ڈاکٹر جل ٹیلر کی سٹروک کی کہانی۔ دوسری قسط
ہسپتال میں علاج
ڈاکٹروں نے میری تشخیص کے بعد مجھے میساچیوسٹ جنرل ہسپتال بھیج دیا۔
اس ہسپتال کی تیز روشنی سے میری آنکھیں چندھیا گئیں۔
مجھ سے بہت سے سوال کیے گئے جو مجھے سمجھ نہ آئے اس لیے میں ان کا جواب نہ دے سکی
جی چاہتا تھا کہ نرسوں اور ڈاکٹروں سے کہوں کہ آہستہ آہستہ بات کرو اور لفظوں کو چبا چبا کر بیان کرو تا کہ میں کچھ سمجھ سکوں۔
جب میں حد سے زیادہ پریشان ہو گئی تو دل نے کہا کہ سب سے کہہ دوں
مجھے اکیلا چھوڑ دو
لیکن میں کوشش کے باوجود کچھ نہ کہہ سکی۔
میرے سر میں پھر درد شروع ہو گیا۔
میرے کئی ٹیسٹ ہوئے جن میں سی ٹی سکین بھی تھا۔
میرا دھیرے دھیرے باہر کی دنیا سے رشتہ منقطع ہوتا گیا اور میں اندر کی دنیا کی باسی بن گئی۔
میں پہلے کیا تھی
میں اب کیا ہوں
سینتیس برس سے میں جس کو جل ٹیلر سمجھتی آئی تھی وہ اس دن فوت ہو گئی تھی کیونکہ سٹروک کی وجہ سے وہ ایک شدید ذہنی اور دماغی بحران کا شکار ہو گئی تھی۔
اس دن میرا جسم میرا ذہن میری شناخت سب بدل گئے تھے۔ میرے جسم کی حدود مٹ گئی تھیں
میری ذات اور کائنات کے درمیان حدود ختم ہو گئی تھیں فاصلے مٹ گئے تھے۔
میں ایک ٹھوس سے ایک سیال بن گئی تھی
اور یہ سب میرے بائیں دماغ کے سٹروک کا کرشمہ تھا۔
میں زندہ تو تھی لیکن اپنی زندگی میں ہی حقیقی دنیا سے کٹ کر کسی خیالی دنیا میں پہنچ گئی تھی اور المیہ یہ تھا کہ میں بات بھی نہیں کر سکتی تھی اور کسی کو اپنے خیالی دنیا کے بارے میں بتا بھی نہیں سکتی تھی۔
میں محسوس تو کر سکتی تھی لیکن اپنے احساسات کو الفاظ کا جامہ نہیں پہنا سکتی تھی۔
مجھے یوں محسوس ہوا جیسے میرے اندر اور باہر ہر چیز کی رفتار میں کمی آ گئی ہو۔ وقت کچھوے کی طرح سست رو ہو گیا ہو۔
میں چند گھنٹوں میں دوسروں کے لیے ہی نہیں اپنے لیے بھی ایک عجوبہ بن گئی تھی۔
میں زندہ تھی یہ بھی
ایک کرامت تھی
ایک معجزہ تھا
ایک معمہ تھا
ایک بجھارت تھی۔
میں کچھ کہہ تو نہ سکتی تھی لیکن پھر بھی بہت کچھ سمجھ سکتی تھی کیونکہ میں بیہوش نہ تھی۔ میں بہت سی چیزوں سے آگاہ تھی لیکن وہ آگاہی عام انسان کی آگاہی سے بہت مختلف تھی۔
چند ہی گھنٹوں میں
میری حقیقت کا تصور بدل گیا تھا
میری زندگی کا تصور بھی بدل گیا تھا
جب ڈاکٹروں کو یقین ہو گیا کہ میری جان کا خطرہ ٹل گیا ہے تو انہوں نے مجھے نیورولوجی کے انٹین سیو کیر وارڈ میں منتقل کر دیا۔
میری ذہنی حالت ایسی تھی کہ مجھے صرف اتنی خبر تھی کہ
میرے بستر کے دائیں جانب ایک اور مریضہ ہے
