اعجاز، محبوب اور بوبی

وہ میری پیدائش سے پہلے پردیس کا ہو چکا تھا۔ میرے بچپن کی البم اور یادداشتوں میں اُس کی کوئی یاد نہیں۔ میرا اُس سے پہلا تعارف ہمارے گھر کے مہمان خانے میں لگی مصوری اور خطاطی کے فریموں سے ہوا۔ جن پر عجیب و غریب سے لوگوں کی شبیہ بنی تھی اور ایسے ہی نا سمجھ آنے والے حروف تھے البتہ وہ حروف ’اے، بی، سی‘ سے مشابہ ضرور تھے۔ میں کچھ بڑا ہوا تو میری ماں نے اپنی پرانی تصویروں میں مجھے اپنے رشتوں سے ملایا۔ میں ان تصویروں میں اُس کے ماں باپ اور بھائیوں سے ملا۔ خالہ کا لمس میں پہچانتا تھا کہ وہ ہمارے ساتھ راجن پور میں ہی رہتی تھی۔ یوں اپنی ماں کے بھائیوں سے ملاقات میں میرا تعارف ماموں بوبی سے ہوا۔
کئی سالوں بعد ہم گرمیوں کی چھٹیوں میں لاہور گئے تو میری ملاقات محبوب سے ہوئی۔ وہ تصویروں والے ماموں سے بہت بدل چکا تھا اور اپنی عمر کے چوتھے عشرے کے وسط میں ہو گا۔ وہ ایک ایسا آدمی تھا جو زندگی کے سکھ سے بھرپور اور سماج کی خارجی سازشوں اور اقدار کے قواعد سے یکسر دور ایک الگ ڈگر کا مسافر تھا۔ میں نے ایسا آدمی پہلی دفعہ دیکھا تھا۔ اُس نے نہ صرف میرے بائیں ہاتھ سے کھانے کی عادت پر بزرگوں کی طرح مجھے ٹوکنے سے پرہیز کیا بلکہ تقریباً اس بات کو سراہا تھا۔
اگلی دفعہ وہ میری ماں کو جواں بیٹے کی مرگ پر پُرسا دینے آیا تو اس بار بھی روایتی تعزیت کے طریقوں سے کوسوں دور تھا، وہ اُس وقت صرف حوصلہ دینے آیا تھا اور جی بہلانے میں لگا تھا۔ اُن ملاقاتوں میں طویل وقفے حائل تھے۔ جب میں ملتان آیا تو ہمارے رابطوں کی صورت نکل آئی۔ اگلی دفعہ میں لاہور گیا اور اُنہیں مجھ سے ادبی مشاغل کی بو آئی تو واپسی پر کچھ کتابیں ساتھ روانہ کر دیں۔ اُن میں ایک طرف گورکی کے ناول ”ماں“ کا اردو ترجمہ تھا تو ساتھ میں امام غزالی کی ’کیمیائے سعادت‘ اور صوفیاء کی شاعری کے کتابچے (اب تو یہ لفظ لکھتے ڈر لگتا ہے کہ لوگ اِسے کتے کا بچے پڑھنے لگے ہیں ) ۔ یہ کتابیں مختلف نقطہِ نظر کی الگ دنیائیں تھیں۔ وہ ان سب دنیاؤں کے در مجھ پر وا کرنا چاہتے تھے۔
مجھے یاد ہے یونی ورسٹی کی تعلیم کے لئے جب مجھے مضمون اور شعبہ چننے کی پریشانی نے آن گھیرا تھا اور میں صحافت کی بجائے ادب پڑھنا چاہتا تھا مگر میرٹ نام کی بلا اُس معصوم خواہش کے آگے ایک دیوار کی طرح حائل تھی تو انہوں نے مجھے اپنی ذات کو کسی مضمون یا شعبہ سے دور رکھ کر انفرادی سطح پر خود کی پرورش کرنے کا مشورہ دیا تھا اور سمجھایا تھا ایک بند کمرے میں کتابوں، ادب اور فلسفہ کے قریب ہو کر جو جگہ بنائی جا سکتی ہے وہ کسی ادارے کی مرہونِ منت نہیں۔ آج بھی خود کو کوستا ہوں۔ میں کاش ایسا کر پاتا۔
