واخان اور میرانِ واخان


اس وقت وادی واخان عالمی میڈیا میں مرکزی موضوع بنا ہوا ہے۔ کیونکہ صدیوں سے یہ علاقہ جغرافیائی، تزویراتی اور تجارتی اعتبار سے اہمیّت کا حامل رہا ہے۔ واخان کو واخان کوریڈور، واخان پٹی اور واخان راہداری بھی کہا جاتا ہے۔ واخان افغانستان کے انتہائی شمال مشرق میں صوبہ بدخشاں کا ایک دُور افتادہ ضلع ہے، اس کے جنوب میں پاکستان کے انتہائی شمالی علاقے یعنی گلگت، بلتستان اور چترال، مشرق میں چینی صوبہ سنکیانگ اور شمال میں تاجکستان کا خود مختار علاقہ گورنو بدخشاں واقع ہے۔ واخان ان مذکورہ ممالک کے درمیان تنگ درّوں پر مشتمل ایک پہاڑی علاقہ ہے۔ اس پٹی کی لمبائی مشرق سے مغرب تک 350 کلو میٹر اور چوڑائی وسطی واخان میں 65 کلو میٹر، بعض مقامات پر 18 کلو میٹر اور 13 کلومیٹر ہے اور ایک مقام پر سکڑ کر 10 کلو میٹر رہ جاتی ہے۔ یہی راہداری پاکستان کو تاجکستان سے جدا کرتی ہے۔ واخان کوریڈور مشرق میں 4923 میٹر ( 16152 فٹ) اور مغرب میں 3037 میٹر ( 9964 فٹ) اونچی ہے۔ واخان کا دریا آب پنجہ کہلاتا ہے جو واخجیر گلیشیر سے نکلتا ہے اور دریائے آمو سے جا ملتا ہے۔ واخان سے کئی درّے دوسرے علاقوں اور ملکوں تک جاتے ہیں۔ یہی وجہ تھی کہ واخان کا یہ جغرافیائی محل وقوع قدیم دنیا کو تجارت اور دوسرے امور میں اہم کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کرتا تھا اور بجا طور پر واخان کوریڈور صدیوں بلکہ ہزاروں سال تک وسطی ایشیا، چین اور برّصغیر پاک و ہند کے درمیان مقامِ اتّصال بنا رہا۔ 2020 ء تک اس کے رہائشیوں کی تعداد 127، 17 تھی۔

بہر حال، واخان کو مختلف ممالک سے جوڑنے والے لاتعداد درّوں میں سے صرف ان چار درّوں کا یہاں ذکر کیا جائے گا جو واخان کو پاکستان سے ملاتے ہیں۔ درّہ بروغل واخان کو چترال (صوبہ خیبر پختونخوا کا ایک ضلع) اور یاسین (گلگت بلتستان کے ضلع غذر کی ایک تحصیل) سے ملاتا ہے (جبکہ دورہ پاس چترال کو بدخشاں سے ملاتا ہے ) ، درّہ قرمبر ضلع غذر کی تحصیل اشکومن کو واخان سے جوڑتا ہے جبکہ درّہ ارشاد ہنزہ اور واخان کو ایک دوسرے سے ملاتا ہے۔ بلاشبہ یہ درّے صدیوں سے ان علاقوں کے درمیان آمد و رفت کا ذریعہ رہے ہیں۔ لیکن ماضی کی گریٹ گیمز نے ان انتظامات کو منتشر اور الٹ پلٹ کر رکھ دیا اور 1893 ء میں برطانوی حکومتِ ہند، زار شاہی حکومتِ روس اور افغان حکومت کے درمیان ڈیورینڈ لائن معاہدہ ہوا۔ اس معاہدے کے تحت واخان کو ایک غیر جانب دار علاقہ قرار دیا گیا۔ چنانچہ اسے واخان کوریڈور، واخان پٹی اور واخان راہداری کہا جاتا ہے۔