میرے پاؤں دروازے کی طرف ہیں اور
میرے بائیں جانب دیوار ہے
میری ذہنی کیفیت ایسی تھی کہ مجھے انسان انسان نہیں بلکہ توانائی کے ہیولے دکھائی دیتے تھے جو میرے کمرے میں آتے تھے اور پھر چلے جاتے تھے۔
میرا زبان سے رشتہ مکمل طور پر منقطع ہو چکا تھا
نہ میں الفاظ سمجھ سکتی تھی نہ بول سکتی تھی۔
جہاں میری بات چیت کرنے میں کمی آئی تھی وہیں میری دوسروں کے جذبات کو محسوس کرنے کی صلاحیت میں بڑھاوا آیا تھا۔ میں زیادہ ہمدرد ہو گئی تھی۔
میں کسی کی آواز سے سمجھ جاتی تھی کہ وہ دکھی ہے یا سکھی۔
جس چیز نے مجھے بہت پریشان کیا وہ مختلف ڈاکٹروں اور نرسوں کا بار بار آنا بار بار وہی سوال پوچھنا اور میرا امتحان لینا تھا۔ میں سوچتی یہ ایک دوسرے سے بات چیت کیوں نہیں کرتے۔
مجھے یہ بھی احساس ہو گیا کہ جو لوگ مجھ سے ملنے آتے ہیں وہ دو طرح کے ہیں
پہلی قسم ان لوگوں کی تھی جو مجھے توانائی دیتے تھے
دوسری قسم ان لوگوں کی تھی جو دینے کی بجائے مجھ سے توانائی لے جاتے تھے۔
بعض لوگ اونچا بولتے تھے۔
وہ یہ نہ سمجھتے تھے کہ میں بیمار ہوں بہری نہیں ہوں۔
پھر مجھ سے ملنے نوجوان طالب علم ڈاکٹر ڈیوڈ گریر آئے۔ انہوں نے بڑی نرمی سے مجھ سے باتیں کیں اور مجھ سے ہمدردی کا اظہار کیا۔ انہوں نے مجھے دھیمے سے چھوا اور تسلی دی۔ مجھے ایک ملاقات سے ہی اندازہ ہو گیا کہ وہ بڑے ہو کر اچھے ڈاکٹر بنیں گے۔ وہ مجھ سے احترام سے پیش آتے تھے اور میں ان کی موجودگی میں محفوظ محسوس کرتی تھی۔
میرے سٹروک کے بعد جو تبدیلی سب سے زیادہ نمایاں تھی وہ میرے ذہن میں خاموشی اور سوچنے کا انداز تھا۔ یہ نہیں کہ میں سوچ نہیں سکتی تھی لیکن وہ سوچ سٹروک سے پہلے کی سوچ سے بہت مختلف تھی۔
سٹروک سے پہلے میں بائیں دماغ کے لفظوں سے سوچتی تھی
سٹروک کے بعد میں دائیں دماغ کی تصویروں سے سوچنے لگی۔
میرے لیے الفاظ بھی اجنبی ہو گئے اور ان کے آپس کے رشتے بھی غیر مانوس
جب مجھ سے ایک ڈاکٹر نے پوچھا کہ
امریکہ کا صدر کون ہے؟
تو پہلے میں سوچتی رہی کہ صدر کے کیا معنی ہیں
پھر سوچتی رہی کہ امریکہ کے کیا معنی ہیں
میں ان دونوں لفظوں کا نہ تو رشتہ جوڑ سکی اور نہ ان کا تعلق صدر بل کلنٹن سے جوڑ سکی۔
میری توانائی بھی کم ہو گئی تھی اور میں جلد تھک جاتی تھی اور آنکھیں بند کر کے سو جانا چاہتی تھی۔
شام کو سٹیو آیا اور ان نے بتایا کہ اس نے میری والدہ گلیڈس گلمین کو فون کیا تھا اور وہ بوسٹن آنے کا سوچ رہی ہیں۔
