غربت، جاوید چوہدری اور اینٹی لاء مائنڈ سیٹ
کسی شاعر نے کیا خوب مصرعہ کہا ”کون جیتا ہے تیری زلف کے سر ہونے تک“ ۔ انڈیا اور پاکستان کے بزرجمہر جو دن رات میڈیا پہ بڑھکیں لگاتے رہتے ہیں کہ ہم دنیا کے سب سے بڑے ترقی یافتہ اور مہذب ممالک بننے جا رہے ہیں۔ امریکہ اور یورپ کے لوگ اب روزگار کے لیے کام کرنے انڈیا اور پاکستان آیا کریں گے تو ہو سکتا ہے مستقبل میں کبھی ایسا ہو بھی جائے لیکن کیا اُس وقت تک میری جنریشن کے لوگ زندہ ہوں گے؟ جنگل میں مور ناچا کس نے دیکھا؟
3جنوری 2025 کو ایک دوست نے ڈان نیوز پہ چلنے والی ایک خبر شیئر کی جس میں کہا گیا کہ ورلڈ بنک کے مطابق پاکستان کے مزید ایک کروڑ تیس لاکھ لوگ خطِ غربت سے نیچے چلے گئے ہیں۔ خطِ غربت آپ سمجھتے ہیں کیا ہوتا ہے؟
گولف کھیل کر میس میں کینڈل لائٹ ڈنر کرنے والے، آٹھ ایکڑ کے سرکاری بنگلے میں چالیس ملازموں کی خدمت کو انجوائے کرنے والے جبکہ ان چالیس ملازموں کی تنخواہ بھی سرکار کے خزانہ سے ادا ہوتی ہے، سردیوں کی دھوپ میں محل نما گھر کے سوئمنگ پول کے پاس کرسیاں لگوا کر انگلش ناشتہ کرنے والے صنعتکار، بڑے کاروباری طبقے اور جاگیردار (حال ہی میں وزیرِخزانہ پاکستان نے اشرافیہ کے بارے میں کہا کہ یہ لوگ سالانہ سولہ کھرب روپے کا ٹیکس چوری کرتے ہیں ) ، اپنی روزی روٹی کمانے کے لیے خود کوئی کام کرنے کی بجائے مذہب، روحانیت اور مقدس ذات پات کی آڑ میں عام آدمی کی دن بھر کی محنت سے ملنے والی کمائی سے اپنا ”حصّہ“ وصول کر کے خوب کھانے پینے والے یہ سب لوگ خطِ غربت میں شمار نہیں ہوتے۔
مختلف مواقع پہ آنے والے غیر حتمی تخمینوں اور اندازوں کے مطابق پاکستان میں غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزارنے والوں کی تعداد پندرہ کروڑ اور انڈیا میں نوّے کروڑ سے زیادہ ہے۔ یہ کون لوگ ہوتے ہیں؟ شہر کی کچی آبادیوں میں رہنے والے، گاؤں میں زرعی زمین کی ملکیت کے بغیر رہنے والے جن کے گھروں کی نہ دیوار ہوتی ہے اور نہ دروازہ، وہ لوگ جن کے گھر میں اگلے دن کا راشن نہیں ہوتا، جو اس امید پہ شہر کے چوک میں دیگر مزدوروں کے ساتھ آ بیٹھتے ہیں کہ شاید کوئی مزدوری کے لیے ساتھ لے جائے اور شام کو گھر کا چولہا جل جائے، صبح صبح سخت سردی اور موسم گرما میں تپتی دوپہر میں گھر گھر پندرہ سو یا دو ہزار روپے ماہانہ پہ کام کرنے والی ماسیاں جن کے بچے ان گھروں کے جُھوٹن پہ پلتے ہیں۔
