سال 2024 : پاکستان کے لیے ایک مشکل ترین سال
سال 2024 پاکستان کے لیے سیاسی، معاشی، اور سماجی طور پر انتہائی مشکل ثابت ہوا۔ اس سال معاشی عدم استحکام نے عوام کی زندگی کو شدید متاثر کیا۔
اشیائے خور و نوش، ادویات، اور دیگر ضروریات زندگی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا، جس نے عام شہری کی زندگی اجیرن بنا دی۔ بجلی اور گیس کے بلوں میں اضافے نے غریب گھرانوں کو اندھیروں میں دھکیل دیا، جبکہ بہت سے گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑ گئے۔ بے روزگاری کے باعث نوجوان طبقہ یا تو ملک چھوڑنے پر مجبور ہوا یا اندرون ملک در بدر کی ٹھوکریں کھانے لگا۔
2024 سیاسی کارکنوں اور صحافیوں کے لیے انتہائی مشکل ثابت ہوا۔ سیاسی کارکنوں پر مبینہ طور پر تشدد، چادر اور چار دیواری کی پامالی، اور غیر قانونی گرفتاریوں کے واقعات عام رہے۔ 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات نے سیاسی کارکنوں کو مزید دباؤ میں ڈال دیا۔ صحافیوں کو دباؤ کا سامنا کرنا پڑا؛ کئی افراد کو مبینہ طور پر اغوا، تشدد اور مقدمات کا سامنا کرنا پڑا۔ عام شہریوں کو فوجی عدالتوں سے سزائیں دینے کے حوالے سے پاکستان کے عدالتی نظام انصاف پر نہ صرف ملکی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ یورپ، امریکہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا موقف ہے کہ فوجی عدالتوں میں شہریوں کا ٹرائل نہ صرف شفافیت کے اصولوں کے خلاف ہے بلکہ یہ انسانی حقوق اور انصاف کے بنیادی اصولوں کی بھی خلاف ورزی ہے۔ اس معاملے نے پاکستان کی عدالتی ساکھ پر بھی گہرے اثرات ڈالے ہیں اور نظام انصاف میں اصلاحات کی ضرورت کو اجاگر کیا ہے۔
سوات جیسے سیاحتی علاقوں کے لیے بھی یہ سال مایوس کن رہا۔ کالام روڈ، جو کہ سیلاب 2022 سے متاثر ہوئی تھی، اب تک مکمل طور پر بحال نہیں ہو سکی اور صرف 6 کلومیٹر سڑک خراب ہونے کی وجہ سے سیاحوں اور مقامی باشندوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی عدم دلچسپی کے باعث متبادل سڑک بھی تعمیر نہیں کی گئی، جس کی وجہ سے سیاح شکایات کرتے نظر آئے۔ خراب انفراسٹرکچر نے سیاحتی سرگرمیوں کو متاثر کیا۔
امن و امان کی خراب صورتحال نے ملک میں مایوسی کی فضا کو مزید بڑھایا۔
پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے مسلسل حملوں کی زد میں رہے۔
نوجوانوں کے لیے غیر یقینی حالات نے انہیں مزید مایوس کیا، اور بڑی تعداد میں لوگ ملک چھوڑنے کی کوششوں میں مصروف رہے۔ انٹرنیٹ کی رفتار میں کمی، سوشل میڈیا پر پابندیاں، اور وی پی این کے استعمال پر قدغن نے فری لانسنگ اور آن لائن روزگار کو نقصان پہنچایا۔ ان اقدامات نے نوجوانوں کی صلاحیتوں کو محدود کر دیا، جو پہلے ہی بے روزگاری اور بدحالی کا شکار تھے۔
سال 2024 کی مشکلات کے باوجود امید کی جا سکتی ہے کہ سال 2025 پاکستان کے لیے بہتری کا پیغام لائے۔ دعا ہے کہ نیا سال سیاسی، معاشی، اور سماجی استحکام کا باعث بنے اور عوام کو خوشحالی اور امن نصیب ہو۔


