بنکاک: فرشتوں کی بستی (5)۔


DR INAM UL HAQ GHAZI

تھائی لینڈ میں سلطنت عثمانیہ کی باز گشت:

تھائی لینڈ بالعموم اور ”فرشتوں کی بستی“ میں مساج سنٹرز، رقص و سرود کی آماج گاہوں جیسے بے شمار مراکز ہیں جن کے بارے میں پاکستان میں رہتے ہوئے بھی علم میں کافی اضافہ ہوتا رہتا ہے، تاہم ہم نے جب ”پنوں“ کے منہ سے ٹرکش باتھ کا لفظ سنا تو ذرا حیرت ہوئی۔ ٹرکش باتھ پر اس نے جو بے تکان اور بے تکلف گفتگو کی اس کے بارے میں ہم اپنے جچے تلے انداز میں بتائیں گے۔ انہیں ٹرکش باتھ اس لئے کہا جاتا ہے کہ یہ تصور عثمانی سلطنت کے دور کے میں پائے جانے والے گرم حماموں سے لیا گیا تھا اور پھر اسے انگریزی کی سکرٹ پہنا دی گئی اور اس میں وقت گزرنے کے ساتھ مزید کئی اور مشاغل شامل کر دیے گئے۔

ٹرکش باتھ کے بارے میں پنوں کی گفتگو کو بعینہ یہاں نقل نہیں کر سکوں گا کیونکہ اس کی ایک وجہ تو ہمارا چھوٹا سا ذہن ہے جو بات کو پوری طرح سمجھ ہی نہیں سکا، دوسری وجہ خوف ِ فسادِ خلق ہے۔ بیان کیا گیا کہ جب کوئی وہاں جاتا ہے تو سب سے پہلے خدمات کی فہرست جسے ہم  مینیو کہہ سکتے ہیں میں سے اپنی جیب اور حیثیت کے مطابق انتخاب کیا جاتا ہے۔ سب سے پہلے معاوضہ ادا کرنا ہوتا ہے، پھر منتخب شدہ خدمات اور سہولیات مثلاً مساج اور پھر وغیرہ کی فراہمی کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔

ہر عمل کو ایک مرحلے کے انداز میں سرانجام دیا جاتا ہے۔ یعنی جب ایک مرحلہ ختم ہوتا ہے تو اگلے مرحلے کے لوگ گاہک کو اپنی آغوش میں یا پھر تحویل میں لے لیتے ہیں اور اپنا کام کر کے اگلے مرحلے کی ٹیم کے سپرد کر دیتے ہیں۔ الوداع بھی ایک باقاعدہ آخری مرحلہ ہوتا ہے کہ گاہک کو بڑے پیار سے، شاندار انداز میں تزک و احتشام کے ساتھ ایسے رخصت کیا جاتا ہے جیسے کوئی میدانِ جنگ مار کر آ رہا ہو۔ یہاں بہرحال جار ہا ہو زیادہ مناسب ہے۔

آخری مرحلے کی پنچ لائن وہ ٹپ ہوتی ہے جو اپنے گاہک کی جیب سے نکالنا ہوتی ہے۔ پنوں نے بتایا کہ ٹرکش باتھ میں داخل ہونے کا راستہ الگ اور الوداعی دروازہ مکمل طور پر الگ تھلگ ہوتا ہے اور عموماً باتھ کے پچھواڑے میں ہوتا ہے۔ پنوں نے تو اور بھی بے شمار تفصیلات دی تھیں جنہیں ہم نے ”فرشتوں کی بستی“ کے راز سمجھ کر اپنے سینے میں محفوظ کر لیا۔

بدھ مت کے پیشوا یہ کام بھی کرتے ہیں :

ہمیں بتایا گیا کہ بنکاک میں ایک ایسا بینک ہے جو صرف مکان کی تعمیر کے لئے سرمایہ فراہم کرتا ہے۔ چند سال قبل یہ بینک شدید مالی مشکلات کا شکار ہو گیا۔ اُس کے مالکان اور کرتا دھرتا بدھ مت کے پیشواؤں کے پاس فریاد لے کر گئے اور ان سے مدد کی اپیل کی۔ اس کوشش کا مثبت نتیجہ نکلا اور ان مذہبی پیشواؤں نے ایسی کوششیں کیں کہ بینک مالی مشکلات سے نکل گیا۔ مجھے گمان ہے کہ بینک کے ساہوکاروں نے ہی ان مذہبی پیشواؤں کو وہ طریقے اور داؤ بتائے ہوں گے جن کی مدد سے انہوں نے اپنا اثر و رسوخ استعمال کیا ہو گا۔ ساتھ ساتھ اس سارے قصے میں کچھ ترغیبات ان کے لئے بھی رکھی ہوں گی! واللہ اعلم بالصواب۔

