وائرل اُووو اور فلسفہِ اُووو
حال ہی میں وزیر اعظم پاکستان نے ایک واقعہ بیان کیا جس میں صرف لفظ ”اُووو“ وائرل ہو گیا۔
بقول ان کے یہ جاپانیوں کے احتجاج کا ایک طریقہ ہے کہ وہ کام جاری رکھتے ہوئے ”اووو“ کی آوازیں نکالتے ہیں لیکن کام نہیں روکتے۔
سوچا آج اُووو کے دوسرے رخ پر بات کریں؟
تو بھائیو اور بہنو! بات یہ ہے کہ اپنے ملک میں اکثریت ورک ایتھکس یا پروفیشنلزم کے نام پر صفر بٹا صفر ہے۔
کسی بھی طرح کی ذاتی چپقلش یا گروپ احتجاج کے نام پر سب سے پہلے ہم کام کرنا بند کرتے ہیں۔ آخر کیوں؟
بچپن میں دیکھا گھر میں لڑائی جھگڑا ہوا، جو کہ ہر ایسے گھر میں ہوتا ہے جہاں دو صحت مند دماغ رہتے ہیں، امی جب ابو سے ناراض تھیں تو ہم سے کہہ سکتی تھیں کہ اپنے باپ سے کہو آج کھانا باہر سے لائے تاکہ اِسے ”پتا چلے“ ، یا آج کپڑے باہر دھلواؤ، استری کرواؤ تاکہ ”پتا چلے“ ، یا مہمان آ گئے تو اُن کو باہر لے جاؤ یا باہر سے کھانا لاؤ تاکہ ”پتا چلے“ اس کا زیادہ خرچہ ہو اور عقل ٹھکانے آئے۔
ابو کہہ سکتے تھے، بی بی اپنے خرچے خود پورے کرو، کل سے سودا سلف خود لاؤ، بل جمع کراؤ، بچوں کو سکول چھوڑنے اور لینے جایا کرو، میں ناراض ہوں اور احتجاجاً ساری ذمہ داریوں کا بائیکاٹ کرتا ہوں۔
میں نے دیکھا کہ امی نے باوجود سخت ناراضی اور غصہ گرم گرم روٹیاں بھی بنائیں اور لذیذ سالن بھی، کپڑے بھی صاف دھوئے، بہترین استری کیے ، کوئی مہمان آ گیا تو مکمل تواضع کی، دیر رات تک کھانے بھی بنائے۔
ابو گھر کا خرچ اور ذمہ داریاں چپقلش، غصہ، ناراضی کے باوجود اُسی طرح اٹھاتے رہے، کبھی کبھار دونوں میاں بیوی نے ایک دوسرے کو بھلا برا کہہ کر دل کی بھڑاس نکال لی۔ بہت ہوا تو جزوی طور پر بات چیت رک گئی نہ رکا تو گھر کا نظام نہ رکا۔ وہ اسی تندہی اور خوبصورتی سے چلتا رہا جیسے محبت و امن کے دنوں میں چلتا تھا۔
ہمارے یاں تو کام چوری اپنے معراج پر ہے۔ آپ خوش ہیں تو آج کام نہ کریں، دُکھی ہیں تو کام نہ کریں۔ بیمار ہیں تو کام نہ کریں، ُاداس ہیں تو کام نہ کریں، باس، کولیگ یا بیوی سے ناراض ہیں تو کام نہ کریں، کوئی احتجاج رجسٹر کرانا ہے تو کام نہ کریں۔
اس کا مطلب باقی سب ویری ایبل ہیں اور کام نہ کرنے کا جذبہ اور استقامت کانسٹنٹ ہے۔
میں نے ایسے سیکریٹریز دیکھے ہیں کہ جو ٹاپ باس / منسٹر سے گرما گرم بحث کے باوجود دفتر میں اپنا کام پورا کر کے گھر جاتے، ایسے افسر دیکھے کہ اگر دفتر میں irrelevant محسوس کریں تو دفتر سے لمبی رخصت لے لیں گے لیکن دفتر آ گئے تو جو مرضی ہو جائے ایمانداری سے اپنا کام پورا کر کے جائیں گے۔
یقیناً دیگر شعبہ ہائے زندگی میں بھی چند ایک ایسے پروفیشنل ایماندار لوگ ہوں گے جو احتجاج ہو یا تکلیف کام سے منہ نہیں موڑتے۔
تو اصل بات جو وائرل ہونی چاہیے وہ ہے ”ایمانداری اور اسی سپیڈ سے اپنا کام کرتے رہنا“ ، پھر چاہے احتجاج کے دوران آپ اُوووو کی آوازیں نکالیں یا آا اا اا ا کی۔ بس اپنا کام مکمل ایمانداری سے پورا کریں۔


