سیاست کا ایک صفحہ
سیاست اخلاقیات کا نہیں ممکنات کا کھیل ہے، تاریخ کا ظلم و جبر دیکھیے جو کہتے تھے کہ شریف اور زرداری خاندان قصہ پارینہ ہے اب اسی محکمہ کی پریس کانفرنس کی تشریح و وضاحت کے لئے شریف اور بھٹو و زرداری خاندان کی سیاسی خاندان والی جماعتیں ناصرف سامنے آتی ہیں بلکہ وہ ایک صفحہ جس پر کبھی عمران خان کی تحریک انصاف تھی اس پر اب مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی نظر آتی ہیں۔
نفرت کے بطن سے نفرت ہی پیدا ہوتی ہے، وہ نفرت جس کی آبیاری سے ایک خاص نسل کی پنیری تیار کی گئی تھی وہ اب مقتدرہ کو بھی اسی نفرت کے پیمانہ پر پرکھ رہی ہے۔ اس نسل کے لئے عمران خان کی حکومتی کارکردگی اور انتظامی امور کی نا اہلیت ثانوی حیثیت رکھتی ہے، ان کے لئے عمران خان ایک نجات دہندہ ہے، اور باقی تمام سیاسی قائدین قابل نفرت ہیں۔ ان کو جس امت مسلمہ اور قومیت کے جھوٹے خواب دکھائے گئے تھے، ان کے لئے اب بھی وہ شرمندہ تعبیر ہو سکتے ہیں، اگر صرف حکمرانی کی باگ ڈور عمران خان کے حوالے کر دی جائے۔ حالانکہ ان خوابوں کی تعبیر حقیقت میں صرف ایک سراب ہے، کیونکہ مملکت خداداد پاکستان اب پاکستان نہیں بحرانستان کا حقیقی عکاس ہے گو کہ کبوتر نے آنکھیں بند کر لیں ہیں لیکن بلی نام کی بلا ابھی نہیں ٹلی۔
ملکی خوشحالی و ترقی کا وہ جھوٹا خواب دکھایا گیا تھا جس کی تکمیل کے لئے 22 سال بعد خان صاحب نے جس اعلیٰ پائے کی ٹیم کا انتخاب کیا اس میں ماہر نظم و نسق جناب سردار عثمان بزدار اور محمود خان ٹیم کے ہراول دستہ میں شامل تھے۔
ذرائع ابلاغ کی سرکوبی کے لئے سوشل میڈیا اور جعلی خبروں کا جو بازار گرم کیا گیا تھا آج اس کا طوطی سر چڑھ کر بول رہا ہے، کبھی فائر وال لگا کر اس کا علاج معالجہ کیا جا رہا یا کبھی نامعلوم افراد نامعلوم طریقہ سے لوگوں کو اغوا کر رہے ہیں کہ کسی طرح اس نسل کی سرکوبی کی جا سکی۔
میرؔ کیا سادے ہیں، بیمار ہوئے جس کے سبب
اُسی عطّار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں
آپ طرف تماشا دیکھئے کہ تحریک انصاف کے انتخابی امیدواران سے انتخابی نشان لے کر گھریلو اشیاء کے انتخابی نشانات دے دیے گئے مگر عوام کا غصہ و غیظ و غضب کم نا ہوا۔ دھاندلا کر کے حکومت کو تشکیل دیا گیا۔ حکومت اخلاقی جواز کے بغیر ایسے ہی کھڑی ہے جیسے لنگڑا لاٹھی کے بغیر، گو وہ لاٹھی ابھی مقتدرہ نے دی ہوئی ہے کہ اگر معیشت تبدیل ہو گئی تو امید کی کرن جاگ جائے۔ مگر ڈھاک کے وہی تین پات ہیں، ادارے نے اپنے تئیں اپنے ہی سابق افسر کو خود احتسابی کے نام پر پابند سلاسل کرنے کی بھونڈی کوشش کی وہ بھی اپنے تئیں دم توڑ رہی ہے، اور جس طرح کے انکشافات سامنے آ رہے ہیں اس سے آپ دیگ کے باقی تمام دانوں کا بھی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ بنیادی طور پر کسی قسم کا میرٹ نہیں ہے ایک خاص درجہ میں ترقی کے باوجود، سب لوگ اپنے مشترکہ مفادات کے تحفظ کے لئے باہمی اشتراک کی بنیاد پر کام کر رہے ہیں۔ جیسے سیاست میں گٹھ جوڑ ہے، ویسے ہی مقتدرہ اور عدلیہ میں بھی گٹھ جوڑ ہے، اور یہی لوگ اشرافیہ ہیں، انھیں اس بات سے کوئی غرض نہیں ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ان غیر آئینی اقدامات کے نتائج کیا نکلے ہیں اور مزید کیا نکلیں گے انھیں بس یہ فکر ہے کہ ہم اگر طاقت میں ہیں تو ہماری طاقت کا دورانیہ بس طویل ہونا چاہیے۔ میں نے پہلے بھی ایک تجویز دی تھی کہ ہمارے جیسے ممالک میں چیف آف آرمی اسٹاف کو چاہیے کہ وہ وزیر اعظم کا انتخاب کیا کریں تاکہ وزیر اعظم اپنی سیاسی بلوغت کی عمر تو مکمل کر لیا کریں۔ لیکن ہم نصیحتیں کرتے رہیں گے اور یہ نصیحتیں ردی کی ٹوکری میں ڈال دی جائیں گی۔
پریکٹس اینڈ پروسیجر بل اور بذریعہ چھبیسویں آئینی ترمیم عدلیہ کے پر کاٹ دیے گئے ہیں اور الحمدللہ بیک جنبش قلم ملک کے اصل مالک کی مدت ملازمت کا بھی تعین کر دیا گیا ہے، اس پر طرفہ تماشا یہ ہے کہ پاکستان کی سب سے مقبول ترین سیاسی جماعت نے صرف اتنا ہی بیان داغا ہے کہ اگر ہم سے مشاورت کر لیتے تو کیا ہی بہتر ہوتا۔ دوسری طرف مسلم لیگ نون اور اس کی اتحادی جماعتوں نے اس نئی مدت ملازمت کی وہ تاویلات پیش کی ہیں جو کسی زمانہ میں تحریک انصاف کا خاصہ تھیں۔
اس ملک کے نصیب میں حقیقی آزادی کا امکان ایک لاحاصل ہے ستتر سال گزر گئے ہیں وہاں مزید اور بھی گزر جائیں تو کیا فرق پڑتا ہے۔ نجانے کب مملکت خداداد حقیقی معنوں میں اسلامی جمہوریہ کی شکل اختیار کرے گی یہ رب ذوالجلال کی ذات اقدس کے علاوہ شاید ہی کوئی جانتا ہو۔ نا امیدی ویسے تو کفر ہے، مگر فی الوقت یہی حقیقت ہے۔
میں بھی بہت عجیب ہوں اتنا عجیب ہوں کہ بس
خود کو تباہ کر لیا اور ملال بھی نہیں
(جون ایلیا)