خود انہوں نے ایف ایس سی میں اتنے نمبر حاصل کیے تھے کہ باآسانی کسی میڈیکل کالج میں داخلہ لے سکتے تھے مگر وہ خان پور سے کراچی فرار ہو گئے اور کراچی اُن کی شخصیت کی تہیں کھولنے میں جُت گیا۔ جب تک انہیں اپنا راستہ نہ ملا انہوں نے کراچی یونی ورسٹی سے معاشیات میں اپنی تعلیم جاری رکھی مگر اُس تعلیم کو زیادہ توجہ نہ دی بلکہ اپنے اصل کام پر لگے رہے۔ یہ وہ وقت تھا جب وہ فنون لطیفہ کی تمام اصناف میں گھرے تھے اور اپنی راہ کی کھوج میں مگن۔ ایک طرف احمد فواد جیسا وسیع المطالعہ شخص اور منفرد شاعر روم میٹ تھا تو دوسری طرف آزر ذوبی جیسی قد آور شخصیت کے زیر ِ سایہ مصوری اور مجسمہ سازی کی ریاضت جاری تھی۔ یہ وہ کڑا وقت تھا جب اُن کے لئے کوئی نرم آغوش تھی تو صرف کراچی کی کشادہ سڑکیں۔ جن پر سینکڑوں میل کا پیدل سفر جاری تھا۔
اسی اثنا میں مسلسل کوششوں کا جتن کام آیا اور وہ مزید تعلیم کے لئے فرانس روانہ ہو گئے۔ ENSAD جیسے ادارے میں داخلہ ہو جانا اسی تپسیا کا نتیجہ تھا، بس پھر وہاں جانا کیا تھا انہوں نے آرکیٹیکچر، فرنیچر ڈیزائن، انٹیریئر ڈیزائن ایک کے بعد ایک ڈگری اور ڈپلومہ کی سہولت کو حاصل کیا، بھلے اُس کی اُجرت اُنہیں پیرس کی گلیوں میں کبھی سکیچ بنا کر اور کبھی مسلسل جاگ جاگ کر ادا کرنا پڑی۔ وہ اپنی سر مستی کے نشے میں ایسا غرق تھا کہ سب بھولے بیٹھا تھا۔
80 کی دہائی کے ابتدائی سالوں میں وہ فرانس گئے اور تقریباً سولہواں، سترہ سال وہیں زندگی کی۔ ایک فرانسیسی خاتون ’روز‘ سے شادی کی اور وہیں ملازمت اختیار کر لی۔ نا جانے کب حُب الوطنی کا خمیر جاگا اور وطنِ عزیز کی یاد نے گھیر لیا۔ مگر وہ وطن سے زیادہ احساسات اور گزرے دنوں کی کشش تھی۔ یوں ایک بھرپور وقت گزار کر وہ غالباً 1996 میں اپنی بیوی کے ہمراہ واپس آئے اور سلیمیٰ ہاشمی کے کہنے پر نیشنل کالج آف آرٹس میں دونوں میاں بیوی نے انٹیریئر ڈیزائن کے شعبہ کی بنیاد رکھی۔ وہ چاہتے تو ایک پرلطف اور با سہولت زندگی پیرس کی گلیوں میں باآسانی گزار سکتے تھے مگر اُن کے اندر اپنی کوششوں کو آگے منتقل کرنے کی لگن اور مقامیت کی آگ انہیں واپس لے آئی۔ اسی لگن اور جوش میں انہوں نے اپنا کام جاری رکھا۔
میرے عزیز ہم وطنو کی ایک اور قسط مُکے لہراتے ہوئے نشر ہوئی اور ملک کے حالات خراب ہو گئے۔ ملکی حالات، موسم، اداروں کی زبوں حالی کے پیشِ نظر اُن کی بیوی واپس فرانس پلٹ گئی اور کچھ ہی عرصے میں ماموں کا این سی اے کا باب تمام ہوا اور انہوں نے بیکن ہاؤس نیشنل یونی ورسٹی جوائن کر لی۔ اس دورانیے میں وہ اکیلے رہے اور یہ وہ وقت تھا جب وہ اپنی پسندیدہ صنف کی طرف واپس آئے اور مجسموں کا ایک سلسلہ شروع ہوا۔ پھر غالب، ٹیگور، فیض، منٹو، غلام فرید، صادقین کون کون نہ مجسم ہوتا گیا۔ یہ تخلیقیت سے بھرپور زمانہ تھا جب وہ مصوری کیے گئے، گھروں کے گھر ڈیزائن کیے اور نابغہِ روزگار ہستیوں کے مجسمے بناتے گئے۔ ایک استاد گھرانے کے چراغ سے ستار بجانے کی تربیت لی گئی اور شامیں اس کی تاروں سے نکلے ستاروں کے ساتھ ہوئیں اور وہ اپنی آواز کی محبت میں مزید ڈوبتے گئے۔
