عمران کی پرتشدد سیاست اور پرتشدد سیاست کے نقصانات
پاکستانی سیاست کے بدنما داغ عمران خان کو آج یا کل کرپشن کیس میں سزا ہو جائے گی۔ اگر ہم عمران خان کی ذاتی و نجی زندگی کا جائزہ لیں یا بطور طالبعلم یا کھلاڑی یا سماجی ورکر یا سیاستدان تو یہ ہمیشہ تضادات کا شکار رہی اور عمران نے ہمیشہ وہ راستہ چنا جس میں صرف اور صرف اس کی ذات کا فائدہ ہو۔
اسلام اور سیاست کا چولی دامن کا ساتھ ہے بلاشبہ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو زندگی کے تمام شعبوں میں اپنے ماننے والوں کی کامل رہنمائی کرتا ہے۔ سیاسی حوالے سے بھی اسلام نے اپنے ماننے والوں کی بہترین انداز میں رہنمائی کی ہے۔ سیاست سمیت زندگی کے تمام شعبوں میں مسلمانوں کے لیے دستور اللہ تبارک و تعالیٰ کی کتاب قرآن مجید اور نبی کریم کی سنت مطہرہ ہے۔ ہمیں بحیثیت مسلمان کتاب و سنت سے ملنے والی تعلیمات کو بلا چوں چرا من و عن قبول کرنا چاہیے۔
مگر افسوس ہوتا ہے ایک شخص پر جس نے اسلام بالخصوص ”ایاک نعبد و ایاک نستعین“ کے نعرہ کو بنیاد بنا کر اپنی متنازعہ سیاست کا آغاز کیا اور اسلام اور سیاست کو بدنام کر گیا۔
عمران خان احسان فراموشی میں طوطا چشم واقع ہوا ہے اور اس نے اپنے ہر محسن کو ڈسا ہے۔ اپنے ذاتی مفاد کی خاطر معصوم عوام کو اپنی گندی اور پرتشدد سیاست کے لئے ایندھن کے طور پر استعمال کیا اور جب 9 مئی جیسے گھناؤنے واقعات کے بعد محب وطن پاکستانیوں نے اس کی غلیظ اور ملک دشمن سیاست کو مسترد کیا تو اسی امریکہ سے امداد مانگنے لگا جس امریکہ سے آزادی دلوانے کا چورن بیچ کر معصوم عوام کو اپنی پرتشدد سیاست کا ایندھن بنایا اور خود گدھ بن کر ان کی لاشوں پر سیاست کرتا رہا۔ اس سے زیادہ خود غرضی کیا ہو گی کہ جیلوں میں قید نوجوانوں اور اپنے ان شیدائیوں کو جنہوں نے اپنی زندگیاں اور مستقبل اپنے اس لیڈر عمران پر قربان کر دیے ان شیدائیوں پر بھی اعتبار نہیں کیا اور عمران نے خود کو بے گناہ اور معصوم ظاہر کرنے کے لئے بظاہر ان سے کنارہ کشی اختیار کر لی اور انہیں تنہا چھوڑ دیا۔
اگر ہم دنیا کا جائزہ لیں تو کسی بھی ملک میں پرتشدد سیاست فائدہ مند ثابت نہیں ہوئی۔ مخصوص سوچ کے حامل لوگ اس امید پر عمران خان کے ساتھ کسی نہ کسی انداز میں کھڑے رہے کہ شاید کوئی معجزہ رونما ہو اور اچانک سیاسی منظر تبدیل ہو جائے لیکن وہ بھول گئے کہ پرتشدد سیاست اور اغیار کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہو کر آپ کبھی بھی سیاسی مقاصد میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔ سیاست خدمت کا نام ہے اور خدمت جذبہ کے ساتھ کی جاتی ہے جب تک آپ اپنے ملک، اپنی اساس، اپنے نظریہ، اپنی قوم، اپنے ملک کے اداروں اور ملک کی سرحدوں کی ضامن فوج کے ساتھ مخلص نہیں ہوں گے اس وقت تک نہ آپ کا جذبہ خالص ہے اور نہ ہی خدمت عبادت کے لئے کی جا رہی ہے اور نہ ہی ملک و قوم کی بھلائی کا مشن مکمل ہو سکتا ہے۔
عوام کو پرتشدد سیاست پر اکسانے والے اس کے نقصانات سے اچھی طرح واقف ہوتے ہیں کہ اس سیاست سے حکومت کو اور ملک کی معیشت کو نقصان پہنچے گا جس کا بوجھ عوام پر آئے گا لیکن اپنے ذاتی مفاد کی خاطر جان بوجھ کر پرتشدد سیاست کرتے ہیں۔
