مخبر سیاست کا تسلسل


قائداعظم یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر تراب الحسن نے اپنے پی ایچ ڈی کے مقالے میں برٹش راج کے ساتھ وفاداری اور مجاہدین آزادی کے قتل و غارت میں سرگرم شاہ محمود قریشی، یوسف رضا گیلانی، فخر امام، حامد ناصر چٹھہ، چوہدری نثار، ‍خورشید محمود قصوری کے اجداد کے بارے میں تحریک آزادی کے مجاہدین کی مخبری کرنے اور انگریزوں کے کہنے پر تحریک آزادی کے مجاہدین کو قتل کرنے کے واقعات کو

Punjab and the war of Independence 1957/58

تھیسز کے ذریعے تفصیل سے قلمبند کیا ہے اور یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ انگریزوں کے نوازے گئے مذکورہ مخبر خاندان کی نسلیں آج بھی کسی نہ کسی حیثیت میں عوام کی جمہوری آواز اور جمہوری حقوق کو دبانے یا حقوق نہ دینے کی سازش میں اقتدار کی راہداریوں کے ”آقاؤں“ کی خوشنودی میں عوام دشمن اور جمہوریت دشمن قوتوں کا ساتھ دے کر عہدے اور خلعت حاصل کر رہے ہیں اور عوام کی جمہوریت پسند سوچ اور پارلیمانی اداروں کو آلودہ کر رہے ہیں۔

مخبر سیاستدانوں کے حصے کی غلام وفاداری کی عادی نسلیں اپنے اجداد کی اسی سیاسی وفاداری کو آج تک نبھا رہی ہیں، بظاہر برٹش وفاداری کے اس کلیے پر چلتے ہوئے یہ نسل برٹش کی باقیات کے وفادار دکھائی دیتے ہیں مگر۔ ملک کی سیاست میں گراوٹ اور معاشی ابتری کا ”جن“ برٹش مخبر سیاستدانوں کے لئے جلد ہی عوامی اکتاہٹ کا نشانہ بنتا ہوا دکھائی دیتا ہے جس میں مخبر سیاسی خاندان اور فوجی آمروں کے بطن سے جنم لینے اور ہدایت پر چلنے والوں کا چل چلاؤ قریب ہے۔

اس ملک کی سیاسی تاریخ کے جائزے میں اس حقیقت سے کیسے انکار ممکن ہے کہ فوجی آمر جنرل ایوب نے ذوالفقار علی بھٹو اور دوسرے فوجی آمر جنرل ضیا نے نواز شریف، عمران خان اور الطاف حسین کو انگریزوں کی تربیت تلے مخبر سیاست کے تسلسل کو جاری رکھنے کی غرض سے اقتدار کی راہداریوں میں لانے کا راستہ ہموار کیا اور اپنی من مرضی سے مذکورہ افراد سے جمہوریت دشمن کردار ادا کروایا، فوجی آمروں کے ان تخلیقی کرداروں نے آمرانہ طرز کی تمامتر خصوصیات اور تربیت کے تحت جمہوریت کو تاراج کرنے کی تمامتر خدمات انجام دیں اور خلعت و اکرام لئے، جبکہ آمر جنرلز کے بنائے گئے ان ”بتوں“ میں سے ایک بت کو آمر جنرل ضیا نے ماورائے آئین کے تحت تختہ دار پر چڑھایا، جس کے نتیجے میں عوامی پذیرائی ملنے کی بدولت آج بھی بھٹو کی قربانی کے تحت پیپلز پارٹی کی نسلیں کسی نہ کسی طرح اقتدار کے سنگھاسن پر اقتدار کی خلعت لے رہی ہے جبکہ شریف خاندان بھی اقتدار کی خلعت اتارتا ہوا سر دست نظر نہیں آ رہا جبکہ تحریک انصاف کے بانی عمران خان بھی فوجی آمروں کی خدمات کے طفیل اقتدار کی خلعت پہن کر دوبارہ اقتدار کی راہداریوں میں عوامی طاقت کے مقابل اقتدار کے طاقتوروں کی مدد و منشا سے آنے کے لئے پھڑپھڑا رہے ہیں، اس اقتدار کی خلعت پہننے کے نتیجے میں عوام کے سیاسی حقوق اور معاشی آسودگی کا کیا بنے گا؟ اس مسئلے کا جائزہ آج کی آہم ضرورت ہے۔