واخان میں زیادہ تر آبادی وخی بولنے والے لوگوں پر مشتمل ہے، تاہم، دوسری قومیں بھی آباد ہیں، جیسے کرغز جو عام طور پر مویشی چراتے ہیں۔ وخی وسطی ایشیا کے ترکستان کی قدیم ایرانی نسل سے تعلّق رکھتے ہیں اور ان کی زبان قدیم ہند ایرانی گروہ کی شاخ ہے۔ وخی مذہباً شیعہ اسماعیلی نزاری مسلمان ہیں جبکہ کرغز سُنّی مسلمان ہیں۔

واخان کی تاریخ بھی بہت قدیم ہے، بلکہ یہ ہزاروں سال پر محیط ہے۔ معلوم تاریخ کے مطابق واخان کی سیاسی شروعات چھٹی صدی قبل از مسیح میں ہخامنشی بادشاہ سائرس اعظم کے عہد میں ہوئی اور چوتھی صدی قبل از مسیح میں اسکندر اعظم نے اسے فتح کیا۔ چھٹی صدی کے اوائل میں معروف چینی سیّاح ہیون سانگ سریقل سے یودیانہ (بالائی سوات) جا رہے تھے تو اثنائے راہ واخان سے بھی گزرے اور اس کا نام پو۔ ہو دیا۔ نیز یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ تانگ حکمران کے عہد (غالباً ساتویں صدی عیسوی کے وسط میں ) واخان چین کے کنٹرول میں گیا۔

واخان میں اسلام پانچویں صدی ہجری / گیارہویں صدی عیسوی کے نصفِ آخر میں معروف فاطمی اسماعیلی داعی حکیم ناصرِ خسرو (متوفی۔ 481 ہ / 1088 ء) کی تبلیغی کوششوں کے نتیجے میں پہنچا۔ کیونکہ ناصرِ خسرو کا مرکزِ دعوت بدخشاں میں تھا اور وہاں سے ناصر اور ان کے داعیوں نے واخان سمیت گرد و نواح کے علاقوں میں اسماعیلی دعوت کو وسعت دی۔ جیسا کہ جدید دور کے شاہ خان نامی ایک لکھاری اپنے مقالے میں لکھتے ہیں کہ:

”One Source opines that the Ismaili sect reached the region in the eleventh century۔“

یعنی ایک ماخذ کی رائے ہے کہ اسماعیلی فرقہ گیارہویں صدی [عیسوی] میں اس خطے [واخان] میں پہنچا۔

ساتویں صدی ہجری/ تیرہویں صدی عیسوی کے اواخر معروف اطالوی سیّاح مارکو پولو منگول بادشاہ قُبلائی خان کے دربار جاتے ہوئے راستے میں واخان سے بھی گزرے۔ وہ لکھتے ہیں کہ یہاں کے لوگ مسلمان ہیں اور جنگ و جدل میں بہت بہادر ہیں۔ مارکو پولو اس خطّے میں اسماعیلیوں کی موجودگی کا بھی ذکر کرتے ہیں۔ انہیں کے حوالے سے ڈاکٹر فرہاد دفتری لکھتے ہیں کہ کاشغر اور یارقند میں چھوٹی چھوٹی اسماعیلی جماعتیں موجود تھیں۔

چنانچہ ازمنہ وسطیٰ سے دَورِ جدید تک اسماعیلی مذہب کو واخان سمیت بدخشاں اور اس کے گرد و نواح میں غالب مذہب کی حیثیت حاصل رہی ہے۔ اسماعیلیت نہ صرف یہاں کے عوام کا مذہب رہا ہے بلکہ یہاں کے حکمران بھی اس مذہب کے حلقہ بگوش رہے ہیں۔

