تعصب اور جانبداری، انسانی ترقی کے دشمن
کیا ہم متعصب ہیں؟ آپ میں سے ہر شخص اس کا انکار کرے گا لیکن یہ جواب اتنا آسان نہیں ہے۔ تعصب اور جانبداری وہ ذہنی حالتیں ہیں جو انسانی شعور اور فکر کو محدود کر دیتی ہیں، یہ باہمی دشمنی کو فروغ دیتی ہیں اور دو طرفہ تفریق کی نظر میں افراد کو بانٹتی ہیں۔ یہ وہ رویے ہیں جو فرد کو حقیقت کی بجائے اپنی پسندیدہ یا موروثی رائے پر قائم رکھتے ہیں جسے لاجک میں confirmation bias کہتے ہیں۔ اگر ہم غور کریں تو تعصب ایک ایسا رویہ ہے جو نہ صرف معاشرتی بلکہ انفرادی ترقی کی راہ میں بھی رکاوٹ ہے۔
تعصب کا آغاز بچپن سے ہوتا ہے۔ جب والدین، اساتذہ، یا معاشرہ اپنے خیالات اور عقائد بچوں پر جبری مسلط کرتے ہیں تو وہ بے دھیانی میں ایک خاص قسم کی سوچ کو پروان چڑھاتے ہیں۔ بچے معصوم ہوتے ہیں ان کے پاس فکری سوچ سمجھ کی صلاحیت نہیں ہوتی، اور اس طرح ان کے نازک دل و دماغ میں تعصب اور جانبداری کا بیج بو دیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر، ایک بچہ جو ایک خاص مذہب یا فرقے میں پیدا ہوتا ہے، اسے ابتدا ہی سے سکھایا جاتا ہے کہ اس کا مذہب سب سے بہتر ہے اور باقی مذاہب یا فرقے کم تر ہیں۔
اس طرح کے خیالات بچے کے دماغ میں جڑ پکڑ لیتے ہیں، اور وہ آگے چل کر تعصب اور جانبداری کا شکار ہو جاتا ہے، نتیجتاً ’چھوٹی عمر میں کی جانے والے جبری تلقین اور تربیت دیر تک قائم رہتی ہے اور بچے طاقت کا مرکز رکھنے والے اداروں اور لوگوں پر سوالات نہیں اٹھاتے‘ (یورپین اکنامک ریویو تحقیقاتی آرٹیکل) ۔ تعصب انفرادی طور پر آپ کو آگے بڑھنے سے روکتا ہے اور آپ ہر شخص کو اپنے مخصوص زاویہ سے پرکھتے ہیں اور رائے قائم کرتے ہیں نتیجتاً آپ میل جول کیے بغیر یا موقف لئے بغیر ہی رائے قائم کر کے اپنے ہی اصولوں کے علمبردار بن جاتے ہیں اور ساری عمر ڈٹے رہتے ہیں۔ دانشمندی اپنے موروثی اصولوں پر ڈٹ جانے میں نہیں بلکہ ان کو ازسر نو جائزہ لے کر بدلنے میں ہے۔
تعصب کئی اقسام میں پایا جاتا ہے، جیسا کہ مذہبی تعصب جس میں ایک فرد اپنے مذہب اور فرقہ کو برتر سمجھتا ہے اور دوسرے مذاہب کے لوگوں کو کمتر سمجھتا ہے۔ ماضی میں یورپ میں فرقہ پرستی کے باعث کیتھولک اور پروٹسٹنٹ چرچ کے پیروکاروں کے درمیان شدید تفریق پائی جاتی تھی۔ موجودہ دور میں بھی لوگ عموماً اسی طرح کے رجحانات کا شکار ہیں۔ کیا صرف ایک مخصوص طبقے میں حادثاتی طور پر پیدا ہونے سے کسی کو یہ حق مل جاتا ہے کہ وہ دوسروں کے ساتھ امتیازی سلوک کرے؟
کیا یہ ممکن ہے کہ ہمارا تعصب ان عقائد کا نتیجہ ہو جو ماضی میں مختلف روایات اور مشقوں کے ذریعے ہمارے ذہنوں میں راسخ کر دیے گئے؟ اسی طرح وطن پرستی اور قوم پرستی کے نام پر دوسرے ممالک اور ان کے شہریوں کو دشمن یا غیر مہذب سمجھا جاتا ہے۔ دو لوگوں کو جو الگ ملک میں پلے بڑھے ہوں، صرف اپنے نظریات کی خاطر جنگ کرنے سے گریز نہیں کریں گے۔ دنیا بھر میں انہیں بنیادوں پر صدیوں سے جنگیں ہوتی رہی ہیں۔ فرض کریں کہ دو حقیقی بہن بھائیوں کی پیدائش دو مختلف ممالک میں ہو جائے، تو کیا یہ ممکن ہے کہ وہ ایک دوسرے سے اختلاف کریں؟
کیا مسائل کا حل تلاش کرنا ناممکن ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ دونوں فریقین کے درمیان اتفاق اور ہم آہنگی کی راہ میں تعصب کی دیوار حائل ہے، جو باہمی بداعتمادی کو جنم دیتی ہے۔ اگر اس تعصب کو ختم کیا جائے تو مسائل کے حل اور تعلقات کی بہتری کے امکانات روشن ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح لسانی اور نسلی تعصب میں مبتلا شخص جو اپنی زبان یا نسل کو برتر قرار دیتا ہے اور دوسری زبانوں یا نسلوں کو کم تر سمجھتا ہے، یہ بھی تعصب کی ایک شکل ہے۔
