میر باگو خان تالپور کی سندھ رانی سے لازوال محبت کی داستان
سندھ کے سینے پے لازوال محبتوں کی سچی کہانیاں چاند کی چاندنی کی طرح بکھری پڑی ہیں۔ ان کہانیوں میں وفا کی کئی داستانیں رقم ہیں۔ ان کہانیوں میں میر باگو خان تالپور اور سندھ رانی کی محبت کی کہانی بھی تاریخ کے کتابوں کے ساتھ سندھ کے لوک داستانوں کی زینت بنی ہوئی ہے۔ سندھ رانی جس کا اصل نام مریم تھا۔ اب ہمارا سفر میر باگو خان تالپور کی محبوب زوجہ مریم کی مزار کے طرف ہے۔ مریم کی مزار حیدرآباد سے مشرق کی جانب 70 کلومیٹر اور بدین سے شمال کی طرف 50 کلومیٹر دور ضلع بدین کے تحصیل ماتلی کے شہر ٹنڈو غلام علی کے نزدیک ہے۔
میرے سفر کے ساتھی ٹنڈو باگو کے لکھاری انور علی عباسی، الہبچایو راہوکڑو اور سینئر صحافی کیمرہ میں عبد الرحمان سموں ہیں۔ ٹنڈو باگو سے ہم تلہار پہنچتے ہیں تلہار سے ہم سعید پور، راجو خانانی کراس کر کے ٹھری کے علاقے کی طرف جا رہے تھے۔ روڈ سنگل تھا لیکن صحیح تھا سفر میں کوئی دقت نہیں ہو رہی تھی۔ آج کل سردیوں کا موسم ہے، شمال کی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔ کھیتوں میں گندم کے سبز فصل کی ہریالی اس کے ساتھ سرسوں کے پیلے پھولوں کا منظر آنکھوں اور دل کو راحت بخش رہے تھے۔
اس روڈ پر رین نامی ایک اسٹاپ آتا ہے جہاں ہم اپنے گاڑی کو روڈ سے موڑ کر ایک چھوٹی سی نہر کے کنارے کے ساتھ کچی سڑک پر لے آتے ہیں۔ دو کلو میٹر تک کچی سڑک سے ایک مختصر سا سفر کر کے ٹوٹا پھوٹا لنک روڈ ہمارا استقبال کر رہا تھا، یہ ٹوٹا پھوٹا لنک روڈ ہم کو ایک بزرگ شاہ دیوانوں کے مقبرے تک لے آتا ہے۔ اس بعد کوئی سڑک یا کوئی رستا مریم عرف سندھ رانی کی مزار طرف نہیں جاتا، صرف جھاڑیوں اور دیویوں کے خاردار درختوں کے جنگل کے بیچ سے ایک پیچرے سے پیدل گزر کر سندھ رانی کی مزار پر پہنچتے ہیں۔
مریم کی کہانی کا تعلق سندھ کے کلہوڑہ اور تالپور دؤر حکومت سے ہے۔ مریم نے سندھ کے ایک قدیم علاقے ٹھری کے مقام پر ان کے والد سردار چاکر خان اڈیھجو کے گھر میں جنم لیا تھا۔ تاریخ کے مورخین کا کہنا ہے کہ ٹھری سومرا حکمرانوں کا اوائلی تخت گاہ تھا۔ جس گاؤں میں سندھ رانی نے جنم لیا وہ گاؤں سندھ رانی کے والد چاکر خان اڈیجو کے نام سے جانا جاتا تھا۔ جہاں یہ گاؤں آباد تھا، اب تک اس دیھ کا نام اڈیھجو ذات کے پیچھے دیھ اڈیھجانی کہلاتی ہے۔
