چند دن تاریخی روایات کی سرزمین ملتان میں ( 3 )
میں شاہ رکن عالم ؒکے مقبرہ کی عمارت سے باہر نکلا تو ملتان کی گرمی نے ایک بار پھر استقبال کیا۔ گوگل نے مجھے بتایا تھا کہ حضرت بہا الدین زکریا ؒکا مزار شاہ رکن عالم کے مقبرہ سے مشرق کی جانب پانچ منٹ کی مسافت پر ہے۔ میں مقبرہ کی عمارت سے باہر نکل کر مشرق کی جانب سڑک پر چلنے لگا۔ دھوپ کی تمازت کی وجہ سے مجھے پسینہ آنے لگا تھا۔ سڑک پر سو گز چلنے کے بعد میں نے دائیں جانب پنجاب پولیس کے دفتر کا بورڈ لگا ہوا دیکھا۔
مین گیٹ کے باہر ایک پولیس افسر کھڑا نظر آیا۔ میں نے اس سے بہا الدین زکریا کے مقبرے کا راستہ پوچھا۔ راستہ بتانے کی بجائے الٹا وہ پوچھنے لگا میں کہاں سے آیا ہوں۔ میں نے بتایا کہ میں آزاد کشمیر سے آیا ہوں۔ یہ سن کر ان کا رویہ بدل گیا اور مجھے انھوں نے دفتر کے اندر چلنے اور چائے پینے کی دعوت دے ڈالی۔ میں نے وقت کی کمی کی وجہ سے نرمی سے معذرت کی تو انھوں نے مزار تک راہ نمائی کے لیے اپنا ایک سپاہی میرے ساتھ بھیجنے کی پیش کش کر دی۔ میں جلدی میں تھا اس لئے پھر معذرت کی تو انھوں نے سڑک پر آ کر مجھے مزار کا راستہ بتایا۔ پانچ منٹ پیدل چلنے کے بعد سڑک کی دوسری جانب مجھے مقبرے کی عمارت نظر آ گئی۔
سڑک پار کر کے میں مقبرے کی حدود میں داخل ہوا۔ مقبرے کے بیرونی دروازے پر جوتے جمع کروانے کے بعد میں مزار کے صحن میں پہنچا۔ مزار کا داخلی دروازہ صحن کے دائیں جانب ایک بڑے سے برآمدے میں واقع ہے۔ بہا الدین زکریاؒ کے مزار کے داخلی دروازے کے باہر سفید سنگ مر مر سے بنا ہوا ایک چھوٹا سا احاطہ ہے جس میں ان کے خانوادہ کے مخدوم حسن بخش قریشی اور مخدوم مرید حسین قریشی کی سنگ مر مر سے بنی ہوئی قبریں ہیں۔ دونوں قبریں سبز چادروں سے سجی نظر آئیں۔ احاطہ کے دائیں طرف احاطہ پے جڑی ہوئی ایک چھوٹی سی سنگی قبر ہے۔ یہ قبر نواب مظفر خان سدوزئی کی ہے جو کبھی صوبہ ملتان کے گورنر تھے۔ قبر کے سرہانے پر رکن الدولہ صفدر جنگ حاجی نواب مظفر خان سدوزئی شہید کی تختی لگی ہے جس پر ان کی تاریخ وفات 2 جون 1818 درج ہے۔ تختی پر فارسی کی یہ رباعی بھی لکھی ہے۔
شجاع و ابن شجاع حاجی امیر ملتان زہے مظفر
بروز میدان بہ تیغ و بازو چہ حملہ آور دچوں غضنفر
چوں سرخرو شد بسوئے جنت بگفت رضوان بیا مظفر
نواب مظفر خان سدوزوئی گورنر ملتان ( 1757۔ 1818 )
نواب مظفر خان ملتان کے آخری افغان گورنر تھے۔ وہ ملتان میں 1757 ء میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد شجاع خان ملتان کے گورنر تھے۔ نواب مظفر خان نے بچپن میں ہی مذہبی تعلیم کے علاوہ انتظامی اور جنگی امور پر عبور حاصل کر لیا تھا۔ چھوٹی عمر میں ہی انھوں نے ریاستی امور میں حصہ لینا شروع کر دیا تھا۔ 1775 ء میں 18 سال کی عمر میں ان کے والد نے ان کی قیادت میں ایک مشن کابل بھیجا۔ مشن تو کامیابی سے ہمکنار نہ ہو سکا لیکن وہ افغان بادشاہ کی توجہ حاصل کر کے 5000 کا وظیفہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔
فروری 1775 ء میں جب گنڈا سنگھ نے شجاع آباد پر حملہ کیا تو انھوں نے ایک دستے کی قیادت کر کے بہادری سے شہر کا دفاع کیا۔ افغان بادشاہ تیمور شاہ نے 1780 ء میں 23 سال کی عمر میں انھیں نواب کا خطاب دے کر ملتان کا گورنر مقرر کر دیا۔ 1817 ء میں مہاراجہ رنجیت سنگھ نے اپنے بیٹے کھڑک سنگھ اور دیوان بھیوانی داس کو سپاہ سالار بنا کر نواب مظفر خان کو سکھ دربار کی حکمرانی قبول کرنے کا مطالبہ کر دیا۔ مہاراجہ نے ملتان کو فتح کرنے کے لیے فوج کے ساتھ زمزمہ نامی توپ بھیجی۔
نواب مظفر نے مسلمان آبادی کو اکٹھا ہو کر سکھوں سے جنگ کرنے کی ترغیب دی لیکن ان کی یہ حکمت عملی ناکام ہو گئی۔ جنگ میں دیوان چند کی سکھ فوجوں کو فتح ہوئی۔ 2 جون 1818 ء کو ملتان کا سکھ فوجوں نے زمزمہ توپ کی مدد سے قلعے کی دیوار توڑ کر ملتان قلعہ پر قبضہ کر لیا۔ نواب مظفر خان اپنے سات بیٹوں سمیت جنگ میں بہادری سے لڑتے ہوئے شہید ہو گئے۔ ملتان شہر سکھوں کے قبضے میں چلا گیا۔
مزار کے دروازے سے عمارت کے اندر داخل ہوں تو دائیں جانب حضرت بہا الدین محمد زکریا ؒکی قبر ہے جس کے بائیں جانب ان کے فرزند پیر صدرالدین عارف کی قبر ہے۔ مقبرے کی تعمیر میں چھوٹی لیکن پکی اینٹوں کا استعمال کیا گیا ہے۔ جب میں مزار کے اندر داخل ہوا تو یہاں بھی پہلے والی مشق دہرائی گئی۔ ایک پکی عمر کے متولی گلاب کے پھولوں کی بڑی سی پلیٹ لیے میری طرف لپکے۔ میں نے انکار میں سر ہلایا تو کہنے لگے صاحب! آپ جیسے مخیر عقیدت مندوں کی مدد سے ہماری روزی روٹی چلتی ہے۔
میں نے اسے کچھ روپے نکال کر دیے تو اوقاف کا ایک اہلکار میرے پاس آ گیا۔ کہنے لگا صاحب یہ لوگوں کو تنگ کرتے ہیں۔ میں نے اس سے کہا کوئی بات نہیں۔ مزار کے اندرونی اور بیرونی حصہ میں صفائی کا بڑا ناقص نظام نظر آیا۔ میں مزار کے اندر ایک کونے میں بیٹھ گیا اور اپنی آنکھیں بند کر لیں تو چشم تصور میں مجھے یہاں سکون ہی سکون نظر آیا۔
یہ حقیقت ہے کہ ہندوستان میں اسلام ان جیسے بزرگوں اور صوفیوں کی وجہ سے پھیلا۔ یہ بزرگ شریعت کے راستے پر چلتے تھے کی۔ ان کی زندگی عملی اسلام کا نمونہ تھی۔ وہ اللہ تعالی کی وحدانیت کو ماننے والے اور رسول اکرم کی سنت کی پیروی کرنے والے بزرگ تھے جن کا ظاہر اور باطن ایک جیسا تھا۔ حضرت شیخ بہا الدین محمد زکریا ؒبھی ایسے ہی بزرگ تھے۔
حضرت شیخ بہا الدین محمد زکریا ؒ
آپ ایک پنجابی سنی مسلمان عالم، صوفی بزرگ اور شاعر تھے۔ انھوں نے قرونِ وسطی کے جنوبی ایشیا میں بغداد کے سہروردیہ سلسلہ کی بنیاد رکھی اور اس کے سب سے با اثر روحانی پیشوا کہلائے۔ آپ کی پیدائش پر دو رائے ہیں کچھ آپ کی پیدائش کا سال 1161 ء اور کچھ 1182 ء مانتے ہیں۔ آپ کا خاندان ہاشمی نسب سے تھا اور ان کا سلسلہ بنو ہاشم کے اسعد بن ہاشم سے ملتا تھا۔ ان کے خاندان کا تعلق وسطی ایشیا کے علاقہ خوارزم سے تھا لیکن وہ ملتان کے نزدیک علاقے کوٹ کروڑ میں آباد ہوئے۔