اُن دنوں ماموں ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں رہتے تھے۔ گھر کیا تھا ایک بھول بھلیاں تھی۔ مگر وہ گھر ہر طرح سے شخصیت پر تخلیقی اثرات ڈالنے کا سبب بنا۔ اُس کی راہداریوں میں ہوائیں رقص کرتیں تھیں تو دیواریں ٹھنڈک اُگلتی تھیں۔ یہ گھر کبھی سر ظفراللہ کی ملکیت ہوا کرتا تھا، بعد میں کسی اور نے خرید لیا۔ جب ماموں وہاں رہائش پذیر تھے تو گھر کی مالکہ نیچے کے حصے میں رہتیں تھیں۔ اور اتنی نازک طبع تھیں کہ سیڑھیوں سے اترتے ہوئے نہ قدموں کی چاپ برداشت کرتیں تھیں نہ دروازے کی چوں چر۔ مگر محبوب صاحب نے اُس گھر کا خوب لطف اٹھایا۔ بعد میں یہیں اُن کی اگلی شادی ہوئی۔ ایک نئی دنیا کی راہوں کی ابتداء۔
اکیلے پن کے ان سالوں پر محیط تخلیقی دور میں اُنہیں مرغیاں اور کبوتر پالنے کا شوق پڑا تو اُن کا گھر تقریباً ایک چڑیا گھر میں بدل گیا۔ کئی پنجرے تھے اور کئی طرح کے پرندے۔ طرح طرح کی کٹوریاں تھیں اور کئی طرح کی سکوریاں۔ کتے اور بلیاں تو پہلے سے ساتھ چلے آ رہے تھے۔ ایک طرف گھر، فرنیچر اور مصوری ہو رہی تھی، دوسری طرف وہ بسم اللہ کو طرح طرح سے کیلی گرافی کی شکل دے رہے تھے۔ انہوں نے بسمہ اللہ کئی ہزار دفعہ سکیچ اور پینٹ کیا۔ اور اپنے کرافٹ کا امتحان لیتے رہے۔ یہ مشق ایک فن کار کی ریاضت کے طور تھی یا کسی روحانی سفر کا عمل تھا، خدا بہتر جانے۔
اعجاز ملک دراصل ایک شخص نہیں ایک پیکیج ہے۔ جہاں وہ فنونِ لطیفہ اور ادب کی بہت سی اصناف سے جڑا ہے وہاں وہ ایک پریکٹیکل مارکسسٹ کے طور پر زندگی کو بورژوا انداز سے قدرے دور لے گیا ہے ۔ وہ شاید کسی سوشلسٹ کو جانتا تک نہیں ہو گا مگر وہ اپنے نظریے اور رویے میں نہ صرف ایک سوشلسٹ ہے بلکہ اُن چند لوگوں میں شامل ہے جنہوں نے واقعی ترقی پسندی اپنائی ہے، محض اس کے چرچوں سے شہرت نہیں سمیٹی۔
اُن کی زندگی میں مختلف چیزیں ایک تجسس کی شکل میں داخل ہوئیں اور پھر زندگی کا حصہ بن گئی۔ پہلے وہ ہومیو پیتھی طریقہِ علاج کو ایک فراڈ سمجھتے تھے، پھر کسی بہانے اُن کا ٹاکرا ڈاکٹر عبدالجبار سے ہوا۔ ایک ابتدائی گفتگو معاملہ یہاں تک لے گئی کہ وہ ہر اتوار جبار صاحب کے پاس حاضری دینے لگے اور یہ سلسلہ سالوں یوں ہی چلتا رہا اور انہوں نے کہاں کہاں سے نہ ڈھونڈ کر دنیا بھر کا ہومیو پیتھک لٹریچر پڑھ ڈالا۔ اب حالت یہ ہے کہ وہ ہومیوپیتھک ڈاکٹروں کی اکثریت سے بہتر معالج ہیں۔ دل نے کچھ بے ایمانی کی اور دل کی نالیوں میں والو ڈلوانے پڑے تو ہسپتال سے واپسی پر ہی انہوں نے دوا کی پوٹلی کو دور پھینکا اور اپنے ٹانک پر آ گئے۔ اس طریقہِ علاج پر یقین کی انتہا یہاں تک پہنچ گئی کہ جناب نے کئی سالوں سے ڈسپرین یا پینا ڈال کا ذائقہ تک نہیں چکھا۔
