روگ کی دھوپ(افسانہ)
بے درو دیوار کے آنگن میں ایک چھوٹے سے کمرے میں ایک دس، بارہ سال کا لڑکا اپنی ماں کے ساتھ زندگی گزار رہا تھا۔ ایک برس پیشتر باپ کے سائے نے سرد گرم ہوا سے دونوں ماں بیٹے کو اپنی محبت اور شفقت کی چادر میں چھپا رکھا تھا۔ یہ بے کواڑ کمرے نے بھی انھیں ہر خوشی دے رکھی تھی۔ یہی چھوٹا سا کمرہ ان کے لیے محل تھا۔ اس کی فصیل باپ کی غیرت اور زینت ماں کی حیا تھی۔ آمدنی کیا تھی؟ بس دو وقت کی روٹی وہ بھی بڑی مشکل سے میسر تھی۔ ماں بیٹے کو کسی اور چیز کی پرواہ نہ تھی مگر پیٹ کی آگ بجھانے کی فکر ضرور تھی۔ جب سے باپ اس دنیا سے دوسری دنیا کے سفر پر چلا گیا تھا تو ماں بیٹے کو زمانے کی تلخیوں کا سامنا کرنا پڑا تو پتہ چلا کہ وہ شخص جو چھوڑ کر چلا گیا وہ کتنا اہم تھا۔
ماں گہری سوچ میں چادر کا پلو منھ پر ڈالے آنکھوں سے چھلکتے آنسوؤں کو روکنے کی ناکام کوشش کر رہی تھی کہ بیٹا اسے روتا نہ دیکھ لے۔ سوچنے لگتی ہے کہ، ”عورت بھی کیا عجیب مخلوق ہے۔ زندگی میں دکھوں کے کتنے ہی جھکڑ، دھوپ کی تپتی کرنیں یا طوفان اس کے دل و دماغ سے گزریں وہ اپنی اولاد کو اس سے دور ہی رکھتی ہے۔ وہ ہر مشکل خود جھیل کر اسے آسانی فراہم کرنے کے لیے کوشاں رہتی ہے۔“ سوچتے اس کے کانوں پر آواز پڑتی ہے تو منہ سے چادر ہٹاتے بیٹے کی طرف دیکھتی ہے۔
”اماں، اماں مجھے بھوک لگی ہے، روٹی نہیں پکی ابھی تک؟“
آنسو صاف کرتے ہوئے ماں نے بیٹے کی طرف دوبارہ دیکھا اور بولی:
”میری جان! میں ابھی پکا دیتی ہوں، تمھیں بھوک لگی ہے؟“
بیٹا ہاں میں سر ہلاتا ہے۔ ماں اٹھی اور ٹین کے ڈبے کو جھاڑا تو اس میں سے ایک مٹھ آٹا نکلا، وہی اس نے گوندھا اور چھوٹی چھوٹی لکڑیاں جلا کر روٹی پکا کر بیٹے کو آواز دی۔
”آ جا چندو بیٹا! روٹی کھا لے“
بیٹا آتے ہی کہتا ہے، ”اماں سالن نہیں؟“
” نہیں بیٹے“ الفاظ ماں کا گلا چیر کر نکلتے ہیں۔
”روٹی کس کے ساتھ کھاؤں؟
بیٹے کے سوال نے ماں کی آنکھیں گیلی کر دیں۔ وہ وہاں سے اٹھ کر کچھ لینے کے لیے گئی۔ کافی تلاش کے بعد اسے ایک چھوٹا سا پیاز ملا، وہ چھیل کر بیٹے کو دیا، بیٹے نے ماں کی بے بسی دیکھ کر سر جھکا لیا اور پیاز کے ساتھ روٹی کھا کر باہر بچوں کے ساتھ کھیلنے چلا گیا۔
ماں روز باہر کام ڈھونڈنے جاتی لیکن جہاں بھی کام کرنے جاتی اسے غیر مردوں کی نظریں کھا جاتیں تھیں۔ وہ شوہر کا سوچ کر رو دھو کر شکر ادا کرتی اور بیٹے کو دیکھ کر ایک امید دل میں جگائے دن گزار رہی تھی کہ یہ ہی غربتوں کے روگ کی دھوپ میں سایہ اور ہر درد کا علاج بنے گا۔
بیٹا بھی ماں کی بے بسی دیکھ کر دکھ محسوس کر لیتا تھا۔ اپنی عمر کی نسبت ذہنی طور پر زیادہ سنجیدہ سوچنے لگا تھا۔ ایک دن ماں کو بتائے بنا ہی ایک قریبی گاؤں میں کام کی تلاش میں نکلا۔ کچھ آگے بڑھا تو ایک کھلے میدان میں لوگوں کا ہجوم دیکھا۔ بھاگ کر وہاں گیا دیکھا کہ ایک شخص سائیکل پر سوار کچھ کرتب دکھا رہا تھا ساز بھی چل رہے تھے۔ لوگ لطف اندوز ہو رہے تھے۔