زیرو پوائنٹ کے نام سے کالم لکھنے والے جاوید چوہدری میرے پسندیدہ کالم نگار ہیں۔ ان کے وہ کالم جو وہ اپنے غیر ملکی سفر کا حال احوال بیان کرنے کے لیے لکھتے ہیں وہ مجھے بہت پسند ہیں لیکن وہ کالم جو وہ کسی رئیل اسٹیٹ ٹائیکون یا کسی ارب پتی کھرب پتی سیاستدان کے امیج بلڈنگ کے لیے لکھتے ہیں تو میں انھیں پڑھنا پسند نہیں کرتا۔ امریکہ میں بھی ایسی لابنگ فرم کام کرتی ہیں جو پیسے کے عوض دولتمند افراد کے لیے میڈیا میں لابنگ کرتی ہیں۔
راقم جب اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور میں ماس کمیونیکیشن کا طالب علم تھا تو ایک دن ہمارے استاد نے جو کالم نگار جاوید چوہدری کے بھی اُستاد رہ چکے تھے اپنے لیکچر میں کہا ”پاکستان میں بیس ہزار صحافی ہیں جبکہ اچھی تنخواہوں اور مراعات کو انجوائے کرنے والے صرف سو ہیں“ ۔ اس وقت تو پاکستان میں صحافیوں کی تعداد بیس ہزار سے بڑھ کر ایک لاکھ یا اس سے بھی زیادہ اور انڈیا میں بیس لاکھ سے بھی زیادہ ہو چکی ہے۔ کیا موٹرسائیکل رکشہ چلانے والا، کیا مسافر بس میں دانتوں کا منجن بیچنے والا، کیا بازار میں چل پِھر کر ازار بند ناڑا بیچنے والا، کیا چرس اور افیم بیچنے والا، کیا جعلی دوائیاں بیچنے والا سب کے سب صحافی بن چکے ہیں۔
اصل اور نقل کی پہچان کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ ٹک ٹاک پہ ایک ویڈیو میں ٹک ٹاکر بڑھک مارتا ہے ”گُجر! کِی ایڈوکیٹ کرنا جج ای کر لینے آں“ ۔ اب تو ایلیٹ کلاس والے میڈیا مالکان پہ ہی ڈائریکٹ انویسٹ منٹ کر دیتے ہیں۔ انڈیا اور پاکستان میں تو ایک ٹی وی چینل پہ خبریں دیکھو تو بتایا جار رہا ہوتا ہے کہ مہنگائی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ ریموٹ کا بٹن دبا کر دوسرا چینل لگاؤ تو وہاں کہا جا رہا ہوتا ہے مہنگائی تین سال میں پہلی دفعہ ریکارڈ کم ہو گئی اور عوام نے سکھ کا سانس لیا ہے۔ مینوں نوٹ نا وِکھا میرا موڈ کھراب ہوندا اِے۔
جاوید چوہدری صاحب سے پیار بھی ہے اور ان کے لیے نیک تمنائیں بھی لیکن جب وہ اپنے کالموں میں لکھتے ہیں کہ ایلیٹ کلاس اور انتہائی دولتمند طبقے سے حسد نہ کیا کریں کہ انھوں نے اپنی محنت سے یہ سب کچھ کمایا ہے تو ان کی خدمت میں عرض ہے ”سر! ابلیس نے اپنا تخت برمودا ٹرائی اینگل سے فرانس پھر جرمنی پھر انگلینڈ منتقل کیا لیکن اس کے دل کو بالآخر پاکستان اور بھارت بھا گئے اور اس نے یہاں آ کر مستقل سکونت رکھنے کا فیصلہ کر لیا۔
آپ کچے کمروں اور بغیر دروازے بغیر چاردیواری والے گھروں میں جاکر اس مریض کی حالت تو دیکھیں جو کئی سالوں سے چارپائی پہ بیمار پڑا ہے لیکن نہ اس کے پاس وڈّے ڈاکٹر صاحب کی فیس ہے اور نہ دوائی کے پیسے۔ سر! کسی بھی ملک کے وسائل اور دولت کا گنتی کے چند خاندانوں اور ہاتھوں میں ارتکاز اِبلیسیت کے سوا کچھ بھی نہیں“ ۔