چاکر خان اپنے علاقے میں اڈیھجا ذات کے سردار تھے۔ اس کا علاقے میں اثر رسوخ تھا۔ چاکر خان اڈیجو کی دو بیٹیاں تھی، جس میں بڑی بیٹی کا نام کلاں اور چھوٹی بیٹی کا نام مریم تھا۔ چاکر خان کا ایک ہی بیٹا تھا جس کا نام سائیں ڈنو تھا۔ چاکر خان کی دو بیٹیاں بہت خوبصورت تھیں۔ چھوٹی بیٹی مریم بڑی بیٹی کلاں سے زیادہ خوبصورت تھی۔ جب مریم بڑی ہوئی تو وہ اپنے سہیلیوں کے ساتھ کھیل کھود کرتی تھی تو مریم کا حسن دیکھ کر ان کی سہیلیاں مریم کو سونیتی کے نام سے پکارنے لگیں۔
جب مریم کا حسن بادلوں کی بجلی کی طرح کروٹ بدلنے لگا تو مریم کے حسن کے جلوے مشہور ہونے لگے، اڈیجو قبیلے کے ایک رشتے دار کو مریم کا رشتہ نہ ملنے پے اس نے کسی نہ کسی طرح سندھ کے حکمران میاں سرفراز خان کلہوڑو تک مریم کے حسن کے چرچے پہنچا دیے۔ حاکم وقت میاں سرفراز خان کلہوڑو مریم کا رشتہ مانگنے کے لیے ٹھری کے علاقے آ کر مریم کے والد سے شان وہ عزت سے مریم کا رشتہ مانگا۔ چاکر خان اڈیھجو حاکم سندھ کو جواب نہ دے سکے۔
اس شرط پر مریم کا رشتہ طے کیا کہ ابھی مریم چھوٹی ہے، اور شادی کے لائق نہیں ہے، اب آپ رسم نکاح کر کے جائیں۔ جب شادی کے لائق ہوگی تو آپ بارات لے کر ہمارے رسم و رواج کے مطابق مریم کو لے جانا۔ میاں سرفراز خان کلہوڑے نے مریم کے والد کی یہ شرط منظور کر کے رسم نکاح کر کے واپس خدا آباد چلا گیا۔ جب میاں سرفراز خان کلہوڑو نے میر گہرام خان تالپور اس کے بیٹے میر صوبیدار کو کن غلط فہمیوں کے بنیاد پر قتل کرا دیا تو ملک کے حالات بگڑ گئے۔
میاں غلام نبی کلہوڑے نے تالپوروں کی مدد کے ساتھ مل کر میاں سرفراز خان کلہوڑو کی حکومت پر قبضہ کر لیا، میاں سرفراز کلہوڑو کو حیدرآباد کے قلعہ میں قید کر دیا گیا۔ کچھ دنوں کے بعد میاں غلام نبی کلہوڑو کا تالپوروں سے تنازع میں سانگھڑ کے قریب لانیاری والی جنگ میں قتل ہو گیا۔ میاں غلام نبی کے قتل کے بعد میاں عبد النبی کلہوڑو والی سندھ ہوا، اور اس نے قید میں بند میاں سرفراز خان کلہوڑو کو قتل کرا دیا۔ ملک کے حالات کو سنبھالنے کے بعد میاں عبد النبی کلہوڑو نے مریم کے والد کو پیغام بھیجا کہ مریم بادشاہی منگیتر ہے، مریم کا رشتہ مجھے دیا جائے۔
مریم کے والد چاکر خان اڈھیجو نے میاں عبدالنبی کو مریم کا رشتہ دینے سے صاف انکار کر دیا۔ اس پے میاں عبد النبی کلہوڑو نے سازش کر کے مریم کے والد اور قبیلے کے بہت سے مردوں کو قتل کروا دیا، اور مریم کے بھائی سائین ڈنو کو ڈرا دھمکا کر مریم کا رشتہ طے کیا، لیکن مریم نے صاف انکار کیا کہ میں اس سے شادی نہیں کروں گی۔ مریم نے اپنے بھائی سائیں ڈنو کو کہا کہ ہم بلوچ تالپوروں کے پاس پناہ کے لیے چلتے ہیں ان کو کسی طرح عرض کر کے پناہ مانگیں گے۔
