غزنوی اور خواجہ :اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے


غزنوی میزائل (حتف تھری) کی تیاری 1993 ء میں شروع ہوئی۔ ابدالی (حتف ٹو) اور غوری (حتف فور) پر بھی کام شروع ہوا۔ ان میزائلوں کے ناموں کی منظوری وزیراعظم بے نظیر بھٹو نے دی۔ غزنوی اور غوری وہ افغان جنگجو تھے جنہوں نے اپنے عہد کے کئی ہندو راجاؤں کو شکست دی۔ پاکستانی میزائلوں کو ان سے منسوب کرنے کا مقصد یہ باور کرانا تھا کہ ہمارا میزائل پروگرام صرف بھارتی عزائم کے سدباب کے لئے ہے۔ غزنوی سے قبل محمد بن قاسم نے بھی ہندوستان پر حملہ کیا۔ انہیں بھی کچھ سندھی قومی پرست لٹیرا قرار دیتے ہیں۔

وزیر دفاع خواجہ آصف نے غزنوی کو بھارتی بیانیہ کے مطابق لٹیرا قرار دے کر کروڑوں دل مجروح کیے۔
دل کے پھپھولے جل اٹھے سینے کے داغ سے
اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے

خواجہ جی کے بال سفید مگر مزاج ہنوز طفلانہ ہے وہ بولتے زیادہ، سوچتے کم اور شاید پڑھتے بالکل نہیں۔ کوئی بھی ملک اپنی اہم دفاعی پراڈکٹ کو ہیرو سے موسوم کرتا ہے نہ کہ ”لٹیرے“ کے نام سے۔ غزنوی لٹیرا تھا تو پاکستان نے میزائل کا نام غزنوی کیوں رکھا؟ انتہا پسند ہندووں کے بیانیے کی ترجمانی کر کے خواجہ نے نہ صرف تاریخ مسخ کی بلکہ اپنی لاعلمی کا بھانڈا بھی بیچ چوراہے پھوڑا۔ محمود غزنوی کے علاوہ شہاب الدین غوری نے مسلم حکومت کی مرکزیت مستحکم کی، یوں برصغیر میں مسلم سلاطین کا ایک سلسلہ شروع ہوا۔ پاکستانی، غزنوی کو مثالی حکمران اور فاتح جبکہ ہندو انتہا پسند استعمار، مسلم بربریت کا استعارہ اور ہندو تہذیب کی بربادی کا بڑا سبب گردانتے ہیں۔

خرد کا نام جنوں پڑ گیا جنوں کا خرد
جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے

انگریزوں نے اپنے نوآبادیاتی دور میں تاریخ نویسی کا انداز بدلا۔ جیمز مل نے اپنی کتاب میں ہندوستانی تاریخ کو ہندو، مسلم اور برطانوی سدوار اور مذہبی طور پر تقسیم کیا۔ یہ نیا طرزِ تاریخ اس مفروضے پر مبنی تھا کہ ہندو مسلم الگ الگ قومیں اور عقائد میں متصادم ہیں۔ ایک ہزار سال سے باہم نبرد آزما تھے نوآبادیاتی راج سے ہی امن ممکن ہوا۔ علامہ اقبالؒ محمود غزنوی کو ہند میں شوکتِ اسلام کی علامت جانا۔

نہ عشق میں رہیں گرمیاں نہ وہ حسن میں رہیں شوخیاں
نہ وہ غزنوی میں تڑپ رہی نہ وہ خم ہے زلفِ ایاز میں
جو میں سر بسجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا، تجھے کیا ملے گا نماز میں

غزنی افغان صوبے خراسان کا اہم شہر اور 962 ءتا 1187 ء سلطنت غزنویہ کا دارالحکومت تھا۔ 999 ء تا 1030 ء محمود نے عادلانہ اور اعلیٰ حکمرانی کے انمٹ نقوش چھوڑے۔ ابو ریحان البیرونی بھی ان کے دربار سے وابستہ رہے۔ علامہ اقبالؒ نے 1933 ء میں نادر شاہ کی دعوت پر افغانستان کا دورہ کیا۔ قصرِ دلکشا میں نادر شاہ سے ملاقات میں اس کے ہاتھ چومے کہ آپ ایک آزاد ملک کے آزاد حکمران ہیں۔