پرتشدد سیاست ہمیشہ غیر یقینی صورتحال کو جنم دیتی ہے جو طویل مدتی سیاسی اور معاشی منصوبہ بندی کی نہ صرف قاتل ہے بلکہ معیشت کے لیے سب سے زیادہ نقصان دہ اثرات رکھتی ہے کیونکہ سرمایہ کار اور کاروباری افراد نئی سرمایہ کاری کو روکے رکھتے ہیں اور موجودہ کاروبار کو تیز رفتاری سے نہیں پھیلاتے کہ پتا نہیں یہ پرتشدد سیاست کس موڑ پر کیا اثرات مرتب کرے۔
بس آپ یہ سمجھیں کہ پرتشدد سیاست و پرتشدد واقعات سے ہمیشہ سیاسی صورتحال غیر مستحکم اور غیر محفوظ ہو جاتی ہے ’جس کی وجہ سے برسر اقتدار حکومت کے لئے معاشی مسائل کو حل کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
اس لئے موجودہ پرتشدد سیاست پاکستان کی معاشی مشکلات سے نمٹنے میں مددگار نہیں ہے اور پرتشدد سیاست و واقعات کی بدولت حکومت کے لئے غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی اور معیشت کو عام لوگوں کے لئے دوستانہ بنانے کی ضرورت سے نمٹنے کے دباؤ میں توازن رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ لا محالہ اس سب کے اثرات عام آدمی کی زندگی پر اثر انداز ہوتے ہیں اور وہ مزید مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں۔
اس لیے آج تمام تر سیاسی جماعتیں اس بات پر متفق ہیں کہ تحریک انصاف کی سیاست کی بنیاد امن پر نہیں بلکہ تشدد پر استوار ہے اور تشدد کا عنصر غیر علانیہ طور پر ان کے منشور کا عملی جزو ہے۔ پرتشدد رویہ، گالی کی سیاست اور عدم برداشت نوجوان نسل کی سیاسی تربیت کی بنیاد تصور کی جاتی ہے۔
اس لیے وقت آ گیا ہے کہ بڑی سیاسی جماعتوں کے سرکردہ رہنما اپنی سیاسی گفتگو اور طرزِ سیاست کے اپنے کارکنوں اور مجموعی طور پر معاشرے پر پڑنے والے مضر اثرات کو پہچانیں۔ قائدین معاشرے کے لئے رجحانات مرتب کرتے ہیں ’لہٰذا انہیں شدید تفریق پیدا کرنے سے گریز کرنا چاہیے اور اپنی مد مقابل سیاسی قیادت کے بارے میں معاشرے میں نفرت پیدا نہیں کرنی چاہیے۔ پاکستانی سیاست اس وقت جس طرح آگے بڑھ رہی ہے اس کی قیمت مجموعی طور پر معاشرے کے لئے بہت زیادہ نقصان دہ ہو گی۔ اصل نقصان خود سیاسی رہنماؤں کا ہی ہو گا۔ پاکستان کو قبائلی دشمنی اور انتقام کی سیاست کے بجائے جمہوری سیاست کی ضرورت ہے۔
مگر افسوس ملک دشمن عناصر بالخصوص یہود و ہنود کی خواہش کو پایہ تکمیل تک پہچانے کے لئے عمران خان اور اس کے حواریوں نے اپنی گمراہ کن اور منفی سوچ کی بنیاد پر فوج میں تقسیم پیدا کرنے کا شوشہ چھوڑا اور کہا کہ بالفاظ دیگر فوج کی اکثریت عمران خان کے شرپسندی، بغاوت، سول نافرمانی اور ریاست اور فوج سمیت دوسرے ریاستی اداروں سے ٹکراؤ کی نفرت انگیز پالیسی کو پسند کرتے ہیں۔
یہ عمران اور اس کے چند شرپسند عناصر اور یوٹیبرز، سوشل میڈیا ایپ پر ڈالر خور کی خواہش تو ہو سکتی ہے لیکن محب وطن پاکستانی کی آواز نہیں ہو سکتی۔ بطور قوم ہم پرامن اور اپنی نظریاتی، جغرافیائی اساس پر عمل کرنے والی قوم ہیں اور پاکستان کی اکثریت یہ سمجھتی ہے کہ فوج ہے تو پاکستان بھی قائم و دائم ہے اور پاکستان میں دشمن کی ہر سازش بھی ناکام ہے۔