سائیں ڈنو کو مریم کی بات اچھی لگی اور کسی طرح میر باگو خان تالپور سے رابطے کر کے پناہ کی درخواست کی۔ میر باگو خان پہلے میاں سرفراز خان کلہوڑو کی منگیتر مریم کو دیکھ کر مریم کے حسن کے دیوانے بن چکے تھے، لیکن وہ حاکم سندھ کی منگیتر تھے اس وجہ سے میر باگو خان نے مریم کو اپنی دل سے نکال دیا۔ اب اس موڑ پر پھر میر باگو خان کی دل مریم کی طرف لوٹ آیا۔ میر باگو خان تالپور سرکش نوجوان تھا اس نے حاکم وقت میاں عبدالنبی کلہوڑہ کی پرواہ کیے بغیر سائیں ڈنو اور مریم کو تالپوروں کے بڑے سردار میر فتح علی تالپور کے پاس لے آیا، جس نے مریم ان کے بھائی سمیت دوسرے خاندان کے لوگوں کو پناہ دے دی۔
جب اس بات کا میاں عبد النبی کلہوڑو کو پتا چلا تو وہ بہت ناراض ہوا لیکن تالپور بلوچ کلہوڑوں کے لشکر میں بہت طاقتور تھے اور کئی بلوچ تالپور نوجوان کلہوڑوں کے لشکر کے سپہ سالار بھی تھے اس لئے کچھ نہیں کر سکا۔ میاں عبد النبی کلہوڑہ خاموش ہو گیا کچھ عرصے کے بعد کلہوڑہ اور تالپوروں کے درمیان 1782 میں ہالانی میں لگنے والی مشہور فیصلہ کن جنگ میں تالپوروں کو فتح ہوئی اور کلہوڑوں کو شکست ہوئی۔ میاں عبد النبی کلہوڑو سندھ کو چھوڑ کر بھاگ گئے۔
سندھ کی حکومت پر تالپوروں کا قبضہ ہو گیا۔ میر فتح علی خان تالپر نے حیدرآباد کو اپنا تخت گاہ بنا لیا۔ تالپوروں نے سندھ کو سات حصوں میں تقسیم کیا۔ جس میں سے چار حصے میر فتح علی خان تالپور ان کے بھائیوں کو ملے، ایک حصہ خیرپور ریاست والا میر سہراب خان کو، دو حصے میر ٹہارو خان تالپور کے حصے میں آئے۔ جبکہ سندھ رانی کے متعلق فیصلہ کیا گیا کہ سندھ رانی پچھلے حکمرانوں کی منگیتر ہوتے ہوئے اسے کوئی حاصل نہ کر سکا، اس لیے اب مریم کو حاصل کرنے کے لیے تالپوروں میں تضاد ہونے کے خدشے کے سبب متفق طور پر فیصلہ کیا گیا کہ جو بھی سندھ رانی سے شادی کرے گا وہ تخت و تاج اور ملکیت سے ہاتھ اٹھائے گا۔
ایک تھا کنگ ایڈورڈ 8 جس کو جب تخت نشینی کے لیے کہا گیا تو اس نے کہا کہ وہ بادشاہی کیا جس کی وجہ سے اپنی پسند کی عورت سے شادی نہیں نہ کرسکے۔ میں اپنی محبت کی وجہ سے بادشاہی کو چھوڑ دیتا ہوں۔ اس طرح میر باگو خان تالپور نے بہی کہا کہ میں اپنی سپنوں کی رانی سے تخت و تاج اور ملکیت عیوض وفا نہ کر سکوں تو میں اپنے ملک سے کون سا انصاف کر سکوں گا۔ میر باگو خان تالپور نے ایک اپنے سپنوں کی رانی کا مان اوچا کر کے عشق کو امام بنا کے تخت تاج کو ٹھکرا کے سندھ رانی سے شادی کر کے سندھ میں محبت کی نئی روایت قائم کر دی۔
