بھارت میں بارہویں مہا کُمبھ میلے پر سوالات

مذہب کے لئے دنیا چھوڑ دینا بھارت کے سناتن دھرم میں بہت پرانی ریت رہی ہے۔ اس ریت کو باقاعدہ ایک رواج میں بدلنے کا سہرا شنکر اچاریہ کے سر سجایا جاتا ہے جس نے آٹھویں صدی میں بھارت میں سناتن کو یکجا کر کے ایک دھرم بنا دیا جس کی وجہ سے ان کو اوتار کا درجہ بھی دیا جاتا ہے۔ اس سے پہلے ہندوستان میں سناتن دھرم کے ماننے والے مہا راجہ اشوک کے بدھ مت اختیار کرنے کے بعد بکھر چکے تھے۔ گو کہ اشوک اعظم کے دور میں ہندوستان بنگال سے افغانستان اور کنیا کماری سے کشمیر تک ایک ملک کے طور پر طاقتور ریاست بن چکا تھا مگر یہ دور سناتن ہندو دھرم کے لئے خوشگوار زمانہ نہیں تھا۔
شنکر اچاریہ نے سناتن دھرم میں علوم و رسوم کے احیاء کے ساتھ ہی مذہبی اداروں کی بھی تنظیم نو کی۔ سادھوؤں اور یوگیوں کے لئے شاستروں کے علوم کے ساتھ دھرم کی رکھشا کے لئے شستروں (ہتھیاروں ) کی مہارت کو لازمی بنا دیا۔ مذہبی تعلیم دینے والے اکھاڑوں میں ابتدائی عمر سے ہی علم کی شکھشا کے ساتھ جسمانی ورزش یا سادھنا کا اہتمام بھی کیا۔ سناتن دھرم میں سادھنا اور سنیاس کی تپسیا کرنے والوں کی درجہ بندی کر کے مختلف اکھاڑوں میں تقسیم کیا گیا۔
شنکر اچاریہ نے ہندوستان کے شمال، جنوب، مشرق اور مغرب میں میں چار مذہبی تعلیم و تربیت کے اکھاڑے کھول دیے جہاں نوجوانوں کے لئے رہائش کا بھی بندوبست ہوتا تھا۔ یہاں نوجوانوں کو اگلے منازل میں ترقی پانے کے لئے کٹھن مراحل سے گزرنا ہوتا ہے۔ ترقی پانے والوں کو تپسیا کے لئے ہمالیہ کے برفانی پہاڑوں، رامدھا ندی سے متصل جنگلات اور ویرانوں میں بھیج دیا جاتا ہے۔ سخت سردی اور گرمی میں بغیر کپڑوں کے بدن پر راکھ مل کر سادھو سالوں تک تپسیا کرتے ہیں۔
سادھوؤں کو ہر تین سال بعد گنگا، جمنا، سرسوتی اور رامدھا ندی کے ایک متعین مقام پر سردی کے موسم میں میگھ کے مہینے میں اشنان یا مقدس غسل کے لئے ملنا ہوتا ہے جس کو کُمبھ کا میلہ کہا جاتا ہے۔ یہ میلہ چھ سال بعد اردھ کُمبھ اور بارہ سال بعد مہا کُمبھ کہلاتا ہے۔ یہاں ملن کے لئے سادھو اپنے متعلقہ اکھاڑے سے جڑ جاتے ہیں اور ایک ماہ تک ان دریاؤں کے مخصوص مقامات پر آشنان کرتے ہیں جو سناتن دھرم کے مطابق اشنان کرنے والے کے تمام گناہ یا پاپ دھو دیتا ہے۔
ہندوستان میں ریلوے نے نقل و حمل میں انقلاب برپا کیا تو کُمبھ کا میلہ بھی مقامی کے بجائے ایک قومی تہوار بن گیا۔ 1880 ء میں پہلا مہا کُمبھ منعقد ہوا جو ہر بارہ سال بعد تواتر سے ہوتا ہوا 144 سال بعد بارہواں مہا کُمبھ اس سال 13 جنوری 2025 ء سے گنگا، جمنا اور سرسوتی ندیوں کے سنگم پریاگ راج سابقہ الہ آباد میں منعقد ہونے جا رہا ہے جس میں ہندوستان اور دنیا بھر سے چالیس کروڑ سے زیادہ لوگوں کی شرکت متوقع ہے۔
