صلیبیں اپنی اپنی (30)
”میں نے اس شخص کی طرف مُڑ کر دیکھا جس نے میرے ساتھ بات کی تھی۔ میں نے سات سونے کے چراغ دان دیکھے اور ان چراغ دانوں کے درمیان ایک شخص دیکھا جو ایک انسان کی طرح تھا۔ اس نے پاؤں تک کا ایک لمبا چوغہ پہن رکھا تھا اور اس کے سینے پر سونے کی پٹی بندھی ہوئی تھی۔ اس کا سر اور بال اون کی مانند سفید تھے جیسے برف۔ اس کی آنکھیں آگ کے شعلوں کی مانند تھیں۔ اس کے پاؤں پیتل کی مانند چمکدار تھے جیسے کسی بھٹی میں تپایا گیا ہو۔ اس کی آواز بپھرے ہوئے پانی کی مانند تھی۔ اس کے دائیں ہاتھ میں سات ستارے تھے، اس کے منہ سے ایک دو دھاری تلوار نکل رہی تھی اور اس کا چہرہ دوپہر کے سورج کی مانند چمک رہا تھا۔“ مکاشفہ 1 : 12۔ 16
” دانی ایل، مجھے حیرت ہے کہ تم فیض احمد فیض کو صرف حُزنیہ شاعر کہتے ہو۔ تم نے دستِ صبا اور زنداں نامہ کو کیسے نظرانداز کر دیا؟“ میں نے پوچھا۔
”انہوں نے ہر طرف غم، جدائی، اور مایوسی کا رونا رویا ہے۔ یہ داغ داغ اجالا، یہ شب گزیدہ سحر۔ اس میں امید کی جھلک کہاں ہے؟“ دانی ایل نے جواب دیا۔
”دانی ایل، تمہارا تجزیہ اپنی جگہ، مگر یہ یاد رکھو کہ فیض کا یہ داغ داغ اجالا کسی ذاتی غم کی نہیں بلکہ اجتماعی مایوسی کی تصویر کشی ہے۔ وہ اس رات کے ختم ہونے کا انتظار کر رہا ہے جو ظلم اور بربریت کی رات ہے،“ انکل شاہد نے چائے کی چسکی لے کر کہا۔
”بالکل! اور انقلابی بننے کے لیے حالات کی تلخی اور اس کے خلاف جدوجہد کو محسوس کرنا ضروری ہے۔ فیض کی شاعری ان جذبات کو پروان چڑھاتی ہے،“ میں نے انکل شاہد سے اتفاق کیا۔
” لیکن انقلاب کی شاعری تو جوش ملیح آبادی کی طرح ہونی چاہیے، گرج دار اور ولولہ انگیز۔ فیض کے ہاں تو ہر وقت، چند روز اور مری جان، کا واویلا نظر آتا ہے،“ دانی ایل نے طنزیہ انداز میں کہا۔
”یہی تو فیض کی انفرادیت ہے،“ انکل شاہد نے ہنس کر کہا۔
بڑی دیر سے ہماری بحث چل رہی تھی۔ آنٹی میری دائیں جانب بیٹھی سوئٹر بُن رہی تھیں مگر ان کی توجہ ہماری بحث کی طرف ہی تھی اور جب کسی کی طرف سے کوئی زور دار بیانیہ آتا تو مسکرا دیتیں۔ مریم اُن کے برابر دنیا و مافیہا سے بے خبر بیٹھی کوئی کتاب پڑھ رہی تھی۔