واخان و بدخشان کی اس طویل تاریخ میں بہت سے نشیب و فراز آئے۔ کبھی بیرونی طاقتوں نے یہاں حکومت کی تو کبھی مقامی حکمران دادِ حکمرانی دیتے رہے۔ یہاں تک کہ انیسویں صدی عیسوی کا آغاز ہوا۔ اس صدی کے اوائل میں واخان پر جس حکمران خاندان نے حکومت کی اس کی تفصیلات اگرچہ بہت کم دستیاب ہیں لیکن عبد المحمّد ایلی لیوف ، جو انسٹی ٹیوٹ آف اسماعیلی اسٹڈیز لندن میں ریسرچ ایسوسی ایٹ ہیں، نے واخان کے میر خاندان کے متعلّق بعض دستیاب ماخذ کو بنیاد بنا کر ایک رپورٹ تیار کی ہے جس سے چیدہ چیدہ اقتباسات ذیل میں درج کیے جاتے ہیں۔

یہ ماخذ [واخان کے ] بعض کم معروف میروں کے ناموں کا ذکر کرتے ہیں : جیسے فرہاد بیک (مسکا) ، شاہ خوشادات (خواجہ) ، مہدی، منصور، شاہ جہان (جان) اور جہان (جان) خان۔ ’رہنمائے قطغان (Qataghan) و بدخشاں نامی کتاب میں جہان خان کا نام محمّد رحیم بیک اور فتح علی شاہ کے والد کی حیثیت سے دیا گیا ہے ؛ اس کی وفات کے بعد اوّل الذّکر واخان کے میر کی حیثیت سے اس کا جانشین بنا۔ کروٹز مین  کہتے ہیں کہ واخان کے میروں کے خاندانی شجرہ کے خاکے میں، جہان خان ( 1740۔ 1775 ) شاہجہان سے پہلے آتا ہے، وہ ایک ایسے میر ہیں جس کے بارے میں ہم کچھ نہیں جانتے۔ کروٹز مین میرزا محمّد غفران کی‘ نئی تاریؒ چترال ’کا حوالہ دیتے ہیں جس میں جہان خان کے نام کو چترال کے چھاپہ مار اور لٹیرے کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ روایت بیان کی جاتی ہے کہ جہان خان کی ایک بیٹی بدخشاں کے حکمران زمان الدّین جو میر شاہ کے نام سے بھی معروف ہے، سے بیاہی گئی تھی اس کے علاوہ دریائے پنج کے بائیں کنارے پر قلعۂ پنجہ، جسے و اخی حکمرانوں کی رہائش گاہ کی حیثیت حاصل ہے، کے ڈیزائن اور تعمیر کا کریڈٹ بھی اسے دیا جاتا ہے۔

قلعۂ پنجہ نے خاندوت کے افغان واخان کے نئے ضلعی مرکز سے پہلے، انیسویں صدی عیسوی کے اوائل تک واخان کے دار الحکومت کا کام انجام دیا۔ جہان خان کے لئے قلعۂ پنجہ کا دار الحکومت بنانے کا ایک تزویراتی سبب غالباً اس کی قابلِ کاشت زمین اور اس کا جغرافیائی محل وقوع تھا۔ شاید یہ مقام ہنزہ اور چترال سے نزدیک تر تھا جہاں میرانِ واخان بدخشاں سے عسکری یلغاروں کے دوران اکثر بھاگ جاتے تھے۔

جہان خان کے بعد ان کا بڑا بیٹا محمّد رحیم بیک (متوفّی۔ 1838 ء) اس کا جانشین بنا، جس نے بدخشاں کی اطاعت نہ کر کے اور مالیہ نہ دے کر ایک خود مختار حکمران بننے کی کوشش کی، اس پر قندوز کے حکمران مراد بیک نے قبضہ کر لیا تھا۔ بدخشاں کے حکمران نے اپنے ایک قرلوق قبیلہ کے آدمی کوہ کن بیک کو یہاں کا گورنر مقرّر کیا لیکن واخان میں وہ قتل ہوا۔

یورپی سیّاح جان ووڈ  کے بیان کے مطابق وہ اپریل 1838 ء کو پنجہ پہنچے جو کہ اُس وقت رحیم بیک کا دار الحکومت تھا اور ان ہی کے بقول، سات سال پہلے وہاں ایک قتل ہوا تھا (غالباً یہ کوہ کن بیک ہی تھے جو یہاں قتل ہوئے تھے ) ۔ ان کے قتل کے بعد میرِ واخان (رحیم بیک) اپنے تخت کو دوبارہ حاصل کرنے کے لئے چترال سے واپس ہوئے۔

