کوڈک کی داستان: کامیابی کی معراج سے ناکامی کی گہرائی تک


میں نے خود جو پہلا کیمرہ استعمال کیا وہ والد صاحب کا کیمرا تھا وہ کینن کمپنی کا تھا لیکن اس میں جو ریل ڈلتی تھو وہ کوڈک یا ایگفا کی تھی 1985۔ 86 کی بات ہے ہم لیبیا میں رہتے تھے والد صاحب کیمرہ لے کر آئے کیمرہ رول میں 36 یا غالباً 38 تصویریں ہوتی تھی بہت احتیاط سے استعمال کرنا پڑتا تھا۔ بہت احتیاط کرنی پڑتی تھی اگر کیمرہ استعمال کرتے ہوئے غلطی سے بھی کیمرہ رول کا حصہ کھل گیا اور رول آویزاں ہو گیا تو سارا رول خراب ہوجاتا تھا۔

اس لئے کوڈک کے ساتھ کافی یادیں وابستہ ہیں بحیثیت بزنس کنسلٹنٹ اور سیلز کوچ کے جب میں کوڈک یا ایسے برانڈز دیکھتا ہوں تو اس کو جاننے کا اشتیاق بڑھتا ہے کہ ایسا کیا ہوا اِن کمپنیز کے ساتھ، ایسی کون سی غلطی ہوئی کہ یہ اتنی بڑی کمپنیاں آج منہدم ہی ہو گئیں یا انتہائی کمزور ہو گئیں۔ حضرت لقمان کا وہ مشہور جملہ یاد آتا ہے جب ان سے کسی نے پوچھا: ”آپ نے اتنی عقل کہاں سے حاصل کی؟“ تو انہوں نے فرمایا:

”میں نے یہ عقل بے وقوفوں سے سیکھی، کیونکہ جو وہ کرتے تھے، میں وہ نہیں کرتا تھا۔“

کہانی شروع ہوتی ہے 1888 میں، جب ایک نوجوان بزنس مین، جارج ایسٹ مین نے ”ایسٹ مین کوڈک کمپنی“ کی بنیاد رکھی۔ کوڈک نے فوٹوگرافی کی دنیا میں انقلاب برپا کیا، جہاں کیمروں کو عام لوگوں کی پہنچ میں لایا گیا۔ اس وقت فوٹوگرافی ایک مشکل اور مہنگا عمل تھا، لیکن کوڈک نے ”آپ بٹن دبائیں، ہم باقی کریں گے“ کے وعدے کے ساتھ لوگوں کی زندگیاں بدل دیں۔

عروج: کوڈک کا سنہری دور

کوڈک نے نہ صرف فوٹوگرافی کو آسان بنایا بلکہ ایک ایسی کمپنی بن گئی جو عالمی معیار کی پہچان تھی۔ 20 ویں صدی کے دوران، کوڈک فوٹوگرافی کا مترادف بن گیا۔ اس کے پروڈکٹس کا معیار، ان کی رسائی، اور ان کی برانڈنگ نے اسے ہر گھر میں جگہ دی۔ 1976 تک، امریکہ میں بیچی جانے والی 85 % کیمرا فلمز اور 90 % کیمروں پر کوڈک کا قبضہ تھا۔ کوڈک کے سلوگن، ”کوڈک مومنٹز“ نے فوٹوگرافی کو نہ صرف ایک تکنیکی عمل بلکہ جذبات کے اظہار کا ذریعہ بنایا۔

کوڈک کے عروج کے دوران، یہ دنیا بھر میں ایک بہت بڑی کمپنی تھی جو فوٹوگرافی اور فلم کے شعبے میں راج کر رہی تھی۔ یہاں کوڈک کے چند اہم حقائق اور اعداد و شمار درج کیے گئے ہیں :

