خوشبوؤں، محبتوں اور روشنیوں کا شہر پیرس


عمیر، آمنہ اور ضوحا ابھی سو رہے تھے کہ میری آنکھ کُھل گئی۔ میں آج اس اولڈ ہاؤس میں موجود کسی شخص کا انٹر ویو کرنا چاہتا تھا۔ اس سے گزری ہوئی زندگی کے واقعات، احساسات اور تاثرات معلوم کرنا چاہتا تھا۔ میں جلدی جلدی تیار ہو کر استقبالیہ کمرے میں چلا آیا۔ یہاں پر کامن روم میں تین چار لوگ بیٹھے ہوئے تھے اور باقی ایک ایک کر کے آرہے تھے۔ کیوں کہ تقریباً گیارہ بجے یہ لوگ ناشتہ کرتے ہیں۔ کاؤنٹر پر ایک خاتون ایک رجسٹر سامنے رکھے کھڑی تھی۔

میں نے سوچا کہ یہ خاتون اس سلسلے میں میری مدد کر سکتی ہے۔ میں سیدھا اُس کی طرف بڑھا اور اُسے مدعائے دل کہہ سنایا، لیکن وہ گم سم سی میری طرف دیکھتی رہی۔ میں نے ایک بار پھر اپنے انگریزی زبان سے متعلقہ سارے کے سارے علم کو بروئے کار لاتے ہوئے اس سے درخواست کی کہ وہ مجھے کسی ایسے بابے سے ملوا دے جو میرے سوالات کے جوابات دینے کے لیے ذہنی طور پر تیار ہو اور اس قابل بھی ہو کیوں کہ اکثر لوگ تو طویل العمری کے باعث شاید اپنی یادداشت ہی کھو چکے ہوں۔ لیکن یہ خاتون بھی میری ساری گفتگو سے لاتعلق سی دکھائی دے رہی تھی۔

کافی دیر تک مغز ماری کے بعد اس خاتون نے نفی میں سر ہلا دیا۔ مجھے لگا کہ جیسے وہ مجھے بتا رہی ہو کہ اُسے میری بات کی سمجھ نہیں آئی۔ اسے انگلش نہیں آتی تھی اور یہاں پر نوے پچانوے فیصد لوگ انگریزی سے ناآشنا ہیں اور جن تھوڑے بہت لوگوں کی انگریزی سے کچھ شد بد ہے بھی وہ بھی انگلش میں گفتگو کرنا پسند نہیں کرتے۔

ہماری طرح یہاں پر لوگوں کو انگریزی بول کر اپنی قابلیت اور اہلیت کا ثبوت پیش کرنے کی قطعاً ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ سبھی لوگ اپنی اپنی مادری زبان میں ہی بات چیت کرنا پسند کرتے ہیں۔ استقبالیہ پر موجود خاتون سے مایوس ہو کر میں کامن روم میں آ گیا جہاں کچھ بوڑھے بابے اور بابیاں موجود تھے۔ ان سبھی لوگوں سے مخاطب ہوتے ہوئے میں نے وہی بات کی جو ریسپشنسٹ سے کی تھی۔ لیکن وہ سب لوگ بھی خالی خولی نظروں سے ہی مجھے گھور رہے تھے۔

یہاں سے مایوس ہو کر میں واپس اپنے کمرے میں لوٹ آیا۔ میں نے بے دھیانی سے جونہی کمرے کا دروازہ کھولا تو سامنے ایک نوجوان جوڑا اپنے بیڈ پر دراز خوش فعلیوں میں مشغول تھا۔ ہمارے اپارٹمنٹ کا دروازہ تو ٹی وی لاؤنج میں کھلتا تھا۔ جہاں پر صوفے، میز اور سامنے دیوار پر ٹی وی لگا ہوا تھا۔ میں نے غلطی سے کسی اور کمرے کا دروازہ کھول لیا تھا۔ میں نے جھٹ سے گھبرا کر دروازہ بند کر دیا لیکن وہ لوگ اپنے کام میں کچھ ایسے مصروف تھے کہ انہیں میری حرکت کا علم نہیں ہوا اور اگر انہیں پتہ چل بھی گیا تھا تو پھر بھی اس سلسلے میں انہوں نے کسی بھی قسم کے ردِعمل کا اظہار کرنے کی بجائے اپنی محویت کو برقرار رکھا۔

اب میں نے غور کیا تو پتہ چلا، کہ ہمارا کمرہ تو آخری کمرے سے پہلے والا تھا۔ جب کہ میں نے بے دھیانی میں آخری اپارٹمنٹ کا دروازہ کھول لیا تھا۔ میں سراسیمگی کی حالت میں تھوڑا سا گھبرایا ہوا اپنے کمرے میں داخل ہوا تو یہاں پر ناشتہ تیار ہو رہا تھا۔ دونوں خواتین کچن میں ناشتہ تیار کر رہی تھیں اور عمیر اور ذیشان دونوں ہی مارکیٹ میں ناشتہ سے متعلقہ دیگر ساز و سامان لینے کے لیے گئے ہوئے تھے۔ میں نے اپنی واردات کا کسی سے ذکر نہیں کیا اور خاموشی سے صوفے پر بیٹھ کر ٹی وی دیکھنے لگا۔ پندرہ، بیس منٹ کے بعد ناشتہ کرنے کے بعد ہم ایک بار پھر پیرس کی جانب رواں دواں تھے۔