اکبر شیخ اکبر کا نظریہ اور فلسفہ ہے کہ ہر ملک کے وسائل اور دولت سے ملک کے تمام طبقات اور آبادی برابری کی سطح پہ مستفید ہوں ورنہ پھر جُرم اور بد امنی کی پرورش ہوتی ہے جس سے کوئی بھی محفوظ نہیں رہتا۔
ایک اور مسئلہ کی طرف چلتے ہیں۔ جب میں اپنا موٹر سائیکل بہاول پور شہر کی سڑکوں پہ لے آتا ہوں تو ٹریفک رولز کی خلاف ورزیاں دیکھ کر نا جانے کیوں مجھے بدگمانی سی ہونے لگ جاتی ہے کہ یہ ایک لاوارث شہر ہے۔ نہ تو وردی والے اس کے وارث ہیں اور نہ ہی بغیر وردی والے۔ ویسے بھی یوٹیوب ٹریول چینلز کی برکتوں سے انڈیا، پاکستان اور بنگلہ دیش کے مختلف چھوٹے بڑے شہروں کی ٹریفک کے معاملات دیکھنے کے بعد راقم اس نتیجہ پہ پہنچا ہے کہ ان تینوں ممالک میں سڑکوں پہ گاڑیاں، موٹر سائیکل اور پبلک ٹرانسپورٹ چلانے والے نناوے فیصد لوگ بشمول ایلیٹ کلاس اور عام آدمی نہ صرف یہ کہ ڈرائیونگ کے اصولوں کی سمجھ ہی نہیں رکھتے بلکہ یہ سب لوگ سڑک پہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو ذہنی طور پہ جرم یا غیر اخلاقی پن ہی نہیں سمجھتے۔ اس معاملہ میں مذہبی اور لبرلز کا اینٹی لاء مائنڈ سیٹ ایک ہی صفحہ پہ ہے۔
بہاول پور میں شہر کے اندر جو بڑی سڑکیں گزرتی ہیں تو ان کے ساتھ لگنے والے محلّوں کی ذیلی گلیوں سے اچانک موٹر سائیکل اور گاڑیاں بغیر ہارن دیے اچانک سڑک پہ آ کر مین سڑک پر گزرنے والے موٹر سائیکل، کار یا راہگیر کو بے خبری میں آ کر ہِٹ کر کے حادثہ سے دوچار کرتے ہیں۔ اب کیا سوشل میڈیا پہ مہم چلا کر ان کو شعور دیا جائے کہ بھائی! باجی! جب آپ اپنا ”جہاز“ ذیلی گلی سے اچانک مین سڑک پہ لائیں تو کم ازکم ہارن تو دے دیں تاکہ اگلا بھی اپنے بچاؤ کا کچھ بندوبست کر لے؟
حالت تو یہ ہے کہ شہر کی مین سڑکوں پہ بھی لوگ ون وے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بڑی تیز رفتاری سے اپنا موٹر سائیکل یا کار لا رہے ہوتے ہیں ساتھ نظریں اپنے موبائل فون کی سکرین پہ جمائے ہوتے ہیں۔ جب آپ ہارن دے کر انھیں اشارہ دیتے ہیں کہ بھائی تم غلط ہو تو وہ بجائے شرمندہ ہونے کے غصّے کا اظہار کرتے ہیں اور دھمکیاں دینے پہ اتر آتے ہیں۔
ایک اور بڑا عجیب مسئلہ لوگوں کے لیے سڑک حادثوں کا سبب بن رہا ہے۔ ڈرائیورز پرانے موٹر سائیکل کے پیچھے لکڑی کا بنا ہوا ٹھیلہ ریڑھی نما لوڈر لگا لیتے ہیں جو سیمنٹ بجری، لوہا اور دیگر سامان کی منتقلی کے لیے شہر کے اندر استعمال ہو رہا ہے۔ اب اس لکڑی کے لوڈر کے دائیں بائیں کسی قسم کی کوئی لائٹ نہیں ہوتی حالانکہ یہ آٹوز مارکیٹ میں اسّی روپے سے لے کر ڈیڑھ سو روپے تک کی دستیاب ہوتی ہے۔