پھر انہیں درختوں کے شوق نے آن لیا۔ کیا قدیمی، کیا جدید، امپورٹڈ سے مقامی تمام درختوں کی نسلوں کو اُن کے آباؤ اجداد تک جا تلاش کیا۔ نہ صرف کتابوں پر یقین کیا بلکہ مختلف بوٹینکل گارڈنز کے دورے ہوئے اور پھر وہ درخت لگانے کے مشن پر جت گئے۔ پہلے اپنے گھر اور اردگرد درختوں کی بہار آئی، پھر پوری کالونی کو اپنا باغیچہ جانا۔ لوگوں کو اکٹھا کیا، پہلے درخت کی ضرورت اور ماحولیات کی آلودگی کو دلیل بنایا، یہ دلیلیں کام نہ آئی تو اُن کو گزرے پرکھوں کے ثواب کا لالچ دے کر چندہ اکٹھا کیا اور گلیاں، سڑکیں، قبرستان درختوں سے بھر چھوڑے۔
آج بھی ایک آری ہمہ وقت اُن کی گاڑی میں موجود ہوتی ہے۔ راہ چلتے جہاں اچھا درخت دکھا، شاخ کاٹی اور اُس کی افزائش پر لگ گئے۔ اب گھر اور اُس کے اردگرد کئی درخت رشتہ داروں اور دوستوں سے منسوب ہیں اور انہوں نے درختوں پر اُن کا نام کندہ کر دیا ہے۔ انہوں نے ماحولیاتی آلودگی پر بھاشن دینے یا سوشل میڈیا پر شور مچانے کی بجائے خاموشی سے اپنے حصے کی شمع جلائی۔ جہاں جہاں وہ درخت لگا کر اُن کی حفاظت کر سکتے تھے انہوں نے کی۔
صبح شام کے اوقات میں سے ایک ایک گھنٹہ نکالا اور ان پودوں اور درختوں کے نام کر دیا۔ اُن سے ملتے رہنے والے گواہی دیں گے کہ اکثر اُن کے گھر جانے پر وہ باہر سڑک پر ہاتھ میں پانی دینے والا پائپ پکڑے پائے گئے۔ جہاں محسوس ہوتا درختوں کے بارے میں کوئی شخص سنجیدہ ہے اُسے پودے تحفتاً دینے لگتے۔ یہ وہ پریکٹیکل عمل تھا جس کا حوصلہ بہت کم جانوں میں پایا جاتا ہے۔
جہاں وہ اپنی زندگی کے تجربات میں کئی طرح کے مشاغل میں مصروف ہیں اور خود کو کسی ایک شوق تک محدود نہیں رکھتے وہاں کھانے کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ انہیں ہر نوع کی غذا مرغوب ہے مگر چکھنے کی حد تک۔ یعنی ولایتی اور دیسی دونوں طرح کے کھانے وہ خوب شوق سے نوش کرتے ہیں اور صرف کھاتے ہی نہیں بلکہ درحقیقت وہ کھانے کا مزہ لیتے ہیں۔ بس کھانا صاف ہونا چاہیے پھر وہ لطف دینے والا ہے یا بد مزہ وہ خوب چسکے لیں گے۔
دو چیزوں کی تلاش میں وہ میلوں کا سفر کر سکتے ہیں، ایک اچھی مچھلی اور دوسرا باریک لینن۔ سردیوں میں وہ مچھلی لینے کبھی ہیڈ ترموں اور دریاؤں کا رخ کرتے ہیں تو گرمیوں میں لینن کی تلاش میں کیا برینڈڈ دکانیں اور کیا انار کلی اور نیلا گنبد کا لنڈا بازار اور اسلم بھائی کی دکان۔
