دنیا بھر میں بچوں کی حفاظت و نگہداشت خطروں سے دوچار کیوں؟


بچے ملک و قوم کا قیمتی اثاثہ ہیں۔ یہ جملہ کثرت سے جملہ ارباب اقتدار کی طرف سے بولا اور لکھا جاتا ہے لیکن عملی طور دنیا بھر میں ایسا نہیں ہے۔ بچے قیمتی اثاثہ ہیں، یہ اب محض کاغذوں کے اندر لکھی گئی رپورٹس اور بیانوں تک ہی محدود رہ چکا ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ اس قیمتی اثاثہ کا اب دنیا بھر میں کوئی پرسان حال نہیں جو دنیا کی کل آبادی کا 30 فیصد حصہ ہیں۔ دنیا کے بڑے چوہدری اور جمہوریت پسند ممالک نے مال و دولت اور سیاسی مفادات سمیٹنے کے لئے بچوں جیسے قیمتی اثاثہ کی بھی کوئی قدر نہیں کی اور انہیں جنگ و جدل کی بھٹی میں جھونک رکھا ہے۔

اس وقت دنیا میں دو جنگیں جاری ہیں۔ ایک روس اور یوکرائن کے درمیان جسے تیسرا سال شروع ہو چکا ہے اور دوسری اسرائیل اور حماس کے درمیان جو دوسرے سال میں داخل ہو چکی ہے۔ المیہ یہ کہ اس بھڑکی ہوئی آگ کو ختم کرنے کی بجائے الٹا اس کو ایندھن فراہم کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ شام، افغانستان سمیت متعدد افریقی ممالک اندرونی بدترین اندرونی خانہ جنگی کی لپیٹ میں ہیں۔ یہ فسادات کی آگ بڑوں کی لگائی ہوئی ہے لیکن یہاں بھی سب سے زیادہ قیمت بچے چکا رہے ہیں۔

دنیا میں کہیں بھی واقعہ رونما ہو، یا عالمی وبا ہو، بیماری، قحط کی سی صورتحال یا خطرناک ہجرت ہو، بچے ان تمام واقعات و سانحات میں سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ قدرتی آفات کی بات کریں تو سیلاب، سمندری طوفانوں اور زلزلوں میں بھی معصوم بچے ہی بڑی تعداد میں موت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ غیر قانونی طریقوں سے یورپ پہنچنے کے لئے خطرناک سمندروں کے راستے سفر کے دوران کشتیوں کے ڈوبنے کے واقعات روز کا معمول بن چکے ہیں ان میں بھی بڑی تعداد بچوں کی ہوتی ہے۔

یہ صورتحال عالمی اداروں اور طاقتوں کے لئے ایک لمحہ فکریہ سے کم نہیں ہے۔ یاد رہے کہ عالمی قوانین کے مطابق 18 سے کم عمر تمام انسان ”بچوں“ کے زمرے میں آتے ہیں۔ یہ اصطلاح بچوں کے کنونشن یو این سی سی سی (UNCCC) کی تخلیق کردہ ہے جو 1989 میں منظور کیا گیا تھا۔ اسی کے ساتھ ساتھ بچوں کے تمام بنیادی حقوق بھی باقاعدہ طور پر نہ صرف تسلیم کیے گئے ہیں بلکہ ان کی دیکھ بھال اور حقوق کی پاسداری کی ذمہ داریوں کا تعین کر کے ان کو تسلیم بھی کیا گیا ہے اور اقوام متحدہ کے ممبر ممالک اس کے ذمہ دار ہیں۔

بچوں کے حقوق سے متعلق منظور شدہ قوانین کے مطابق یہ ضروری ہے کہ ہر نومولود بچے کی فوری رجسٹریشن کی جانی چاہیے۔ بچے کی پیدائش پر اس کی رجسٹریشن اس کے بنیادی حقوق میں سرفہرست ہے۔ یونیسیف کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق 500 ملین سے زائد یا دس میں سے آٹھ بچوں کی پیدائش کا اندراج ہونا ایک خوش کن پیش رفت ہے۔ عالمی سطح پر اس کی رجسٹریشن جو 2019 میں 75 فیصد تھی اب 2024 میں بڑھ کر 77 فیصد ہو چکی ہے۔ جب کہ ابھی تک 150 ملین بچوں کی رجسٹریشن ہونا باقی ہے۔

اسی طرح دیگر حقوق میں بچوں کی دیکھ بھال اور پرورش والدین کی ذمہ داری ہے۔ بچے اپنے دونوں ماں اور باپ کے ساتھ رہنے کا حق رکھتے ہیں۔ بچوں پر تشدد کرنا غیر قانونی ہے اور بچوں کے حقوق میں اچھی تعلیم اور تمام اشیائے ضرورت کی فراہمی لازمی ہے وغیرہ۔ بچوں کے حقوق کی حفاظت نگرانی کے لئے باقاعدہ عالمی سطح پر دیگر اداروں کے ساتھ ساتھ ایک ایسا ادارہ بھی موجود ہے جو یونیسف کہلاتا ہے۔ یونیسف کی ہر ملک میں نمائندگی ہے اور اس ملک میں بچوں کے حقوق اور خلاف ورزیوں کی نگرانی کرتی ہے۔

یونیسف کی ابتداء 11 ستمبر 1946 میں ہوئی تھی اور اس کا بنیادی کام انسانی ہمدردی کی بنیاد پر دنیا بھر میں بچوں کو ہنگامی نوعیت کی مدد فراہم کرنا اور ان سے متعلق ترقیاتی کام کرنا ہوتا ہے۔ اس وقت 192 سے زائد ممالک میں اس تنظیم کے دفاتر بچوں کو دیکھ بھال میں مصروف ہیں۔ مختلف بیماریوں، قدرتی آفات، بھوک و غربت کے ہاتھوں شکار بچوں کی فلاح و بہبود کے ساتھ ساتھ ان جنگوں میں انسانی ہاتھوں سے بنائے ہتھیاروں کی زد میں اپاہج ہونے والے بچوں کی بھی دیکھ بھال ان ادارے کی بڑی اور مستقل ذمہ داری بن چکی ہے۔

