اقبال کا فلسفۂ خودی و بے خودی
علامہ اقبال ایک ایسے لالہ کے پھول کی مانند ہیں جو تپتے صحراؤں میں حیاتِ نو کا پیامبر بن کر ابھرتا ہے۔ اقبال ایک ایسے گلِ نو بہار کی مانند ہیں جو خزاں کے وجود سے بوسیدہ فضاؤں کو اپنی مہک سے تازگی بخشتا ہے۔ اقبال ایک ایسے مرغ ِ خوش نوا کی مانند ہیں جس کی نوا سوز و ساز سے معمور ہوتی ہے اور ظلمت کی خاموشیوں کا خاتمہ کرتی ہے۔ اقبال روشنی کا ایک ایسا مینار ہے جو بھٹکے ہوؤں کو منزلوں کا نشان بتلاتا ہے۔
اقبال نے اپنی شاعری کے ذریعے حیات جاوداں اور زندگی دوام کا جو پاٹھ پڑھایا وہ ہر عہد کے اور ہر دور کے انسان کے لیے باعثِ فلاح ہے۔ اقبال کے چیدہ چیدہ موضوعات میں ایک بڑا موضوع خودی ہے۔ اقبال کے نزدیک خودی سے مراد ایک ایسی قوت ہے جسے پا لینے کے بعد انسان حیات و کائنات کے سر بستہ رازوں سے واقفیت حاصل کر لیتا ہے۔ انسان حقیقی معنوں میں شہنشاہی کے عہدے پر فائز ہوجاتا ہے۔ اس سلسلے میں اقبال کہتے ہیں کہ
تری زندگی اسی سے، تری آبرو اسی سے
جو رہی خودی تو شاہی، نہ رہی تو روسیاہی
اقبال خودی کو غرور یا انا کے معنوں میں ہر گز استعمال نہیں کرتے بلکہ ان کے نزدیک خودی سے مراد انسان کا اپنی ذات کو مد نظر رکھنا ہے۔ اقبال اسے شعور نفس اور تعین ذات کہتے ہیں۔ اقبال کے نزدیک خودی کی حفاظت انسان کا سب سے اولین فریضہ اور نصب العین ہے کیونکہ وہ زمین پر خدا کی نیابت کے لیے اتارا گیا ہے اور خدا کی نیابت کا اہل ہونے کے لیے خودی کی حفاظت اور عرفان سب سے زیادہ اہم ہے۔ انسان اپنی ذات کے عرفان ہی سے خدا کا سچا ترجمان بن سکتا ہے۔ اس سلسلے میں اقبال کہتے ہیں کہ:
تو راز کن فکاں ہے اپنی آنکھوں پر عیاں ہو جا
خودی کا رازداں ہو جا، خدا کا ترجماں ہو جا
اقبال کے مطابق خودی انسان کو مظاہر پرستی اور مظاہر خوفی کی الجھنوں سے آزاد کرتی ہے۔ ایسا انسان اندھیرا اجالا، صبح و شام ہر دو متضاد عوامل اور کیفیات کو خاص زاویہ نظر سے دیکھتا ہے۔ وہ ایک ایسی کیفیت سے ہم کنار ہوتا ہے جہاں محدودیت کا تصور مٹ جاتا ہے اور انسان کے باطن کی آنکھ اسے ان عوامل سے روشناس کرواتی ہے جو بظاہر غیبی دنیاؤں کے راز معلوم ہوتے ہیں۔ خودی کی حفاظت کرنے والا مرد درویش نشیب و فراز کے ظاہری پیمانوں کو فراموش کر دیتا ہے۔ ”پیام مشرق“ کی ایک غزل میں اس کیفیت کو اقبال اس طرح بیان کرتے ہیں
ز مقام من چہ پرسی طلسم دل اسیرم
نہ نشیب من نشیبی نہ فراز فرازی
اقبال کے مطابق خودی من و تو سے پیدا بھی ہوتی ہے اور من و تو سے پاک بھی ہے۔ یہ اندھیرے اجالے میں ایک ہی طرح کی خصوصیات کی حامل ہوتی ہے۔ ”ساقی نامہ“ میں اقبال خودی کو اس طرح بیان کرتے ہیں