دین کی ترویج کے لیے آپ نے 15 سال تک جنوبی ایشیا کے مختلف شہروں کا سفر کیا جس میں وہ ہزاروں کی تعداد میں غیر مسلموں کو دائرہ اسلام میں داخل ہونے پر راغب کیا۔ آپ 1222 ءمیں ملتان میں آباد ہو گئے۔ ملتان میں آباد ہونے کے بعد آپ نے یہاں کے حکمران ناصر الدین قباچہ کے جبر کے خلاف آواز اٹھائی اور 1228 ءمیں دہلی کے مملوک سلطان التمش کے ملتان پر حملے میں ان کا ساتھ دیا اور قباچہ کا تختہ الٹ دیا۔ التمش نے آپ کو شیخ الاسلام کے خطاب سے نوازا۔
شیخ الاسلام کے طور پر آپ ان راسخ العقیدہ مسلمانوں کو راضی کرنے میں کامیاب ہوئے جو لعل شہباز قلندر کی تعلیمات کی وجہ سے اسلام سے پراگندہ ہو گئے تھے۔ لعل شہباز قلندر، بابا فرید، سید جلال الدین بخاری کے ساتھ مل کر انھوں نے اپنی تعلیمات کا پرچار جنوبی ایشیا اور سندھ تک وسیع پیمانے پر پرچار کیا۔ ان کی تعلیمات کا سلسلہ شمالی ہندوستان کے علاقوں گجرات اور بنگال تک پھیل گیا جس سے ہزاروں ہندو اپنا مذہب چھوڑ کر دائرہ اسلام میں داخل ہوئے۔
آپ کا انتقال 1268 ء میں ہوا۔ آپ کا مقبرہ تعلق طرزِ تعمیر کا ایک نمونہ ہے۔ مقبرہ مربع شکل میں تعمیر کیا گیا تھا۔ جس کے اوپر ایک نصف کرہ دار گنبد ہے۔ 1848 ء میں انگریزوں کے ملتان کے محاصرے کے دوران یہ مقبرہ مکمل طور پر تباہ ہو گیا تھاجس کو بعد میں مسلمانوں نے دوبارہ تعمیر کیا۔ 1952 میں مزار میں روغن شدہ لکڑی سے مزار کی اندرونی چھت نصب کی گئی اور داخلی دروازے پر اینٹوں سے ایک وسیع برآمدہ تعمیر کیا گیا۔ اب اسی برآمدے سے مزار کے اندر داخل ہوتے ہیں۔
میں مزار کی عمارت سے باہر نکلا تو مشرق کی طرف سامنے بہت اونچی فصیل تھی۔ فصیل کے کونے میں لوہے کی سیڑھی دیوار کے ساتھ نصب تھی۔ فصیل کے اوپر ایک جھروکہ بنا ہوا تھا۔ میں اس جھروکے سے شہر کا نظارہ کرنا چاہتا تھا۔ اوقاف کے ملازم سے بات کی تو وہ کہنے لگا۔
” صاحب آپ اوپر چلے جائیں۔ لیکن ذرا احتیاط سے، چونکہ فصیل کے او پر خاردار تار لگی ہوئی ہے۔ “
میں نے جھروکے میں کھڑے ہو کر شہر کا نظارہ کیا۔ سموگ جیسی دھند کی وجہ سے دور تک دیکھنا ممکن نہیں تھا۔ میں سیڑھی سے نیچے اترا تو اوقاف کا ملازم پھر میرے پاس آ گیا اور بتانے لگا کو محکمہ والے صفائی نہیں کراتے۔ عملہ کم ہے کچھ بڑے صاحبوں کے گھر ڈیوٹی دیتا ہے۔ درباروں کی صحیح طریقہ سے صفائی نہیں ہوتی۔ مزار کی عمارت کے سامنے چھوٹی سی مسجد دکھائی دی جس کے ساتھ ایک مندر کی اجڑی ہوئی عمارت کے آثار نظر آئے۔ محکمہ اوقاف کا ملازم بتانے لگا کہ یہاں مندر تھا جو مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے بڑی خستہ حالت میں ہے۔ مجھے مندر اندر سے دیکھنے کی خواہش ہوئی لیکن وہ جس احاطہ میں تھا اس کے دروازہ بند تھا۔ میں مزار سے باہر آ گیا۔ جمعہ کا وقت قریب ہونے کی باوجود قاسم باغ میں مرد و خواتین کی کافی تعداد موجود تھی۔ میں نے قاسم باغ کے اندر ہی ایک چھوٹی سی مسجد میں جمعہ کی نماز ادا کی۔ تیس چالیس نمازی تھے۔