میرا دوست چوہدری کسی ضروری کام سے روانہ ہوا۔ اسلامیہ یونیورسٹی بغداد کیمپس کے عقب میں بہاول کینال کے نام سے دریا نما بڑی نہر گزرتی ہے۔ نہر کے پشتوں پہ سڑک بنی ہوئی ہے۔ مغرب کے بعد اندھیرا چھا جاتا ہے۔ سامنے ایک پھٹہ موٹر سائیکل لوڈر آ رہا تھا۔ موٹر سائیکل کی فرنٹ لائٹ تو آن تھی لیکن لکڑی والی لوڈر ٹرالی کے دائیں بائیں کوئی لائٹ نہ تھی۔ چوہدری سمجھا کہ سامنے صرف موٹر سائیکل آ رہا ہے میں ایک طرف سے گزر جاؤں گا لیکن پھٹہ لوڈر جیسے ہی چوہدری کو لگا تو چوہدری کا موٹر سائیکل گویا فضا میں اُڑا اور چوہدری ایک طرف کو جا گرا۔ چوہدری بری طرح سے زخمی ہو گیا اور موٹر سائیکل بھی تباہ ہو گیا۔
بہاول پور پریس کلب میں اسی موضوع کو ڈسکس کر رہے تھے تو ایک دوست نے کہا کہ ملک میں شہر کی سڑکوں پہ ٹریفک لاء کی خلاف ورزی کرنے والے زیادہ تر بچے ان خاندانوں سے ہوتے ہیں جن کے بڑے عموماً قانون سازی کرنے والے یا قانون پر عملدرآمد کرانے والے اداروں سے وابستہ ہوتے ہیں۔
کہنے لگے قانون بنایا جائے اور اس کا سختی سے عملدرآمد بھی ہو کہ جو بچّہ موٹر سائیکل یا گاڑی چلائے گا تو موٹر سائیکل اور گاڑی کے اصل مالک پہ، بچے کے والد پہ اور بچے کو ڈرائیونگ سکھانے والے پہ غفلت اور دوسروں کی زندگی خطرے میں ڈالنے کی ایف آئی آر کاٹی جائے اور عدالتیں بھی غفلت کے مرتکب ان افراد کے ساتھ نرمی کا سلوک نہ کریں۔ بچے کو بھی بطور اصلاحی سزا سرکاری چائلڈ پروٹیکشن سینٹر میں ایک ہفتہ تک رکھا جائے اور اس دوران اس کی ملاقات والدین یا رشتہ داروں کے ساتھ نہ ہونے دی جائے۔ شہر میں سی سی ٹی وی کیمرے بھی ایسے انسٹال کیے جائیں جو ٹریفک لاء کی خلاف ورزی کرنے والوں کے موبائل فون پہ ہی خود کار نظام کے تحت جرمانہ کا پیغام بھیج دیں۔
اور تو اور الیکٹرک بائیک تیار کرنے والی قاتل کمپنیاں بھی لوگوں کی زندگیاں خطرہ میں ڈال رہی ہیں۔ ای بائیک کی بالکل کوئی آواز نہیں ہوتی۔ بڑی تعداد میں یہ چھوٹے چھوٹے لڑکوں اور لڑکیوں کے حوالے کر دیے گئے ہیں۔ ان کو ریگولرائزڈ کرنے کا بھی کوئی قانون نہیں۔ آپ گھر سے نکل کر پیدل جا رہے ہیں، عام موٹر سائیکل کسی گلی سے آ رہا ہے تو چلو آواز سے پتہ چل جاتا ہے اور آپ محتاط ہو جاتے ہیں لیکن ای بائیک بغیر کسی آواز کے اچانک آپ کے سامنے کسی ذیلی گلی سے نمودار ہو کر آپ کو ہِٹ کرتا ہے جبکہ ان بچوں اور خواتین کو بھی یہ شعور نہیں کہ بیٹا! بیٹی! ای بائیک پہ سوار کسی ذیلی گلی سے آپ اچانک برآمد ہو رہے ہیں یا سڑک پہ اچانک موڑ کاٹ رہے ہیں تو کم ازکم ہارن دے کر دوسروں کو خبردار تو کر دیں تُساں دی بہوں بہوں مہربانی ہو سی۔ تجویز ہے کہ سڑک کے دائیں بائیں جنگلہ لگا ہونا چاہیے۔