خودی جلوہ بدمست و خلوت پسند
سمندر ہے ایک بوند پانی میں بند
ازل سے ہے یہ کشمکش میں اسیر
ہوئی خاک آدم میں صورت پذیر
ازل اس کے پیچھے ازل سامنے
نہ حد اس کے پیچھے نہ حد سامنے
خودی کا نشیمن ترے دل میں ہے
فلک جس طرح آنکھ کے تل میں ہے
خودی کی پہچان کر لینے سے انسان غیرت مند اور ہوش دار رہتا ہے۔ یہ ایک ایسی دولت ہے کہ دو جہاں کا سرمایہ بھی اس کا مول نہیں چکا سکتا۔ اسی لیے اقبال فرماتے ہیں
خودی کو نہ دے سیم و زر کے عوض
نہیں شعلہ دیتے شرر کے عوض
مرا طریق امیری نہیں، غریبی ہے
خودی نہ بیچ، غریبی میں نام پیدا کر
خودی کی بلندی انسان کو روح کا رقص سکھاتی ہے۔ روح کا رقص سیکھنے کے بعد انسان کلیم اللّٰہی صفات سے مزین ہوجاتا ہے۔ وہ ضرب کلیمی کا حامل ہو جاتا ہے۔ ضرب کلیمی کی بدولت انسان غلامی میں پسے بندگان خدا کو آزادیاں دلا کر خدا سے ملاتا ہے۔ انہیں وقت کے فرعون کے ظلم سے نجات دلا کر راحتوں کے تازہ چشموں سے سیراب کرتا ہے۔ اس بارے میں اقبال فرماتے ہیں
ہزار چشمہ ترے سنگ راہ سے پھوٹے
خودی میں ڈوب کر ضرب کلیم پیدا کر
خودی کی بلندی ہی سے خاکی انسان کو نوری فرشتوں سے بلند تر مقام حاصل ہوتا ہے۔ خودی میں ڈوب کر انسان حیات ابدی حاصل کر لیتا ہے۔ وہ حیات و ممات کی حدود و قیود سے ہمیشہ کے لیے رہائی پا لیتا ہے اور ایک ایسی زندگی سے ہم کنار ہوتا ہے جس پر موت حرام ہوتی ہے۔ وہ حیات جاوداں کے ایک ایسے شیش محل میں داخل ہوتا ہے جہاں موت کا دور دور تک گزر نہیں ہوتا۔ خود نگر انسان ہی موت کو پچھاڑ سکتا ہے۔
ہو اگر خود نگر و خود گر و خود گیر خودی
یہ بھی ممکن ہے کہ تو موت سے بھی نہ مر سکے
فرشتہ موت کا چھوتا ہے گو بدن ترا
ترے وجود کے مرکز سے دور رہتا ہے
اپنی خودی کی حفاظت کرنے والے انسان کا ہر عمل خدا کی منشا کے مطابق ہوتا ہے۔ وہ وہی سوچتا ہے جو خدا کا ارادہ ہوتا ہے، وہ وہی عمل کرتا ہے جو خدا چاہتا ہے۔ اس کی تکبیر خدا کی آواز اور اس کا ہاتھ خدا کا ہاتھ ہوتا ہے۔
ہاتھ ہے اللہ کا بندہ مومن کا ہاتھ
غالب و کار آفرین، کارکشا، کارساز
خودی ہی کی بدولت انسان لوح و قلم کا مالک بن جاتا ہے اور اپنی تقدیر اپنے زور بازو سے لکھنے کا اہل ہوجاتا ہے۔ ہفت آسمان اس کے زیر تصرف آ جاتے ہیں۔ اسے کامل یقین کا گوہر آبدار میسر آ جاتا ہے۔ وہ ہر طرح کے مشکل حالات کا پانسہ پلٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ خودی کے جوہر ہی کی بدولت عشق، آتش نمرود میں بے خطر کود جاتا ہے۔ خودی ہی مرد مومن کا حسن و جمال ہے۔