اس وجہ سے میر باگو خان تالپور کو سندھ کا کنگ ایڈورڈ 8 کہا جاتا ہے۔ سندھ رانی سے شادی کرنے کے بعد میر باگو خان تالپور حیدرآباد کو چھوڑ کر لاڑ اور تھر کے درمیان ایک علاقہ ونگو پتن (جہان پر میر ٹہارو خان تالپور کا قلعہ تھا) پر رہائش پذیر ہو گیا۔ تالپور حکمرانوں نے میر باگو خان تالپور کو گزر و معاش کے لئے جاگیر دی۔ اس جاگیر پر دریائے سندھ کے ایک پرانے وہکرے نیرو ڈورو کے کنارے میر باگو خان تالپور اپنا شہر تعمیر کرا کے سندھ رانی کے ساتھ رہائش پذیر ہوئے۔ جو کہ آج ٹنڈو باگو کے نام سے مشہور ہے۔ سندھ رانی کا بھائی سائیں ڈنو بھی ان کے ساتھ تھا۔ میر باگو خان تالپور نے اپنی جاگیر کو آباد کرنے کے لیے ایک نہر نکالی جس کا نام اب تک باگو واہ ہے۔ میر باگو خان کا تعمیر کروائی ہوئے شہر کا نام اب تک ٹنڈو باگو ہے۔ میر باگو خان کی جاگیر کی دیکھ بھال مریم عرف سندھ رانی کے بھائی سائیں ڈنو کے حوالے تھی۔ میر باگو خان تالپور سندھ رانی سے بے حد محبت کرتا تھا مہینوں تک اپنی رہائش گاہ سے نہیں نکلتا تھا۔ وہ سارا دن سندھ رانی کے پاس ہی ہوتا تھا۔ میر باگو خان سندھ رانی سے ایک پل بھی دور رہنا نہیں چاہتا تھا۔ شکار کے دوران ایک دن سائیں ڈنو ایک دشمنی کی وجہ سے حملے میں مارے گئے۔ سندھ رانی اپنے بھائی سائیں ڈنو سے بہت پیار کرتی تھی، اچانک سائیں ڈنو کے بچھڑ جانے سے سندھ رانی کو دلی صدمہ ہوا وہ بھائی کی جدائی برداشت نہ کر سکی اور بہائی کے غم میں بیمار ہو گئی، میر باگو نے اپنی محبوب گھر والی کو بچانے کی بہت کوشش کی لیکن نہ دوا کا اثر ہوا نہ دعا کا اثر ہوا۔
سندھ رانی میر باگو سے بچھڑ گئی۔ میر باگو کا بسایا ہوا محبت کا گھر گر پڑا۔ سندھ رانی کو اپنے آبائی گاؤں ٹھری کے مقام پے شاہ عالم دیوانو کے قبرستان میں شاہ دیوانو کے مقبرے کے جنوب میں سپرد خاک کیا گیا۔ سندھ رانی کی مزار میر باگو خان تالپور نے سفید رنگ کے سنگر مرمر کے پتھر سے بنوائی تھی، سندھ رانی کی مزار کے سنگ مرمر کے پتھر پر سرہانے سے کلمہ طیب درج ہے مزار کے دونوں اطراف پے قرآنی آیات اور دعائیں درج ہیں۔ مقبرے کی پائینتی پر فارسی زبان میں کتبہ درج ہے کہ،
زیر آنک وریں ماہ نجات است رحمان حروف تاریخ بود پنجم رمضان 1204 ہجری
یعنی کہ ( سندھ رانی کا انتقال پانچویں رمضان 1204 ہجری میں ہوا تھا۔ )
سندھ رانی کے مزار کے چاروں اطراف پے چٹسالے سے تراشے زرد پتھر نصب ہیں۔ اب وہ پتھر ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہونے کے باوجود سندھ رانی کے ماضی کے مزار کی خوبصورتی کی گواہی دے رہے ہیں۔ اب سندھ رانی کا مقبرہ ہے اور وہاں ویرانہ ہے۔ اس ویرانے میں مریم عرف سندھ رانی کی مزار کو دیکھ کر مجھے مغل شہنشاہ جہانگیر کی بیوی ملکہ ہند نورجہان کے لاہور میں مقبرے پر تحریر شدہ فارسی شعر یاد آ گیا۔
(بر مزارِ ما غریباں، نے چراغِ نے گلے، نے پرِ پروانہ سوزد نے صدائے بلبلے )