”شام کو یہ سائیکل والا قبر کے اندر دفن ہو گا اور گھنٹوں بعد اسے گاؤں کا چودھری نکال کر انعام دے گا۔“ ایک لڑکے نے دوسرے سے کہا۔
”تو یہ مر نہیں جائے گا؟“ چندو نے ان کی باتیں سن کر پوچھا۔
”پتہ نہیں“ ایک لڑکے نے جواب دیا۔ چندو نے ٹھان لی کہ وہ ضرور دیکھے گا یہ دلچسپ کھیل۔ وہ گھر جاتے ہوئے سوچ رہا تھا، ”میں بھی اگر یہ کام کرنے لگوں اور کرتب دکھاؤں تو میری ماں کو بھی کچھ مالی مدد اور ذہنی سکون مل جائے گا۔“ یہ سوچتے سوچتے گھر جا کر ماں کے ساتھ گھر کا کام کروانے لگا۔ اس نے روٹی کھانے کے لیے بھی نہیں کہا تھا۔ اسے ایک امید تھی کہ وہ اپنی والدہ کے لیے کچھ کرے گا۔ سر شام وہ ماں کو بتائے بنا ہی اسی گاؤں کی طرف چل پڑا جہاں سائیکل سوار نے خود کو قبر کے اندر اتارنا تھا تا کہ اس کے اس ہنر کو گاؤں والے سراہیں اور بھاری انعام سے نوازیں۔
چندو تیز تیز قدم بھرتا ہوا وہاں پہنچا۔ ایک ہجوم تھا لوگوں کا ۔ ایک خالی قبر نما گڑھا کھودا گیا تھا۔ سب بہت پر جوش تھے۔ قبر میں سے کیسے زندہ نکلے گا یہ شخص؟ جو ایک ہفتے سے سائیکل پر ہی اپنے سارے کام کرتا اور کرتب دکھا رہا تھا۔ ایک جھونپڑی میں اپنا مختصر سامان رکھے ایک بوڑھے بابے اور ایک چھوٹے سے لڑکے کے ساتھ گاؤں والوں کو ہر روز نئے نئے کرتب دکھا کر محظوظ کر رہا تھا۔ آج آٹھواں دن تھا۔ اس دن آخری ہنر جو اس نے کچھ گھنٹے قبر میں خود کو بند کر کے باہر زندہ سلامت نکل کر خود کو ثابت کرنا تھا کہ وہ کتنا بڑا کلاکار ہے۔
ہر شخص متجسس تھا۔ چودھری کا انتظار کیا تھا۔ ابھی قبر میں اترا ہی تھا۔ اوپر سے لکڑی کے پھٹے جوڑ کر مٹی ڈالی جا رہی تھی کہ پولیس آ گئی اس نے اسے قبر میں بند ہونے سے روک دیا۔ ڈانٹ ڈپٹ کی اور چودھری نے سائیکل سوار کی پو لیس سے جان چھڑا دی۔ آٹھ دن تک جو وہ گاؤں والوں کو خوش کرتا رہا تھا۔ اس کو چودھری نے ایک گائے اور کچھ رقم دے کر گاؤں سے جانے کے لیے کہا۔ سائیکل سوار کا چھوٹا سا قافلہ دوسرے علاقے کی تلاش میں چل پڑا۔ چندو بھاگ کر سائیکل سوار کے پاس گیا۔
”چاچا آپ مجھے بھی یہ کام سکھائیں گے؟ میں بھی سائیکل چلا لیتا ہوں۔“
”بہت مشکل کام ہے۔ کیسے کرے گا تو ، ابھی بہت چھوٹے ہو“ اس نے سر پر ہاتھ پھیر کر کہا۔ لیکن چندو کو تو یہی کام سیکھنا تھا۔ اس نے ضد کی تو اس سائیکل سوار نے ہامی بھر لی۔
”اچھا کل سے میرے پاس قریب والے دوسرے گاؤں آجانا۔ اور اپنے اماں ابا کو ضرور بتا کر آنا“
چندو کی آنکھوں میں ایک امید کی کرن جاگی اور کہا:
”ابا تو ہے نہیں اماں کو بتا دوں گا“
چندو بھاگا ہوا اپنی ماں کے پاس گیا تو اس نے پوچھا۔
”کہاں گئے تھے؟ اتنی دیر لگا دی شام سے پہلے واپس آ جایا کر ، مجھے تیری فکر رہتی ہے“
”آپ میری فکر نہ کیا کریں۔ میں اب بڑا ہو گیا ہوں“ کچھ سوچتے ہوئے بولا۔
”نہیں ہے بڑا چندو“ ماں نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا۔
”اماں میں نے ایک کام ڈھونڈ لیا ہے۔ کل سے میں وہاں جایا کروں گا۔ اب ہمارے دن بھی اچھے ہو جائیں گے۔“
