کو داغ دار کرنے کے لئے مختلف ذرائع سے جھوٹا پروپیگنڈا کر کے ان کے کیریئرز کو متاثر کیا جاتا ہے۔ یہ استحصال طاقت کے بل بوتے پر کیا جاتا ہے، جہاں وہ افراد جو لاتعداد اختیارات کے مالک ہوتے ہیں، اپنی جنسی خواہشات کی تکمیل کے لیے خواتین ملازمین کو اپنی مرضی کے مطابق قابو کرنے کی خاطر ناجائز اختیارات کا استعمال کرتے ہیں۔
افسران کا طریقہ واردات:
سب سے پہلے اپنی پسندیدہ خاتون کو اچھی پوسٹ پر ترقی دی جاتی ہے، یا اس کو کسی شعبے کا ہیڈ یا انچارج بنایا جاتا ہے۔ اس کے کام کی تعریف کی جاتی ہے اور اس کی کارکردگی کو محکمہ کے دیگر افراد کے سامنے سراہا جاتا ہے۔ تاہم، جیسے ہی وہ کسی سینئر افسر کے غیر ضروری جنسی رویے کو رد کرتی ہے، صورتحال بالکل بدل جاتی ہے۔ اپنا شکنجہ سخت کرنے کے لیے غیر محسوس طریقے سے مرحلہ وار کارروائیاں کی جاتی ہیں۔ جہاں پہلے اس کی کارکردگی سے مطمئن ہونے کا ڈھونگ رچاتے تھے، اب اس کے کام میں ہزاروں نقص نکالے جاتے ہیں۔ آفیشل میٹنگز کے دوران اس کی پرفارمنس پر سوال اٹھائے جاتے ہیں، فقرے کسے جاتے ہیں۔ الفاظ و افعال کے ذریعے اس کو دھمکی آمیز اشارے، کبھی ظاہر کبھی خفیہ طریقوں سے دیے جاتے ہیں تاکہ وہ خاتون کسی طرح اپنی ضد چھوڑ کر ان کے لیے سامانِ تسکین بن جائے۔
اس اثناء میں پہلے تو افسران سیدھی انگلی سے گھی نکالنے کو ترجیح دیتے ہیں، لیکن ضرورت پڑنے پر ٹیڑھی انگلی سے گھی کو نکالنے کی بھی کوشش کرتے ہیں۔ اس کو ”پاور ڈپنڈنس تھیوری“ کے نام سے جانا جاتا ہے، جو یہ بتاتی ہے کہ کس طرح خواتین کی ملازمت یا ترقی کا انحصار اعلیٰ افسر کے فیصلوں پر ہوتا ہے، اور یہ افسر اپنی طاقت کا ناجائز استعمال کرتے ہیں۔ اس میں تعلقات میں طاقت کا عدم توازن، استحصال، دباؤ، اور ہراسانی جیسے عناصر شامل ہوتے ہیں۔ کئی مرتبہ افسران اپنے منصوبہ بندیوں میں کامیاب بھی ہو جاتے ہیں اور اس طرح حالتِ مجبوری میں کئی خواتین ان کی جنسی درندگی کا شکار بن جاتی ہیں۔ یا کچھ خواتین پر نفسیاتی طور پر اتنا دباؤ ڈالا جاتا ہے کہ وہ نوکری چھوڑ دیتی ہیں یا کئی واقعات میں خواتین کو اتنا بلیک میل کیا جاتا ہے کہ وہ خودکشی کرنے پر بھی مجبور ہو جاتی ہیں۔
خواتین پر نفسیاتی اور طبی اثرات:
جنسی ہراسانی کے اثرات صرف جذباتی تکلیف تک محدود نہیں رہتے، بلکہ یہ خواتین کے لیے جسمانی اور ذہنی صحت کے پیچیدہ مسائل بھی پیدا کرتے ہیں۔ جن خواتین کے ساتھ کسی وقت جنسی ہراسانی جیسا واقعہ پیش آ چکا ہو، ان میں اکثر اوقات پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر (PTSD) جیسا ذہنی مسئلہ پیدا ہو جاتا ہے، جو اکثر کسی انسان کے ساتھ تب پیدا ہوتا ہے جب وہ کسی بھیانک واقعے، شدید ترین صدمہ یا زندگی کی ان خوفناک گھڑیوں سے گزرا ہو جو ان کے لیے جان و مال یا عزت کے خطرے کا سبب بنی ہوں۔ جنسی ہراسانی کا شکار خواتین اکثر ڈراؤنے خواب، جذباتی بے حسی، اور پریشان کن تلخ یادوں کا سامنا کرتی ہیں، جو ان کی روزمرہ کی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہیں۔
جن خواتین کو کسی طرح جنسی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا ہو، وہ خواتین ڈپریشن کا بھی شکار ہو جاتی ہیں، کیونکہ انہیں ہمیشہ یہ خوف ہوتا ہے کہ جن با اثر افراد نے ان کا جنسی طور پر استحصال کرنے کی بارہا کوشش کی ہے، وہ لوگ ان کے ساتھ انتقامی کارروائی کر سکتے ہیں۔ اس خوف کے نتیجے میں ان کو سنگین ڈپریشن لاحق ہو سکتا ہے۔ ایسی خواتین عام سرگرمیاں جیسے شادی و بیاہ یا کسی فنکشن میں حصہ لینے کی دلچسپی کھو دیتی ہیں۔ حالانکہ اس سے قبل وہ اس طرح کے محفلوں میں جانا پسند کیا کرتی تھیں، لیکن ماضی کے حادثات نے ان کی پراعتماد زندگیوں کو متاثر کیا ہوتا ہے۔ انہیں دیگر جسمانی صحت کے مسائل جیسے مائگرین یا مسلسل سر درد، پیٹ کی خرابی، یا نیند کی خرابی جیسی بیماریاں بھی لاحق ہو سکتی ہیں، جہاں وہ نیند پوری کرنے کی کوشش کرتی ہیں مگر ان کے ساتھ کیے گئے سلوک کی وجہ سے وہ سکون سے سو نہیں پاتیں۔
