مصنوعی اخلاقیات سے ڈیجیٹل اخلاقیات تک


احمد جاوید فرماتے ہیں کہ ”اخلاق“ بھی اکثر المناک بن جاتے ہیں۔ خوش اخلاقی بھی آپ کے لیے بوجھ بن جاتی ہے اگر اس کا مقصد، نظریہ اور محور درست نہ ہو۔ ”

مصنوعی اخلاقیات کی بات کی جائے تو ہمیشہ سے یہ ٹول اپنے کام نکلوانے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ لیکن اس دور میں جہاں ہر چیز اپنے آپ کو ”اپگریڈ“ کرنے میں جتی ہوئی ہے وہیں ادب، سلیقہ، اخلاق، شائستگی، تہذیب، تمیز، مذاق، حفظ مراتب، احترام، تعظیم اور زبان نے ڈیجیٹل پیراہن اوڑھ لیا ہے۔ ہم اکثر نہ چاہتے ہوئے مسکراتے ہیں، پاؤں پر پاؤں آ جائے تو ایک مخصوص انداز میں معاف کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اپنے آپ کو صابر ثابت کرنے میں مصروف بھی رہتے ہیں تاکہ ہمیں معاشرے میں کامیاب اور پسندیدہ شخصیات کی فہرست میں رکھا جائے۔

ایک اور عجیب سی کیفیت جو ہم پر طاری ہے وہ یہ ہے کہ ہماری حقیقت انسٹاگرام ایبل یا فیس بک ایبل رہ گئی ہے۔ وہ چیزیں جنہیں ہم سوشل میڈیا پر پوسٹ کرسکیں اسٹیٹس پر لگا سکیں ان چیزوں پر ہی فوکس رکھتے ہیں اور بہت سے ایسے لمحے جن میں پوسٹ کے علاوہ بہت کچھ تھا انہیں محسوس ہی نہیں کر پاتے۔ سوشل میڈیا کی لہر آنے سے پہلے تک ہم جن جگہوں پر کئی کئی گھنٹے بیٹھ کر محظوظ ہوتے تھے نئے نئے تجربات اپنے اندر جذب کرتے تھے اب وہاں سے صرف ایک تصویر لے کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔

سوشل میڈیا نے جہاں کئی احوال بدل دیے ہیں۔ وہاں کچھ مثبت تبدیلیاں بھی آئی ہیں۔ عام طور پر کسی محفل میں ”ہم عمروں“ میں ڈبییٹ ہوتی ہے۔ لیکن کم عمر بڑوں کے درمیان جو ڈبیٹ ہو رہی ہے ادب، لحاظ اور مروت کو ملحوظ رکھتے ہوئے اس میں اپنا حصہ نہیں ڈالتے۔ لیکن سوشل میڈیا نے اس ”ایس او پی“ کو بھی مکمل بدل کر رکھ دیا ہے یہ ایک خوشگوار تبدیلی ہے اس میں بڑے چھوٹوں کو اسپیس دیتے ہیں کمنٹ کو لائک کرتے ہیں جبکہ کسی محفل میں اگر بات کرتے ہوئے کسی بڑے کو ٹوک دیا جائے یا اس کی بات سے اختلاف کیا جائے تو اسے بدتمیزی شمار کیا جاتا ہے۔ البتہ سوشل میڈیا نے اس روایت کو کافی حد تک ختم کر دیا ہے۔

بلیک میرر کی قسط نوز ڈائیو جس میں مصنوعی اخلاقیات کو ڈیجیٹل اخلاقیات میں ڈھال کر کچھ سمجھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ضرور دیکھیں۔

Facebook Comments HS