تھائی لینڈ میں عورت راج اور اس کا راز:

ہم نے پہلے ہی دن سے محسوس کیا اور پھر گہرا مشاہدہ کیا کہ تھائی لینڈ میں ہر جگہ عورتیں کام کرتی دکھائی دے رہی ہیں۔ دکانوں پر، ریسٹورنٹس میں، ہوٹل میں، اسٹالز پر، غرض کہ جہاں جہاں ہماری نظر پڑی ہمیں عورت راج ہی دکھائی دیا۔ یہ دیکھ کر مجھے شوکت صدیقی کا ناول ”خدانخواستہ“ یاد آ گیا جس میں عورتوں کا معاشرے میں غلبہ اور مردوں کو گھروں تک محدود کر دیا گیا ہے۔ ہمارا یہ تاثر شاید قائم رہتا مگر ہمارے ایک ساتھی نے اس بابت پوچھا تو راز کھلا کہ تھائی لینڈ میں مرد ”معمولی“ کام کرنا پسند نہیں کرتے۔ وہ بڑے بڑے ذہنی کام سرانجام دیتے ہیں۔ وہ عموماً انجینئر، ڈاکٹر، سائنسدان، پروفیسر اور بڑے بڑے اداروں کے سربراہ ہوتے ہیں۔ جب پُنوں اس سوال کا جواب دے رہا تھا تو ہمیں اس میں وہ چھپی ہوئی مردانگی دکھائی دی جو دراصل ہر مرد میں ہوتی تو ہے مگر آج کل کے کچھ مرد عورت کے خوف سے یا اپنے کسی منفی یا مثبت منصوبے کی خاطر اکثر چھپائے رکھتے ہیں!

سیاحت کے فروغ کا ایک اور طریقہ:

”ہواہن“ جاتے ہوئے ہم نے راستے میں کچھ تھیم پارکوں کا سڑکی معائنہ کیا۔ ہمیں سویٹزر لینڈ، اٹلی اور مراکش کے تھیم پارک دکھائی دیے۔ ہمیں بتایا گیا کہ تھائی لینڈ میں اس طرح کے 40 تھیم پارک ہیں، ہر ایک پارک کو نمائندہ ملک کی مشہور عمارتوں، ثقافت اور مصنوعات سے مزین کیا گیا ہے۔ ”ہواہن“ سے واپسی پر ہمارے اصرار پر ہمیں اطالوی تھیم پارک میں جانے کا موقع ملا۔ اگرچہ میں نے اُس وقت تک اٹلی نہیں دیکھا ہوا تھا تاہم اس کے اندر گھومتے ہوئے بڑے واضح انداز میں محسوس ہوا کہ ہم کسی اور ملک میں آ گئے ہیں جس کا طرزِ تعمیر، ماحول، ثقافت، مصنوعات غرض کہ ہر چیز مختلف ہے۔ اٹلی کی مشہور عمارتیں، رنگ، سڑکیں اور نہ جانے کیا کیا تھا کہ جب تک وہاں رہے، وہیں کے رہے۔ کیا ہم اس آئیڈیے سے کچھ سیکھ سکتے ہیں؟ سیکھ تو سکتے ہیں مگر لگتا ہے کہ سیکھنا چاہتے نہیں!

ایشیا کا زیر تعمیر واٹر جنگل، چشم ِتصور سے :

”ہواہن“ میں ہی، جیسا کہ ہمیں بتایا گیا، ہم نے ایشیا کا سب سے بڑا زیرِ تعمیر واٹر جنگل ایسے دیکھا کہ ہم گاڑی پر محوِ سفر تھے اور جنگل کا بیرونی حصہ دور سے دکھائی دے رہا تھا اور پُنوں کی ماہرانہ کمنٹری جاری تھی۔ ہم اس دوران چشم ِتصور سے جنگل کے اندر گھس گئے، جھیلیں، پگڈنڈیاں، پرندے، جانور، مچھلیاں، درندے، درخت ہی درخت، اندھیرا ہی اندھیرا، کہیں منظر حقیقی اور کہیں ورچوئل، کہیں خوبصورت، کہیں خوفناک، کہیں جنت نما اور کہیں اپنے گناہوں کو یاد کرا دینے والا منظر تھا۔