تاریخ طور سے تمامتر غیر سیاسی طریقہ کار اور ریاستی آلات و ماحول کی مدد سے شہرت کے مینارے پر چڑھائے جانے کے سبب بھٹو اور عمران خان آج بھی غیر سیاسی افراد کے ذریعے ریاست ساختہ شہرت کی بدولت سادہ لوح عوام کو نعروں اور بیانیوں کے غیر سیاسی گورکھ دھندے میں مبتلا کر کے پاکستانی سیاست میں غیر سنجیدگی پیدا کر کے مسلسل طاقتور اشرافیہ کو مضبوط کر رہے ہیں جو کسی طور سے ملکی سیاست اور جمہوریت کے لئے نیک شگون نہیں ہے۔

ملکی سیاست میں آمر جنرلز نے نہایت چابکدستی سے برٹش راج کے فرمانبردار تلاش کیے اور ان کو ”اشرافیائی غلامی“ کے سانچے میں ڈھال کر اپنے مطلب کا ہرکارہ بنایا، جس طرح بھٹو اور نواز شریف کو اپنے ایجنڈے کا حصہ بنایا بالکل اسی طرح جنرل حمید گُل کی تربیت کے ذریعے عمران خان کو اپنی دفاعی لائن ”طالبان“ کے حامی کے طور پر نہ صرف تربیت کی بلکہ عمران خان کو ”طالبان فکر“ کا ایسا مہرہ بنایا جس نے ”طالبان ہمدردی“ میں جنرل فیض حمید کے ذریعے ریاستی فوائد و مدد سے ”طالبان مفادات“ کا دفاع کیا جو آج ریاست پاکستان کے لئے سوہان روح بن کر ایک پریشانی کا سبب بنے ہوئے ہیں جن کو کسی نہ کسی بہانے بیرونی طاقتیں استعمال کر کے اپنے مقاصد حاصل کرنے میں سرگرم عمل ہیں اور جس کے سہ پہلو اثرات موجودہ طاقت کے ذمہ داران کی پریشانی کا باعث ہیں جس میں بیک وقت قومی سلامتی سے لے کر ملکی سیاست، معیشت اور سماج کی انتشاری کیفیت مسئلہ بنی ہوئی ہے گویا اپنے ہی سدھائے جن کو قابو پانا ایک مشکل سوال بنا ہوا ہے۔ اس پیچیدہ صورتحال سے نکلنے کی کوشش میں سب سے بڑی رکاوٹ ”طالبان دہشت گردی کے وہ انتشار پسند پہلو ہیں جو دیگر مزاحمت کاروں کی کارروائیوں کو حوصلہ دے رہے ہیں، اس مرحلے پر طاقتور اشرافیہ کے اندرونی“ طالبان فیکٹر ”بھی عمران کے بیانیے کے ساتھ دکھائی دیتا ہے جس سے نکلنا موجودہ قیادت کے لئے ایک چیلنج ہے۔