رحیم خان کے قتل کے بعد ، بدخشان کے میر کے ایک رشتے دار شاہ ترائی کو میر قندوز نے واخان کا گورنر مقرّر کیا۔ شاہ ترائی کی حکومت اس کے مربّی مراد بیک کی 1842 ء میں وفات تک چار سال جاری رہی۔ جس کے بعد بدخشاں کے سابق قیدی میرزا کلاں نے قندوز پر قبضہ جما لیا۔ میرزا کلاں کی تختِ بدخشاں پر واپسی نے رحیم بیک کے چھوٹے بھائی فتح علی شاہ، جو کہ چترال میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے تھے، کو واخان کے تخت و تاج کے دعوے کا موقع فراہم کیا۔ وہ انیسویں صدی میں واخان کے سب سے طویل عرصے تک حکومت کرنے والے حکمرانوں میں سے ایک تھے۔ ان کی حکومت، مع ایک خارجی شخص کی بطور میر نامزدگی کے، دو طویل دورانیوں پر مشتمل تھی۔ فتح علی شاہ کا پہلا دور تقریباً چودہ سالوں تک، جبکہ دوسرا دَور 1875 ء میں ان کی وفات تک تقریباً گیارہ سالوں تک جاری رہا۔

میر فتح علی شاہ کی ازدواجی زندگی کا جہاں تک تعلّق ہے تو انہوں نے اپنی سابقہ بیوی، جو مہتر چترال کی بیٹی تھی، کی وفات کے بعد میر آف ہنزہ میر غضنفر علی خان (متوفّی۔ 1865 ء) کی بیٹی سے شادی کی، جس کا نام نسیم خاتون تھا۔ اس خاتون نے مستقبل کے میرِ واخان علی مردان شاہ (متوفّی۔ 1926 ء) کو جنم دیا۔ اسی طرح میر غضنفر کے بیٹے میر غزان خان اوّل (دورِ حکومت۔ 1866 ء تا 1887 ٗ) نے میر فتح علی شاہ کی بیٹی آسمان پری سے شادی کی۔ میر فتح علی شاہ کے دوسرے بیٹے بھی تھے جن کے نام ہیں نصیر الدّین اور سربلند علی شاہ۔

میر فتح علی شاہ کے دَورِ حکومت میں بدخشاں کے حکمران میر شاہ نے واخان پر حملہ کیا۔ مقابلے کی تاب نہ لاتے ہوئے میر فتح علی شاہ بھاگ کر ہنزہ آئے جہاں ان کے سسر میر غضنفر علی خان کی حکومت تھی۔ میر فتح علی شاہ نے شاہ بدخشاں سے اپنی حکومت دوبارہ حاصل کرنے کے لئے میر ہنزہ سے عسکری امداد طلب کی۔ چنانچہ میر ہنزہ نے جوانانِ ہنزہ کو میر فتح علی شاہ کے ہمراہ واخان روانہ کر دیا جنہوں نے میر شاہ اور اس کی فوج کو شکست دے کر واخان کو آزاد کرایا اور میر فتح علی شاہ کو تختِ حکومت پر بٹھا کر فتح و فیروز مندی کے ساتھ واپس ہنزہ آ گئے۔

میر فتح علی شاہ کی وفات کے بعد ان کی وصیّت کے مطابق ان کے صاحبزادے میر علی مردان شاہ منصبِ میری پر فائز ہوئے۔ اُن کی بحیثیتِ میر تعیّناتی کی تاریخ کے متعلّق عبدالمحمّد ایلولیوف یورپی سیّاح تھامس گورڈن کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ ”تھامس گورڈن اور اس کی پارٹی کی 26 اپریل 1874 ء میں فتح علی شاہ سے الوداعی ملاقات اور قلعہ پنجہ کو چھوڑنے کے نو ماہ بعد ان کی وفات ہوئی۔ اس کے بعد اُن کے بیٹے علی مردان شاہ، جو کہ واخان کے آخری حکمران بھی تھے، میرِ واخان مقرّر ہوئے۔“ گورڈن کے اس بیان کو پیش نظر رکھ کر یہ کہا جا سکتا ہے کہ علی مردان شاہ 1875 ء کے بالکل ابتدائی ایّام میں منصبِ میری پر متمکن ہوئے۔

