ازل سے : ایک مطالعہ


ڈاکٹر ضیاء الحسن کی کتاب ”ازل سے“ اردو ادب میں ایک اہم تصنیف ہے جو فکری گہرائیوں اور تخلیقی اظہار کا شاندار امتزاج ہے یہ کتاب فلسفہ، تصوف اور جدید فکریات کو ایک منفرد انداز میں بیان کرتی ہے جس نے اسے اردو ادبی حلقوں میں مقبولیت دی ہے کتاب کے نام سے ہی یہ واضح ہوتا ہے کہ ضیاء صاحب نے وقت، وجود اور بقا کے موضوعات پر اپنی توجہ مرکوز کی ہے ”ازل“ کو محض وقت کا آغاز نہیں بلکہ ایک ابدی حقیقت کے طور پر پیش کیا گیا ہے جہاں انسان اور کائنات ایک گہری ہم آہنگی میں نظر آتے ہیں

ہاں! روز ازل ہم نے بھی اقرار کیا تھا
بس اب تو وہی وعدہ نبھانے کی لگن ہے
تیرا نور نور ازل ابد، تیرے حسن کی نہیں کوئی حد
نہ جمال تیرے جمال سا، نہ کمال تیرے کمال سا
میں نُور سراسر ہوں کہ ہوں خاک سراپا
میں فانی زیادہ ہوں کہ لافانی زیادہ

ضیا صاحب کی شاعری میں ہمیں تصوف کا موضوع بھی نمایاں نظر آتا ہے جس میں وہ مختلف پہلوؤں، انسان اور کائنات کا تعلق، وحدت الوجود، عشق حقیقی، خود شناسی، موت اور حیات کا فلسفہ زیر بحث ہیں ان کی غزل روایتی لطافت اور اس کے جغرافیہ اور اس کی جمالیات کو ختم کر چکی ہے وہی روایتی عاشق ہے نہ محبوب ساقی نہ شراب خانہ اور نہ ہی شراب خانے کا کلچر و کوچہ محبوب ہے اب لذت آزار کا وہ عادی عاشق بھی پردے کے پیچھے جا چکا ہے جو مریض لذت آزار تھا اس لیے ان کی نئی غزل میں نہ روایتی لطافت ہے نہ ہی شعری لغت کا جمال ہے نئی غزل نئی صورت حال کی عکاسی کرتی ہے انسان اور معروضات کے درمیان رشتے تلاش کیے جا رہے ہیں یہ چیزوں کو دیکھنے اور بیان کرنے کا وہ انداز ہے جس کا تجربہ اردو غزل نے پہلی بار کیا

جو کچھ امکان میں رکھا ہوا ہے
وہ میری شان میں رکھا ہوا ہے
کوئی نغمہ نیا مجھ کو سناتے ہیں پرندے
میرے دل کے شجر پر چہچہاتے ہیں پرندے
مہکتا تھا کبھی جو شاخ دل پر
وہ اب گل دان میں رکھا ہوا ہے
مجھے سونے نہیں دیتے یہ اپنی شوخیوں سے
سحر دم جاگتے ہیں اور جگاتے ہیں پرندے

ان کی غزلوں میں خود شناسی، انسان اور کائنات کے تعلق پر گہرائی سے بات کی گئی ہے ضیاء صاحب کے مطابق کائنات ایک عظیم کتاب کی طرح ہے جسے سمجھنے کے لیے انسان کو اپنی داخلی آنکھ کھولنی ہوگی ان کے نزدیک عشق حقیقی ہی وہ قوت ہے جو انسان کو ازل سے جوڑتی ہے اور اسے روحانی معراج تک پہنچاتی ہے انہوں نے انسانی جذبات، محبت، غم اور مسرت کو بھی اسی تناظر میں بیان کیا ہے کہ یہ انسان کو خدا کے قریب کر سکتے ہیں وہ صوفیانہ تعلیمات سے بہت زیادہ متاثر ہیں وہ خود شناسی کو خدا شناسی قرار دیتے ہیں جہاں انسان کو اپنے ذات کی گہرائی میں جھانک کر اپنی حقیقت کو سمجھنا چاہیے ان کا ذکر وہ اپنے اشعار میں اس طرح کرتے ہیں