اعجاز صاحب کی شخصیت کا ایک اعجاز یہ ہے کہ وہ مسلسل ارتقا میں رہے۔ عموماً اُن کی عمر کے لوگ اور خصوصاً پروفیسر اپنی جوانی کی پڑھت اور تجربات پر پوری عمر گزارہ کیے جاتے ہیں، مگر انہوں نے نہ صرف فن تعمیر کی پریکٹس میں خود کو نیا رکھا بلکہ دیگر علوم و فنون میں سامنے آنے والی تخلیقات سے خود کو جوڑے رکھا۔ نوجوانوں اور اُن کے کام کے ساتھ شامل رہے۔ مسلسل اور بہت پھیلے ہوئے مطالعے کی عادت نے انہیں اور اُن کے کام کو بہت ساری جہتوں میں پھیلا دیا۔ اُن کے ڈیزائن ہوئے گھر شاعری پڑھتے ہیں تو اُن کے مجسمے آرکیٹیکچرل ماڈل بن کر ابھرتے ہیں۔ اُن کا فرنیچر پرندوں کے اجسام کی زبان بولتا ہے تو مصوری درختوں کی طرح شاخیں پھیلائے ہے۔ یعنی ان کثیرالاصناف تخلیقات نے آرٹ کے نئے رشتوں کو جنم دے دیا۔
جو کام اعجاز ملک کو نہیں آتا وہ پی آر اور اپنی پرموشن ہے۔ انہوں نے صرف کام کیا اور اُس کے بعد سب کام پر چھوڑ دیا۔ کسی نے کچھ داد دے دی تو شکریہ وگرنہ اگلا کام جاری ہے۔ آرٹ کی پرموشن ہمارے ہاں ٹولیوں کی صورت میں ہوتی ہے۔ اس کے لئے کلٹ کا لفظ زیادہ بہتر ہے (ویسے تو ادب کا حال بھی کچھ یہی ہے ) ۔ اگر آپ کسی آستانہ سے بیعت نہیں ہوئے تو آپ جتنے بڑے خلاق سہی آپ کو توجہ نہیں ملے گی۔ یہ بد قسمتی سے ایک روایت کا روپ دھار چکی ہے۔
جس شہر کو انہوں نے اپنی پہچان بنایا، جہاں وہ گزشتہ تین دہائیوں سے آباد ہیں اور کام کیے جاتے ہیں، اس لاہور کی آرٹ کمیونٹی انہیں اسی لئے اپنا نہیں سمجھتی کہ وہ کسی گروہ کا حصہ نہیں بنے۔ بلکہ یہ کہا جاتا ہے : ”اچھا! وہ فرانس والے اعجاز صاحب۔“ اس سب نے اُن کی شخصیت یا کام پر کوئی اثر نہیں ڈالا، بس کبھی وہ دل برداشتہ ہو کر اس کا اظہار کر دیتے ہیں۔ اگر اُن کے کام کو صحیح معنوں میں پذیرائی مل جاتی تو شاید وہ اس سے کہیں زیادہ کام کر چکے ہوتے اور کہیں زیادہ حوصلے کے ساتھ۔
آرٹ کے فروخت ہونے کے لئے بھی ایسے ہی تعلقات درکار ہیں۔ ان کا کام کم بکتا ہے۔ وہ خود کمرشل یا پاپولر کام نہیں کرتے اور جو کرتے ہیں وہ اُس طرح سے نمائش یا فروخت کی دوڑ میں شامل نہیں ہوتا۔ گھروں کے پروجیکٹ بھی اسی اصول پر ہیں۔ اول تو وہ کوئی ایسا کام نہیں لیتے جس میں ایک
کلائنٹ آ کر کہے ”وہ فلاں صاحب جیسا گھر بنا دیے، آپ کی سہولت خاطر تصویریں بھی لائے ہیں۔“ دوسری وجہ اُن کا سپیس اور ہوا کے ساتھ کھیلنا ہے اور کمروں کی گنتی، باورچی خانے کے سائز یا آرائش کو نظر انداز کرنا ہے۔ ایک خاص ٹولا اُن کے کام کو سمجھتا ہے اور وہی اُن کا مداح ہے۔ اس سے زیادہ شہرت کے وہ شائق بھی نہیں۔
اُن کی زندگی روایتی رکھ رکھاو سے کوسوں دور ہے۔ ایک درویشانہ عجز ہے جو ہر وقت شاملِ حال رہتا ہے۔ اُن کا مزاج البتہ ایک بات پر بری طرح بگڑ جاتا ہے جب اس سادگی کو بیچارگی سمجھا جائے۔ پھر وہ نہ تعلق کا دورانیہ دیکھتے ہیں نہ خون کی نسبت۔ دو ٹوک سیدھے سیدھے کپڑے اتار دیتے ہیں۔