میر علی مردان شاہ نے جس وقت تخت سنبھالا اور دادِ حکمرانی دینے لگے تو خطّے میں ڈرامائی تبدیلیاں رونما ہو رہی تھیں، برطانیہ اور روس کے مابین گریٹ گیمز نے اپنے اثرات دکھانا شروع کیا تھا۔ اس کے نتیجے میں امیر عبدالرحمان خان کابل کے تخت پر براجمان ہوا۔ امیر نے تختِ کابل پر بیٹھنے کے بعد اپنی حکمت عملیوں میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کیں۔ چنانچہ اس نے دوسری بہت سی ریاستوں کی طرح واخان کو بھی فتح کر لیا اور تمام راجوں کو خانہ آباد (صوبۂ بدخشاں کا دارالحکومت) میں جمع کیا گیا تو اس موقع پر علی مردان بھی مدعو تھے۔ اشکومن، ایمت کے وزیر فیملی کے ایک بزرگ بتا رہے تھے کہ اس دربار میں امیر عبدالرحمان کے ایک جنرل نے فارسی میں ایک شعر پڑھا۔ سب خاموش ہو گئے۔ علی مردان شاہ زیرک، ہوشیار اور دانا شخص تھے۔ اُنہوں نے اس شعر کا مفہوم سمجھ لیا اور محسوس کیا کہ امیر کے عزائم خطرناک ہیں۔ نیز انہوں نے اس سلسلے میں آئندہ پیش آمدہ خطرات کو بھی بھانپ لیا۔ اگرچہ میر علی مردان شاہ نے بظاہر امیر عبدالرّحمان خان کے سامنے اپنی اطاعت اور وفاداری کا اقرار کر لیا لیکن ان کے دل نے گواہی دی کہ امیر کا خطرہ مول لینا موت کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ چنانچہ علی مردان شاہ نے واخان کو خیر باد کہنے کا ارادہ کر لیا۔ انہوں نے اس بابت اپنے وزیروں، مشیروں اور احباب سے مشورہ لیا؛ بعض نے چین جانے کا مشورہ دیا اور بعض نے گلگت بلتستان یا چترال جانے پر زور دیا۔ میر موصوف نے حتمی رائے یہ دی کہ اگرچہ چین بڑا اور متموّل ملک ہے لیکن گلگت بلتستان اور چترال یعنی جی۔ بی۔ سی غریب ہونے کے باوجود ہمارا اپنا علاقہ ہے اور اس لئے اس علاقے میں جانے میں ہی ہماری عافیت ہے۔ چنانچہ میر علی مردان شاہ 1880 ء کو ہجرت کر کے بروغل کے راستے چترال کی طرف روانہ ہوئے۔ ان کے ہمراہ سینکڑوں وخیوں نے بھی ہجرت کی۔