ماں نے پر نم آنکھوں سے اسے دیکھا اور پیار سے گلے لگایا اور کچھ کہہ نہ سکی۔ دوسرے دن صبح سویرے چندو سائیکل سوار کے پاس گیا۔ وہ دن بھر اس سے چھوٹے چھوٹے کام کرواتا اور کبھی کبھی سائیکل پر سواری بھی کرنے دیتا۔ ایک سال تک چندو ایسے ہی اس سائیکل سوار کے ساتھ مختلف قریبی گاؤں میں لگا رہا۔ سائیکل سوار اسے روزانہ کچھ پیسے دے دیتا تھا جس سے چندو اور اس کی ماں گزارا کر رہے تھے۔ اب چندو بھی سائیکل پر ہی کئی کئی گھنٹے گزار لیتا تھا۔ بچہ ہونے کی وجہ سے سائیکل والے کی آمدنی میں اضافہ ہو گیا تھا۔ لوگ خوش ہو کر روز پیسے دیتے تھے۔ سائیکل سوار بھی خوش تھا۔ وہ اب اسے پیسے بھی زیادہ دینے لگا تھا۔ ماں بیٹا بہت خوش تھے۔
گندم کی کٹائی ہو چکی تھی۔ مئی، جون کا مہینا تھا۔ چندو نے سائیکل سوار سے کہا۔
”چاچا! میں اب سائیکل چلاؤں گا تو قبر میں بھی لیٹوں گا اور جب میں زندہ نکلوں گا تو بہت سے پیسے ملیں گے اور ہم امیر ہو جائیں گے“
سائیکل سوار کچھ سوچتے ہوئے بولا۔
” گرمی بہت ہے پتر! قبر میں بند ہونا آسان کام نہیں ہے، جان کا خطرہ ہے“
”نہیں چاچا، میں نے سانس روکنے کی بہت مشق کی ہے۔ میں کامیاب ہو جاؤں گا دیکھ لینا میں زندہ ہی نکلوں گا“
چندو نے ضد کی تو سائیکل سوار بھی مان گیا۔ ایک قریبی گاؤں میں وہ آٹھ دن تک ایک جھونپڑی لگا کر وہاں رہنے لگے چندو دن رات سائیکل پر ہی رہتا اس پر ہی اپنے سارے کام کرتا تھا۔ چندو اس دن کا شدت سے انتظار کر رہا تھا جس دن اس نے زندہ قبر میں لیٹنا تھا۔ وہ دن بھی آ گیا۔ منادی کرا دی گئی کہ آج سائکل سوار قبر میں لیٹے گا اور چودھری کے آنے پر ہی اسے باہر نکالا جائے گا۔ عصر کے وقت لوگوں کا ایک جم غفیر تھا۔ ہر طرف سے نعرے اور سرگوشیاں سنائی دے رہی تھیں۔ آج چندو کا بہت بڑا امتحان تھا۔ قبر نما گڑھا کھودا جا رہا تھی کہ چندو کو اپنی ماں اور باپ کا چہرہ نظر آ رہا تھا۔ جتنا وہ پرجوش تھا اس میں آہستہ آہستہ کمی آتی گئی۔ اسے لگ رہا تھا وہ سچ مچ اس دنیا سے رخصت ہو رہا ہے۔ یک دم اسے ماں کا خیال آیا۔
”اماں مجھے معاف کر دینا“ یہ الفاظ اس کی زبان سے جاری ہوئے اور دھیمے قدموں سے قبر کی طرف بڑھا اور اس میں اتر کر لیٹ گیا۔ آنکھیں بند کر لیں۔ اوپر سے لکڑی کے پھٹے جوڑے جا رہے تھے اور چندو کی سانسیں مدھم ہوتی جا رہی تھیں۔ اب مکمل قبر بند ہو گئی تھی۔ سب چودھری کا انتظار کرنے لگے تھے۔ ایک گھنٹہ گزر گیا چودھری ایک جانور گندم کی چند بوریاں اور پچاس ہزار روپے لے کر آ یا۔ ہر شخص کے دل کی دھڑکن تیز ہو رہی تھی۔
مٹی کا ڈھیر آہستہ آہستہ اوپر سے اتارا جا رہا تھا۔ جیسے جیسے مٹی اتر رہی تھی ہر شخص کا کان چندو کی آواز سننے کے لیے بے تاب تھا۔ مٹی ساری اتر گئی لکڑی کے تختے ایک ایک کر کے اتار دیے گئے لیکن چندو کی آواز نہ آئی۔ وہ بے ہوش تھا یا اس کی سانس بند ہو گئی تھی یہ پتہ لگانے کے لیے سائیکل سوار نے چندو کو زور زور سے آوازیں دینا شروع کیں :
”آٹھ! چندو چودھری تیرے لیے جانور، گندم کی بوریاں اور پچاس ہزار لایا ہے۔ لے لو چودھری سے“ سائیکل سوار کی فضا میں گونجتی اور تڑپتی آواز جون جولائی کی شدید گرمی سے زیادہ شدید تھی۔ چندو، چندو۔ ۔


