چوبیس دسمبر اور میرا مرحوم لختِ جگر
سورج سر مژگاں ہے اندھیرے نہیں جاتے
ایسے تو کبھی چھوڑ کے بیٹے نہیں جاتے
تو جانب صحرائے عدم چل دیا تنہا
بچے تو گلی میں بھی اکیلے نہیں جاتے
سات سال سات مہینے اور دو دن یہی مختصر قیام تھا جو میرے بیٹے عبدالہادی نے اس فانی جہاں میں گزارا، گھر اور سکول میں وہ ایک منفرد بچہ تھا۔ وہ بچہ نہیں وہ ایک بہت بڑا انساں تھا اُسے ہر کسی کا خیال رہتا تھا۔ وہ میرے دوستوں کا دوست میرے بھائیوں کا بھائی۔ میری بہن کا ایسا بھتیجا کہ اُسے فون پر پھپھو جانی کہتا تھا، دادا کا دل دادہ، دادی اور نانی کا ایسا دوست کہ ذرا سی تھکاوٹ میں اُن کے پاؤں دباتا اور ایسی بے تکلفانہ باتیں کہ انہیں اپنا بچپنا یاد آتا، ماموں کا وہ چاند۔
محلے کے دکان داروں اور اپنے حافظ صاحب سے مستی میں ہستی کی ایسی باتیں کہ وہ چالیس پچاس سالہ انسانوں جیسی سوچ اور فکر کا انسان لگتا تھا، اُسے ماں، باپ سے بے پناہ محبت تھی۔ ایک پل بھی اگر کوئی اُسے نظر نہ آتا تو گھر میں یہی ورد تھا ”بابا کب آئیں گے؟“ سکول میں جانا تو ٹیچر سے عجیب طرح کا انس اور اپنے کلاس فیلوز سے طرح طرح کے سوال اور ہنسی مذاق کی باتیں، گھر کوئی مہمان آ جائے تو عید الہادی کے قہقہے ہیں کہ سب خوش نہال ایسے کہ انہیں اور کسی سے گویا سروکار ہی نہیں۔
میں باز آ جاؤں تو میرے ساتھ، کسی تقریب میں جاؤں بھی ساتھ اور وہاں جا کر میرے دوستوں کے نام یاد کر لینا اور ان سے گھل مل جانا اُس کا شیوہ تھا میرے کولیگز کے ساتھ چھیڑ خوانی بھی اُس کا معمول تھی گھر کی سب چیزوں کا خیال اُسی کی ذمہ داری ہے وہ کسی کو کوئی چیز دے یا نہ دے بھلا کسی میں ہمت ہے جو اس سے کوئی زبردستی لے۔ ماں کے ساتھ سکول میں گیا تو سٹاف نے اگر کسی خاطر پیسے جمع کرنے چاہے تو عبد الہادی نے ماں سے پرس چھین لیا کہ میری ماں پیسے نہیں دے گی، سکول میں جاتا تو کتاب قلم۔ پنسل اور ربڑ بڑے سلیقے سے سنبھال کر رکھتا اگر کوئی چیز گم ہوتی تو رو رو کر آنسوؤں سے اپنا پورا چہرہ بھگو دیتا، اگر میں کبھی مایوس ہوتا تو مجھے خوش کرنے کے درجنوں بہانے ڈھونڈتا اور جب تک میری خوشی کا سامان نہ کر لیتا اُسے کبھی سکون نہ آتا یہ اُس کی سماجی اور گھریلو زندگی کا مختصر سا خاکہ جو میں نے آپ کے سامنے رکھا۔ بہر حال یہ ایک سردیوں کی رات تھی اُس نے آدھی رات کے درمیان قے کی، مگر بستر پر گرنے کے خوف سے شاید کچھ نگل لی ہمارے خیال میں اُس کی موت کا یہی بہانہ تھا۔
