سائنس بورڈ کے اقدامات و امکانات
ادارہ زبان و ادبیات اردو، اورینٹل کالج لاہور میں 8 جنوری 2025 کو ”انجمن اردو“ کے تخت اردو سائنس بورڈ کے ڈائریکٹر جناب ضیاء اللہ خان طورو کے ساتھ ایک نشست کا انعقاد کیا گیا جس میں ادارے کے طلباء کے ساتھ اساتذہ نے بھرپور شرکت کی۔
نظامت کے فرائض ڈاکٹر نعیم ورک صاحب نے انجام دیے۔
ڈاکٹر نعیم صاحب نے ابتدائی گفتگو میں نشست کی اہمیت و افادیت کے ساتھ سائنس بورڈ کے حوالے سے مختصراً گفتگو کی اور پھر میقات ہفتم کے طالب علم محمد عرفان کو مدعو کیا جس نے اپنا مقالہ ”اردو سائنس بورڈ کا تعارف“ کے عنوان سے پیش کیا۔
محمد عرفان نے سائنس بورڈ کے آغاز کے حوالے سے فرمایا کہ قومی زبان کی ترویج و ترقی کے لیے 24 مئی 1962 میں ”مرکزی بورڈ برائے ترقی اردو“ کے نام سے ایک ادارے کا قیام عمل میں لایا گیا جسے مختصراً ”مرکزی اردو بورڈ“ یعنی سینٹرل اردو بورڈ کہا جاتا رہا لیکن 1982 میں ادارے کا نام تبدیل کر کے ”اردو سائنس بورڈ“ رکھا گیا۔
انہوں نے مزید فرمایا کہ یہ ادارہ مختلف سائنسی اور ادبی و تاریخی موضوعات پر علم کو اردو زبان میں منتقل اور فروغ دینے میں مصروف ہے۔ اور اب تک 800 سے زائد کتب شائع کر چکا ہے۔
ادارے کی علمی روایت اور خدمات پر گفتگو کرتے ہوئے وہ مزید گویا ہوئے کہ اس ادارے سے ماضی میں اشفاق احمد، ڈاکٹر آغا محمد سہیل، ظفر اقبال، امجد اسلام امجد، اکرم چغتائی، حنیف رامے اور ڈاکٹر ناصر عباس نیر جیسی قدآور شخصیات وابستہ رہیں اور اس کی موجودہ سربراہ ڈاکٹر ضیاء اللہ خان طورو ہیں۔
محمد عرفان کے بعد ایم فل طالبہ ماہ نور صاحبہ نے اپنا مقالہ ”اردو سائنس بورڈ کا آغاز اور خدمات“ کے نام سے پیش کیا جس میں وہ سائنس بورڈ کے آغاز کے بارے میں یوں گویا ہوئی:
”پاکستان بننے کے 15 سال بعد صدر ایوب خان نے قومی تعلیمی کمیشن کے تخت ایک قرارداد منظور کی جس میں دو علمی اداروں کے قیام کا فیصلہ ہوا، ایک سنٹرل اردو ڈیویلپمنٹ بورڈ اور دوسرا سینٹرل بنگال بورڈ کے نام سے وجود میں آیا۔
ایک ادارے کا مقصد اردو جبکہ دوسرے ادارے کا مقصد بنگالی زبان کی ترویج و اشاعت تھا۔ اردو بورڈ کی ابتدائی مقاصد میں اردو زبان کی توسیع، اردو زبان کی ترقی کے لیے دوسرے اداروں سے اشتراک اور باہمی ثقافت بھی شامل تھا۔ ”
انہوں نے سائنس بورڈ سے وابستہ شخصیات جیسے قدرت اللہ شہاب، ڈاکٹر ابوللیث صدیقی اور ڈاکٹر سید عبداللہ وغیرہ کے خدمات کا ذکر کرتے ہوئے ادارے میں لائبریری کی قیام، مختلف یونیورسٹیوں اور اداروں کے ساتھ فروغ اردو کے حوالے سے اشتراک اور مختلف صوبوں میں اس کے مراکز کے قیام پر اپنے مقالے کا اختتام کیا۔
ماہ نور کے بعد ڈاکٹر نعیم صاحب نے سائنس بورڈ کے ڈائریکٹر ضیاء اللہ طورو کو مدعو کیا۔
جناب ضیا اللہ خان طورو نے اردو زبان کی اہمیت، اس کی عالمی سطح پر افادیت، اور اردو سائنس بورڈ کے خدمات پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے اردو سائنس بورڈ کے تحت ہونے والے مختلف منصوبوں کا ذکر کیا، جن میں اردو زبان کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی کوششیں شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اردو سائنس بورڈ نہ صرف اردو زبان میں سائنسی موضوعات پر کام کر رہا ہے بلکہ دیگر زبانوں کے اہم علمی و تحقیقی مواد کو اردو میں منتقل کر کے قومی زبان کے دائرہ کار کو وسعت دے رہا ہے۔
ضیاء اللہ خان طورو نے اس بات پر زور دیا کہ اردو زبان نہ صرف ہماری تہذیبی و ثقافتی شناخت کی محافظ ہے بلکہ عالمی سطح پر روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا کر رہی ہے۔ انہوں نے طلباء کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اردو میں مہارت رکھنے والے افراد کے لیے عالمی سطح پر ملازمت کے بے شمار امکانات موجود ہیں۔
انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ اردو سائنس بورڈ اپنی کتابوں کو ڈیجیٹلائز کر رہا ہے، جس سے دنیا کے کسی بھی حصے میں بیٹھے لوگ ان کتابوں تک رسائی حاصل کر سکیں گے۔ یہ اقدام اردو ادب اور علم کو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے عوام تک پہنچانے کی ایک اہم کاوش ہے۔
مزید برآں، جناب طورو نے طلبہ کو اردو سائنس بورڈ کی لائبریری سے استفادہ حاصل کرنے کی دعوت دی اور انہیں اس بات کی ترغیب دی کہ وہ اردو زبان میں سائنسی و تحقیقی موضوعات پر کام کریں۔ ان کے خیالات اور تجاویز نے حاضرین کو ایک نئے عزم کے ساتھ اردو زبان کے فروغ کے لیے کام کرنے کی ترغیب دی۔
نشست کے اختتام پر ڈائریکٹر ادارہ زبان و ادبیات اردو ڈاکٹر بصیرہ عنبرین صاحبہ نے ضیاء اللہ خان طورو کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا اور ادارے کی طرف سے کتب کا تحفہ پیش کیا۔
ضیاء اللہ خان طورو نے بھی ادارہ زبان و ادبیات اردو کے اساتذہ اور طلبہ کے جذبے اور دلچسپی کی تعریف کی۔ انہوں نے ادارے کے اساتذہ اور نشست میں سوالات کرنے والے طلباء کو اردو سائنس بورڈ سے شائع ہونے والے تازہ شمارے تحفے میں پیش کیے۔
یہ نشست طلبہ و اساتذہ کے لیے نہ صرف ایک علمی مکالمے کا موقع ثابت ہوئی بلکہ اردو زبان کے مستقبل اور اس کے جدید دور میں کردار پر غور کرنے کا سبب بھی بنی۔ مزید یہ کہ مستقبل میں فروغ اردو کے لیے دونوں اداروں کا ایک ساتھ کام کرنے پر اتفاق ہوا۔