مقامی روایات کے مطابق علی مردان شاہ خود چترال نہیں گئے بلکہ اپنے قاضیوں [واخان میں وزیر کو قاضی کہا جاتا تھا]کو کہا کہ وہ چترال جائیں اور مہتر سے ملیں۔ جبکہ میر موصوف خود اپنے ساتھیوں کے ساتھ درکوت کے راستے یاسین پہنچ گئے۔ کیونکہ اس زمانے میں یاسین، گوپس اور اشکومن کے علاقے مہتر چترال کے کنٹرول میں تھے۔ اُس وقت امان الملک کے بیٹے نظام الملک اُن علاقوں میں گورنر تھے۔ نظام الملک نے مہتر چترال کے حکم پر واخان کے میر اور دیگر مہاجرین کی رہائش اور کھانے پینے کا بندوبست کیا۔ کچھ عرصے بعد مہتر چترال نے میر علی مردان شاہ کو اشکومن کا راجہ مقرّر کیا۔ اشکومن خاص، پکورہ اور دائین وغیرہ کا مالیہ علی مردان شاہ کے لئے مختص کر لیا گیا۔ اس کے بعد جب انگریزوں نے گلگت میں اپنی عملداری قائم کی اور ہنزہ و نگر کو فتح کر لیا تو علی مردان شاہ انگریزوں کے پاس گلگت گئے۔ ان کے پاس انگریزوں کی لکھی ہوئی سند تھی جو افغانستان میں جنگ کے دوران انگریزوں کے لئے ان کی خدمات کے صلے میں دی گئی تھی۔ جب انہوں نے وہ سند انگریزوں کو دکھائی تو انہوں نے علی مردان کو ’میر‘ کا خطاب دے دیا اور ان سے کہتے ہوئے گورنری کا پروانہ جاری کیا کہ اب تک آپ مہتر چترال کے گورنر تھے اب کے بعد انگریزوں کی طرف سے مستقل گورنر (راجہ) ہوں گے۔

تاریخی حقیقت یہ بھی ہے کہ 1895 ء میں چترال کو مالاکنڈ ایجنسی کے ساتھ ملانے کے بعد کوہِ غذر، یاسین اور اشکومن کو چترال سے الگ کر کے گلگت ایجنسی میں شامل کیا گیا تھا اور چترال کی عملداری یہاں سے ختم ہو چکی تھی۔ لہٰذا میر علی مردان شاہ کا بحیثیت گورنر اشکومن تقرّر گلگت ایجنسی کی جانب سے انگریزوں نے کیا تھا۔

میر علی مردان شاہ چترال سے اپنی بیوی اور بچوں کو اشکومن لائے اور ایمت میں قیام پذیر ہوئے۔ ان کے ہمراہ واخان سے ہجرت کر کے آنے والے وخیوں کو بھی ایمت اور اس کے گرد و نواح میں آباد کیا گیا۔ یوں ایمت اشکومن کا دار الحکومت بن گیا۔ میر علی مردان شاہ نے اشکومن پر 45 سال حکومت کی۔ 1926 ء میں، جبکہ وہ سالانہ دربارِ گلگت میں شرکت کے لئے گلگت جا رہے تھے تو پونیال کے موضع سلپی میں مختصر علالت کے بعد فوت ہوئے۔ اُن کی وصیّت کے مطابق وخی اُن کی میّت کو اٹھا کر واخان لے گئے اور قلعہ پنجہ میں دفنایا۔ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے بہت زیادہ عمر پائی تھی۔ ایک روایت کے مطابق وہ سَو ( 100 ) سال کے ہو گئے تھے۔ اُن کی اولادِ نرینہ نہ تھی۔ البتہ ان کی ایک بیٹی تھی جس کی شادی یاسین کے راجہ شاہ عبد الرحمان سے ہو گئی تھی جس سے راجہ غلام دستگیر خان پیدا ہوئے۔ راجہ غلام دستگیر خان صاحب بھی بڑی عمر کو پہنچ کر آج سے چند سال پہلے وفات پا چکے ہیں۔

جہاں تک میر علی مردان شاہ کے مذہبی عقائد کا تعلّق ہے تو، جیسا کہ اس سے پہلے کہا گیا ہے، وہ شیعہ اسماعیلی مسلک سے تعلّق رکھتے تھے اور ان کے آباء و اجداد بھی اسماعیلی تھے۔ کہا جاتا ہے کہ واخان میں اسماعیلی مذہب صدیوں پہلے پہنچ چکا تھا۔ بلکہ بعض روایات کے مطابق سیّدنا ناصر خسرو ( متوفی۔ 481 ہ / 1088 ء) کی حیات میں ہی اسماعیلی دعوت واخان میں متعارف ہو چکی تھی۔ لہٰذا، واخان کے لوگ، خواہ حکمران ہوں یا عوام، صدیوں سے اسماعیلی مذہب کے پیروکار چلے آرہے ہیں۔ چنانچہ میر علی مردان شاہ اور ان کے ہمراہ ہجرت کر کے اشکومن آنے والے وخی سب کے سب اسماعیلی تھے اور تاحال وہ اسماعیلی مذہب کے پیروکار ہیں۔