میں نے دو ہفتے قبل بچوں کو مریم کے حوالے کر کے ٹیوشن چھوڑ دی تھی کیوں کہ مجھے ایک اسکول میں ملازمت مل گئی تھی۔ تنخواہ 175 روپے ماہوار تھی اور ہفتے میں دو روز شام کو بھی دو گھنٹے کے لیے جانا پڑتا تھا تاکہ اسکول کے بعد اسپورٹس کے لیے آنے والے بچوں پر نظر رکھی جا سکے۔ اس کے 25 روپے ماہوار علیحدہ ملتے تھے۔ میں گاہے بہ گاہے انکل شاہد کے ساتھ چائے پینے کے لیے چلا جاتا تھا۔ دانی ایل کبھی کبھار اپنے پروجیکٹ پر پنڈی چلا جاتا ورنہ اس کا بیشتر وقت حیدرآباد میں ہی گزرتا تھا اور وہ ہر اتوار کو مریم کو چرچ لے کر جاتا تھا۔ اس روز اقبال ڈے کی چھٹی تھی اور دانی ایل نے مریم کو بتا دیا تھا کہ وہ انکل شاہد کے ساتھ چائے پینے آٗئے گا۔ راستے سے اس نے مجھے بھی ساتھ لے لیا تھا۔
دانی ایل نے جوش کی گھن گرج کا جو حوالہ دیا تھا، اس پر میں کچھ کہنا چاہ رہا تھا مگر اس سے پہلے کہ میں منہ کھولتا، کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا اور ایک بھاری بھرکم آواز آئی، ”اینی باڈی ہوم؟“
”ارے، یہ عارف کہاں سے آ گیا؟“ یوں لگا جیسے مریم کو کرنٹ لگا ہو۔ وہ کرسی سے اٹھ کر دروازے تک گئی اور اس پر پڑی ہوئی چادر کو کھسکا کر بولی، ”یہ کون اجنبی ہے؟“
وہ پیچھے ہٹی تو اس کے پیچھے نیلی جینز اور نارنجی ٹی شرٹ میں ملبوس ایک شخص جھک کر دروازے سے گزرا۔ جب وہ اندر داخل ہو کر سیدھا کھڑا ہوا تو اس کی درازیٔ قد کا احساس ہوا۔ چھ ساڑھے چھ فٹ کا تو ضرور رہا ہو گا۔ اس کے بیضوی چہرے پر گھنی ڈاڑھی مونچھیں تھیں اور سر کا اگلا حصہ بالوں سے بے نیاز تھا۔ اس نے مسکرا کر دونوں بازو پھیلائے اور مریم کو اپنی بانہوں میں بھینچ لیا۔
” یہ اچانک اتنی بڑی کیسے ہو گئی؟“ اس نے مریم کے دونوں کندھوں پر ہاتھ رکھ کر اس کے سراپا کا جائزہ لیا اور پھر اپنی ہتھیلی نیچے لے جاکر کہا، ”پچھلی بار تو یہ اتنی سی تھی۔“
میں، دانی ایل اور انکل شاہد اس سے ہاتھ ملانے کے لیے کھڑے ہو گئے۔
”بڑے دن کے بعد دکھائی دیے،“ انکل شاہد نے اس سے مصافحہ کرتے ہوئے کہا۔
”بس چاچا جی، میں کل شام کی فلائٹ سے ہی پہنچا۔ دراصل کام سے فرصت ہی نہیں ملتی۔ مجھے پچھلے ہفتے ہی پتا چلا کہ مریم آ گئی ہے،“ اس نے جواب دیا۔
”یہ میرا بچپن کا دوست ہے، عارف،“ مریم نے اس کا تعارف کرایا۔
” جی، میرا نام یوحنّا عارف ہے،“ اس نے دو قدم آگے آ کر اپنا ہاتھ دانی ایل کی طرف مصافحے کے لیے بڑھا دیا۔ اس کے اور دانی ایل کے درمیان بہ مشکل ایک فٹ کا فاصلہ رہا ہو گا۔ وہ سر جھکا کر دانی ایل کو دیکھ رہا تھا جیسے کسی بچے سے باتیں کر رہا ہو۔ مجھے اس کی حرکت عجیب سی لگی۔ کیا وہ دانی ایل کو اپنے لمبے قد سے متاثر کر رہا تھا۔ اگر ایسی بات تھی تو یہ اس کی بڑی گھٹیا حرکت تھی۔
