پچیس ہڈیاں توڑنے والے جلاد پاکستانی باپ


dr tehreem javaid

دس سال کی عمر میں پچیس بار ہڈیاں ٹوٹ جائیں۔ سکول میں یہ بتانا پڑے کہ پین سے چوٹ لگ گئی تھی گر گئی تھی کیسا محسوس ہوتا ہے۔ ایک دس سال کی بچی کا ذہن کیا سوچتا ہے اس کے دل پہ گزرتی کیا ہے جب اس کی زندگی ایک ترقی یافتہ سماج میں رہتے ہوئے بھی ظلم کی اتھاہ گہرائیوں کو اس لیے چھو لیتی ہے کہ اس کے باپ کا تعلق ایک ایسے سماج سے ہے جو عورتوں کو بچیوں کو جانوروں جتنی اوقات دینے کو بھی تیار نہیں ہیں۔

کیا مانگتی ہو گی وہ بچی جس کے جواب میں اسے بے پناہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ سکول جانے کی خواہش کرتی ہو گی جو آخری سالوں میں اس کا بند کر دیا گیا تھا کیونکہ جو سکارف اس کے اوپر چڑھا کر بھیجا جاتا تھا وہ تشدد کو چھپانے میں ناکام ہو رہا تھا یا چاکلیٹ مانگ لیتی ہو گی۔ آخر ایک دس سال کی بچی کی کیا ہی خواہشات ہوتی ہوں گی۔ ایک پیار کرنے والے ماں باپ۔ گرم بستر۔ پیٹ بھر کر پسندیدہ کھانا۔ سکول۔ باہر گھومنا۔ اس سے زیادہ اس بیچاری نے کیا مانگا ہو گا۔ لیکن تشدد کے عادی باپ کو کوئی پنچنگ بیگ چاہیے تھا جس پہ وہ سارے دن کا غصہ نکال سکے۔

زندگی کے آخری ہفتوں میں سارہ کو صرف یہی علم تھا کہ اس کی کسی بھی غلطی پہ اسے بیٹ سے مارا جا سکتا ہے اسے ایک شخص پکڑ کر رکھے گا دوسرا اس کے جسم پہ استری لگائے گا۔ تیسرا اس کے جسم کو دانتوں سے کاٹے گا۔ اور کوئی زیادہ غصہ آ گیا تو گرم پانی اس پہ پھینک کر سزا دی جائے گی۔ یا اس کے سر پہ پلاسٹک بیگ چڑھا کر کسی تنگ کمرے باتھ روم میں بند کر دیا جائے گا۔ کیا ہے یہ اولاد کو سزا دینے کا پاگل پن جس سے ایشین اور خاص کر پاکستانی ماں باپ نجات حاصل کر ہی نہیں پاتے۔ چاہے کتنے ہی ترقی یافتہ ملک پہنچ جائیں۔ سارہ کے باپ عرفان نے خود باہر جا کر ایک ایسی عورت سے شادی کی جو دیسی نہیں تھی اس سے بچے بھی پیدا کیے لیکن سارا اخلاقیات کا زور اس بے چاری سارہ پہ تھا کہ وہ نا ہاتھ سے نکل جائے۔ عرفان شریف جیسے غلیظ آدمی سے اس بچی نے کتنا اور برا بن جانا تھا آخر اگر اسے استری سے جلایا نا جاتا اس کی ہڈیوں کا بیٹ سے مار مار کر سرمہ نا بنا دیا جاتا۔

کیا ابھی وقت نہیں آیا کہ یہ امریکہ برطانیہ جرمنی وغیرہ پاکستانی مردوں کی شادیوں سے پہلے کوئی قانون بنا دیں جس میں ان کی ذہنی حالت کو جانچا جا سکے کہ وہ اولاد پالنے کے اہل بھی ہیں یا نہیں۔ پاکستان میں ہمیں کوئی مسئلہ نہیں پاکستانی عورتوں کے سر کاٹ کر تیزاب میں ڈالو یا جلا دو نا حکومت کو فکر ہے نا ماں باپ کو۔ یہ عرفان بھی تو بھاگ کر پناہ لینے اپنے اس عظیم ملک میں آیا تھا۔ یہ تو ان گمراہ ہوئے گوروں کے دماغ میں کوئی فتور ہے۔ کیا تھا اگر بچی پچیس ہڈیاں ٹوٹنے سے مر ہی گئی اور بچے پیدا کرلیتے۔ ہمارے ہدایت الرحمٰن صاحب نے بھی تو اے پی ایس میں مرنے والوں کی ماؤں سے کہا تھا بی بی نا رو اور بچے پیدا کر لو۔

عظیم ہیں وہ لوگ، وہ معاشرے جنہیں ایک دوسرے مذہب کی بچی کے مرنے کی بھی ویسی ہی تکلیف ہے ورنہ ادھر تو کرم میں پچاس بچے مر جائیں ایک ہی دن میں تو لوگ کہتے ہیں اچھا ہے یہ منحوس شیعہ مر گئے ہیں۔ یہاں تو باپ ایک دس سال کی بچی کو سکول سے ہٹا لیتا ہے تاکہ وہ اس کے پیدا کیے ہوئے اور تین بچے پال سکے۔ کیا یہ تاوان ہے جو اس بچی کو پیدا ہونے کے جرم میں بھرنا تھا۔

کچھ تو ہے جو اس عظیم خاندانی نظام اور کلچر میں زہریلا ہے اتنا زہریلا ہے کہ دنیا کے ہر خطے میں ہم اپنا زہر انڈیل کر آتے ہیں۔ اٹلی سپین آسٹریلیا کوئی بھی جگہ ہو۔ ہر جگہ ہم یہ بتاتے ہیں کہ عورتوں سے ہمیں کتنی نفرت ہے بس اسی عورت جس سے ہم بچے پیدا کرتے ہیں ورنہ پیدا کرنے والی عورت سے ہمیں پیار ہوتا ہے کیونکہ اسی پیدا کرنے والی نے ہی سارا زہر ہمارے اندر اتارا ہوتا ہے کہ پاکستانی شوہر چالیس چالیس سال بعد بھی اپنے بچوں کے پیدا کرنے والی کو دل سے جاہل کم عقل ہی سمجھتے ہیں۔ اور پاکستانی باپ بھی دیکھ لیں عرفان شریف کوئی پہلا باپ نہیں ہے جس نے برطانیہ میں بیٹی کو جان سے مارا ہے اس سے پہلے بھی یہ کارنامہ انجام دینے میں پاکستانی پیش پیش ہیں۔ لیکن عرفان کی درندگی اور سارا کی معصوم عمر میں اس پہ ڈھائے جانے والے مظالم اتنے ہولناک تھے کہ ہر سننے والا کانپ اٹھا۔

اگر آپ نے یہ کیس اور اس کی تفصیلات دیکھی پڑھی یا سنی ہیں تو خدا کے لیے آج کے بعد یہ نا کہیے گا کہ کوئی باپ ایسا نہیں کر سکتا کیونکہ عورت پہ تشدد کرنے والے اس کی جان لینے والے لوگ زیادہ تر اس کا باپ، بھائی، شوہر، بیٹا ہی ہوتے ہیں ہاں عظیم خاندانی نظام کا باجا بجانا ہے تو شوق سے بجائیں۔

Facebook Comments HS