میں قسطوں قسطوں میں انہیں کھوجتا رہا جب 2016 میں لاہور شفٹ ہوا تو قریب سے بغور دیکھنے اور محسوس کرنے کا موقعہ ملا۔ وہ جینا جانتا ہے اور ہر حالات میں اپنے لئے لطف ڈھونڈ لاتا ہے۔ یہ ایکسٹیسی اُن کی فطرت میں شامل ہے۔ وہ کسی بھی بات سے اپنے لئے مزے کا پہلو ڈھونڈ نکالیں گے۔ ایک روز ہم سڑک پر تھے اور ہمارے آگے چلتی گاڑی کی نشستوں پر دو برابر گنج نظر آ رہے تھے۔ یہ بات اتنی قابل ِ غور نہ تھی مگر انہوں نے اِسے دو متوازن تربوزوں سے ایسی تشبیہ دی کہ ہم بہت دیر تک ہنستے رہے۔
ایسی ہی کوئی تشبیہ وہ لاہور کی سڑکوں پر نظر آنے والی اُن خواتین کے لئے استعمال کرتے ہیں جن کا ایک کولھا موٹر سائیکل کے پیچھے لٹک رہا ہوتا ہے۔ اُن کی حس ِ مزاح انہیں تکلفات سے دور لے گئی اس لئے پابندیوں کے بند نہیں باندھتے۔ وہ لین یو تانگ کے اصولوں پر عمل پیرا ہو کر چھوٹی چھوٹی چیزوں سے خوش ہونا جانتے ہیں۔ اسی بدولت ہم اُن سے با آسانی گندے لطیفے اور برہنہ عورتوں کی تصویریں شیئر کر لیتے ہیں۔
گزشتہ کئی سالوں سے محبوب اپنا گھر کن کھجورا بنانے میں لگے ہیں۔ وہ گھر نہیں گویا مشرق اور مغرب کا ملاپ ہے۔ اُس میں برساتیاں اور برآمدے ہیں، دالان ہیں، محرابیں ہیں، بس ایسا ہے کہ مغربی ضروریات کو مشرقی پیرائے میں پورا کیا ہے۔ یوں سمجھئے ایک آرکیٹکٹ نے اپنی زندگی کے سارے تجربے اور اُن ارمانوں کو جو وہ کسی اور کے گھر میں پورے نہیں کر سکتا یہاں ایک تجربے کی صورت اکٹھے کر دیے ہیں۔ آج کل وہ صرف کن کھجورے کی خدمت کرتے ہیں اور اُس کے گرد جنگل اگانے میں مگن ہیں۔ اُس جنگل کی خوشحالی کے لئے مرغے، کبوتر، کتے، بلیاں پال رکھے ہیں۔ اس سب میں اُن کی خوشی یہی ہوتی کہ آج مرغی کے انڈوں سے چوزے نکل آئے یا کوئی نئی کونپل، اور پریشانی بھی یہی ہے کہ کبھی کوئی پودا مرجھا رہا ہے یا کوئی کبوتر بیٹ پتلی کر رہا ہے۔
وہ اپنے بال خود ہی کاٹ لیتے ہیں یوں کہیے کُتر لیتے ہیں۔ جوانی میں تو اس کی ضرورت بھی نہیں ہوتی تھی۔ ایک لمبی گت ہوتی تھی جسے کھینچ کر ایک پونی باندھ دی جاتی تھی اور وہ اُن کے پیچھے لہرائے لہرائے پھرتی تھی۔ آدھا چہرہ دو انچ چوڑی اور پانچ انچ لمبی گھنی مونچھوں کے پیچھے چھپا رہتا ہے۔ اُن مونچھوں کی خدمت کے لئے بھی چھٹی والے دن گھنٹوں درکار ہوتے ہیں۔ انگلیاں اُن کی ایسی تراشی ہوئی، خم کھاتی ہوئی ہیں کہ کام دیکھے بنا معلوم ہو جاتا ہے کہ کوئی فن کارانہ صلاحیت ان میں پوشیدہ ہے۔
گرمیاں بڑی مشکل سے آموں کے سہارے گزارتے ہیں اور سردیوں کا ایک ایک لمحہ لطف لئے بنا جانے نہیں دیتے۔ ایک خاکی سبزی مائل جیکٹ، ایک موٹے کینوس کے کپڑے کا بنوایا ہوا کوٹ اور ایک سواتی شال کا چینی سٹائل کوٹ ہے جسے درجنوں رنگوں کے مفلروں کے ساتھ خوب مزے لے کر پہنتے ہیں اور دن میں دھوپ اور شام کو دھند میں سیر کئے جاتے ہیں۔ یوں کہیے، ایک ہم جہت فن کار، درویش صفت شخص اور صاحب مطالعہ معلم کو اکٹھا کر دیں تو وہ اعجاز ملک، محبوب اور بوبی بن جائے گا۔

