اسموگ اللّٰہ کا عذاب ہے، قاری حنیف جالندھری کا انکشاف


جیسے ہی سردیوں کی آمد کا بگل بجتا ہے اسموگ ساری فضا کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے، جب تک بارشیں وغیرہ نہیں ہوتیں یہ فضا کو گھیرے رکھتی ہے۔

جس کی وجہ سے آشوب چشم اور سانس کی بیماریاں بڑھنے لگتی ہیں، ظاہر ہے کلائمیٹ چینج کے مظاہر دنیا بھر موجود ہوتے ہیں اور متفکر اقوام اس سے نپٹنے کا چارہ بھی کر رہے ہیں۔

سازشی تھیوریاں گھڑنا پست خوردہ ذہنیت کا طرہ امتیاز ہوا کرتا ہے، ہر معاملے میں سے ایک پراسرار قسم کی پہیلی گھڑنے میں بھلا کوئی پیسے یا دماغ تھوڑا خرچ ہوتا ہے اور اس ٹیلنٹ میں ہم ایسا مہان دنیا بھر میں نہیں ملے گا۔

دنیا چیلنجز کی آماجگاہ ہے، شروع دن سے انسان ان خطرات سے جوجتا آ رہا ہے، فطرت کے پرخطر مظاہر کو مطیع یا زیر نگیں کرنے میں انسانی عقل و فہم کا خاصا عمل دخل ہے۔

روایتی اور غیر روایتی فکر کے درمیان یہ تنازعہ ہمیشہ سے موجود رہا ہے، روایتی فکر کا ماننا ہے کہ دنیا میں جو وبائیں پھوٹتی یا عذاب وغیرہ کا نزول ہوتا ہے اس کا سبب انسانی بد اعمالیاں ہوتی ہیں جبکہ غیر روایتی فکر کے نزدیک وباؤں یا عذاب کا تعلق انسانی بداعمالیوں سے نہیں بلکہ مظاہر فطرت کے خود کار نظام سے ہوتا ہے جو دنیا بھر میں یکساں اور اٹل ہوتے ہیں، مظاہر فطرت کے رازوں سے آ گاہی حاصل کر کے ان سے فائدہ یا نقصان تو حاصل کیا جا سکتا ہے لیکن دعا و مناجات سے چھٹکارا نہیں پایا جا سکتا، قانون فطرت جذبات و مناجات سے ماورا ہوتے ہیں۔

ظاہر ہے اپنے عصر سے آشنا اور نا آشنا ایک سے تو نہیں ہو سکتے نا، کچھ خود کو موجوں کے رحم و کرم پر چھوڑ کر دعا و مناجات کرتے ہوئے ڈوب جاتے ہیں اور کچھ موجوں کے پیچ و خم یا حرکیات کو سمجھ کر تدبیر کرتے ہیں اور انسانی زندگیوں کو بدل ڈالتے ہیں۔

بدقسمتی سے ہمارا تعلق پہلے والے گروہ سے ہے جو صارف تو ہو سکتے ہیں تخلیقی نہیں۔

طاقت اور مذہب کا شروع دن سے گٹھ جوڑ رہا ہے، طاقت ور کی طاقت کو سہ گنا کرنے میں صاحبان جبہ و دستار کبھی پیچھے نہیں ہٹتے، عقلوں کو مقفل کرنے میں مذہبی رہنماؤں کا کردار بڑا اہم ہوتا ہے۔

اسی لیے تو ان کو زیرنگیں اور ہم نوالہ و پیالہ رکھنے کے لیے خداوندان ریاست کچھ ریاستی عہدے تخلیق کرتے ہیں۔ اسلامی نظریاتی کونسل، محکمہ حج، رویت ہلال کمیٹی یا وزارتِ مذہبی امور ایسے عہدے اسی بندوبست کی واضح مثال ہیں۔

ان عہدوں کے عوض ریاست کو ایک مضبوط مذہبی تحفظ میسر ہو جاتا ہے، ان کی بد انتظامیوں، بد دیانتیوں یا طاقت کے غلط استعمال کو خدائی تحفظ مل جاتا ہے۔

جیسے ہی ملک میں حکومتی بد انتظامیوں کی وجہ سے عوام پر مشکلات کے پہاڑ ٹوٹنے لگتے ہیں تو معززین دین و مذہب ایک آرکیسٹرا کی مانند راگ الاپنے لگتے ہیں

”یہ سب ہماری بداعمالیوں کا نتیجہ ہے، قدرت کی ناراضگی کی وجہ سے ہم مسائل میں دھنستے چلے جا رہے ہیں، اس لیے دعا و استغفار و توبہ و مناجات کے لیے مساجد کا رخ کریں تاکہ یہ عذاب ہم پر سے ٹل سکے“

لوگ ڈر اور خوف کے مارے نذر و نیاز اور معافی تلافی میں لگ جاتے ہیں اور طاقت ور استحصالی حربوں میں مگن ہو کر اپنا ٹارگٹ پورا کر لیتے ہیں۔

ظاہر ہے کچھ بھی مستقل نہیں ہوتا کڑا وقت بھی گزر ہی جاتا ہے لیکن حکمرانوں کو پھر سے تازہ دم ہونے کا موقع مل جاتا ہے اور یہ موقع ان کو انہی علماء کی بدولت ملتا ہے جو ان کی خدمت پر مامور ہوتے ہیں۔

اب بھلا یہاں سوال کون کرے کہ یہ کیسی بارش ہے جو صرف غریبوں کے جھونپڑوں کو اڑا لے جاتی ہے جبکہ محلات کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔

یہ کیسا عذاب ہے جس کی لپیٹ میں صرف غریب و مسکین آتے ہیں امراء کا بال بھی بیکا نہیں ہوتا؟

کیا گناہ گار و خطا کار صرف غریب ہی ہوتے ہیں، حیرت نہیں کہ مساجد بھی غرباء کی وجہ سے آباد ہیں اور مسائل کا شکار بھی یہی ہیں؟

اگر انسانی اعمال ہی تباہی کا سبب بنتے ہیں تو مقدس جگہوں پر چھوٹے بچوں کا جنسی استحصال کرنے والے محفوظ کیوں رہتے ہیں ان پر کوئی عذاب نازل کیوں نہیں ہوتا؟

Facebook Comments HS