”یہ دانی ایل ہے۔ بڑا پیارا انسان ہے،“ مریم نے کہا، ”اور یہ پرویز ہیں۔“ اس نے میری طرف اشارہ کیا۔
” بڑی خوشی ہوئی آپ سے مل کر،“ میں نے دو قدم پیچھے ہٹ کر اپنا ہاتھ بڑھا دیا۔ اس نے میرا ہاتھ اپنی مٹھی میں دبا کر اسے دوسرے ہاتھ کی ہتھیلی سے ڈھک دیا۔ تب مجھے احساس ہوا کہ اس کے ہاتھ بڑے بڑے اور انگلیاں موٹی موٹی تھیں۔ میں نے سوچا کہ کیا وہ اپنے ڈیل ڈول کو دوسروں پر رعب ڈالنے کے لیے استعمال کرتا ہے، یا ممکن ہے کہ یہ میرا ہی احساسِ کمتری ہو جو مجھے للکار رہا ہو۔
میں نے آپ کی کتاب پڑھی ہے، ”میں نے قدرے جھجکتے ہوئے کہا۔
”میری کتاب؟ کون سی کتاب؟“
” مُکاشفہ۔“
” مُکاشفہ؟“ عارف نے کچھ سوچ کر ایک زور دار قہقہہ لگایا اور بولا، ”اوہ اچھا، میں سمجھا، مگر میرا مکاشفہ دوسری قسم کا ہو گا۔ اس میں جنگ و جدل کی جگہ ڈانس پارٹیاں ہوں گی۔“ اس کی آواز بھاری بھرکم تھی اور اس پر طرّہ یہ کہ وہ زور سے بول کر پوری محفل پر قابض ہوجاتا تھا۔
یوحنا عارف کا مکاشفہ جس کا میں نے حوالہ دیا تھا، بائبل کے نئے عہد نامے کی آخری کتاب ہے جس میں یوحنّا اپنے خواب بیان کرتا ہے جن میں نیکی اور بدی کے درمیان جنگ ہوتی ہے۔ طاغوتی طاقتیں قتل و غارت گری کرتی ہیں، اور پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ہوتا ہے۔ وہ ان شیطانی قوتوں سے جہاد کر کے انہیں شکست دیتے ہیں جس کے نتیجے میں یروشلم پر خدا کی حکمرانی ہوجاتی ہے اور وہ امن کا گہوارہ بن جاتا ہے۔ ہمارے یہاں آثار قیامت پر جو کتابیں لکھی جاتی ہیں، مکاشفہ بھی ویسی ہی کتاب ہے۔
عارف آگے بڑھ کر انکل شاہد سے گلے ملا اور جھک کر آنٹی سے ہاتھ ملا کر ان کا ہاتھ چُوما۔
”کیوں بھئی، تم اس بار دو سال کے بعد آئے ہو،“ انکل شاہد نے کرسی پر بیٹھتے ہوئے کہا اور ہم سب بھی بیٹھ گئے۔
”بس چاچا جی، کام اتنا بڑھ گیا ہے کہ سر کھجانے کی فرصت نہیں ملتی،“ عارف نے جواب دیا۔
”عارف کا والد اور میں بچپن کے دوست ہیں اور ہمارے بچے بھی ایک ساتھ پلے بڑھے،“ انکل شاہد نے مجھے اور دانی ایل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔ ”اب یہ ایسٹ پاکستان میں سیٹل ہیں اور ان کے والد کی چٹاگانگ میں پرانے بحری جہازوں کو توڑنے کی کمپنی ہے۔“
”دانیال، تمہارا کیا شغل ہے؟“ عارف نے مسکرا کر دانی ایل سے پوچھا۔ اس کا لہجہ بزرگانہ تھا جیسے کسی بچے سے بات کر رہا ہو۔
”میں سول انجینئر ہوں اور میرا نام دانیال نہیں دانی ایل ہے،“ اس نے ناگوار لہجے میں جواب دیا۔
