2024 کی میری پانچ پسندیدہ کتابیں

یہ سال پڑھنے کے حوالے سے اچھا رہا لیکن جو ہدف تھا وہ پورا نہ ہوسکا۔ اور اس سال عہد کیا تھا کہ مذہب، اقبال اور فلسفہ سے متعلق کتابیں پڑھنی ہیں جو پورا نہ ہوسکا۔ سال کے اختتام تک پھر سے ناولوں میں خود کو پایا۔
سال کے ابتدا میں ہی میں نے خود کو برادر کرامازوف جیسے شاہکار کے سحر میں ڈوبا ہوا پایا جو پچھلے سال سے جاری تھی، جس پر انشاء اللہ الگ بات ہو گی۔ پھر علامہ اقبال پر متعدد کتابیں اور بہت ساری مذہبی کتابیں پڑھیں لیکن فلسفہ رہ گیا۔ اس سال اقبال کے منتشر خیالاتstray reflections، سبط حسن کی تاریخ ایران، تاریخ فلسفہ، history of western philosophy، خلافت و ملوکیت اور اس جیسی دیگر بہت ساری کتابیں پڑھیں۔ مگر یہ ان پانچ کتابوں کی لسٹ میں نہیں ہیں۔
اس سال کا سب سے بہترین کتاب جس نے مجھے بہت متاثر کیا وہ میں آخر میں بتاؤں گا جیسے میں نے پہلے کا کہ یہ سال مذہبی کتابیں زیاد پڑھیں تو سب سے زیادہ جس کتاب نے متاثر کیا وہ تھا مذہبی داستانیں اور ان کی حقیقت۔ اس کتاب کو میں پچھلے 7، 8 سال سے ڈھونڈ رہا تھا لیکن ایک دن کسی دوست سے گفتگو کرتے ہوئے دوست نے کہا یہ تو میرے پاس دستیاب ہے۔ تو میں نے مستعار لی اور پڑھ لی۔ اتفاق کہ ایک دوست کی کوششوں سے یہ کتاب مجھے بھی بعد میں مل گئی۔
اس کتاب کے مطالعہ سے مجھ پر یہ راز آشکار ہوئی کہ مطالعہ پاک خوامخواہ بدنام ہے اس سے زیادہ جھوٹ تو اسلامیات میں اور کئی اور مذہبی کتابوں میں پایا جاتا ہے۔ جن کو ہم واقعات سمجھتے تھے وہ تو داستانیں ہی نکلی اور وہ بھی ایسی کہ بیان سے باہر ہیں۔ پڑھتا رہا اور حیرت اور سوچ میں پڑھ گیا۔
مصنف سنی ہیں اور فضائل اعمال کے مصنف کاندھلوی صاحب کے کزن ہیں۔
اصل میں اس کتاب کا نام میں نے اسرار احمد کے ایک بیان میں سنا تھا۔ پھر ہم اس کی راہ تکتے رہے۔
2: دوسری کتاب جو میں نے اس سال جسے بہت انجوائے کیا وہ ہے ترک ادیب اور اورحان پاموک کی 2008 میں لکھی گئی کتاب ”خانہ معصومیت یا میوزیم آف انو سینس۔ یہ عشق و محبت کا قہر ڈالنے والا وہ المیہ ہے جسے پڑھنے کے کئی دن تک میں خود ٹرانس میں رہا ہوں۔ کمال اور فسون کی دل دہلا دینے والی محبت۔ کوئی شخص جس نے محبت کی ہو اس پر یہ کتاب پڑھنا واجب ہے۔
3: تیسری کتاب کی جگہ پر میں دو کتابوں کا نام لینا چاہوں گا۔ ایک موت کی کتاب اور دوسرا نعمت خانہ جس پر پچھلے دنوں میں اپنے تاثرات مضمون کی شکل میں رقم کر چکا ہوں۔ خالد جاوید کے دونوں شاہکار ناقابل بیان ہیں کیوں کہ مجھ جیسا کم مطالعہ کا حامل شخص اگر ان سے اتنا محظوظ ہو سکتا ہے تو صاحب مطالعہ کا تو واہ واہ ہے۔