یعنی کہ مجھ اجڑی ہوئی کے مزار پر نہ ہی کوئی چراغ ہے، اور نہ کوئی پھول ہے، نہ ہی پروانہ اپنا پر جلاتا ہے، اور نہ ہی بلبل کی کوئی آواز سنائی دیتی ہے۔ (یعنی میرے مزار پر ویرانی اور حسرتون کے سوا کچھ نہیں ) ۔ لکھاری الہبچایو راہوکڑو نے مجھے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہو بتایا کہ یہ جو ویرانہ ہے وہاں میر باگو خان تالپور نے اپنی محبوب زوجہ سندھ رانی کی مزار کے چاروں اطراف بہت بڑا باغ لگایا تھا جس میں ہر قسم کے میوے کے درخت اور پھولوں کے کیے اقسام کے پودے لگائے گئے تھے۔
وقت گزرنے کے ساتھ باغ اجڑ گیا سندھ رانی کی آخری آرام گاہ جو میر باگو خان تالپور نے سفید سنگ مرمر کے پتھر سے بنوائی تھی، اب وہ کھنڈر بن گئی ہے، سندھ رانی کی مزار پے لگے ہوئے خوبصورت چٹسالی والے پیلے رنگ کے پتھر بہی ٹوٹ کر تباہ ہو رہے ہیں۔ وہاں سندھ کے ثقافت کھاتے کی جانب سے سندھ رانی کے مزار کے نام سے کوئی بورڈ بھی نصب نہیں کیا گیا ہے۔ یہاں ہمارے ملک پاکستان کی تاریخ پر تحقیق کرنے والے مورخین کو سخت دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
سندھ کے ثقافت کھاتے نے سندھ کے اس تاریخی کردار کی مزار جو ہمارے ملک پاکستان کا قومی ورثہ ہے اس کو برباد کرنے کے لیے چھوڑ دیا ہے۔ ہم جب حضرت شاہ دیوانو کے مقبرے کے اندر قل پڑھنے گئے تو وہاں ہم نے دیکھا تو دو نو عمر لڑکوں کے کندھے میں ایک پنجاری تھی وہ بیل کی طرح مزار کے اندر گھوم رہے تھے، جب ہم نے معلوم کیا تو ان کے والدین نے بتایا ہے ہماری منت مانی ہوئی ہے اس وجہ سے ہم اس بزرگ کی مزار کے گرد ہمارے دونوں بیٹوں کو سات پھیرے لگانے آئے ہیں۔
ہمارے بزرگوں کے مزاروں پے لوگ کچھ مانگنے آتے ہیں جب ہمارے لوگوں کو انصاف اور علاج کی سہولیات دستیاب نہیں ہیں تو وہ ان بزرگوں کی مزاروں پے آ کر منت اور دعا مانگ کر مطمئن ہو جاتے ہیں۔ میر باگو خان اور سندھ رانی کے عشقیہ داستان ٹنڈو باگو شہر کی تاریخ لکھنے والے لکھاری انور عباسی ٹنڈو باگو کی تاریخ میں لکھتے ہیں کہ میر باگو خان ٹالپر سندھ رانی کی وفات کے بعد وہ گم سم رہنے لگے تو اس قریبی دوستوں نے سندھ رانی کا غم بھلانے کے لیے سیر تفریح اور شکار کرنے کا مشورہ دیا ایک دن عمرکوٹ کے نزدیک مہرانو میں شکار کرتے ہوئے میر باگو خان کو سانپ نے ڈس لیا، اس وجہ سے میر باگو خان کا انتقال ہو گیا ہے۔ اور وہیں اس کو عمرکوٹ میں دفنا دیا گیا۔ وقت کی ستم ظریفی ہے کہ میر باگو خان کی مزار کو حیدر شاہ عرف واگہا فقیر کی مزار پکارا جاتا ہے، اور لوگ دوسرے بزرگوں کی طرح وہاں بھی میر باگو خان کے مزار پے دعائیں اور منتیں مانگنے آتے ہیں۔