”دانی ایل، دانیال، بات ایک ہی ہے،“ عارف نے قہقہہ لگا کر کہا۔
”ایک ہی بات نہیں ہے۔ جس کا جو نام ہے اسی نام سے پکارا جانا چاہیے،“ دانی ایل کی آواز کچھ اونچی ہو گئی اور اس کی پیشانی کے بَل مزید گہرے ہو گئے۔
انکل شاہد موقع کی نزاکت کو سمجھ کر بولے، ”دراصل صحیح نام دانی ایل ہی ہے مگر ہر ملک میں تلفظ الگ الگ ہے۔ کہیں ڈینیل کہتے ہیں اور کہیں دانیال۔“
میں نے تلخی کو کم کرنے کی خاطر موضوع تبدیل کرنے کی کو شش کی اور کہا، ”پرانے عہد نامے میں دانی ایل نبی کی کتاب بھی ہے۔ وہ خوابوں کی تعبیر بتایا کرتے تھے، جب بادشاہ داریا نے دانی ایل کو حکم دیا کہ وہ بادشاہ کی عبادت کریں تو انہوں نے انکار کر دیا۔ اس پر داریا نے انہیں شیروں کے کٹہرے میں ڈال دیا لیکن جب شیروں نے دانی ایل کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا تو داریا خدا پر ایمان لے آیا۔“
”سوری، دراصل میرا بائبل کا مطالعہ محدود ہے۔ خصوصاً پرانے عہد نامے کی زیادہ سوجھ بوجھ نہیں ہے،“ عارف نے معذرت کرتے ہوئے کہا۔ اس مرتبہ اس کی آواز کچھ دھیمی تھی۔ میں نے مریم کی طرف دیکھا۔ وہ خاموشی سے یہ گفتگو سُن رہی تھی اور اس کے چہرے پر بے چارگی کے آثار تھے۔
”اچھا انکل شاہد، اب اجازت دیں،“ میں نے اٹھتے ہوئے کہا۔
”ارے کیوں سر؟ ابھی بیٹھیں،“ انکل شاہد نے جواب دیا۔ دانی ایل بھی کھڑا ہو گیا۔
”نہیں انکل، آپ عارف سے باتیں کریں۔ یہ دو سال کے بعد آئے ہیں تو بہت کچھ سنائیں گے۔“ میں نے جواب دیا۔
”آپ کب تک حیدرآباد میں رہیں گے؟“ میں نے عارف سے ہاتھ ملاتے ہوئے پوچھا۔
”ابھی ایک ہفتہ ہوں۔“
”پھر تو ملاقات رہے گی۔“
”ضرور، آپ ایسٹ پاکستان آٗئیں نا۔“
”دیکھیں، کبھی نہ کبھی پروگرام بنے گا۔“
***
سب کو خدا حافظ کہہ کر ہم باہر نکلے تو ہمارے ہوش ٹھکانے آ گئے۔ دانی ایل نے اپنی اسکوٹر دیوار کے ساتھ ہی کھڑی کردی تھی۔ اب اس کے پیچھے اُسی سال کی ایسٹن مارٹن DB 4 کھڑی تھی۔ دو روز پہلے ہم فردوس سنیما میں فرام رشیا ود لو دیکھ کر آئے تھے جس میں جیمز بانڈ یہی کار چلا رہا تھا۔ یہ دنیا کی مہنگی ترین اسپورٹس کاروں میں سے ایک تھی۔
”یار دانی ایل، ایسا لگتا ہے کہ تیرا رقیب پیدا ہو چکا ہے۔“
”میرا بھی یہی خیال ہے۔“
”تو پھر کیا خیال ہے؟“
”جنگ تو کرنی ہی پڑے گی۔“
”گُڈ لک!“
میں اسکوٹر پر دانی ایل کے پیچھے بیٹھ گیا۔ اس نے کِک مار کر اسکوٹر اسٹارٹ کی اور وہ ایک جھٹکے کے ساتھ آگے بڑھ گئی۔