2جنوری 2025 کو روزنامہ جنگ کی ویب سائٹ پہ ان کے فرانس میں مقیم نمائندے رضا چوہدری کی طرف سے دی گئی خبر پڑھی، لکھا تھا ”فرانسیسی حکومت نے ماحول کو بہتر بنانے کے لیے پرانی گاڑیوں کے پیرس میں داخلے پہ پابندی عائد کردی۔ اس پابندی کے مطابق یکم جنوری 2025 سے 2006 سے پہلے کی پٹرول گاڑیاں اور 2011 سے پہلے کی ڈیزل گاڑیاں پیرس اور اس کے اندرونی مضافات میں نہیں چلائی جا سکیں گی“ ۔
بہاول پور شہر میں مین سڑک ریلوے اسٹیشن سے شروع ہو کر اسلامیہ یونیورسٹی کے بغداد کیمپس کی طرف جاتی ہے۔ 1970 سے شہر میں کہیں کہیں اس مین سڑک کے متوازی سروس روڈ بھی چلتی ہے۔ اب ہو یہ رہا ہے کہ کئی جگہوں پہ اثر و رسوخ والے کاروباری حضرات نے اس سڑک کے اوپر ٹف ٹائل یا سیمنٹ بجری کا فرش لگوا کر اس سروس روڈ کا وجود ہی غائب کر کے وہاں اپنا سامان بکھیر دیا ہے۔ انتظامی اور انتہائی طاقتور اداروں کی سرکاری گاڑیاں روزانہ وہاں سے گزرتی ہیں اور ان میں بیٹھے اعلٰی افسران اس سارے عمل کو اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھتے اور نظر انداز کرتے جاتے ہیں لیکن تجاوزات کے خلاف آپریشن بس سبزی فروٹ ٹھیلے والوں کے خلاف ہی ہوتا ہے جو بعد میں کرپشن میں مزید اضافہ کا باعث بن جاتا ہے۔
افریقی ممالک میں بھی ایسا ہوتا ہے کہ کاروباری طبقہ سڑک ہی غائب کر دیتا ہے۔ افریقی ٹک ٹاک ویڈیو میں ایک کردار کہتا ہے ”ہمیں سو سال تک گھاس بھی کھانا پڑی تو کھا لیں گے لیکن اپنے ’فلاں پروگرام‘ کی دل و جان سے حفاظت کریں گے“ دوسرا کردار بولا ”سڑک تو مافیا سے بچا نہیں سکے ’فلاں پروگرام‘ کیا بچا پائیں گے“ ۔



یہ محض جان چھڑانے والی ایک بڑھک ہے کہ
صنعتکار، بڑے کاروباری طبقے اور جاگیردار (حال ہی میں وزیرِخزانہ پاکستان نے اشرافیہ کے بارے میں کہا کہ یہ لوگ سالانہ سولہ کھرب روپے کا ٹیکس چوری کرتے ہیں )
–
سوال یہ ہے کہ چور کو کس نے پکڑنا ہے سپاہی نے اور سپاہی نعرے ماررہا ہے کہ ملک میں 1600 ارب یعنی 60 ارب ڈالر کا ٹیکس چوری ہورہا ہے۔ تو اس کو کس نے روکنا ہے کیا عام آدمی نے۔
اس کے ذمہ دار یقیناً وہی لوگ ہیں جن کا کام قانون سازی اور ان قوانین پر ریاستی ادارون سے عمل کروانا ہے مگر وہ خود چھانٹ چھانٹ کر ایسے ایسے ہیرے متعین کرتے ہیں کہ ننگا نہائے گا کیا اور نچوڑے گا کیا۔
–