وہ بہت صاف ستھرا اور نفیس انسان تھا۔ کبھی کھانا اُس نے بغیر ہاتھ دھلے نہیں کھایا۔ اُس کے کپڑوں اور سکول بیگ کو میں نے ہمیشہ صاف پایا، ناخن ذرا بڑھے تو فوراً کاٹنے کا تقاضا کیا، شکل و صورت بھی خدا نے اُسے انسانوں جیسی اور رنگت بھی سفید اور گوری تھی جسم ایسا کہ نہلاتے ہوئے احساس ہوتا کہ ریشم ہی ریشم ہے۔ قصہ کوتاہ صبح کو اسے تکلیف محسوس ہوئی تو میں ایک مقامی ڈاکٹر کے پاس لے گیا اُس نے کچھ انجکشن لگائے اور دوا دی، رات کو گھر آنے میں مجھے دیر ہوئی تو ہادی نے فون کر کے آلو پراٹھا کھانے کی فرمائش ہمیشہ کی طرح کی، وہ بسا اوقات ایسی بازاری چیزیں مجھ سے منگواتا رہتا تھا، جس میں خاص کر برتھ ڈے کیک ہوتا اور وہ آئے روز سب کو اکٹھا کر کے اپنی برتھ ڈے مناتا شاید اُسے احساس تھا کہ میری جدائی والدین کو گراں نہ گزرے اور میں مختصر وقت میں انہیں زیادہ خوش کر سکوں، میں اُس کے لیے کھانا لایا تو اُس نے ہنستے ہوئے کھایا اور پھر رات کو دیر تک سوتا نہیں تھا، یہ کوئی عجیب اتفاق تھا کہ اُسے کچھ دنوں سے رات سے خوف آنے لگا تھا جب رات کو سب سوتے تو عبد الہادی مجھے کہتا بابا مجھے نیند نہیں آتی۔ تو میں اسے تسلی دیتا کہ بابا نیند تو مجھے بھی نہیں آتی، پھر وہ تھوڑی دیر خاموش لیٹا رہتا اور بالآخر اسے نیند آتی، وہ نیند میں دیگر بچوں سے یکسر مختلف تھا۔ وہ نیند میں بھی جس جگہ ہوتا، صبح تک وہیں آرام سے سوتا تھا، ساتھ سوتے ہوئے انسان کو نیند کی مکمل تسکین دیتا، ایسا بھی نہیں کہ کمبل اتارے یا نیند میں ٹوپی اتار پھینکے یا ساتھ ہونے والے سے دیگر بچوں کی طرح چمٹ جائے۔ اُس رات بڑی دیر تک وہ جاگتا رہا اور میں بھی اُس کے جاگنے کی وجہ سے دیر تک نہیں سویا۔
وہ ایک فرشتہ تھا اُسے معلوم ہو چکا تھا کہ میں اس گھر میں آخری رات کا مہمان ہوں۔ صبح کو جب وہ معمول کے مطابق نہیں جا جاگا تو مجھے تشویش ہوئی فوراً ملتان جانے کے ہے لیے اُسے جگایا ایک مقامی ڈاکٹر سے مشورہ کر کے ملتان روانہ ہوئے تو عبد الہادی نے موبائل پر کچھ وقت گیم بھی کھیلی اور اپنی ماں سے آخری جملہ یہی بولا کہ مما میری گیم ڈیلیٹ نہ کرنا اور پھر آنکھیں بند کر دیں، جب میں ملتان چلڈرن کمپلیکس کے ایمرجنسی وارڈ میں اسے اٹھائے بھاگ رہا تھا تو وہ میرے سینے سے سینہ ملائے ہوا تھا اسے شاید سانس لینے میں تنگی ہوئی، تو اس نے غصے سے میری پیٹھ پر آخری ناخن مارے جو اس کی آخری محبت کی جدائی کے تھے چلڈرن وارڈ ایک ڈیتھ وارڈ کی طرح تھا جہاں ہر لمحے ماں باپ اپنے کسی لخت جگر کی لاش اٹھاتے وہاں اکثر یہ ٹرینی ڈاکٹر جو اپنے اپنے موبائل فون پر منہمک، کوئی سینئر ڈاکٹر رات بھر نہ آیا، نرسیں انتہائی بے کار لہجے میں گفتگو کرتیں، حتی کہ جب میرا بیٹا فوت ہو گیا تو ایک نرس سے میں نے پٹی مانگی کہ میں اپنے معصوم کے پاؤں کی دروبست کروں مگر پھر بھی وہ لاپروا تھی۔