خودی سے مرد خود آگاہ کا جمال و جلال
کہ یہ کتاب ہے باقی تمام تفسیریں
خودی کی تربیت اور مضبوطی میں اقبال کے نزدیک سب سے اہم اطاعت الہٰی اور ضبط نفس ہے۔ اپنے نفس کو قربان کرتے ہوئے اپنی ذات کو احکام الہٰی کا پابند بنا لینا خودی کی معراج ہے۔ اس کیفیت کو اقبال بے خودی کہتے ہیں۔ بے خودی اقبال کے نزدیک وجد یا جنون میں آ کر اپنی ذات سے بے نیاز ہونا نہیں ہے بلکہ احکام الہٰی کی پابندی اور بجا آوری میں کسی بھی قسم کے خوف سے نجات حاصل کر لینا، بے خودی ہے۔
اپنی ذات کہ نفی کرتے ہوئے خدا کے ہر حکم کو بلا چوں چرا مان لینا، بے خودی ہے۔
بے خودی کو اقبال ایک ایسی کیفیت بتاتے ہیں جہاں انسان اپنی انفرادیت برقرار رکھتے ہوئے اجتماعیت میں گھل مل جاتا ہے۔ ایسی صورت میں انسان ہر معاملے میں اپنی ذات کو مد نظر نہیں رکھتا بلکہ اس کے پیش نظر خدا اور اس کی مخلوق ہوتی ہے۔ ایسی کیفیت کو اقبال نہایت خوبصورتی سی بیان کرتے ہیں
عجب مزہ ہے مجھے لذت خودی دے کر
وہ چاہتے ہیں کہ میں اپنے آپ میں نہ رہوں
بے خودی اقبال کے نزدیک ایک ایسی وجدانی کیفیت ہے جہاں انسان ملت کے اجتماع میں کھو کر، ایک وجود کے طور پر خدا کے سامنے سجدہ ریز ہوتے ہیں۔ ہر فرد اپنا جوہر خودی ملت کی عمارت کی تعمیر میں صرف کرتا ہے۔ اس طرح اقبال کے ہاں فرد کی خودی کی اہمیت زیادہ ہے کیونکہ فرد کی خودی ہی سے ملت کی خودی کی تعمیر ہوتی ہے اور یہی کیفیت بے خودی ہے۔ جہاں ہر شخص اپنی شناخت ملت میں گم کر دیتا ہے۔ فرد کی خودی کی مضبوطی ہی سے ملت کے مقدر کا ستارہ چمک چمک اٹھتا ہے :
افراد کے ہاتھ میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارا
جب خودی، بے خودی سے ہم کنار ہوتی ہے اور ہر فرد جماعت کے رنگ میں رنگا جاتا ہے تو جماعت فرد واحد کے طور پر منزل کی جانب گامزن ہوتی ہے تب خدائے ذوالجلال کا سایہ جماعت پر قائم ہوتا ہے، افلاک تھرّا جاتے ہیں اور یہی انسان کی اصل معراج ہے۔
شراب بے خودی سے تا فلک پرواز ہے میری
اس اتحاد ہی کی بدولت ہی مرد خدا کی تکبیریں، خدا کی آواز بنتی ہیں
صف جنگاہ میں مردان خدا کی تکبیر
جوش کردار سے بنتی ہے خدا کی آواز
اقبال خودی کی معراج اسی میں جانتے ہیں کہ ہر فرد اپنی شناخت ملت کے سمندر میں گم کردے اور اس بے خودی کے عالم میں ملت کی ایک خودی ابھر کر سامنے آتی ہے، تنہا شخص کی خودی بیدار ہونے سے نہ انقلاب برپا ہو سکتا ہے اور نہ ہی رحمت خداوندی کا دست شفقت میسر آتا ہے۔ اس لیے اقبال فرماتے ہیں۔
فرد قائم ربط ملت سے ہے، تنہا کچھ نہیں
موج ہے دریا میں اور بیرون دریا کچھ نہیں