جانم از سوزِ کلامش در گداز
دستِ او بو سیدم از راہِ نیاز

(شاہ کے ولولہ انگیز خطاب نے میری روح کو تڑپا دیا اسی لیے میں نے ان کے ہاتھ چوم لیے۔ ) علامہ اقبال نے محمود غزنوی کے مزار پر فاتحہ پڑھی اور دعائیہ خراجِ عقیدت پیش کیا۔ غزنوی کی فوج کم و بیش ایک لاکھ، عرب، غوری، سلجوق، افغان، مغلوں کے علاوہ 10 سے 15 ہزار ہندو سپاہی پر مشتمل تھی۔ ان کے ہندوستانی کمانڈر کو سپہ سالار ہندو ان کہا جاتا تھا ہندو فوجی افسروں میں بیرپال، چک ناتھ، زناش، بجے راؤ اور سوھنی راؤ شامل تھے۔

عباسی خلیفہ نے 999 ء میں محمود کو یمین الدولہ کا خطاب دیا جس سے ان کی حکومت کو یمنی سلطنت بھی کہا گیا۔ غزنوی کی شہرت ہندوستان پر 17 حملے ہیں، جن کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ موجودہ پاکستان کے علاقے ہندو راجا جے پال کے زیر نگین تھے۔ جے پال اور محمود کے والد سبکتگین 986 ءکی جنگ پشاور اور جلال آباد میں ہوئی، جس میں جے پال کی شکست نے سبکتگین کی سلطنت دریائے سندھ سے، اٹک تک وسیع کر دی۔ محمود نے حکومت سنبھالی تو پش اور تک کے علاقوں میں چھوٹی چھوٹی مہمات سے سلطنت کو مضبوط کیا۔

جے پال نے پہلی شکست کا بدلہ لینے کے لیے ایک بڑا لشکر تیار کیا۔ 1001 ء میں پش اور کے قریب جے پال اور محمود کی فوجوں کا ٹکراؤ ہوا۔ جے پال شکست کھانے کے بعد خاندان سمیت گرفتار ہوا۔ بھاری تاوان کے عوض رہائی کے بعد جے پال لاہور آیا، بعض مؤرخین کے مطابق جے پال اور اس کے بیٹے آنند پال نے بار بار معاہدوں کی خلاف ورزی پر ، حملوں اور جوابی حملوں کا سلسلہ جاری رہا۔ اسی طرح راجہ بجی راؤ، آنند پال کے بیٹے لوجن پال، راجہ گنڈا اور دیگر کے خلاف بھی معرکہ آرائیاں ہوئیں۔ محمود غزنوی کے سومنات پر حملے کا تعلق ہے تو ہم عصر مؤرخین جن میں عتبی اور بیہقی شامل ہیں، اس کا سرے سے ذکر ہی نہیں کرتے یا ایک مختصر حوالہ دے کر آگے بڑھ گئے۔

نئی تاریخ نویسی کی بنیاد پر انگریزوں کا دعویٰ تھا کہ سومنات کی تباہی نے ہندوؤں کی اجتماعی سوچ کو گہرا صدمہ پہنچایا جس نے کئی سو سال تک انہیں اذیت میں مبتلا رکھا اور وہ غلام قوم بن گئے۔ رومیلا تھاپر کہتی ہیں کہ ”حملہ آوروں کی کارروائیوں نے کسی غیر معمولی ’تاریخی صدمے‘ یا Historical Trauma کو جنم نہیں دیا۔ جس کی تکلیف دہ یاد ہندوؤں میں نسل در نسل منتقل ہوتی رہی ہو۔ توڑ پھوڑ کے یہ واقعات اہم ہوتے تو یقیناً“ کتبوں ”، مذہبی کتب اور مباحث کا بھی یہ حملہ بنیادی موضوع بنتا۔

سومنات کی زیادہ مقامی آبادی جین مت کی پیروکار تھی۔ جس کا دعویٰ تھا کہ حملہ آوروں سے مورتیاں معجزانہ طور پر محفوظ رہیں ”۔ انگریزوں کو نئی تاریخی تعبیر کی ضرورت 1840 کی دہائی کی پہلی افغان جنگ میں شکست کے باعث پیش آئی۔ 16 نومبر 1842 کو لارڈ ایلن برو نے ’دی پر وکلا میشن آف دی گیٹس‘ کے نام سے حکم نامہ میں فوج کو حکم دیا کہ وہ غزنوی کے مزار سے وہ دروازے لائے جو سومنات حملے کے بعد اکھاڑ کر غزنی منتقل کیے گئے۔