77 برس سے سیاسی مخبر اور برطانوی طرز فکر ایسے فضول تجربے کے بعد یہ بات تو عیاں ہو چکی ہے کہ ”طاقتور اشرافیہ“ کے بنائے گئے فرما بردار سیاست دان کسی طور ملکی دفاع سے لے کر ملکی سیاست اور معیشت کے لئے قابل بھروسا نہیں اور نہ ہی ملکی سیاست میں عمران خان کی ”انتشاری سیاست“ کسی طور قابل قبول ہو سکتی ہے۔ موجودہ ملکی سیاسی عمل میں ضرورت اس بات کی ہے کہ برطانوی مخبری نسل اور فرمانبردار سیاست دان بنانے کے تجربے سے حتمی نجات حاصل کی جائے اور ملک میں مذہبی، لسانی، من پسند قومیت پرست بنانے کے تجربے سے گریز کرتے ہوئے فطری سیاسی و جمہوری قوت کو ابھرنے کا موقع دیا جائے وگرنہ نہ طاقتور اشرافیہ بچے گی نہ مخبر نسل اور نہ عمران سمیت فرمانبردار سیاست دان۔ یاد رکھا جائے کہ یہی نوشتہ دیوار آپ کی جمہوری و سیاسی تاریخ کو بچائے گی، بس جس قدر جلد ہو سکے مخبر سیاسی نسل اور بنائے جانے والے سیاسی بت سے پرہیز کر کے ملک میں حقیقی جمہوری قوتوں کو پنپنے کا موقع فراہم کیا جائے جو کہ عوام کی قوت سے ملک میں آزادانہ ماحول میں جمہوریت، معیشت اور ایک منصفانہ سماج قائم کرنے کی جانب بڑھیں، جس میں سے جمہوری اور سیاسی عمل کا روشن اور ترقی پسند خوشحالی کا راستہ ملک کو مل سکے اور ملک میں جمہوری قدریں مستحکم ہو سکیں، ملک کی بقا کے لئے اشرافیہ کے ذمہ داران کو آج یہ کڑوا مگر نسلوں کی بقَا کا گھونٹ پینا پڑے گا۔

Facebook Comments HS

وارث رضا

وارث رضا سینیئر صحافی، تجزیہ کار اور کالم نگار ہیں۔ گزشتہ چار عشروں سے قومی اور بین الاقوامی اخبارات اور جرائد میں لکھ رہے ہیں۔ الیکٹرانک میڈیا کے کہنہ مشق استاد سمجھے جاتے ہیں۔۔۔

waris-raza has 56 posts and counting.See all posts by waris-raza

One thought on “مخبر سیاست کا تسلسل

  • 12/01/2025 at 5:08 شام
    Permalink

    کیا شان دار سچ کے دریا میں جھوٹی افواہوں کے گدلے کو پانی کو ملایا ہے جسے پڑھ کر مجھ جیسا شخص بھی اوب گیا۔
    کیا واقعی جنگ آزادی 1957/58 میں ہوئی تھی جس پر محقق نے ڈاکٹریٹ کی ؟
    حمید گل نے عمران خان کی کب تربیت کی اور کس حیثیت میں ؟
    ضیاء نے عمران خان یا الطاف حسین سے کیا فائدے اٹھائے؟ 88 میں ضیا جب مارے جاتے ہیں خان محض ایک کنوارے کرکٹر تھے اور اس وقت تک ورلڈ کپ بھی نہیں جیتے تھے ؟ جب کہ الطاف حسین کا طوطی ضیا صاحب کے بعد بولا تھا۔ ان کی زندگی میں نہیں۔ غوث علی شاہ کے حوالے سے محض الزامات ہیں وگرنہ الطاف حسین پر بھی جھنڈا جلانے یا فوجی کی توپی چھیننے کے مقدمات ضیا دور میں نہیں بنتے۔ حقیقت محض اتنی ہے کہ بعد میں جہاں پیپلز پارٹئ اور قوم پرست جماعتوں کی پھینٹی لگ رہی ہوتی تھی۔ ایم کیو ایم اور جمیعت پر ہاتھ ہولا رکھا ہوتا تھا جس کا تعلق سندھ حکومت سے تھا نہ کہ اسلام آباد سے۔
    جہاں تک خود طالبان کو بنانے کا تعلق ہے ان کے معماران بے نظیر اور نصیر اللہ بابر پر بھی تبرا بھیج دیتے۔

Comments are closed.