جہاں تک علی مردان شاہ کی سیرت و کردار کا تعلّق ہے تو وہ ایک شریف النفس، بُردبار اور ہوشیار انسان تھے۔ جہاں وہ کاروبارِ حکومت چلانے میں خوب مہارت رکھتے تھے وہاں وہ اپنی رعایا کے مسائل و مشکلات پر بھی خاطر خواہ تو جّہ دیتے تھے۔ عوام پر بے حد مہربان تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی اشکومن کے بزرگ ان کی شرافت و بزرگی کے تذکرے بڑے خوشگوار انداز میں کرتے ہیں اور ان کے حلم و بردباری کے گیت الاپتے ہیں۔ کرنل آر۔ سی۔ ایف۔ شمبر نے علی مردان شاہ کی سیرت و کردار کی تصویر کشی ان مختصر مگر جامع الفاظ میں کی ہے : ”علی مردان شاہ ایک ملنسار، نرم مزاجی کے ساتھ بردبار، خوش اخلاق اور شائستہ انسان تھے۔“

کرنل شمبر سے 60 سال پہلے یعنی 1874 ء میں برطانوی سیّاح تھامس گورڈن نے واخان کے مرکز قلعہ پنجہ کا دورہ کیا تھا تو اُس وقت علی مردان شاہ ولی عہد (میرزادہ) تھے۔ وہ اُن کی شخصیت اور کردار و عمل کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ: ”وہ ایک انصاف پسند حکمران تھے جو اپنی رعایا کا خیال رکھتے تھے، کتوں سے وہ محبت رکھتے تھے اور شکار اور گھوڑ سواری کے بہت شوقین تھے۔ “

یہ کریڈٹ بھی علی مردان شاہ ہی کو جاتا ہے کہ انہوں نے پہلی مرتبہ اشکومن میں باقاعدہ حکومت و راجگی کی بنیاد رکھی۔ میر علی مردان شاہ کی وفات کے بعد پونیال سے خاندانِ بُروشہ کے ایک ممتاز شخص میرباز خان، جو مذہباً اسماعیلی تھے، اشکومن کے راجہ بنے۔ راجہ میرباز خان نے نَو ( 9 ) سال تک اشکومن پر حکومت کی۔ پھر راجہ موصوف کو یاسین کا راجہ بنایا گیا۔ انہیں انگریزوں کی طرف سے خان بہادر کا ٹائٹل بھی ملا تھا۔

الغرض، واخان کو، جو افغانستان، پاکستان، چین اور تاجکستان کے درمیان ایک پہاڑی علاقہ ہے، 1893 ء میں روس کی زار شاہی حکومت اور برطانوی حکومت ہند کے درمیان ایک بفر زون قرار دیا گیا۔ اس لئے اسے واخان کوریڈور، واخان پٹی اور واخان راہداری کا نام دیا جاتا ہے۔ آج واخان کوریڈور علاقائی اور بین الاقوامی سیاست کے توجہ کا مرکز و محوّر اور میڈیا کا موضوع خاص بن گیا ہے۔ اگرچہ اس کی تاریخ ہزاروں سال پر محیط ہے لیکن انیسویں صدی عیسوی کے اوائل میں یہاں میری نظام باقاعدگی سے رائج ہوا۔ میر فتح علی شاہ اور میر علی مردان شاہ واخان کے نامور حکمران ہو گزرے ہیں۔ تجارتی اور تزویراتی دونوں لحاظ سے اہم اس خطّے کو والی افغانستان امیر عبد الرحمان خان کے دَورِ حکومت سے لے کر اب تک لاوارث چھوڑا گیا ہے جو درست نہیں ہے۔ اس پر اب خصوصی توجہ دینے اور اس کے محل وقوع سے استفادہ کرنے کی بے حد ضرورت ہے۔

Facebook Comments HS