کسی تاریخی کتاب میں ایسا کوئی حوالہ موجود نہیں۔ اس اقدام کے سیاسی مقاصد میں۔ پہلی افغان جنگ میں شکست کی خفت مٹانا۔ ہندو مسلم تنازع کو ہوا دینا اور خود کو ہندو محافظ قوت باور کرانا۔ انڈیا میں بغاوت کے خدشے سے نجات پانا۔ دروازے آئے تو معلوم ہوا کہ ان دروازوں کا سومنات سے تعلق جوڑنا جھوٹ پر مبنی تھا۔ یہ معاملہ برطانوی ( 9 مارج 1843 ) پارلیمان میں بحث تک پہنچا کہ لارڈ ایلن برو نے ایسا دعویٰ کیوں کیا جو عقل و خرد سے عاری ہے۔

بالا آخر یہ کہہ کر جان چھڑائی گئی کہ ہندوؤں کے تاریخی صدمے کے مداوے کے لیے دروازے لانے ضروری تھے۔ رومیلا تھاپر کے بقول ”اس ہندو صدمے کا ذکر نہ عہدِ وسطیٰ کی کسی کتاب میں ہے نہ“ کتبے ”میں۔ اس کا انکشاف برطانوی دارالعوام میں ہوا اور انڈین تاریخ اور سیاست کا اہم جزو بن گیا۔“ ڈیوائیڈ اینڈ رول ”کے تحت ایلن برو، نے ہندوؤں اور مسلمانوں میں غلط فہمیاں اور فاصلے پیدا کرنے کے لئے محمود غزنوی کو لٹیرا ثابت کرنا چاہا۔

1857 ء کی انڈین بغاوت کے بعد کئی برطانوی مصنفین نے بھی محمود غزنوی کی کردار کشی کی۔ آج ہندو انتہا پسند مسلمانوں سے اپنی نفرت کی وجوہات بیان کرتے وقت محمود غزنوی کو لٹیرا قرار دینا نہیں بھولتے۔ 19 ویں صدی کے سیاسی تناظر میں ”ہندو ٹراما“ وجود میں آیا اور ایک نئی ہندو قومیت کی شناخت کا استعارہ بنا۔ ”ہندوتوا“ کی فکری اساس سمجھنے کے لیے تاریخی معنویت سے آشنائی ضروری ہے تاکہ ہم تاریخ کے صحیح ادراک سے اس کے سیاسی مضمرات جان سکیں اور خواجہ آصف کی طرح اول فول سے بچیں۔

Facebook Comments HS

One thought on “غزنوی اور خواجہ :اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے

  • 11/01/2025 at 9:54 شام
    Permalink

    شاید پڑھنے والوں کے لئے یہ بات دل چسپ ہو کہ
    جہاں ہندوستان میں نو مسلم جب اسلام میں ڈوب جاتے تو عقیدت سے ان لوگوں کو "شیخ” کا خطاب دیا جاتا تھا یعنی نومسلم بزرگ۔ اقبال بھی شیخ تھے۔ والد شیخ نور محمد اور بڑے بھائی شیخ عطا محمد۔
    کشمیر کے شیخ عبداللہ ہوں یا اقبال کا خاندان ان کے بزرگوں نے ہندو مت چھوڑ کر اسلام قبول کیا تھا۔

    کوئی ہزار بارہ سو سال پہلے اہل عرب یہودی اور عیسائی بزرگوں کو عزت سے خواجہ یا خاجہ کہہ کر پکارتے تھے۔ ترکی میں بھی اج تک خاجا ۔۔۔مزراہی یہودی بزرگوں کے لئے استعمال ہوتا ہے۔

    بعد میں اہل ایران اور افغانستان میں یہ صرف بزرگوں کے لئے رہ گیا۔

    اب خواجہ آصف کون سے خواجہ ہیں اس کا اندازہ ان کے بیانات، افعال اور حرکات سے ہی ہوگا۔

Comments are closed.