عمران کی رہائی:ہنوز دلّی دور است؟
ٹرمپ کے مشیر رچرڈ گرنیل نے عمران خان کی رہائی کے لئے ٹویٹ اور ری ٹویٹ کیا اور اس پر انصافی احباب جس طرح سوشل میڈیا پر خوشی کا اظہار کر رہے ہیں اس پر مرزا غالب کا یہ شعر صادق آتا ہے۔
بنا ہے شہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتا
وگرنہ شہر میں غالب کی آبرو کیا ہے
ایک طرف تحریک انصاف اور حکومت کے درمیان مذاکرات ہو رہے ہیں تو دوسری جانب رچرڈ گرنیل کی مہم ہے۔ مذاکرات کا پہلا نقطہ اور رچرڈ گرنیل کی مہم کا مقصد ایک، یعنی بانی کی رہائی ہے۔ ساتھ سول نافرمانی بھی جاری ہے جس میں اوور سیز پاکستانیوں سے زر مبادلہ نہ بھیجنے کی اپیل کی گئی ہے۔ حکومت کی معاشی میدان میں کارکردگی بھی تحریک انصاف کے لیے پریشانی کا باعث ہے۔ وہ سمجھتی ہے کہ اگر حکومت کو مزید وقت مل گیا تو کارکردگی کا بیانیہ زندہ ہونا ان کے تمام بیانیوں کے لیے زہر قاتل ثابت ہو گا۔
رچرڈ گرنیل نے ٹویٹس کے بعد ایک انٹرویو میں بھی، بانی تحریک کی رہائی کا دوبارہ مطالبہ کیا ہے۔ لیکن اس انٹرویو کا پہلا سوال بانی کی رہائی کے بجائے امریکا کی جانب سے پاکستانی میزائل پروگرام میں تعاون کرنے والی چار کمپنیوں پر پابندی کے حوالے سے تھا۔ جس پر رچرڈ گرنیل نے کہا کہ نئے سیکرٹری خارجہ پاکستان کے میزائل پروگرام پر مزید اقدامات کی تیاری کر رہے ہیں۔ اس انٹرویو میں بانی کی رہائی کا ضمنی سوال تھا لیکن پاکستان میں وہ مرکزی نقطہ بن گیا۔
لگتا ہے کہ پاکستان کے میزائل پروگرام پر ٹرمپ انتظامیہ میں مزید سختیاں آئیں گی۔ جس کے لیے شاید اب ریاست پاکستان تیار بھی ہے۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ امریکا نے جن کمپنیوں پر پابندیاں لگائی ہیں، بانی تحریک انصاف نے مذمت کے بجائے خاموشی اختیار کر رکھی ہے کیونکہ وہ امریکا کو ناراض کرنے کے متحمل نہیں ہوسکتے۔
امریکا میں مقیم حسین حقانی کے بقول انھیں، نہیں لگتا کہ رچرڈ گرنیل کے انٹرویو اور ٹویٹس بانی کی رہائی کروا سکتے ہیں۔ امریکی کانگریس کے ارکان، برطانوی اور کینیڈا کے پارلیمنٹیرینز نے بھی عمران خان کے لئے آواز بلند کی ہے۔ یہ سب کچھ اس عمران خان کے لیے ہو رہا ہے جنھوں نے ایک کاغذ کو سائفر کہہ کر لہراتے ہوئے امریکہ کے بارے میں ”ایپسیلوٹلی ناٹ“ اور ”ہم کوئی غلام ہیں“ کا نعرہ لگایا اور پھر اس پر ایک عرصے تک سیاست چمکائی، لیکن اب اس کے برعکس نئی خبر آئی ہے ”ٹرمپ ہمارا بھائی ہے“ صدارتی الیکشن میں ٹرمپ کے لئے تحریک انصاف کے سوشل میڈیا پر باقاعدہ مہم چلائی گئی اور ان کے جیتنے پر شادیانے بجائے گئے اور اب بڑے وثوق سے کہا جا رہا ہے کہ ٹرمپ کے حلف اٹھانے کے اگلے دن بانی پی ٹی آئی رہا ہو جائیں گے لیکن یہ کیسے ہو گا یہ فی الوقت سمجھ سے بالاتر ہے۔ کہنے والے کہہ رہے ہیں کہ ”ہنوز دلّی دور است“ یعنی فی الفور رہائی ممکن نہیں۔
تحریک انصاف اپنے سوشل میڈیا کی یرغمال ہے بانی کا ٹویٹر اکاؤنٹ بھی امریکہ سے کنٹرول ہوتا ہے اور اس پر ایک سے زائد بار ملکی مفاد کے منافی ٹویٹس کیے گئے لیکن بانی نے ان سے کبھی لا تعلقی کا اظہار نہیں کیا، اس لیے اس صورتحال میں بظاہر نہیں لگتا کہ ٹرمپ کے آنے پر بانی کی مشکلات میں کوئی کمی ہوگی۔ اب رہی دباؤ کی بات تو ماضی میں دباؤ کے باوجود پاکستان نے سلالہ چیک پوسٹ پر نیٹو حملے کے بعد چھ ماہ تک نیٹو سپلائی بند رکھی اور شکیل آفریدی جن پر سی آئی اے کے لئے اسامہ بن لادن کی مخبری کا الزام تھا انھیں بھی دباؤ کے باوجود نہ تو ان کی امریکہ کو حوالگی ہوئی اور نہ انہیں رہا کیا گیا۔