رات سخت سرد تھی مگر مجھے اکثر پسینہ آ رہا تھا۔ باہر جا کر تنہائی میں اللہ سے اس کی عمر درازی کی بھیک مانگی مگر میرے پیارے رب کو کچھ اور منظور تھا پس صبح تک وہ سب کچھ ہو گیا جس کا میں نے کبھی نہیں سوچا تھا۔ جب مؤذن نے ملتان کے کسی دور دراز علاقے میں تہجد کی اذان کے لیے اشھد ان کہا تو اُس نے ماں کی گود میں آخری ہچکی لی اور جنت سدھار گیا، تھوڑی دیر میرے لیے بہت ہی مشکل لمحہ تھا جو میں نے اس کے جسم کو جب اُٹھایا اور سٹریچر پر لٹانے لگا تو مجھے خیال آیا کہ میں تو باپ ہوں لیکن گرتے سنبھلتے میں نے اُس کی میت کو سُلا دیا
مرنے والوں کو کہاں دفن کیا
ہم انہیں ساتھ لیے پھرتے ہیں
اُس کے چہرے پر اب ایسا اطمینان تھا جو میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا کبھی کبھار مجھے یوں لگتا تھا کہ عبدالہادی مجھے ابو کہہ کر پکارے گا مگر اس کے بے جان جسم کو میں نے ایمبولینس کے اندر رکھا تو محسوس ہوتا تھا کہ وہ ایک گہری نیند سو رہا ہے، ظہر کی نماز کے بعد عبد الہادی کی نماز جنازہ کے لیے اس کے جسد خاکی کو اٹھایا گیا تو میں نے اپنے بیٹے کی میت کو کندھا دینے کی ٹھان لی، اپنے پرائے ایسے چہرے جو میں نے کسی مرنے والے کی میت پر اس چھوٹی سی بستی میں پہلی دفعہ دیکھے، اُسے سپرد خاک کر دیا گیا
پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا
میرا جی چاہتا تھا میں وہاں بہت دیر بیٹھوں مگر اک شام جدائی کی تھی کہ پلٹ آئی میں نے قبرستان سے روانگی کے وقت اپنے بیٹے کی قبر کا آخری منظر دیکھا تو پھولوں سے مزین، میری داری جان کے پہلو میں ایک اور قبر کا اضافہ ہو چکا تھا۔ قبر پر پھول اُس کے چہرے جیسے دور سے حسین لگ رہے تھے تو محسوس ہوا
کچھ پھول تو کھلتے ہیں فقط مزاروں کے لیے
اب دن ڈھل چکا تھا اور پرندے اپنے آشیانوں کو پلٹ رہے تھے اور بچے کھیل کود کر اپنے گھروں کو۔ اور ہم اللہ کی رضا پر راضی تھے اور راضی ہیں،
دن ڈھل رہا تھا جب اسے دفنا کے آئے تھے
سورج بھی تھا ملول زمین پر جھکا ہوا
ایک دن سکول نہیں جاتا تھا تو میں نے ڈانٹا تو اس نے کہا کہ ابو اس گھر کا میں بڑا ہوں اس گھر میں میری چلے گی، میں نے کہا نہیں میں گھر کا بڑا ہوں، پھر میں نے اسے زبردستی موٹر بائیک پر بٹھایا تو وہ رو رہا تھا اور میں اسے مسلسل ڈانٹ رہا تھا مگر سکول کے قریب پہنچے تو اس نے کہا بابا پلیز مجھے اب ڈانٹنا نہیں، میرے کلاس فیلوز دیکھیں گے پھر وہ ہنس پڑا اور اگلے لمحے مسکراتا لنچ باکس اٹھائے سکول کا گیٹ کراس کر رہا تھا، میری قسمت کہ اب اس گھر کا بڑا میں ہوں، جب آپ میرے بیٹے کا خاکہ پڑھیں گے تو میں اپنے بیٹے کی قبر پہ فاتحہ پڑھ رہا ہوں گا


