کیا سب باپ، اصلی باپ ہیں؟
انیسویں صدی کے مشہور روسی مصنف فیودور دوستوفسکی (Fyodor Dostoyevsky) اپنے سب سے بڑے ناول دی برادرز کراموزوز (The Brothers Karamazovs) میں یہ تجویز پیش کرتے ہیں کہ ہر بیٹے کو اپنے باپ کے سامنے بیٹھ کر یہ سوالات ضرور پوچھنے چاہیے کہ میں آپ سے پیار کیوں کروں؟ ثابت کریں کہ مجھے آپ سے ہر صورت پیار کرنا چاہیے؟ ان سوالات کے پوچھے جانے کے بعد اگر باپ جذباتیت اور بائیولوجیکل کنیکشن (Biological connection) کو چھوڑ کر عقلی دلائل سے بیٹے کو وہ وجوہات بتا سکے جن کی بنیاد پر اسے اپنے باپ سے پیار کرنا چاہیے تو وہ اصلی باپ کہلوانے کا حق دار ہے۔ بصورت دیگر اس بیٹے کو اسی وقت اس رشتے اور اس خاندان سے نہ صرف آزاد ہو جانا چاہیے بلکہ اسے ان سے دشمنی کا بھی پورا پورا حق ہو جانا چاہیے۔
دوستوفسکی نے یہ تجویز اس ناول میں بیان کی گئی ایک انتہائی منفرد کہانی میں پیش کی ہے جہاں ایک بیٹا جسے پیدائش سے لے کر جوانی تک باپ کا پیار نہیں ملا۔ اپنا بیشتر بچپن اور سارا لڑکپن اسی کسمپرسی میں گزارنے کے بعد جب وہ جوانی کی حدود میں داخل ہوتا ہے تو جس لڑکی سے وہ شادی کرنا چاہتا ہے، اس کا باپ بھی اسی لڑکی سے شادی کا آرزومند ہو جاتا ہے۔ اس کشمکش میں کئی بار وہ لوگوں کے سامنے اپنے باپ کو قتل کرنے کی دھمکیاں دیتا ہے اور ایک دن اس کا باپ رات کے اندھیرے میں قتل ہو بھی جاتا ہے۔
شک اور ظاہری ثبوتوں کی بنیاد پر اس لڑکے کو گرفتار کر کے مقدمہ چلایا جاتا ہے۔ اسی مقدمہ کی کارروائی میں ملزم کا وکیل اوپر بیان کیے گئے سوالات کے تناظر میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ مقتول ملزم کا باپ نہیں بلکہ دشمن تھا (اس لئے ملزم کو اخلاقی طور پر ایک باپ کا قاتل نہیں بلکہ ایک دشمن کا قاتل سمجھنا چاہیے ) ۔
بظاہر تو یہ کہانی ایک خاص معاشرتی پس منظر (انیسویں صدی کے آ خر کے روسی معاشرہ) میں لکھی گئی ہے جس میں انسانی نفسیات، جدت پسندی، الحاد، معاشرے میں موجود جدیدیت اور قدامت پسندی کی کشمکش کو بہت تفصیل سے مختلف کرداروں کی شکل میں پیش کر کے ان سب موضوعات پہ روشنی ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے۔ لیکن اس میں موجود بہت سارے تصورات ہم سب انسانوں، اور تمام معاشروں پہ یکساں لاگو کر سکتے ہیں۔ انہی کچھ تصورات میں سے اس ناول میں دی گئی ان تجاویز پر بھی ہمیں سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔
یہ سب سوالات ہمیں خود سے بھی پوچھنے کی ضرورت ہے کہ اگر ہم ایک باپ ہیں اور اپنے بیٹوں سے اپنے لئے پیار کی خواہش رکھتے ہیں تو ہمیں یہ عقلی طور پر ثابت کرنا ہو گا کہ وہ ایسا کیوں کریں؟ اگر بطور باپ ہم یہ ثابت نہیں کر پاتے تو انہیں پورا حق ہے کہ وہ ہمیں پیار کرنے سے اور ہمارے لئے اپنے دل میں عزت رکھنے سے پوری طرح آزاد ہو جائیں۔