موت کی کتاب میں تو ایک گہرا اندھیرا ہے۔ ایسا اندھیرا جو روزاول سے انسان کا پیچھا چھوڑنے کو تیار نہیں۔ وجودیت اور مقصدیت پر وہ سوالات کہ انسان تو کچھ پل حیران رہ جاتا ہے اور ناول میں موجود خودکشی کو اپنے کمبل کے نیچے، کتابوں کے اوپر کمرے کے کونے میں تلاش کرنے لگتا ہے۔ یہ کتاب موت، تنہائی، وجود، جیسے مختلف ”کیوں“ کا دفتر ہے۔
اور نعمت خانہ کے لئے میرا اس سے پہلے کا مضمون پڑھئے۔
4: چھوتی کتاب جو میرے لئے حیران کن تھی، وہ ہے علامہ اقبال کا خطبات اقبال یا اسلامی فکر کی تشکیل نو The reconstruction of religious thoughts in Islam۔ اقبال کو ہم اس کے نظموں اور شاعری سے جانتے ہیں لیکن اس کے خطبات کا یہ مجموعہ تو کمال نکلا۔ اقبال اس میں ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ مذہب اور دین میں کیا فرق ہے۔
یہ کتاب سات لیکچروں کا مجموعہ ہے جو سیٹھ جمال محمد کی فرمائش پر مدراس، علی گڑھ اور حیدرآباد میں اقبال نے انگریزی زبان میں دیں۔ ان میں قرآن، صوفی ازم، اجتہاد، مذہب اور سائنس، موت، مقدر، عقل نیز متعدد ایسے مضامین کو موضوع بحث بنایا گیا ہے جن کو مولویوں نے کھچڑی بنا دیا ہے۔ علامہ اقبال کا یہ کتاب بہت سے روایات کو توڑتا ہے اور حیران کن خیالات پیش کرتا ہے جس کی پاداش میں سعودی عرب جیسے ملکوں میں اس پر پابندی لگ چکی ہے کہ اس میں کفریہ کلماتِ ہیں۔ بلکہ اس کی پہلی اشاعت پر علامہ اقبال پر بھی کفر کے فتوے لگے تھے۔
5:پانچویں اور اس سال کی میری سب سے بہترین کتاب ہے یوہان گوئیٹے کی فاؤسٹ۔ ایک فلاسوفیکل ڈرامہ۔ انسان کی تقدیر، مقام اور مرتبے کو پیش کرنے کی بہترین تمثیل۔
جس میں ایک انسان بنام فاؤسٹ حتمی خوشی اور سکون پانے کے لئے اپنے روح کا تبادلہ شیطان کے ساتھ کرتا ہے کہ شیطان اسے خوشی دے گا اور جب وہ مکمل خوش ہو گا تو شیطان اس کی روح کے سکتی ہے اور آخر میں یہی ہوتا ہے۔
ڈرامہ کا مقصد ہم انسان چھوٹی چھوٹی اور حقیر سی خوشیوں کے حوض اپنا روح شیطان کو بیچ دیتے ہیں اور بقول قرآن شریف یہ گھاٹے کا سودا ہوتا ہے۔ انسان خسارے میں ہی اسی لئے ہے کہ وہ وقتی خوشی اور چھوٹے مدت کی سکون کے لئے اپنی زندگی بھر کی کمائی بھسم کرتی ہے۔
جوہان گوئٹے نے کمال طریقے سے یہ لکھا ہے اور میرا اس سال کا سب سے بہترین کتاب بھی یہی ہے۔
اگلے سال بھی بہت ساری کتابیں ہیں جو پڑھنی ہیں اور بہت کچھ لکھنا بھی ہے۔