جیسے کہ میں نے پہلے سوال کیا کہ کیا محض حادثاتی طور پر کسی مخصوص طبقے، نسل، مذہب یا ذات میں پیدا ہونے سے کسی فرد کو یہ حق حاصل ہو سکتا ہے کہ وہ خود کو دوسروں سے برتر سمجھے؟ پیدائش کا یہ اتفاق نہ تو کسی کی ذاتی صلاحیت کا عکاس ہے اور نہ ہی اس سے برتری یا کمتر ہونے کا کوئی جواز فراہم ہوتا ہے۔ انسانیت کی قدر و منزلت اخلاقی اقدار، کردار، اور دوسروں کے ساتھ مساوی رویے میں پوشیدہ ہے، نہ کہ پیدائشی تفریق میں، یا برتری میں جو چاہے کسی بھی شکل میں ظاہر ہو۔
تعصب کی وجہ سے انسان دوسروں کی خوبیاں دیکھنے سے محروم ہو جاتا ہے۔ مثال کے طور پر، اگر ایک شخص ایک خاص سیاسی جماعت سے تعلق رکھتا ہے، تو وہ دوسری جماعتوں کی اچھی پالیسیوں کو تسلیم نہیں کرے گا، چاہے وہ معاشرے کے لیے کتنی ہی فائدہ مند کیوں نہ ہوں۔ امریکی سیاست میں لوگ صرف اس بنیاد پر ہی ایک مخصوص جماعت کو ووٹ دیتے ہیں چونکہ ان کے باپ دادا نے اسی مخصوص جماعت کو سپورٹ کیا ہوتا ہے۔ اسی طرح، تعصب معاشرتی امن کو نقصان پہنچاتا ہے۔
مذہبی تعصب کی مثال لے لیں، فرقہ ورانہ فسادات اکثر اسی ذہنیت کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ جانبداری رویہ تعصب کا عملی اظہار ہے، جس میں انسان فیصلہ یا رائے دیتے وقت انصاف کے تقاضے پورے نہیں کرتا۔ مثال کے طور پر، ایک استاد اگر اپنے پسندیدہ طالب علم کو زیادہ نمبر دے اور دوسرے طالب علم کو کم، تو یہ جانبداری ہے۔ اسی طرح، نوکری کے انٹرویوز میں اکثر امیدواروں کو ان کے تعلقات یا سفارش کی بنیاد پر منتخب کیا جاتا ہے، نہ کہ ان کی قابلیت پر۔ تعصب سے چھٹکارا پانے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے دماغ کو کھلا رکھیں اور ہر نقطہ نظر کو سمجھنے کی کوشش کریں۔
تعصب کی بنیاد ایک مخصوص سماجی، سیاسی اور مذہبی ڈھانچے میں ہوتی ہے، جس میں تقریباً تمام افراد جکڑے ہوئے ہیں۔ یہ ڈھانچہ افراد کی سوچ، طرز عمل اور تعلقات پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے، جس کی وجہ سے اکثر لوگ اس سے باہر نکلنے میں کامیاب نہیں ہو پاتے۔ اس ڈھانچے کی قوت اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ انسانوں کو اس میں جکڑ کر رکھنے کے لئے مختلف رویے، روایات اور نظریات تخلیق کیے جاتے ہیں، جو تعصب اور امتیاز کو فروغ دیتے ہیں اور افراد کی آزادی اور سوچ کو محدود کر دیتے ہیں۔
تعصب کو ختم کرنے میں تعلیم کا کردار اہم ہے، خاص طور پر ایسی تعلیم جو تنقیدی سوچ کو فروغ دے۔ اسی طرح مختلف قوموں، مذاہب، اور ثقافتوں کے لوگوں سے بات چیت تعصب کو ختم کرنے میں مددگار ہو سکتی ہے۔ اگر ہر فرد اپنے خیالات اور اعمال کا جائزہ لے کہ آیا وہ تعصب کا شکار تو نہیں ہو رہا تو بہت حد تک اسے قابو کیا جاسکتا ہے۔ یہ تعصب اور جانبداری انسانی ترقی کے دشمن ہیں۔ یہ وہ زنجیریں ہیں جو نہ صرف ہمارے دماغ کو قید کرتی ہیں بلکہ معاشرے میں نفرت اور اختلافات کو جنم دیتی ہیں۔ اگر ہم ان رویوں کو ختم کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں کھلے دل و دماغ کے ساتھ سوچنا اور عمل کرنا ہو گا تاکہ ہم ایک متوازن اور انصاف پسند معاشرہ تشکیل دے سکیں۔ اس متعلق ہمیشہ دو پہلو اور متوازن رویہ سے ان لوگوں کو بھی سنیں اور جانیں جن سے آپ تعصب رکھ رہے ہیں۔