کوڈک کے کاروباری نیٹ ورک کا پھیلاؤ 150 سے زائد ممالک میں تھا۔ یہ اپنے وقت کی سب سے بڑی اور مضبوط عالمی کمپنیوں میں شامل تھی، خاص طور پر امریکہ، یورپ، ایشیا، اور افریقہ میں اس کا گہرا اثر تھا۔ 1990 کی دہائی میں، کوڈک کے بزنس کا کل والیم تقریباً $ 16 بلین ڈالر تھا۔ جبکہ پاکستان کا اس دور کا بجٹ 14 بلین ڈالر تھا یعنی کوڈک کا والیم پاکستان کے بجٹ سے بھی زیادہ تھا۔ 1996 میں، کوڈک نے 2.5 بلین ڈالر کے منافع کے ساتھ اپنی سب سے بڑی کامیابی دیکھی، جو اس وقت فوٹوگرافی کی صنعت کے لیے ایک بڑی رقم تھی۔ کوڈک کی مارکیٹ کیپٹلائزیشن 1990 کی دہائی میں تقریباً $ 31 بلین تک پہنچ گئی تھی۔

اپنے عروج کے دنوں میں، کوڈک کے پاس 145,000 ملازمین تھے۔ یہ تعداد اس وقت کی دوسری بڑی کمپنیوں جیسے IBM اور Ford سے موازنہ کرنے کے قابل تھی۔ کوڈک کے پاس دنیا بھر میں 100,000 سے زائد ڈسٹری بیوٹرز اور ریٹیل پارٹنرز تھے۔ یہ نیٹ ورک نہ صرف فوٹوگرافی کے پروڈکٹس بلکہ پرنٹنگ اور فلم پروڈکشن کے سامان کی ترسیل میں بھی شامل تھا۔

کوڈک کے پاس 60 سے زائد ممالک میں پروڈکشن فسیلٹیز تھیں۔ یہ فیکٹریاں کیمیکل، فلم رولز، اور کیمروں کی تیاری میں مہارت رکھتی تھیں، خاص طور پر امریکہ، میکسیکو، اور یورپ میں۔ 1990 کی دہائی کے وسط تک، کوڈک کا مارکیٹ شیئر 80 % سے زائد تھا، جو اسے فوٹوگرافی کی صنعت میں غالب بناتا تھا۔ امریکہ میں، ہر 10 میں سے 8 گھروں میں کوڈک کا کوئی نہ کوئی پروڈکٹ ضرور ہوتا تھا۔

کوڈک کے زوال کے دوران، اس کا مارکیٹ شیئر 2000 کی دہائی کے اوائل میں 49 % رہ گیا۔ اس کے بڑے حریفوں میں سونی، کینن، اور فوٹوفنیشنگ کمپنیز شامل تھیں، جو ڈیجیٹل انقلاب میں زیادہ آگے نکل گئیں۔ 2003 سے 2012 کے درمیان، کوڈک کو $ 1 بلین ڈالر سے زائد کا مجموعی نقصان ہوا۔ 2012 میں دیوالیہ ہونے کے وقت، کوڈک کے پاس تقریباً $ 6.8 بلین ڈالر کا قرض تھا۔

ایک وقت میں، کوڈک کے پاس 1,000 سے زائد پیٹنٹس تھے، جو اس کی تکنیکی برتری کو ظاہر کرتے ہیں۔ کوڈک کا ”Kodachrome“ فلم رول فوٹوگرافی کی تاریخ کا ایک اہم حصہ سمجھا جاتا ہے۔ کوڈک کے ایک انجینئر، اسٹیو ساسن نے 1975 میں دنیا کا پہلا ڈیجیٹل کیمرا بنایا تھا، لیکن اسے کبھی مارکیٹ میں لانچ نہیں کیا۔ لیکن یہ ایجاد کمپنی کے لیے باعث افتخار بننے کے بجائے تباہی کا پیش خیمہ بن گئی۔ کوڈک کی انتظامیہ نے اس ڈیجیٹل کیمرے کو نظر انداز کیا، کیونکہ وہ اپنے فلم بزنس پر انحصار کر رہے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ ڈیجیٹل فوٹوگرافی ان کے منافع بخش فلم بزنس کو ختم کر دے گی۔