بعد میں مجھے پتہ چلا کہ اس دن میری بوس فرانسین نے بھی میری والدہ سے بات کی اور درخواست کی کہ وہ ایک طویل عرصے کے لیے آئیں اور میرا خیال رکھیں۔
میری والدہ جو کئی برس میرے بھائی کا خیال رکھ چکی تھیں جو سکزوفرینیا کا مریض تھا۔ اب انہیں اپنی بیٹی کا خیال رکھنا تھا۔
سٹیو تو مجھے خبر دے کر چلا گیا لیکن میرا دماغ لفظ
ماں
کو نہ سمجھ سکا اور نہ ہی اس لفظ کا رشتہ گلیڈس سے جوڑ سکا۔
اب سوچتی ہوں تو احساس ہوتا ہے کہ بائیں دماغ کے ماؤف ہونے نے میرا اپنی ماں کے نام سے بھی رشتہ عارضی طور پر منقطع کر دیا تھا
میں اگلے دن جاگی تو میرے پاس ایک ڈاکٹر آئی جو جلدی میں تھی اور تیز تیز باتیں کر رہی تھی۔ مجھے اس سے مل کر بہت الجھن ہوئی۔
وہ ایسے اونچا بول رہی تھی جیسے میں بہری ہوں۔
مجھے اس کا رویہ اچھا نہ لگا۔ یوں لگتا تھا جیسے وہ کچھ لینے آئی ہو کچھ دینے نہ آئی ہو۔
اس تجربے کے بعد میں نے فیصلہ کیا کہ وہ نرسیں اور ڈاکٹر جو دھیمے لہجے میں بات کرتے ہیں اور میرا احترام کرتے ہیں میں ان کے ساتھ تعاون کروں گی اور جو کرخت لہجے میں بات کرتے ہیں ان کو نظر انداز کروں گی۔
اس دن میرے دماغ کا انجیو گرام بھی کیا گیا تا کہ ماہرین کو پتہ چل سکے کہ میرے دماغ میں کہاں سے کتنا خون بہا ہے۔
پھر مجھ سے ملنے ڈاکٹر این ینگ آئیں۔ وہ مجھے جانتی تھیں کیونکہ وہ میری رفیق کار رہ چکی تھیں اور میرے ساتھ چند میٹنگز میں شرکت بھی کر چکی تھیں۔ انہوں نے بڑی اپنائیت اور شفقت سے بات کی اور میرا حوصلہ بڑھایا۔ جب وہ چلی گئیں تو مجھے خوشی ہوئی کہ وہ میری نیورولوجسٹ تھیں۔
ہسپتال میں والدہ کی آمد
سٹروک کے تیسرے دن جب میری طبیعت قدرے بہتر ہوئی تو مجھے انٹینسیو کیئر یونٹ سے عام یونٹ میں ٹرانسفر کر دیا گیا۔ اب میں جس کمرے میں تھی اس کمرے میں ایک اور خاتون بھی تھی جو مرگی کی مریضہ تھی۔ اس کے سر پر بہت سے تاریں لگی ہوئی تھیں تا کہ اس کی دماغ کی مختلف کیفیات کا اندازہ لگایا جا سکے۔
اس دن میرے کمرے میں سٹیس اور فرانسین بھی آئے اور بہت سے ڈاکٹر بھی۔ کیونکہ میرے ٹیسٹ کے رزلٹ آئے تھے اور ڈاکٹروں نے فیصلہ کرنا تھا کہ میرے علاج کا اگلا قدم کیا ہو گا۔
پھر میری والدہ گلیڈس میرے کمرے میں آئیں اور وہ میرے بستر پر میرے ساتھ لیٹ گئیں اور مجھے اپنے بازوؤں میں لے لیا۔ مجھے ان کا مجھے گلے لگانا بہت اچھا لگا۔ اس وقت وہ یونیورسٹی کی پروفیسر کو نہیں اپنی بیٹی کو گلے لگا رہی تھیں۔