جنسی ہراسانی نہ صرف ایک غیر اخلاقی عمل ہے بلکہ یہ ایک قانونی جرم بھی ہے۔ مختلف ممالک میں خواتین کو کام کی جگہ پر جنسی ہراسانی سے تحفظ فراہم کرنے کے لئے کئی قوانین وضع کیے گئے ہیں، لیکن ان قوانین کے باوجود خواتین کو مناسب تحفظ فراہم نہیں کیا جاتا۔ بہت سے واقعات میں خواتین اکثر خاموشی کو ترجیع دیتی ہیں، کیونکہ انہیں اپنے معاشرے، خاندان، رشتہ داروں، یا اپنے دوستوں کے حلقے میں بدنامی کا خوف ہوتا ہے۔ انہیں یہ شدید ڈر بھی لاحق ہوتا ہے کہ اگر انہوں نے کسی شر پسند عنصر کے خلاف رپورٹ کر دی تو ان کے خلاف کوئی بھی انتقامی کارروائی کی جا سکتی ہے، اس کو اپنی ذات کے ساتھ جُڑے دیگر افراد کی جان و مال کو شدید نقصان پہنچنے کا بھی خدشہ ہوتا ہے۔ اس کے باوجود، ہمیں ان خواتین کی حوصلہ افزائی ضرور کرنی چاہیے جو ہر طرح کے خوف اور خطرات کے باوجود جنسی درندوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کی عملی کوشش کرتی ہیں۔
اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے مربوط کردار ادا کرنا ضروری ہے تاکہ ایک ایسی محفوظ اور محترم کام کی جگہ تیار کی جا سکے، جہاں پر ڈھیر سارے مردوں کی موجودگی میں عورت پراعتماد طریقے سے کام کر سکے۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ جنسی ہراسانی کے خلاف واضح پالیسیوں کا قیام عمل میں لایا جائے اور ملازمین کو ان کے حقوق کے بارے میں آگاہ کیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ جو پالیسیاں مرتب کی جائیں اور ان کو نافذ کرنے کے لئے مخصوص ادارہ قائم کیا جائے، جو خواتین کے قانون کو لاگو کرنے میں موثر کردار ادا کرے۔ بلکہ خود اس ادارے کا بھی آڈٹ کیا جائے کہ وہ ٹھیک سے کام کر رہا ہے کہ نہیں، یا کہیں ایسا تو نہیں کہ اس ادارے کے افراد ہی خواتین کا استحصال کرنے لگ جائیں، اس لئے خواتین کے لئے کام کرنے والے اداروں میں خواتین کی شمولیت زیادہ سے زیادہ کرنی چاہیے، تاکہ جنسی ہراسمنٹ جیسے واقعات میں وافر کمی ہو سکے۔ اسی طرح خواتین کو پیشہ ورانہ رویوں کی حدود، احترام اور مساوات کے بارے میں وقفے وقفے سے تربیتی پروگراموں کا انعقاد لازماً کرنا چاہیے۔ اس کے علاوہ، ہراسانی کا شکار ہونے والے افراد کے لیے موثر شکایت کے ازالے کے نظام کو بھی ترتیب دینا چاہیے۔
کام کی جگہ پر جنسی ہراسانی ایک ایسا مسئلہ ہے جو متاثرین، ان کی پیشہ ورانہ زندگی، ان کی ذہنی و جسمانی صحت کو شدید نقصان پہنچاتا ہے، جس کے باعث متاثر خواتین اپنے خاندان یا اڑوس پڑوس کے لوگوں کی تیز نظروں کا مقابلہ نہیں کر پاتیں۔ ہمارے معاشرے میں طاقت کے عدم توازن کی وجہ سے جنسی ہراسمنٹ کے واقعات میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اس مسئلے کی سنجیدگی کا ادراک کیا جائے اور ایسے قانونی اقدامات اٹھائے جائیں، جن سے ہم محفوظ، معاون، اور محترم کام کی جگہوں کو تخلیق کر سکیں۔ صرف قوانین کی پابندی نہیں کرنی چاہیے بلکہ ایسی ثقافت کا فروغ کریں جس میں تمام ملازمین کو قدر، تحفظ اور استحصال سے آزادی کا حق حاصل ہو۔ تب ہی ہم اس نوعیت کے استحصال کا خاتمہ کر سکتے ہیں اور اس طرح ہم کام کی جگہ پر عزت اور مساوات کو یقینی بنا سکتے ہیں۔

