دینی مدارس بل منظور، فارغ طلبہ کے لئے حکومت آسانیاں پیدا کرے
سوسائٹی ایکٹ رجسٹریشن بل منظور ہو گیا ہے دینی مدارس تنظیمات، وفاق المدارس اور جے یو آئی کی جانب سے یوم تشکر منایا جا رہا ہے۔ صدر زرداری کی جانب سے دینی مدارس سوسائٹی ایکٹ رجسٹریشن بل منظور ہونے کے بعد حکومت کی تعریف بھی کی جا رہی ہے۔ جبکہ اس بل منظور کرانے کا سہرا مولانا فضل الرحمٰن کو جاتا ہے۔ برصغیر میں جنگ آزادی سے پہلے بھی سندھ میں دینی مدارس قائم تھے۔ جس میں سرفہرست امروٹ شریف، پیر جھنڈہ، کھڈہ مدرسہ کراچی اور درگاہ پیر جو گوٹھ تھے، جو بعد میں درگاہوں میں تبدیل ہوئی لیکن اب بھی وہاں دینی مدارس موجود ہیں۔ جنگ آزادی 1857 ء کے بعد پاکستان میں دینی مدارس کی تعداد کے حوالے سے مختلف اندازے موجود ہیں۔ 8 سال قبل ایک رپورٹ کے مطابق، ملک میں مدارس کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، اور اس وقت تقریباً 40 ہزار سے 50 ہزار مدارس فعال ہیں۔ برطانیہ ہو یا امریکہ، یورپی یونین ممالک ہوں یا پڑوسی بھارت و دیگر ممالک میں بھی دینی مدارس کا نظام موجود ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق، برطانیہ کے 8 اسلامی مدارس کو ملک کے 20 بہترین تعلیمی اداروں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔
پاکستان میں ہر سال تقریباً 50,000 سے 70,000 طلبہ دینی مدارس سے فارغ التحصیل ہوتے ہیں۔ جو سرکاری اداروں، جابز، روزگار سے محروم ہوتے ہیں۔ ان کی گزر بسر مسجد مدرسے کے چند ہزار روپے یا اپنے چھوٹے کاروبار پر ہوتا ہے جس سے گزارہ مشکل ہوتا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ فارغ ہونے والے طلبہ کا سرکاری اداروں میں کوٹہ مقرر کیا جائے۔ انہیں ہر قسم کی سہولیات فراہم کی جائیں۔ میرٹ پر ان کو ان کا حق دیا جائے۔ 1947 ء سے اب تک، دینی مدارس کے فاضلین کی تعداد لاکھوں میں ہے، جن میں سے کئی عالمی سطح پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ بھارت میں 50 ہزار سے زیادہ دینی مدارس موجود ہیں، جن میں دارالعلوم دیوبند، ندوہ، اور دیگر اہم ادارے شامل ہیں۔ بنگلہ دیش میں تقریباً 35 ہزار دینی مدارس موجود ہیں۔ ہر سال 50,000 سے زائد طلبہ فاضل کی سند حاصل کرتے ہیں۔ دارالعلوم دیوبند کا قیام 30 مئی 1866 ء 15 محرم الحرام 1283 ہ کو عمل میں آیا۔ یہ مدرسہ 1857 ء کی جنگِ آزادی کے بعد مسلمانوں کی تعلیمی و فکری حالت کو بہتر بنانے کے لیے قائم کیا گیا۔ مولانا محمد قاسم نانوتویؒ۔ ان کے ساتھ مولانا رشید احمد گنگوہیؒ اور دیگر علماء کا بھی اہم کردار رہا۔ دارالعلوم دیوبند کا تعلیمی نظام قرآن و حدیث، فقہ، اور عربی زبان پر مبنی ہے، جسے ”نظامیہ“ نصاب کہا جاتا ہے۔ قرآن مجید کی تفسیر، حدیث کی تدریس بخاری، مسلم، ترمذی وغیرہ فقہ حنفی مکتب فکر کی بنیاد پر عربی ادب، منطق، فلسفہ، اور دیگر اسلامی علوم شامل ہیں۔
پاکستان میں دینی مدارس کی رجسٹریشن کے حوالے سے اہم پیشرفت ہوئی ہے۔ صدرِ پاکستان آصف علی زرداری نے 29 دسمبر 2024 کو ”سوسائٹیز رجسٹریشن ترمیمی ایکٹ 2024“ پر دستخط کر دیے ہیں، جس کے بعد یہ بل قانون کی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔ تمام دینی مدارس کے لیے سوسائٹیز رجسٹریشن ایکٹ کے تحت رجسٹریشن لازمی قرار دی گئی ہے۔ پہلے سے قائم مدارس کو 6 ماہ کے اندر، جبکہ نئے قائم ہونے والے مدارس کو ایک سال کے اندر رجسٹریشن کروانی ہوگی۔ ہر مدرسہ اپنی تعلیمی سرگرمیوں اور مالی حسابات کی سالانہ رپورٹ رجسٹرار کو جمع کروانے کا پابند ہو گا۔ مدارس کو عسکریت پسندی، فرقہ واریت، اور مذہبی منافرت پر مبنی مواد کی تدریس اور اشاعت سے منع کیا گیا ہے۔ مزید برآں، انہیں مرحلہ وار عصری مضامین کو اپنے نصاب میں شامل کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ اس قانون کی منظوری کے بعد ، دینی مدارس کی رجسٹریشن کا عمل سادہ اور منظم ہو جائے گا، جس سے ان اداروں کی شفافیت اور معیاری تعلیم کی فراہمی میں بہتری متوقع ہے۔ مزید برآں، مدارس کو بینک اکاؤنٹس کھولنے اور دیگر قانونی سہولیات حاصل کرنے میں آسانی ہوگی۔ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے اس قانون کی منظوری پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے تمام دینی طبقے، بالخصوص اتحاد تنظیمات مدارس اور وفاق المدارس العربیہ کے ذمہ داران کو مبارک باد پیش کی ہے۔ یہ قانون دینی مدارس کی خودمختاری کو برقرار رکھتے ہوئے ان کی رجسٹریشن اور نگرانی کے عمل کو موثر بنائے گا، جس سے ملک میں معیاری دینی تعلیم کے فروغ میں مدد ملے گی۔
امریکہ، برطانیہ، اور یورپی ممالک میں دینی مدارس مغربی دنیا میں دینی مدارس کی تعداد اور نظام مشرقی ممالک کی نسبت مختلف ہیں۔ یہاں مدارس مسلمانوں کی مذہبی، ثقافتی، اور تعلیمی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے قائم کیے گئے ہیں۔ ان مدارس کی بنیاد زیادہ تر تارکین وطن کمیونٹیز نے رکھی ہے اور یہ ادارے مقامی قوانین اور سماجی تقاضوں کے مطابق کام کرتے ہیں۔ امریکہ میں دینی مدارس کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔ یہ زیادہ تر مساجد کے ساتھ منسلک ہیں اور مقامی مسلم کمیونٹی کی خدمت کرتے ہیں۔ مشہور ادارے، دارالعلوم نیویارک، مکی مسجد شکاگو کا مدرسہ اسلاموفوبیا اور مسلمانوں کے خلاف منفی تاثر مدارس کی ساکھ پر اثر ڈالتے ہیں۔ برطانیہ میں دینی مدارس کی تعداد تقریباً 2,000 سے 3,000 کے درمیان ہے۔ زیادہ تر مدارس انگلینڈ، خاص طور پر برمنگھم، لیسٹر، اور لندن میں واقع ہیں۔ جن میں دارالعلوم بری Lancashire، جامعہ الہدایہ Derby، اسلامک انسٹی ٹیوٹ آف بریٹن شامل ہیں۔ حکومت کی جانب سے مدارس کی نگرانی میں سختی، خاص طور پر انسدادِ انتہاپسندی، یورپ کے مختلف ممالک، جیسے فرانس، جرمنی، نیدرلینڈز، اور بیلجیم میں سینکڑوں مدارس کام کر رہے ہیں۔ امریکہ، برطانیہ، اور یورپی ممالک میں دینی مدارس اسلامی تعلیمات کے فروغ اور مسلمانوں کی مذہبی شناخت کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ تاہم، ان مدارس کو درپیش چیلنجز کو حل کر کے انہیں مزید ترقی دی جا سکتی ہے۔ ان مدارس کا مستقبل مضبوط بنیادوں پر کھڑا ہے، بشرطیکہ وہ جدید دنیا کے تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگ رہیں۔
دارالعلوم دیوبند نے برصغیر میں دینی تعلیم، تحریکِ آزادی، اور مسلمانوں کی رہنمائی میں جو کردار ادا کیا، وہ تاریخ کا ایک سنہری باب ہے۔ یہ ادارہ آج بھی اسلامی علوم کی تدریس اور قرآن و سنت کی خدمت کے حوالے سے ایک معتبر اور قابلِ احترام نام ہے۔ دینی مدارس کے فاضل طلبہ کی تعداد دنیا بھر میں بہت زیادہ ہے اور یہ طلبہ اسلامی تعلیمات کی اشاعت، مساجد و مدارس کی خدمت، اور سماجی رہنمائی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کی مہارتوں کو مزید نکھارنے کے لیے نصاب میں عصری علوم کی شمولیت اور روزگار کے مواقع پیدا کرنا ضروری ہے۔ پاکستان کی حکومت کو چاہیے کہ دنیا میں مذہبی ہم آہنگی برقرار رکھنے کے لئے دنیا بھر کے مسلمانوں کے لئے دینی مدارس کا راستہ آسان بنایا جائے، پاکستان میں دینی مدارس میں رہائش، تعلیم، ہاسٹل، فوڈ، کپڑے، میڈیسن علاج معالج مفت دیا جاتا ہے۔ جب یہ سب سروس انہی مفت ملے گی تو زیادہ سے زیادہ باہر ممالک کے لوگوں پاکستان کا رخ کریں گے یہی وجہ ہے کہ بھارت پاکستان کے مقابلے باہر ممالک کے طلبہ کے لئے آسانیاں پیدا کر رہا ہے۔ پاکستان کے مقابلے میں زیادہ باہر کے بچے اب بھارت کا رخ کرتے ہیں۔ پاکستان میں دینی مدارس کے لئے انہیں ویزہ مفت دیا جائے، تمام ضروریات کو آسان بنایا جائے۔ مدارس کے فارغ ہونے والے طلبہ امن محبت کے سفیر ہوتے ہیں۔ جب یہ واپس جائیں گے تو ایک چھا پیغام لے کر جائیں گے اس سے پاکستان کا امیج بھی بہتر ہو جائے گا۔