یہ بھی ایک صرف بیانیہ ہے کہ اتنا ٹیکس چوری ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستانی کسی بھی طرح کسی ترقی یافتہ ملک سے کم ٹیکس ادا نہیں کرتے۔
ٹیکس براہ راست بھی ہوتا ہے جو سالانہ ٹیکس ریٹرن کے ساتھ ادا کیا جاتا ہے اور جس کے لئے یہ ارباب اختیار نعرے مارتے رہے ہیں۔ جب کہ ٹیکس کی سب سے گھتیا شکل بالواسطہ ٹیکس ہے۔ جب ارباب اختیار ٹیکس جمع نہ کرپائیں تو مختلف حیلوں بہانوں سے مختلف اشیاء یا سہولتوں پر مختلف ناموں سے ٹیکس یا ڈیوٹی عائد کردیتے ہیں، ایک محتاط اندازے کے مطابق تمام پاکستانی براہ راست ٹیکس کے علاوہ 45 سے 55 فی صد تک بالواسطہ ٹیکس بھی ادا کررہے ہیں۔ تیل پر ٹیکس ہے پھر یہی تیل بجلی بنانے میں استعمال ہوتا ہے اس بجلی پر ٹیکس۔ پھر یہی مہنگی بجلی صنعتکار فیکٹری میں استعمال کرتا ہے اور بجلی کے ساتھ پیداوار پر مزید ٹیکس دیتا ہے اور یہ سارے ٹیکس صارف کی جیب سے جاتے ہیں۔
–
جہاں تک غریب کے علاج کی بات ہے 18 ویں ترمیم کے بعد تعلیم صحت ٹرانسپورٹ بلدیہ کی سڑکیں امن وامان اور خوراک یعنی کھانا یہ سب صوبائی معاملات ہیں۔ اور قانون بنانے والے غریب کے ساتھ یہ سہولتیں شیئر کرنے کو تیار نہیں اس لئے نجی شعبے سے کہتے ہین کہ مزید خیراتی اسپتال قائم کرو۔
-
ترقی یافتہ ملک اور پاکستان جیسے ممالک میں فرق ہی یہ ہے کہ بالواسطہ ٹیکس انتہائی کم سے کم ہوتے ہیں تاکہ غریب کو نہ ادا کرنا پڑیں جب کہ امیر سے سالانہ ٹیکس میں 40 سے 45 فی صد ٹیکس لیا جاتا ہے۔ جو وہ اس لئے خوشی سے دیتا ہے کہ اس کے بدلے اسے اور اس کے بچوں کو امن و امان قانون بلدیہ سڑک سستی خوراک مفت علاج مفت تعلیم ملتی ہے۔ جب کہ ہمارے یہاں یہ سب مفت ہیں مگر امیروں کے لئے۔
مجھ سے کوئی پوچھے تو میں کہوں کہ قبلہ اگر انکم ٹیکس اور دوسرے ٹیکسز اگر آپ کی فوج نہیں پکڑ سکتی تو بہتر ہے ایف بی آر کو یا تو ٹھیکے پر دے دیں یا ختم (انتہائی کم سے کم کردیں)۔ کہ اس سے پچاس ساٹھ ارب کی بچت ہوگی۔ انکم ٹیکس کو صفر کردیں اور سیلز ٹیکس ہو یا جس نام سے ٹیکس لگانا ہو ہر چیز پر دو لگائیں۔ ایک صوبائی ٹیکس اور ایک وفاقی ٹیکس۔ تاکہ عوام کو پتہ ہو کہ ان کی گالیوں میں کس کا حصہ کتنا ہوگا۔ کیا لیوی، ایف ای ڈی، جی ایس ٹی، ودہونڈنگ، ایڈوانس ود ہونڈنگ، فیول ایڈجسٹمنٹ اور جانے اس جیسے کتنے نام۔ مگر کام صفر۔
میں تو گاڑیوں کی سالانہ رجسٹریشن کے بھی خلاف ہوں۔ صرف ملکیت کا ریکارڈ رکھیں۔ چوری کو لمبا جرم مانیں اور بس۔ پٹرول کے ہر خرچ پر دو چار روپے لٹر ٹیکس لگادیں جس میں سے ایک تہائی مقامی بلدیہ کا حصہ ہو ایک تہائی صوبے کا اور باقی وفاق کا۔ اور یہی گاڑی کی مینٹی نینس کا سالانہ اخراج۔