شنکر اچاریہ کے قائم کردہ چار اکھاڑے اب تیرہ بن چکے ہیں۔ 2013 ء میں پہلی بار عورتوں کے اکھاڑے کو بھی شامل کیا گیا تھا اور اس بار 2025 ء میں مخنثوں کی شمولیت بھی ہوگی۔ جہاں کُمبھ کے میلے کو بی جے پی سرکار اور خاص طور پر وزیر اعظم نریندرا مودی کی طرف سے جگہ جگہ جہازی سائز کے اپنے تشہیری پوسٹر لگا کر پبلسٹی ایونٹ بنانے پر حزب اختلاف کی طرف سے تنقید کی جا رہی ہے وہاں ہندو خاص طور پر سناتن دھرم کے حلقوں کی جانب سے عورتوں کے علاوہ کھسروں اور مخنثوں کی شمولیت پر اعتراضات اٹھائے جا رہے ہیں۔
کُمبھ کے میلے میں ہندوستان بھر سے لاکھوں ناگا سادھو شریک ہوتے ہیں جو عام طور پر کسی کو کہیں دکھائی نہیں دیتے۔ یہ سادھو بچپن میں ہی اپنے خاندانوں سے الگ کر دیے جاتے ہیں جو اپنے ماں باپ سمیت عزیز و اقارب کی آخری رسومات ادا کر کے خود اپنا بھی پنڈ دان اپنے ہاتھوں انجام دے اور غالب یا سے الگ ہو جاتے ہیں۔ جنگلوں، کھائیوں، پہاڑوں اور بیابانوں میں تپسیا کرنے والے یہ سادھو دنیا و مافیہا سے بے خبر رہتے ہیں۔ کُمبھ کے میلے کے دوران نئے ناگا سادھو بھی بھرتی کیے جاتے ہیں مگر اس کارروائی کو عام لوگوں سے مخفی رکھا جاتا ہے۔
بارہواں مہا کُمبھ کو ریاست اتر پردیش کے شہر پریاگ راج جس کا نام الہ آباد سے بدل دیا گیا ہے میں منعقد کرنے کے پیچھے بھی یہاں کے وزیر اعلیٰ یوگی ادیتیا ناتھ کی سرکار نظر آتی ہے جس کے الاعلان تعلقات انتہا پسند ہندو تنظیم آر ایس ایس سے جانے پہچانے ہیں۔ آر ایس ایس کو مہا کُمبھ کے انتظامی امور میں حصہ دار بنایا گیا ہے جس کے آگے ریاستی انتظامیہ جوب دہ ہے۔
آٹھویں صدی میں جب ہندو سناتن دھرم کی مذہبی تنظیم بکھر چکی تھی اور ہندوستان گروہوں میں تقسیم ہو چکا تھا تو ایسے میں شنکر اچاریہ نے دھرم اور ہندوستان کو یکجا کرنے کی غرض سے اس کی تنظیم کاری کی تھی۔ اچاریہ کے شاگردوں نے اکھاڑوں میں مذہب کی تعلیم میں یکسانیت لائی اور ملک کے چاروں اطراف میں ایک جیسی مذہبی تعلیم کا آغاز ہوا۔ آزادی سے قبل انگریز سرکار نے بھی ان اکھاڑوں کی سرپرستی اس وجہ سے کی کہ 1857 ء کی بغاؤت کی ناکامی کے بعد مغلوں یا مسلمانوں کے کسی بھی رد عمل کی صورت میں مخالف مذہبی مزاحمت موجود ہو۔ مہا کُمبھ میں مستعمل ’پیشوائی‘ اور ”شاہی اشنان“ جیسی اصطلاحات ویدوں اور آپنیشدوں سے نہیں آئی ہیں نہ ہی شنکر اچاریہ کے زمانے میں موجود تھیں جو اس بات کی غمازی ہے کہ ان روایات میں وقت کے ساتھ سیاسی و سماجی ضرورت کے مطابق تبدیلیاں لائی گئی ہیں۔
بھارت میں گزشتہ دہائیوں میں پیدا ہوئی مذہبی انتہا پسندی اور عدم رواداری نے یہاں جمہوریت کے سیکولر رنگ کو گہنا دیا ہے۔ کُمبھ کے میلے میں اکھاڑوں اور سادھوؤں کے ’بھارت ہندو راشٹر‘ سے آگے بڑھ کر اکھنڈ بھارت کے نعرے نے نہ صرف ہندوستان کی مذہبی اقلیتوں بلکہ ہمسایہ ملکوں جیسے بنگلہ دیش، پاکستان، نیپال اور سری لنکا میں بھی عدم تحفظ کا احساس پیدا کیا ہے۔ پاکستان جو خود 1970 کی دہائی سے مسلسل مذہبی انتہا پسندی اور عدم رواداری کا شکار رہا ہے اب بھی اس گرداب سے نکل نہیں پایا۔
