پاکستان کے خلاف ہندوستان، ایران اور افغانستان کی“ نئی ٹرائیکا
افغانی وزیرخارجہ مولوی امیر خان متقی اور ہندوستان وزیر خارجہ وکرم میسری نے دبئی میں ایک بہت ”خاص“ ملاقات کی ہے اور اس میں دونوں ملکوں کے درمیان ”تجارتی و سفارتی امور“ کے بارے اہم گفتگو کی خبر لگی اور ساتھ ہی بتایا گیا کہ ایران نے دونوں کو تجارت کے لیے اپنی چابہار والی بندرگاہ استعمال کرنے کی تجویز و دعوت دی ہے۔
یہ خبر معمولی، غیراہم اور نظرانداز کرنے والی بالکل بھی نہ ہے کیونکہ یہ تینوں ممالک پاکستان کے ہمسائے ہیں اور تینوں کی پاکستان سے نفرت اور تعصب بارے اب کھل کر حقیقت سامنے آ چکی ہے اور ایران کا بندر گاہی چابہار وہی شہر ہے جس میں ہندوستانی خفیہ ایجنسی را کا ایجنٹ کلبھوشن یادیو 9 سال بیٹھ کر بلوچستان اور پاکستان میں دہشت گردانہ کارروائیاں کرتا رہا تھا اور ایران کی اسرائیل اور امریکہ سے ”ٹکر“ لینے والی تیز طرار ایجنسیوں اور اداروں کو ”کلبھوشن یادیو نیٹ ورک“ کی مطلق ”خبر“ نہ ہو سکی تھی اور ابھی پچھلے ہی سال ایران نے ہندوستان کے وزیر خارجہ کی ”تھپکی“ کے بعد پاکستان پر میزائل داغنے کی چول بھی ماری تھی جس کا جواب اسے فی الفور اس غصیلے انداز میں دیا گیا تھا کہ ایران کی سانسیں بند ہونے کو آ گئی تھیں اور وہ ترلوں پر اتر آیا تھا اور چند دوست ممالک کی منتیں کر کے ایرانی وزیرِ خارجہ معافی تلافی کے لیے بمشکل پاکستان آ سکے تھے اور اب ہندوستان، افغانستان اور ایران کی یہ جو نئی ”ٹرائیکا“ وجود میں آئی ہے تو یہ بھی بے سبب نہیں ہے، ہندوستان نے افغانستان کی ترقی میں بھرپور کردار ادا کرنے کا وعدہ کیا ہے اور احسان فراموش افغانستان کی ہندوستان کی طرف جھکاؤ بازی عرصہ دراز سے ہے اور ایران جو طالبان کو اپنے مسلک کا دشمن گردانتا ہے کی طالبان سے بڑھتی پینگیں پاکستان کے پالیسی سازوں کی نظروں میں ہیں اور انہیں بخوبی خبر ہے کہ اس ”ٹرائیکا“ کی دبئی میں بیٹھک بازی کس کی اشیرباد سے اور کیوں ہوئی ہے؟
ایران جو خود کو طالبان کا دشمن کہتا ہے کے گھر طالبان لیڈرز پناہ لیتے ہیں اور القاعدہ فیم ”طالبان کے ڈیڈی“ اسامہ بن لادن کا بیٹا بھی اپنی بیوی کے ساتھ ایران ہی میں روپوشی پر آیا ہوا نظر آتا ہے اور گلبدین سے لے کر برہان الدین ربانی اور دیگر افغان مجاہدین بھی ایران ہی میں چھپے ہوئے تھے اور ان دنوں کے طالبان لیڈران پر بھی ایران کا ”مالی احسان“ سب کے علم میں ہے اور ایران کی منافقت یہ بھی ہے کہ چند سال قبل داعش کے بیسیوں آئل ٹینکرز ایران کی راہداریوں سے گزر کر اپنے خفیہ و علانیہ ٹھکانوں تک پہنچے تھے اور وکی لیکس کے مطابق ایران جب عراق سے لڑ مر رہا تھا تو 9 سال اسی اسرائیل سے اسلحہ لیتا رہا تھا جس کے خلاف دن رات ”مرگ بر اسرائیل“ کے نعرے لگایا کرتا تھا اور روس نواز شمالی اتحاد جس کے بڑے رشید دوستم اور احمد شاہ مسعود جیسے بھیڑیے تھے اور جنہیں پاکستان سے نفرت تھی اور ہندوستان سے بے پناہ محبت، کے ساتھ بھی ایران کے مثالی تعلقات تھے اور ان پر ہر طرح کی نوازشیں کرنا ایران کا وتیرہ تھا اور شمالی اتحادیے تو پاکستان کو زخم لگانے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے تھے۔
خیر قصہ مختصر کہ پاکستان کو اب اور بھی محتاط رہنا چاہیے کیونکہ طالبان کی نئی نسل پاکستان کو اپنا دشمن سمجھتی ہے اور سارے مسائل کی جڑ بھی اور حامد کرزئی ایک سینیئر پاکستانی سفارت کار سے کھلے لفظوں کہہ چکے کہ
”کوئی بھی افغانیوں کو خرید نہیں سکتا، ہاں آپ افغانیوں کو“ کرائے ”پر حاصل کر سکتے ہیں“
تو سن لیجیے کہ افغانی اب کرائے پر کئی ملکوں نے حاصل کر لیے ہیں اور نشانہ صرف اور صرف پاکستان ہے اور وقت ثابت کردے گا کہ پاکستان میں ہر لچ تلائی کے پیچھے اس ”نئی ٹرائیکا“ کا ہاتھ تھا، ہے اور رہے گا اور اس کے ثبوت کلبھوشن یادیو نیٹ ورک اور لیاری گینگسٹر عزیر بلوچ، اور سابق آئی جی شاہد حیات مرحوم کی ایران بارے سنسنی خیز انکشافات سے مل چکا ہے اور باقی کے شواہد بھی عام دستیاب ہیں۔