پیرس کو روشنیوں کا شہر، خوشبوؤں کا شہر، شیشے کی سڑکوں کا شہر، شہر محبت، شہر الفت، اور دیگر بہت سے ناموں سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس کے شہر محبت ہونے کا نظارہ تو مجھے گزشتہ رات ایفل ٹاور کی سیر کے دوران ہو چکا تھا۔ مجھ سے پانچ سات گز کے فاصلے پرایک نوجوان جوڑا آپس میں بغل گیر تھا اور نوجوان لڑکا اپنی محبوب لڑکی کے لب و رخسار کو اس قدر احتیاط اور لطافت کے ساتھ چھو رہا تھا جیسے کہ اُسے ان کے نشان زد ہونے کا خدشہ ہو۔

حالاں کہ اسی قسم کی صورتِ حال کا مشاہدہ میں اوسلو میں بھی ایک بار کرچکا تھا۔ لیکن وہاں پر طرفین کی جانب سے ہی ایک جنون تھا۔ ایک وحشت تھی، ایک دوسرے کے اندر جذب ہونے کی بھرپور بلکہ نیم تشدد سی کوشش تھی۔ جب کہ پیرس میں ایسی ہی صورتِ حال میں دونوں کے درمیان پائی جانے والی محبت، الفت اور لطافت کا واضح اظہار ہو رہا تھا۔

بیس پچیس منٹ کی ڈرائیونگ کے بعد ہم دریائے سین کے کنارے پہنچ گئے تھے۔ جہاں سے ایفل ٹاور واضح اور مکمل طور پر دکھائی دے رہا تھا۔ گزشتہ رات جب ہم ایفل ٹاور پہنچے تھے ایک تو رات ہو چکی تھی اور دوسرے فضا میں دھند موجود تھی۔ اس لیے ایفل ٹاور کا نچلا حصہ ہی دیکھ سکے۔ اس کا اوپر والا حصہ زیادہ تر دھند میں لپٹا ہوا تھا اس لیے دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ جبکہ یہاں سے ایفل ٹاور نہ صرف مکمل اور واضح طور پر دکھائی دے رہا تھا بلکہ اس کی مکمل تصویر لینا بھی ممکن تھا۔ لوگ دھڑا دھڑ ایفل ٹاور کی مختلف زاویوں سے تصاویر لے رہے تھے۔

یہاں پر دریا کے دونوں کناروں کے ساتھ ساتھ دنیا بھر سے آئے ہوئے سیاحوں کا ایک ہجوم موجود تھا۔ دریا میں بڑی بڑی موٹر بوٹس اور کشتیاں سیاحوں کو ساتھ لیے ہوئے رواں دواں تھیں۔ دریا کے پل پر بھی بچوں کی دلبستگی کے لیے کارٹون وغیرہ موجود تھے اور لوگوں کی بہت بڑی تعداد یہاں سے دریا کے دونوں اطراف کے نظاروں سے لطف اندوز ہو رہی تھی۔

”شانزے لیزے“ پیرس کی مشہور شاہراہ ہے جو تقریباً دو کلو میٹر طویل ہے اور یہ شاہراہ ریستورانوں، تھیٹرز اور مشہور و معروف یورپین برانڈز کی اشیا کی دکانوں سے بھری پڑی ہے۔ اس شاہراہ کا نام شانزے لہزے ایک افسانوی او ر رومانوی پس منظر کا حامل ہے۔ جس کے معنی ہیں، یونانی دیوتاؤں اور آنحہانی ہیروز کی آرام گاہ۔ اس شاہراہ کو اٹھارہویں صدی عیسوی میں فیشن ایبل ایونیو کا درجہ دیا گیا۔

پیرس میں 296 سے زیادہ روشن ترین مقامات ہیں۔ لاتعداد گرجا گھر، مجسمے، چشمے، قومی عمارتیں، تاریخی عمارتیں اور بڑے بڑے پل غروبِ آفتاب کے بعد روشنیوں میں نہا کر اس پورے شہر کو بقعہ نور بنا دیتے ہیں اور اسی لیے اسے روشنیوں کا شہر بھی کہا جاتا ہے ۔