اسی دوران، دیگر کمپنیاں جیسے سونی اور کینن نے ڈیجیٹل کیمرے کے رجحان کو اپنایا اور مارکیٹ پر قبضہ کر لیا۔ 1990 کی دہائی تک، ڈیجیٹل فوٹوگرافی نے روایتی فلم انڈسٹری کو پیچھے چھوڑ دیا۔ 2012 میں، کوڈک کو دیوالیہ قرار دینا پڑا۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کوڈک کیوں ناکام ہوا؟ اس کی ایک ہی وجہ نظر آتی ہے جدت کو نظرانداز کرنا کوڈک نے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کو اپنانے میں تاخیر کی، حالانکہ وہ اس کے موجد تھے۔ کمپنی نے اپنے منافع بخش فلم بزنس کو بچانے کے لیے جدیدیت کو قربان کر دیا۔ ایک اور بنیادی وجہ بنی کوڈک کی تباہی میں وہ ہے مارکیٹ کی ضرورت کو نہ سمجھنا صارفین کی بدلتی ہوئی ترجیحات کو نظرانداز کیا گیا، جبکہ حریف کمپنیاں ان کی ضروریات کو پورا کرتی رہیں۔

چاہے آپ کوتاہی کہیں یا جان بوجھ کر کی جانے والی غلطیاں جب بھی کوئی کمپنی تباہ ہوتی ہے سب اس کی قیادت کو ہی ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ انتظامیہ نے وقت پر صحیح فیصلے نہ کیے اور موقعوں کو ضائع کیا۔ اس سب میں طلبا، کاروباری حضرات، اور ماہرین کے لیے اہم پیغام ہے کہ ہمیشہ جدت کو اپنانا چاہیے خصوصاً مارکیٹ کی بدلتی ضروریات کو سمجھنا اور نئی ٹیکنالوجیز کو اپنانا کامیابی کی کنجی ہے۔ موجودہ کامیابی پر انحصار نہ کریں کسی بھی بزنس کی موجودہ کامیابی ہمیشہ قائم نہیں رہتی۔

نئے رجحانات کو اپنانا ضروری ہوتا ہے۔ صارفین کی ضرورت کو اولین رکھیں کسٹمرز کی بدلتی ضروریات پر نظر رکھنا اور ان کے مطابق خود کو ڈھالنا ہر بزنس کی کامیابی کے لیے لازمی ہے۔ قیادت کا وژن ہی وہ اہم چیز ہے جو کسی کمپنی کو آسمان تک یا زمین پر پہنچا سکتی ہے۔ ایک بہترین قائد وہی ہوتا ہے جو اپنی ٹیم کو مستقبل کی طرف لے کر جائے، نہ کہ صرف ماضی کی کامیابیوں پر اکتفا کرے۔

زمانہ بڑے شوق سے سن رہا تھا
ہمیں سو گئے داستاں کہتے کہتے

کوڈک کی کہانی ہمیں یہ یاد دلاتی ہے کہ کوئی بھی کامیابی ہمیشہ کے لیے نہیں ہوتی۔ وقت کے ساتھ نہ چلنا اور مارکیٹ کی ضروریات کو نظرانداز کرنا کسی بھی کامیاب بزنس کو ناکامی کی طرف لے جا سکتا ہے۔ کوڈک کے زوال کا ایک اہم سبق یہ ہے کہ جدت، صارفین کی ضروریات، اور وقت پر صحیح فیصلے بزنس کی کامیابی کے لیے نہایت ضروری ہیں۔

تو اگر آپ کاروباری ہیں، سیلز پروفیشنل ہیں، یا طالب علم ہیں، تو یہ وقت ہے اپنے شعبے میں آنے والی تبدیلیوں کو سمجھنے اور ان کے مطابق خود کو ڈھالنے کا۔ کامیابی کا راز یہ ہے کہ ہمیشہ سیکھتے رہیں، بدلتے رہیں، اور آگے بڑھتے رہیں۔

Facebook Comments HS