مشہور مزاحمتی شاعر احمد فراز کا 94 واں یوم پیدائش
اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں
اب کے تجدیدِ وفا کا نہیں امکاں جاناں
یہ عالم شوق کا دیکھا نہ جائے
جیسے خوب صورت کلام کے خالق کا نام احمد فراز ہے۔ ان کا آج 94 واں یوم پیدائش ہے۔
25 اگست 2008 کو اس جہان فائی سے رخصت ہوئے۔ ان کا اصل نام سید احمد شاہ کوہاٹی تھا۔ فیض احمد فیض نے ان کا قلمی اور شاعرانہ نام احمد فراز رکھا اور وہ اسی نام سے مشہور ہوئے۔
اردو غزل کو لازوال شہرت دینے والے شاعر احمد فراز 12 جنوری 1931 کو کوہاٹ میں پیدا ہوئے۔ ان کا شمار اپنے عہد کے ممتاز شعراء میں ہوتا ہے۔ ان کے والد کا نام سید محمد شاہ برق تھا۔ پشاور میں ابتدائی اور اعلی تعلیم کے مراحل طے کئیے۔ اردو اور فارسی میں ایم اے کیا۔ ابھی بے اے کی تعلیم حاصل کر رہے تھے جب ان کا پہلا شعری مجموعہ تنہا تنہا منظر عام پہ آیا۔ پہلے ریڈیو پاکستان پشاور میں فیچر لکھنے کا کام شروع کیا۔ پھر فوج میں ملازمت کی کوشش کی لیکن ناکام رہے۔
احمد فراز کی پہچان ایک جدید لہجے کے اردو اور مزاحمتی شاعر کی ہے۔ وہ بائیں بازو کی مزاحمتی تحریک سے بھی وابستہ تھے۔ اس کے باعث انہیں قید و بند اور جلا وطنی کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں۔ انہیں کئی بار مشاعرہ پڑھتے ہوئے گرفتار کیا گیا۔ 2004 میں جنرل پرویز مشرف کے دور میں انہیں ہلال امتیاز اور ستارہ امتیاز سے نوازا گیا جو انہوں نے بعد ازاں حکومتی آمرانہ حکمت عملیوں کے باعث واپس کر دیے۔
احمد فراز اپنے عہد حیات میں مختلف عہدوں پر کام کرتے رہے۔ سب سے پہلے وہ اکادمی ادبیات پاکستان کے صدر بنے، پھر پاکستان اکیڈمی آف لیٹرز کے صدر بنے اس کے بعد لوک ورثہ کے ڈائریکٹر بنے۔ نیشنل بک فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر بھی رہے۔ آخری دفعہ وہ پاکستان نیشنل سینٹر کے ڈائریکٹر بنے۔ ایک پی ٹی وی گفتگو کے باعث انہیں اس عہدے سے معزول کر دیا گیا۔
احمد فراز ہندوستان میں بہت مشہور تھے۔ جامعات علی گڑھ اور پشاور میں ان کی شاعری کو نصاب کا حصہ بنایا گیا ہے۔ کئی جامعات میں احمد فراز کی حیات و خدمات پر پی ایچ ڈی کے مقالے لکھے گئے ہیں۔ انہیں ہندوستان میں فراق گورکھپوری پوری اور ٹاٹا ادبی اعزازات سے نوازا گیا۔ پاکستان میں ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں آدم جی اور اباسین ادبی اعزازات سے بھی نوازا گیا۔
احمد فراز کی مشہور ترین غزل اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں، کو 1972 کی پاکستانی فلم انگارے میں مہدی حسن نے گایا اور فلمی اداکار ندیم پر فلمائی گئی۔ اسی طرح ان کی ایک اور غزل یہ عالم شوق کا دیکھا نہ جائے، ناہید اختر نے فلم معصوم میں گائی تھی اور بابرہ شریف نے اس غزل پر اداکاری کی تھی۔ ان کی یہ ہی غزل طاہرہ سید نے بھی پی ٹی وی پر احمد فراز کو سامنے بٹھا کر گائی تھی اور کیا کمال کی گائی تھی۔ اب کے تجدید وفا کا نہیں امکاں جاناں، غزل مہناز بیگم نے بہت اعلی اور شاندار انداز میں گائی تھی۔
احمد فراز کے تین بیٹے ہیں، شبلی فراز، جو پی ٹی آئی کے سینیٹر ہیں، دوسرے اور تیسرے سعدی فراز اور سرمد فراز ہیں۔ احمد فراز کے ایک بھائی مسعود کوثر بیرسٹر ہیں۔
احمد فراز اپنا عہد غزل اور بطور مزاحمتی شاعر گزار کر 77 برس کی عمر میں 25 اگست 2008 کو انتقال کر گئے۔ وہ اسلام آباد کے مرکزی قبرستان میں آسودہ خاک ہیں۔
ان کے مجموعہ کلام۔
تنہا تنہا
درد آشوب
شب خون
نایافت
جاناں جاناں
بودلک
خواب گل پریشاں
خواب ریزہ ریزہ
بے آواز گلی کوچوں میں
نابینا شہر میں آئینہ
سب آوازیں میری ہیں
غزل بہانہ کروں
اے عشق جنوں پیشہ
ان کی ایک بہت ہی مشہور غزل جس کے مصرعہ ثانی، چلو یہ بات ہے تو بات کر کے دیکھتے ہیں، پر تقریبا ہر مشہور شاعر نے گرہیں لگائی ہیں۔
سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں
سو اس کے شہر میں کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں
یہ بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں
ان کی ایک اور مشہور غزل کے دو شعر
اب کے تجدیدِ وفا کا نہیں امکاں جاناں
یاد کیا تجھ کو دلائیں تیرا پیماں جاناں
یوں ہی موسم کی ادا دیکھ کر یاد آیا ہے
کس قدر جلد بدل جاتے ہیں انساں جاناں
احمد فراز کی ایک غزل کو سلمی آغا نے اپنی مدھر اور کھنکتی آواز میں گا کر ہمیشہ کے لیے امر کر دیا
یہ سوچ کر کہ غم کے خریدار آ گئے
ہم خواب بیچنے سر بازار آ گئے
یوسف نہ تھے مگر سر بازار آ گئے
خوش فہمیاں یہ تھیں کہ خریدار آ گئے