پھر میرے کمرے میں ڈاکٹر کرسٹوفر اوگلوی آئے جو نیورو سرجن تھے۔ انہوں نے سب کو بتایا کہ میرا بایاں دماغ خون سے لت پت ہے اس لیے آپریشن کی ضرورت ہے۔ ایسا آپریشن جس میں وہ سر کی ہڈی کو کاٹ کر اندر جائیں گا اور خون کے جمے ہوئے لوتھڑوں کو کاٹ باہر نکالیں گے۔ سب آپریشن کے حق میں تھے سوائے میرے۔
مجھے تو ان کی باتیں بھی پوری طرح سمجھ نہیں آ رہی تھیں۔ ڈاکٹر نے مجھ سے آپریشن کے حق میں دستخط کرنے کو کہا میں نے انکار کر دیا۔
مجھے بعد میں پتہ چلا کہ سب دوستوں اور ڈاکٹروں نے میری والدہ کی ذمہ داری لگائی کہ وہ مجھے آپریشن کے لیے رضامند کریں۔
ڈاکٹر اوگلوی نے سب کر بتایا تھا کہ اگر آپریشن نہ کیا گیا تو خطرہ ہے کہ دوسرا سٹروک ہو جائے جس میں شاید میری جان بھی نہ بچے۔
والدہ کے آنے سے مجھے بہت سکون ملا اور میں زیادہ سونے لگی اور آرام کرنے لگی۔
میں دو دن اور ہسپتال میں رہی پھر ڈاکٹروں نے مجھے میری والدہ کے ساتھ گھر بھیج دیا تا کہ وہ مجھے آپریشن کے لیے راضی کر سکیں۔
والدہ کہ لہجہ مشفقانہ تھا۔ وہ مجھے دھیرے دھیرے بتاتیں کہ اگر میں نے آپریشن نہ کروایا تو میری جان خطرے میں ہوگی۔
دماغ کا آپریشن
جب میری والدہ نے مجھے قائل کر لیا تو ڈاکٹروں نے آپریشن کی تیاری شروع کر دی۔
سٹروک کے سترہ دن کے بعد ستائیس دسمبر انیس سو چھیانوے کو میرے دماغ کا آپریشن ہوا۔
سر کی ہڈیوں کو کاٹا گیا، نو انچ کا چیرا لگایا گیا اور جمے ہوئے خون کے لوتھڑوں کو نکالا گیا۔
آپریشن کافی طویل تھا۔
میری والدہ بڑے صبر سے انتظار کرتی رہیں اور میرے لیے دعا کرتی رہیں کہ آپریشن کامیاب ہو۔
جب آپریشن کے چند گھنٹوں کے بعد نرسوں نے میری والدہ کو مجھ سے ملنے کی اجازت دی تو انہوں نے کہا
کچھ بات کرو
جب میں نے سرگوشی کی تو وہ بہت خوش ہوئیں۔ انہیں دھڑکا لگا ہوا تھا کہ کہیں آپریشن کے بعد میں ہمیشہ کے لیے بالکل گونگی نہ ہو جاؤں۔
دوبارہ صحتیابی
کامیاب آپریشن کے بعد دھیرے دھیرے میں بہتر ہونے لگی۔
میری صحتیابی کا سفر طویل تھا
آٹھ دن
آٹھ ہفتے
آٹھ مہینے
آٹھ سال
مجھے پوری طرح صحتیاب ہونے میں پورے آٹھ سال لگے۔
صحتیابی کے بعد میں نے سٹروک کے حوالے سے جو مضامین لکھے اور جو انٹرویو دیے ان میں
اوپرا کا میگزین بھی شامل ہے
اور
امریکی سٹروک فاؤنڈیشن بھی
تا کہ عوام و خواص میں سٹروک کے بارے میں معلومات کو عام کیا جا سکے۔
میری کہانی پی بی ایس کے ٹیلی ویژن پر بھی نشر کی گئی اس کہانی کا نام
THE INFINITE MIND
رکھا گیا جو کوئی بھی دیکھ سکتا ہے اور سن بھی سکتا ہے
اور اب میں اپنی کہانی اس کتاب
MY STROKE OF INSIGHT
میں آپ کے سامنے پیش کر رہی ہوں۔