یونیسف کی طرف سے حال ہی میں جاری کی گئی متعدد رپورٹس سے پتہ چلتا ہے کہ آج دنیا بھر میں بچے اپنے ہی بڑوں کی غلطیوں کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔ بچوں کے حوالے سے یہ حالت کیا ہے اس کا اندازہ یونیسف کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر کیتھرین رسل کے ایک تازہ ترین بیان سے لگایا جاسکتا ہے جس کے مطابق 2025 کے پہلے سات دنوں میں غزہ کی پٹی میں بے پناہ تشدد کے باعث کم از کم 74 بچے ہلاک ہو چکے ہیں۔ غزہ جنوب کے محفوظ زون میں بھی بچے اب محفوظ نہیں رہے پانچ بچے المواسی میں مارے گئے ہیں۔

کیتھرین کے مطابق نیا سال غزہ کے بچوں کے لئے حملوں، محرومیوں، اور سردی کے ساتھ مصائب لے کر آیا ہے۔ نئے سال کی المناک شروعات میں بہت سارے بچے مارے گئے ہیں یا اپنے پیاروں سے محروم ہو گئے ہیں۔ اگر 2024 گزرے سال کی بات کی جائے تو یونیسف نے اس کو بچوں کے حوالے سے ایک بدترین اور ہولناک سال قرار دیا ہے۔ کہ اس سال بچے تاریخ میں سب سے زیادہ نہ صرف ہلاک و زخمی ہوئے بلکہ ہر دوسرے انسانی پہلو سے بھی شدید متاثر ہوئے۔ جیسا کہ بچے اپنے پیاروں سے محروم ہو گئے یا اپاہج بن کر زندگی گزارنے پر مجبور کر دیے گئے۔ نیز یہ کہ مختلف ممالک کے مابین لڑائی اور خطوں کی اندرونی خانہ جنگی میں بچے زندگی کی ہر قسم کی رعنائیوں سے محروم ہوئے ہیں۔ یونیسف ہی کی رپورٹ کے مطابق 2023 کے اختتام تک 47.2 ملین بچے مختلف عالمی تنازعات اور تشدد کی وجوہات کی بنا پر بے گھر ہوچکے تھے۔ اس وقت دنیا بھر میں بچے اوسطا چالیس فیصد مہاجر اور انچاس فیصد اندرونی طور بے گھر حالتوں میں موجود ہیں۔

یونیسف کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال بچوں کے ریکارڈ کے حوالے سے ایک بدترین سال رہا اور بچوں کی زندگیوں پر غیر معمولی منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ امن کی جگہوں پر رہنے والے بچوں کی نسبت تنازعات اور فسادات لڑائی کی جگہوں پر رہنے والے بچے بڑی تعداد میں اسکولوں سے باہر ہوئے، غذائی قلت کا شکار ہوئے اور اپنے گھروں سے محروم ہوئے۔ گزشتہ سال 2024 کے نو مہینوں کے دوران غزہ اور یوکرین لڑائی میں ہلاکتوں کی تعداد 2023 کی نسبت بہت زیادہ رہی ہے۔

اسی طرح 2023 کے بعد سے اب تک 32900 سے زائد پرتشدد واقعات میں 22000 سے زائد بچے مجروح ہوچکے ہیں۔ قوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں سوڈان میں جاری پرانے تنازعے میں سال رواں 2025 میں پانچ سال سے کم عمر 3.2 ملین بچوں کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کے خدشے کا اظہار کیا گیا ہے۔ سوڈان میں بڑھتے ہوئے تنازعہ میں بچوں کی مشکلات اور مصائب میں بھی خطرات بڑھتے جا رہے ہیں۔ مناسب خوراک اور بنیادی خدمات کی عدم فراہمی کے نتیجہ میں بچے زیادہ متاثر ہوتے ہیں جس کے باعث ان کے اندر بیماریوں کے پھیلنے کے خطرات بھی بڑھ جاتے ہیں۔

محفوظ جگہ، صاف پینے کا پانی، صفائی، غذا کی فراہمی ایسی بنیادی ضروریات کی عدم فراہمی سے مزید ہزاروں بچوں کی ہلاکت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ دسمبر 2024 میں Vanuatu میں آنے والے زدید ترین زلزلہ سے 42000 بچے متاثر ہوئے اور انہیں فوری انسانی ہمدردی کی بنیاد پر بنیادی ضروریات کا سامنا ہوا تھا۔ اسی طرح دسمبر ہی میں شمالی موزنبیق کے ایک صوبے میں آنے والے سائکلون کی وجہ سے جو تباہی ہوئی تھی اس میں کم از کم نوے ہزار 90000 بچے بھی متاثرین میں شامل تھے۔ المیہ یہ ہے کہ وسائل محدود ہیں جب کہ مسائل ہیں کہ بڑھتے ہی جا رہے ہیں۔ یونیسف سمیت دیگر اقوام متحدہ کے اداروں کی اپیلوں کے باوجود مختلف خطوں میں جاری لڑائی نہ تو ختم کی جا رہی ہے اور نہ بچوں کی حفاظت و نگہداشت سے متعلق عالمی اپیلوں کو اہمیت دی جا رہی ہے جو باعث تشویش ہے۔

Facebook Comments HS