پاکستان کے شدت پسند حلقوں کو بھی بھارت کے ایسے انتہا پسند رویوں سے شہ مل جاتی ہے۔ ایک طرف غزوہ ہند اور دوسری طرف اکھنڈ بھارت کے نعروں کی گونج میں دو ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ممالک کے عام شہری آج بھی صحت، تعلیم اور روزگار جیسی بنیادی ضروریات سے محروم ہیں اور دوسری طرف مذہبی جنون کو ہوا دینے کے لئے ریاستی وسائل کا بے دریغ استعمال کیا جا رہا ہے۔
بھارت کے روشن خیال حلقوں، دانشوروں اور اہل علم خواتین و حضرات کے علاوہ خاص طور پر اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں کی طرف سے اس بات پر سخت تنقید کی جا رہی ہے کہ ریاست کیسے ان لوگوں کی حمایت کرتی ہے جو نوجوان نسل کو دنیا سے لاتعلق کر کے ہاتھ میں چرس کی چلم پکڑا کر کاندھے پر جولا ڈالے بھیک مانگنے کے لئے چھوڑ دیتے ہیں۔ ایک طرف بھارت چاند پر اترنے کی تیاری کر رہا ہے اور دوسری طرف لاکھوں لوگوں کو بیابانوں اور پہاڑوں میں جانے وہاں گھاس پھوس کھا کر بغیر کپڑوں کے زندگی گزارنے کی ترغیب دے رہا ہے۔
بھارت کے روشن خیال لوگ یہ بھی کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ مذہب ایک انفرادی عمل ہے جس میں شہریوں کو آزادی حاصل ہونی چاہیے مگر سرکار کی طرف سے بے لباس لوگوں کے ہاتھوں میں ترشول اور تلواریں پکڑا کر ان کو میڈیا پر رول ماڈل کے طور پر دکھانا آزادی اظہار رائے یا عقیدے میں آزادی نہیں بلکہ یہ انتہا پسندی کا فروغ ہے۔ کروڑوں لوگوں کے اجتماع میں پیش آنے والا کوئی بھی واقعہ المیہ بھی بن سکتا ہے۔


شکریہ۔
کچھ اور معلومات میں اضافہ ہوا۔
اپ نے ایک جملہ استعمال کیا جو کسی بھی ملک کی ترقی کو راکٹ لگا سکتا ہے اور فی الوقت پاکستان، ایران، سوڈان، نائیجیریا اور افغانستان جیسے اسلامی ممالک کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔
مذہب کا ریاستی امور سے تو تعلق ہوسکتا ہے ریاست سے نہیں۔
اگر کوئی مسلمان یا پاکستانی نژاد شخص امریکہ یا برطانیہ میں ترقی کرکے کسی جگہ کا جج، شیرف یا میئر ہی بن جائے تو ہم بھنگڑے ڈال ڈال کر نہال ہوجاتے ہیں لیکن اپنے ملک میں کسی عیسائی، یہودی، ہندو یا قادیانی کو اسی جگہ ترقی کرکے بیٹھا نہیں دیکھ سکتے جب کہ یہ ملک ان کا بھی اتنا ہی ہے۔
ان کا مذہب ان کے گھر یا عبادت گاہ تک کیوں محدود نہیں سمجھا جاسکتا ؟ ہم مسلمانوں کو اپنا دل بڑا کرنا چاہئے چونکہ ہم تعداد میں زیادہ ہیں تو ہماری حیثیت گھر کے بڑے جیسی ہے۔ گھر میں چھوٹوں کی طرف سے کوتاہی ہو بھی جائے تو انہیں سمجھا بجھادیا جائے ہم ہر چیز اور ہر معاملے کو قتال جہاد اور جنت کا ٹکٹ بنادیتے ہیں۔ گھر ایسے نہیں بستے !