پرندوں کی چہچہاہٹ، درندوں کی غراہٹ، جانوروں کی بولیاں اور نہ جانے ایسا کیا کیا دیکھا جو شاید اُس میں تھا اور نہ ہو گا۔ ہم اپنی اس تصوراتی سیر میں گم تھے کہ پُنوں نے ایک انتہائی خشک موضوع پر گفتگو شروع کر دی۔ اُس کی ایسی گفتگو کو میں اور منیر احمد ”ہوں ہاں“ کر کے زہر مار کر لیا کرتے تھے، تاہم پیارے اظہر کی بات کچھ اور تھی۔

بنکاک واپسی کا بگل:

پنوں کی خشک موضوع پر گفتگو کی تان اس وقت ٹوٹی جب اُس نے اعلان کیا کہ ہماری منزل بنکاک کا مشہور علاقہ سی لوم ہے۔ اس علاقے کا ہم سڑکی دورہ پہلے کر چکے تھے۔ سی لوم کا معنی Wind Mill ہے۔ شاید پرانے زمانے میں یہاں ونڈ مل لگی ہو جس کی وجہ سے اس کا یہ نام رکھ دیا گیا ہو۔ یہ ہمارا خیال ہے کیونکہ جب ہم نے پنوں سے پوچھا تو اس نے پہلی بار کسی چیز کے بارے میں لا علمی کا اظہار کیا، جس پر ہمیں پہلی بار ایک کمینی خوشی محسوس ہوئی کی اِس کو بھی کچھ باتوں کا پتہ نہیں!

ہماری گاڑی فراٹے بھرتے ہوئے سی لوم کے ہوٹل بالیز اسٹوڈیو سویٹ جا پہنچی۔ ہم نے دیکھا ہے کہ واپسی ہمیشہ تیز اور تھوڑی بورنگ ہی ہوتی ہے۔ خواہ یہ واپسی سفر سے ہو، اونچائی سے ہو یا پھر کسی اور ایڈونچر سے۔ ہوٹل پہنچ کر ضروری فرائض سر انجام دیے یعنی سامان رکھا، منہ دھویا، کپڑے تبدیل کیے اور میزبان کے ساتھ اس کی ہدایت کے مطابق باہر نکل کھڑے ہوئے۔

”لڑکا لڑکی یا کچھ اور“ کی الجھن پیدا کرنے والے مراکز:

باہر نکلے تو بے شمار شاپنگ سنٹرز تھے۔ ایک میں داخل ہو گئے۔ اس کی کئی منزلیں تھیں۔ اکثر تو ہماری توجہ کا مرکز نہ بن سکیں مگر پھر پنوں ہمیں ایک اور منزل میں لے گیا، ۔ شاید ”ہوا ہن“ میں لڑکا ہے یا لڑکی کی ہماری اُلجھن کا مزید مزہ لینا چاہ رہا تھا۔ وہاں پہنچے تو دیکھا کہ بیوٹی پارلرز کی بہتات ہے لیکن ساتھ ساتھ پلاسٹک سرجری اور کچھ نہ سمجھ میں آنے والے مراکز بھی تھے۔ اس بارے میں ہمارے سوال کرنے سے پہلے ہی پنوں نے ہمیں ہواہن میں ”لڑکا ہے یا لڑکی؟“ کے میدان میں اپنی جیتی ہوئی جنگ یاد دلائی اور بتایا کہ جو آپ کو وہاں پوری طرح سمجھ نہیں آ رہا تھا یہاں آئے گا۔ بولا یہ وہ مراکز ہیں جہاں Drag Queens تیار کی جاتی ہیں۔ یعنی جنس کی تبدیلی کر کے مرد کو عورت بنا دیا جاتا ہے۔ وہ ہر طرح عورت دکھتا اور ہوتا ہے ماسوائے اس کہ وہ بچہ پیدا نہیں کر سکتا یعنی کر سکتی نہیں، بلکہ کر سکتا۔ وہاں ہم نے ”لڑکا ہے یا لڑکی؟“ کی الجھن میں ڈالنے والے کئی چلتے پھرتے نمونے دیکھے۔ سچ تو یہ ہے کہ اگر پُنوں یہاں ساتھ نہ ہوتا تو ہماری للچائی ہوئی نظریں ان پر بھی پڑنی تھیں۔ پنوٹاٹ نے ہمیں بتایا کہ اگر چہ یہ کام ایشیا کے دیگر ممالک مثلاً جاپان اور جنوبی کوریا میں بھی ہوتا ہے مگر تھائی لینڈ میں نسبتاً سستا ہونے کی وجہ سے زیادہ تر لوگ یہاں آتے ہیں۔