عجب نور سا میرے چاروں طرف ہے تیرے حُسن سے
کہ میں ہوں، مرے سامنے تو ہے اور مہرباں رات ہے
آنکھ میں نم سے پہلے کیا تھا
دل میں غم سے پہلے کیا تھا
جتنی ہو تیرے غم میں فراوانی زیادہ
ہوتی ہے مجھے جینے میں آسانی زیادہ
ہم سے ہے تیرے کوچہ و بازار کی رونق
اے شہر تمنا! تیرا مقصود ہیں ہم بھی
تیرے کرم سے ہوں، میں جو ہوں
تیرے کرم سے پہلے کیا تھا
جتنا نظر آتا ہوں میں کچھ اس سے سوا ہوں
موجود میں ایک رنگ ہے اور امکانی زیادہ

ضیاء صاحب زندگی اور زندگی کے استعاروں سے کھیلنے والے شاعر ہیں ان کی غزلوں میں محبت کا ان تھک سلسلہ نظر آتا ہے وہ حُسن، بدن، آنکھیں، لمس، جیسے استعارے کو بہت خوبصورت انداز میں بیان کرتے ہیں ان کی شاعری میں استعارے نہ صرف جذبات اور خیالات کو بیان کرتے ہیں بلکہ شعری پیغام کی گہرائی اور پیچیدگی کو بھی اجاگر کرتے ہیں

وفور حسن سے کتنا چھلکتا ہے بدن اس کا
مجھے ان آبشاروں سے کوئی آواز آتی ہے
یہ صحرائے بدن درپیش ہے مجھ کو ازل سے
میں اس میں گم شدہ اپنا خزینہ ڈھونڈتا ہوں
ہر سمت حُسن اپنی فراوانیوں میں تھا
افسوس! ہم سے کچھ بھی نہیں دیکھا جا سکا
خواب بن کر اُترتا وہ میری انکھوں میں
خواب تعبیر سے شرمندہ کیا جا سکتا

” ازل سے“ میں نظموں کی تعداد 20 ہے مگر یہ نظمیں پیار کی شاعری کا ایک نیا باب کھولتی ہیں پیار اور محبت کی حرارت ہے ضیاء صاحب ایک بڑے کینوس پر حسنِ محبوب کو دکھاتے ہیں بے شمار نقش ہیں جذبے ہیں محسوسات ہیں وہ ان سب کو سمیٹ کر تسلسل کے ساتھ نقش گری کے کام میں ہمہ تن مصروف رہتے ہیں ان کی نظمیں مجموعی طور پر پیار کی نظمیں ہیں جو تازہ ہوا کے خوش گوار جھونکوں کی طرح ہیں

اگر میں ہوا ہوتا تو تمہاری پلکوں پہ پھیلی نیند اڑا لے جاتا
تمہارے بدن پر دھیرے دھیرے بہتا، تمہیں گدگداتا
تمہیں لے کر بادلوں میں اڑ جاتا اور جا نکلتا ان دیکھی کی دنیاؤں میں

میں نے تم سے جنت کے باغ مانگے
اور دودھ کی نہریں
تم میرے لیے محبت بن گئیں
تم گھر بن گئیں جس میں میں نے قیام کیا
تم نے اپنی بھوک سے میرا پیٹ بھرا

شام اُترتی آ رہی ہے
میں اس کی نرمی کو ہر سانس میں محسوس کر رہا ہوں
شفق کا حسن میری آنکھوں میں بھر گیا ہے
میں آنکھیں بند کروں گا
اور اس میں کھو جاؤں گا

Facebook Comments HS