البتہ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ 9 مئی کے ملزموں کو فوجی عدالت سے سزائیں ملنے کے بعد یورپی یونین نے فوجی عدالتوں کے فیصلوں کو شہری اور سیاسی حقوق کے بین الاقوامی معاہدے (ICCPR) سے متصادم قرار دیا ہے اور یورپی یونین کی جنرلائزڈ سکیم آف پریفرنسز پلس (GSP+) کے تحت پاکستان سمیت استفادہ کرنے والے ممالک نے رضاکارانہ طور پر 27 بین الاقوامی بنیادی کنوینشنز بشمولICCPR کے موثر طریقے سے نفاذ پر رضا مندی ظاہر کی ہے تاکہ جی ایس پی پلس اسٹیٹس سے مستفید ہوتے رہیں۔
یورپی یونین کا انتباہ سنجیدگی کا متقاضی ہے کیونکہ یورپی یونین کے لیے سالانہ 9 ارب ڈالر کی برآمدات پاکستانی زرمبادلہ کے لئے ایک خطیر رقم ہے۔ حکومت کو فی الفور سفارت کاری کے محاذ پر متحرک ہو کر یورپی یونین کو اصل حقیقت سے آگاہ کرنا چاہیے کہ کس طرح 9 مئی کو ملک اور خصوصاً افواج پاکستان کے خلاف سازش کی گئی تا کہ جی ایس پی پلس کا سٹیٹس قائم رہے اور پاکستانی معیشت کو دیوالیہ کرنے کی سازش ناکام ہو۔
رِچرڈ گرینل کے ٹویٹس پڑھیں تو وہ عمران خان پر لگنے والے کرپشن کے الزامات کو سیاسی انتقام سے تعبیر کر رہے ہیں۔ امریکی پاکستانی سیاستدانوں کو ملنے والی سزاؤں کو ہمیشہ سیاسی انتقام ہی سمجھتے آئے ہیں۔ رچرڈ گرینل عمران خان کو بھی ایک سیاسی قیدی سمجھتے ہیں جنہیں فوراً رہا کیا جانا چاہیے۔ امریکی، عمران خان سے پہلے نواز شریف ’بینظیر بھٹو‘ آصف زرداری اور دیگر کو بھی سیاسی قیدی کا درجہ دیتے رہے ہیں۔ جب نواز شریف کو پرویز مشرف نے قید کیا تھا تو بل کلنٹن نے نواز شریف کو ملک سے باہر بھجوانے میں مرکزی کردار ادا کیا تھا۔
2006 ء اور 2007 ء میں بینظیر بھٹو اور جنرل مشرف کے درمیان دبئی میں خفیہ مذاکرات کے پیچھے امریکی سیکرٹری خارجہ کونڈولیزا رائس تھیں۔ تب امریکہ نے بینظیر بھٹو کو این آر آؤ دلایا۔ آصف زرداری نے ساٹھ ملین ڈالرز کی منی لانڈرنگ کی جس پر نواز شریف نے اپنے دوسرے دورِ حکومت میں باقاعدہ سوئس حکومت کو خط لکھا تھا کہ یہ ساٹھ ملین ڈالرز ’عوام کے ہیں یہ پاکستانی حکومت کو واپس کیے جائیں۔ یہ خط موجودہ وفاقی وزیرخزانہ محمد اورنگزیب کے والد اٹارنی جنرل محمد فاروق نے لکھا تھا۔
بینظیر بھٹو اس مقدمے سے خوفزدہ تھیں کیونکہ ان کے ریڈ وارنٹ بھی نکل چکے تھے۔ یوں امریکیوں نے این آر او کے ذریعے بینظیر بھٹو اور زرداری کے مقدمات ختم کرائے کیونکہ وہ انہیں سیاسی مقدمات سمجھتے تھے نہ کہ کرپشن۔ امریکی عہدیدار عمران خان پر قائم مقدمات کو بھی سیاسی انتقام سمجھتے ہیں۔ ان کے نزدیک عمران کا کسی پراپرٹی ٹائیکون سے عطیات کے نام پر 400 کنال زمین، بیس‘ تیس کروڑ روپے نقد عطیہ ’ہیرے جواہرات کی انگوٹھیاں یا سعودیہ کے کروڑوں روپوں کے تحائف دبئی میں بیچ کر منافع کمانا سب سیاسی مقدمات ہیں۔
جس طرح نواز شریف‘ بینظیر بھٹو اور زرداری مظلوم تھے اور سیاسی انتظام کا نشانہ بنے ’اسی طرح اب عمران خان بھی سیاسی انتقام کا نشانہ بن رہے ہیں۔ امریکہ کا دوہرا معیار دیکھیں امریکی اپنے لیے جس لیڈر کا انتخاب کرتے ہیں اس کا معمولی سا جھوٹ بھی برداشت نہیں کرتے۔ کلنٹن کا کانگریس سے ٹرائل کرایا گیا اور ان کا ایک جھوٹ برداشت نہ کیا نہ ہی انہیں شک کا فائدہ دیا۔ لیکن وہ پاکستان کے ہر سیاسی حکمران کو لوٹ مار کے باوجود مظلوم سمجھتے ہیں اور شک کا فائدہ جو نواز شریف‘ بینظیر بھٹو، آصف زرداری کو دیا گیا وہ عمران خان کو دینے کے خواہاں ہیں۔