”پُنوں“ کے بغیر تعلیم بالغاں کی ہماری مہم:

پنوں ہمیں اپنے تئیں محفوظ ہاتھوں میں دے کر اگلے دن کا کہہ کر جا چکا تھا۔ ہم تینوں نے سوچا کہ سہارے کے بغیر بنکاک کی گلیوں میں گھوم کر کچھ اور تعلیم حاصل کریں۔ جب رات کے سائے چھانے لگے تو ہم تینوں ہوٹل سے نکل پڑے، ہمیں اندازہ نہ تھا کہ ہوٹل سے نکلتے ہی ہماری تعلیم شروع ہو جائے گی۔ تھوڑی دور گئے ہوں گے کہ سلسلہ وار دکانوں کے بورڈ دکھائی دینے لگے۔ تھائی مساج، فلاں مساج، فلاں ڈسکو سنٹر وغیرہ وغیرہ۔ بورڈ پر میسر خدمات ایسے لکھی ہوئی تھیں کہ بظاہر ہم نے اُنہیں کن اکھیوں سے مگر بڑے اشتیاق سے پڑھنا شروع کر دیا۔

مگر یہ سلسلہ زیادہ دیر تک نہ چل سکا کیونکہ خود کو تین چار ٹیکسی ڈرائیور نما لوگوں میں گھرا ہوا محسوس کیا تو اُن بورڈز سے توجہ ہٹ گئی۔ اس گھیراؤ کی وجہ بعد میں پتہ چلی کہ کیونکہ ہم بورڈز کو غور سے دیکھ رہے تھے تو اپنی اپنی مصنوعات اور مال کی مارکیٹنگ کرنے والے ہمیں اپنا گاہک خیال کر کے ہم پر حملہ آور ہو گئے۔ ایک سے جان چھڑاتے تو دوسرا آن گھیرتا، جب ہم نے یہ تابڑ توڑ حملے دیکھے تو یہ فیصلہ کیا کہ اگر یہ بات ہے ”تو اُن سے بات کر کے دیکھتے ہیں“ ۔

میری اور اظہر کی تو سٹی گم ہو گئی تھی تاہم ہمارے جی دار ساتھی منیر احمد کا اعتماد دیکھنے کے لائق تھا۔ اس اعتماد نے ہمارے منہ میں بھی چند ایک جملہ اسمیہ ڈال دیے۔ مارکیٹنگ کرنے والے اپنے ہاتھ میں خدمات، مصنوعات اور مال کی تصویری دستاویز بھی ساتھ لئے پھر رہے تھے۔ دورانِ گفتگو ہم اِن دستاویزات کو دیکھنے کے باوجود یہی ظاہر کر رہے تھے کہ ہمیں دلچسپی نہیں ہے۔ بلکہ ہم تو کسی اور کی خدمتِ خلق کر رہے ہیں۔ یہاں میں ان مارکیٹنگ کرنے والوں کی Selling skills سے بہت متاثر ہوا۔

جذبہ بھی قابلِ دید تھا۔ پھر اپنے پیارے ساتھی منیر احمد کی شخصیت کا ایک اور پہلو بھی سامنے آیا۔ بندہ دل کا سچا، من کا سُچا اور بہادر ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مشاہدے کی گہرائی بھی رکھتا ہے۔ کافی دیر اس تعلیمی مہم میں علم کے موتی چننے کے بعد ، تھکاوٹ اور نیند کے غلبے کی وجہ سے بوجھل دل کے ساتھ، بھاری قدم اٹھائے ہوئے خراماں خراماں ہوٹل کی طرف ایسے واپس چل دیے کہ ایک قدم ہوٹل کی طرف اٹھاتے تھے تو دو قدم پیچھے چھوڑ کر آنے والے ”تعلیمی مرکز“ کی جانب پھسل جاتے تھے۔

(جاری ہے )

Facebook Comments HS