”ڈزنی لینڈ“ یہاں پر ایک اور سیاحتی مقام ہے۔ جہاں پر بچے اور بڑے دونوں ہی یکساں طور پر لطف اندوز ہوتے ہیں۔ پیرس کو فیشن کے عالمی دارالحکومت ہونے کا اعزاز حاصل ہونے کی وجہ سے یہ فرانس بلکہ یورپ کے ماتھے کا جھومر ہے۔ نوٹرے ڈیم چرچ پیرس کی مشہور و معروف عمارت ہے جس پر وکٹرہیوگونے اپنا مشہور ناول ”ہنچ بیک آف نوٹرے ڈیم“ لکھا۔ جس پر بعد ازاں فلمیں اور ٹی وی سیزیز بھی بنائی گئیں۔

پیرس کی سیر اس میں موجود دنیا کے سب سے بڑے لوور میوزیم کے بغیر نامکمل ہے۔ 72 مربع کلو میٹر پر مشتمل اس وسیع و عریض میوزیم میں اڑتیس ہزار سے زائد نوادرات اور فن پارے موجود ہیں۔ جن کا تعلق تاریخ کے مختلف ادوار سے ہے۔ اکیلے اس ایک میوزیم کو دیکھنے کے لیے ایک ہفتہ سے بھی زیادہ عرصہ درکار ہے۔ ”مونا لیزا“ کی مشہور ِ زمانہ تصویر بھی یہیں پر موجود ہے۔

ہم لوگ سورج غروب ہونے کے بعد یہاں پہنچے۔ یہاں پر ٹکٹ کے حصول کے لیے سیاحوں کی بہت لمبی لائن موجود تھی اور ہمیں لگتا تھا کہ اگر ہم اس لائن میں لگ بھی جائیں تو ٹکٹ حاصل کرتے کرتے شاید رات ہی گزر جائے۔ بس ہم نے اس قدر کشٹ کاٹنے کی بجائے چشمِ تصور سے ہی اسے یہیں جھانک لیا تھا۔ یہاں پر قدیم زمانے کی بہت پرانی چھوٹی چھوٹی گاڑیاں بھی سیاحوں کو سواری کے لیے میسر تھیں۔ جن کا کرایہ عام ٹیکسیوں سے تھوڑا سا زیادہ تھا۔

یورپ کے اس مشہور و معروف اور جدید ترین شہر میں سائیکل رکشا بھی موجود تھے۔ جن کے ڈرائیوروں نے انہیں خوب سجایا ہوا تھا اور سیاحوں کی سواری کے لیے ہمہ وقت موجود تھے۔ ہمارے ہاں بھی کسی دور میں ریاست ”بہاولپور“ میں سائیکل رکشا کی سواری موجود رہی ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ سائیکل رکشا کی سواری کو ڈرائیوروں پر بہت بڑا ظلم سمجھ کر اسے بند کر دیا گیا۔ جب کہ اہالیان یورپ آج بھی اس سواری سے مستفید ہو رہے ہیں۔

پیرس میں ”دریائے سین“ کو ٹرانسپورٹ کے لیے ایسے ہی استعمال کیا جاتا ہے۔ جیسے کہ زمین پر سڑک یا ریلوے لائن کو استعمال میں لایا جاتا ہے۔ دریائے سین میں بسوں اور ٹرینوں کی جگہ کشتیوں کو ٹرانسپورٹیشن کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ان کشتیوں کے باقاعدہ سٹاپ ہیں جہاں پر سواریاں کشتی سے اُترتی بھی ہیں اور اُس پر چڑھتی بھی ہیں۔ دریا کے کنارے کے دونوں اطراف بہت سے ریستوران، کیفے اور دوسری مشہور و معروف اور قابلِ دید جگہیں ہیں۔ دریائے سین کے پانی کو یورپ کے باقی دریاؤں کی نسبت آلودہ خیال کیا جاتا ہے اور اس کی وجہ اس کے کنارے پر جگہ جگہ بنے ہوئے ریستوران اور کیفے ہیں۔

پیرس میں ہمہ وقت ہزاروں کی تعداد میں سیاح موجود رہتے ہیں۔ اس لیے اس شہر کا مزاج یورپ کے باقی تمام شہروں سے الگ ہی ہے۔ یہاں نہ صرف لوگ دیر تک جاگتے ہیں بلکہ سڑکوں پر بھی ہمہ وقت لوگوں کا اژدھام موجود رہتا ہے۔ اسی وجہ سے ٹریفک کی بھرمار ہے جس کے سامنے یہاں کی سڑکیں تنگ دامنی کا شکار نظر آتی ہیں اور اسی لیے یہاں پر صفائی کا معیار بھی باقی شہروں سے بہت کم تر ہے۔

ہم دو دن یہاں خوب گھومتے پھرتے رہے اور تیسرے دن واپسی ہوئی۔ واپسی پر ایک چھوٹے سے قصبے میں ایک چھوٹے سے ریستوران سے کھانا کھایا اور اس کے واش روم میں مسلم شاور کی موجودگی ہمارے لیے خوشگوار حیرت کا باعث تھی۔ تین دنوں کی آوارگی کے بعد رات گئے ہم لکسمبرگ واپس اپنے گھر پہنچ گئے۔

Facebook Comments HS